ایک آدمی مسجد کی آخری صف میں چار رکعت نماز پڑھ رہا تھا ،ابھی اس نے دو رکعت پڑھی تھیں کہ ایک دوسرا آدمی آیا ، وہ اس کے آگے سے نہیں گزرا،بلکہ اس کو اٹھا کر اگلی صف میں کر دیا اور اس نے بقیہ دو رکعت وہاں پوری کیں تو کیا اس کی نماز ہو گئی؟اور اس اٹھانے والے کا عمل شرعا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز ادا کرنے والے کا سینہ اگر قبلہ سےنہیں پھرا تو نماز ہو گئی ورنہ نماز فاسد ہو گئی،البتہ نمازی کو اس طرح اٹھانے والے کا عمل نہایت قبیح ہے۔

لما فی البحر الرائق:(2/23،رشیدیہ)
ولو رفع رجل المصلي عن مكانه ثم وضعه من غير أن يحوله عن القبلة لا تفسد ولو وضعه على الدابة تفسد
وفی الشامیہ:(1/628،سعید)
حمله رجل ووضعه على الدابة تفسد والظاهر أنه لكونه عملا كثيرا تأمل. وأما لو رفعه عن مكانه ثم وضعه أو ألقاه ثم قام ووقف مكانه من غير أن يتحول عن القبلة فلا تفسد
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/266،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/251،الطارق)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(1/103، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/423،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1033، رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(146،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:47

ایک مسبوق نے اپنی رہی ہوئی فجر کی رکعت جماعت کے بعد مکمل کر لی،لیکن اس کے خیال میں یہ تھا کہ رکعت نہیں پڑھی،اس خیال کے تحت دوبارہ نماز شروع کی،تکبیر تحریمہ کے بعد ذہن میں آیا کہ رکعت پڑھ لی تھی۔یہ خیال آتے ہی اس نےشروع کی ہوئی نماز توڑ دی۔اب یہ فرمائیں کہ اس نے کچھ خلاف شریعت تو نہیں کیا؟اس پر کوئی مؤاخذہ تو نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس آدمی سے خلاف شریعت کوئی عمل صادر نہیں ہوا،لہذا اس پرکوئی مواخذہ نہیں۔

لما فی الشامیہ:(2/30،سعید)
رجل افتتح الظهر وهو يظن أنه لم يصلها فدخل رجل في صلاته يريد به التطوع، ثم ذكر الإمام أنه ليس عليه الظهر فرفض صلاته فلا شيء عليه ولا على من اقتدى به
وفی بدائع الصنائع:(2/7،رشیدیہ)
حتى لو شرع في الصلاة على ظن أنها عليه، ثم تبين أنها ليست عليه لا يلزمه المضي ولو أفسد لا يلزمه القضاء عند أصحابنا الثلاثة خلافا لزفر
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/300،قدیمی)
رجل شرع فی الصلاۃ علی انھا علیہ ثم تبین انھا لیست علیہ فافسدھا فانہ لایجب قضائھا
وکذافی ملتقی الابحر:(1/197،المنار)
وکذافی مجمع الانھر:(1/198،المنار)
وکذافی الدر المنتقی :(1/198،المنار)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/192،قدیمی)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/319،حقانیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/113،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/300،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 71

اگر امام اور مقتدی دونوں مسافر ہوں اور مقتدی کی ایک رکعت رہ جائے تو کیا وہ اپنی رہی ہوئی رکعت میں قراءت کرے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! صورت مسئولہ میں مقتدی قراءت کرے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/112،بیروت)
ومن حكم المسبوق أنه يصلي أولاً ما أدرك مع الإمام، فإذا فرغ الإمام من صلاته يقضي ما سبق به….، والمسبوق في الحكم كأنه منفرد، ولهذا كان عليه القراءة فيما يقضي
وفی التاتارخانیہ:(3/97،فاروقیہ)
و المسبوق فی الحکم کأنہ منفرد و لھذا کانت علیہ القراءۃ فیما یقضی
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/60،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(37/164،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/664،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/596،سعید)
وکذافی الشامیہ:(1/596،سعید)
وکذافی النھر الفائق:(1/198،قدیمی)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/165،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/2021/1442/9/7
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 113

لکڑی کی جائے نمازجو کہ زمین سے تقریباً ایک فٹ اونچی ہوتی ہےاوراس کےچار پائے ہوتے ہیں،اس پر نماز پڑھنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسی جائے نماز پر نماز پڑھنا درست ہے۔

