ایک قاری صاحب بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں اور ان میں اکثر نابالغ بچے ہیں۔جب وہ قرآنِ مجید سناتے ہیں تو آیاتِ سجدہ تلات کرتے ہیں۔تو کیا ہر ایک بچے کے پڑھنےسے سننے والے(قاری صاحب)پر سجدہ ٔتلاوت واجب ہوگا؟جبکہ اس میں قاری صاحب کا حرج واضح ہے

الجواب حامداً وّمصلّیاً

سجدۂ تلاوت کے واجب ہونے کے بارے میں اصول یہ ہے کہ یہ اس وقت واجب ہوتا ہے جب تلاوت کرنے یا سننے والا مکلف ہو،یعنی جس پر نماز اداءً یا قضاءًلازم ہو۔چنانچہ کافر،نابالغ بچہ،مجنون اور حیض و نفاس والی عورت میں سے ،اگر کوئی آیتِ سجدہ تلاوت کرے یا سنے تو اس پر سجدہ لازم نہ ہوگا۔البتہ اگر کوئی مکلف ان میں سے (مجنون کے علاوہ)کسی سے آیتِ سجدہ سنے تو اس پر سجدہ لازم ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں بچے اگرچہ نابالغ ہیں اور ان پر سجدہ لازم نہ ہوگا لیکن سامع(قاری صاحب)مکلف ہیں، ان پر سجدہ لازم ہوگااور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔مناسب وقت ملتے ہی سجدے کر لیے جائیں۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/439.440،رشیدیہ کوئٹہ)
وأما بيان من تجب عليه فكل من كان أهلا لوجوب الصلاة عليه إما أداء أو قضاء فهو من أهل وجوب السجدة عليه ومن لا فلا؛ لأن السجدة جزء من أجزاء الصلاة فيشترط لوجوبها أهلية وجوب الصلاة من الإسلام، والعقل، والبلوغ، والطهارة من الحيض والنفاس حتى لا تجب على الكافر والصبي والمجنون والحائض والنفساء قرءوا أو سمعوا؛ لأن هؤلاء ليسوا من أهل وجوب الصلاة عليهم وتجب على المحدث والجنب؛ لأنهما من أهل وجوب الصلاة عليهما، وكذا تجب على السامع بتلاوة هؤلاء إلا المجنون؛…….فينظر إلى أهلية التالي وأهليته بالتمييز وقد وجد ،فوجد سماع تلاوة صحيحة فتجب السجدة
وفی الھندیة:(1/132،رشیدیہ کوئٹہ)
والأصل في وجوب السجدة أن كل من كان من أهل وجوب الصلاة إما أداء أو قضاء كان أهلا لوجوب سجدة التلاوة ومن لا فلا، كذا في الخلاصة حتى لو كان التالي كافرا أو مجنونا أو صبيا أو حائضا أو نفساء أو عقيب الطهر دون العشرة والأربعين لم يلزمهم وكذا السامع، كذا في الزاهدي ولو سمع منهم مسلم عاقل بالغ تجب عليه لسماعه ولو قرأ المحدث أو الجنب أو سمعا تجب عليهما وكذا المريض
وکذافی المبسوط(2/4،دار المعرفة بیروت)
وکذافی التنویر مع شرحه:(2/107،ایچ.ایم.سعید کراچی) وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/184،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(4/68،رشیدیہ کوئٹہ) وکذافی المحیط البرھانی:(2/365،دار احیاء تراث العربی بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:88

ایک شخص سترہ سال کا ہو چکا ہے۔وہ بچپن سے فرض نمازوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتا تھا،ساتھ اور کوئی سورت نہیں ملاتا تھا۔اب اس کو پتا چلا ہے کہ سورت بھی ملانی ہوتی ہے۔اس کی گزشتہ نمازوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

صورتِ مسئولہ میں اس شخص نے بلوغت کے بعد اب تک جو نمازیں اکیلے یا مسبوق ہونے کی حالت میں پڑھی ہیں،ان کا اعادہ اس پر واجب ہے۔

لما فی التنویر مع شرحه:(1/456.459،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقاآثما،وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها…….(وهي…….قراءة فاتحة الكتاب……وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، وهو ثلاث آيات قصار،…….(في الأوليين من الفرض……و) في (جميع) ركعات (النفل).
وفی الشامیة:(قوله وتعاد وجوبا) أي بترك هذه الواجبات أو واحد منها(قوله إن لم يسجد له) أي للسهو، وهذا قيد لقوله والسهو، إذ لا سجود في العمد
وفی الفقه الاسلامی وادلته:(2/808،رشیدیة کوئٹہ)
واجبات الصلاة ثمانية عشر،……وحكمه: استحقاق العقاب بتركه عمداً، لكن لا تفسد الصلاة بتركه، ويلزم سجود السهو لنقص الصلاة بترك الواجب سهواً، ويجب إعادة الصلاة بترك الواجب عمداً، أو سهواً إن لم يسجد سجود السهو له. وإن لم يعدها، يكون فاسقاً آثماً، كما هو الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم.
وهذه الواجبات هي ما يأتي:….. قراءة سور ة بعد الفاتحة: يجب قراءة سورة قصيرة كالكوثر ونحوها،وهو ثلاث آيات قصار
وکذافی الھندیة:(1/71، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/515، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(2/65، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/394.408، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی مراقی الفلاح:(247.248،قدیمی کتب خانہ کراچی)
وکذافی کتاب الفقه علی المذاہب الاربعة:(1/209،حقانیة پشاور)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:13

کسی وجہ سے عصر کی نماز تاخیر سے ادا کی،ابھی دو رکعتیں ہی پڑھیں تھیں کہ مغرب کی اذان شروع ہوگئی