لما فی التاتارخانیہ:(2/209،فاروقیہ)
ولا باس بالصلاۃ علی العجلۃ بان کانت موضوعۃ علی الارض لانھا بمنزلۃ السریر
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/143،رشیدیہ)
وکذا لو رکز تحت المحمل خشبۃ حتی بقی قرارہ علی الارض لا علی الدابۃیکون بمنزلۃ الارض
وکذافی التنویر مع الشرح:(2/40،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/143،429،بیروت)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/209،213،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/194،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/291،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1070،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 66

ایک لڑکا دو سال تک جمعہ ایسی مسجد میں پڑھتا رہا جس میں خطبہ سندھی زبان میں ہوتا تھا، بعد میں مسئلے کا پتہ چلا تو اب ان دو سالوں کے جمعہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

غیر عربی میں خطبہ جمعہ پڑھنا اگرچہ مکروہ تحریمی ہے، لیکن نماز ادا ہو جاتی ہے،لہذا ان دو سالوں کا جمعہ ادا ہو گیا ہے،آئندہ ایسی مسجد میں جمعہ ادا کیا جائے جہاں خطبہ عربی زبان میں ہوتا ہو اور پہلے عمل پر استغفار کیا جائے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(19/180،علوم اسلامیہ)
وقال ابو حنیفۃ وہو المعتمد عند الحنفیۃ تصح بغیر العربیۃ ولو کان الخطیب عارفا بالعربیۃ ووافق الصاحبان الجمھور فی اشتراط کونھا بالعربیۃ الا للعاجز عنھا
وفی عمدة الرعایة علی ھامش شرح الوقایة:(1/242،امدادیہ)
ولو خطب بالفارسیۃاو بغیرھاجاز وکذا قالوا والمراد بالجواز ہو الجواز فی حق الصلوۃ بمعنی انہ یکفی لاداء الشرطیۃ وتصح بھا الصلوۃ لاالجواز بمعنی الاباحۃ المطلقۃ فانہ لا شک فی ان الخطبۃ بغیر العربیۃ خلاف السنۃ المتوارثۃ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم والصحابۃ فیکون مکروھاً تحریماً
وکذافی مجموعة رسائل اللکنوی:(4/376،380، ادارةالقرآن والعلوم الاسلامیة)
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق للشیخ الشلبی:(1/220،امدادیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1310، رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/220،امدادیة)
وکذافی النھایة:(2/57، رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(1/242،امدادیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/450،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:151

اگر کسی عورت کو سجدہ کرنے سے سفید پانی نکلتا ہو جسے’’لیکوریا‘‘کہتے ہیں تو کیا یہ عورت اشارہ سے سجدہ کر سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کر سکتی ہے۔

لما فی فتح القدیر:(2/7،رشیدیہ)
رجل بحلقه خراج لا يقدر على السجود ويقدر على غيره من الأفعال يصلي قاعدا بإيماء، وكذا لو كان بحال لو سجد سال جرحه، وإن لم يسجد لا يسيل لما قدمنا في فصل المعذور، فإن قام وقرأ وركع ثم قعد وأومأ للسجود جاز، والأول أولى
وفی الشامیہ:(2/684،رشیدیہ)
رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل
وکذافی مراقی الفلاح:(431،قدیمی)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(432،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/26،27،بیروت)
وکذافی النھر الفائق:(1/336،قدیمی)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/171،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/136،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/306،الطارق)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/194،195،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 125

اگر سرّی نماز میں امام اس انداز سے قرأت کرتا ہےکہ اس کے بالکل پیچھے کھڑے ہونے والے مقتدی کو اس کی قرأت سنائی دیتی ہےتو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز درست ہوگئی، البتہ امام کو آئندہ اس طرح قرأت کرنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔

لما فی الشامیة:(2/308،رشیدیہ)
قال في الخلاصة والخانية عن الجامع الصغير: إن الإمام إذا قرأ في صلاة المخافتة بحيث سمع رجل أو رجلان لا يكون جهرا، والجهر أن يسمع الكل اهـ أي كل الصف الأول لا كل المصلين: بدليل ما في القهستاني عن المسعودية إن جهر الإمام إسماع الصف الأول
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(2/888،رشیدیہ)
قال الحنفية: أقل الجهر إسماع غيره ممن ليس بقربه كأهل الصف الأول، فلو سمع واحد أو اثنان لا يجزئ. وأقل المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين
وکذافی التنویر مع شرحہ الدر المختار:(2/308،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/229،قدیمی)
وکذافی البحر الرائق:(1/588،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/227،حقانیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/60،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1442/2021/5/1
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 167

اگر با جماعت نماز میں غلطی ہوئی ،اب دوبارہ نماز پڑھ رہے ہیں تو اس کے لیے دوبارہ اقامت کہنی ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دوبارہ اقامت نہیں کہی جائے گی۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(6/14،علوم اسلامیہ)
تعاد الصلاة الفاسدة في الوقت بغير أذان ولا إقامة، وأما إن قضوها بعد الوقت قضوها في غير ذلك المسجد بأذان وإقامة
وفی الشامیة:(1/390،391،سعید)
قوم ذكروا فساد صلاة صلوها في المسجد في الوقت قضوها بجماعة فيه ولا يعيدون الأذان والإقامة، وإن قضوها بعد الوقت قضوها في غير ذلك المسجد بأذان وإقامة. اهـ. لكن سيأتي أن الإقامة تعاد لو طال الفصل
وکذافی البنایة فی شرح الھدایة:(2/121،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/456، رشیدیة)
وکذافی الھندیة(1/55، رشیدیة)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/390،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/187، رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/101،بیروت)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/151،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/390،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 54

زید نے عشاء کی نماز میں سراً قراءت شروع کی”الرحمن الرحیم”کے بعد یاد آنے پر جہراً قراءت کی پھر سجدہ سہو بھی نہیں کیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صحیح قول کے مطابق سری نمازوں میں جہراً یا جہری نمازوں میں سرا 30 حروف(بشمول حروف محذوفہ) قرا ءت کرنے سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے اور سجدہ سہو چھوٹ جانے پر نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ”الرحیم” تک سراً قراءت کی ہے جو کہ 30 حروف سے زائد ہے، اس لیے سجدہ سہو لازم تھا جو کہ ترک کر دیا لہذا نماز واجب الاعادہ ہے۔

لما فی البناية شرح الهداية:(2/737،رشیدیہ)
اختلفت الرواية عن أصحابنا في مقدار ما يتعلق به السهو من الجهر فيما يخفى، والإخفاء فيما يجهر، فذكر الحاكم الخليل عن ابن سماعة عن محمد أنه قال: إذا جهر بأكثر الفاتحة يسجد ثم رجع فقال إذا جهر مقدار ما يجوز به الصلاة تجب وإلا فلا
وفی الھندیة:(1/128،رشیدیہ)
ومنها الجهر والإخفاءحتى لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو واختلفوا في مقدار ما يجب به السهو منهما قيل: يعتبر في الفصلين بقدر ما تجوز به الصلاة وهو الأصح ولا فرق بين الفاتحة وغيرها
وفی التنویر مع الشرح:(1/458،سعید)
وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو” ثم نظر ثم عبس وبسر ثم أدبر واستكبر ” (المدثر) وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا
وفی الشامیة:(1/458،سعید)
قوله تعدل ثلاثا قصارا) أي مثل – {ثم نظر} [المدثر: 21]- إلخ وهي ثلاثون حرفا، فلو قرأ آية طويلة قدر ثلاثين حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات
وفی المحیط البرھانی:(2/312،بیروت)
وذکر ابن سماعۃ عن محمد رحمہ اللہ تعالی فیما اذا جہر فیما یخافت او خافت فیما یجھر انہ اذا فعل ذلک مقدار ما تجوز بہ الصلاۃ من فاتحۃ الکتاب او غیرہا فعلیہ السہو وما لا فلا
وکذافی التاتارخانیة:(2/395،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/388،المکتبة الحقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/170،رشیدیہ)
وکذافی التجرید:(2/707، 708،محمودیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(24/238،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1109،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/175، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/194،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 99

اگر کوئی شخص نماز میں “صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم “پڑھ لے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اگر کوئی شخص نماز میں پیارے آقا ﷺکا نام سنے اور بطورِ جواب درود شریف پڑھ لے تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر ویسے ہی، نماز میں کوئی شخص درود شریف پڑھ لے تو نماز فاسد نہ ہوگی۔

لما فی الھندیة:(199/،رشیدیة کوئٹہ)
ولو قال: اللهم صل على محمد، أو قال: الله أكبر لا تفسد صلاته بالإجماع إن لم يرد به الجواب أما إذا أراد الجواب قال بعضهم: تفسد صلاته عند الكل وهو الظاهر.ولو صلى على النبي – صلى الله عليه وسلم – في الصلاة إن لم يكن جوابا لغيره لا تفسد صلاته وإن سمع اسم النبي – صلى الله عليه وسلم – فقال جوابا له تفسد صلاته
وفی البحر الرائق:(2/9، رشیدیة کوئٹہ)
إذا سمع اسم النبي – صلى الله عليه وسلم – فصلى عليه فهذا إجابة فتفسد وإن صلى عليه ولم يسمع اسمه لا تفسد
وکذافی الدر المنتقی:(1/180،المنار کوئٹہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/157،امدادیة ملتان)
وکذافی النھر الفائق:(1/269،قدیمی کتب خانہ کراچی)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/122.123، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/137، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الدر المختار:(1/623،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)

 

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:110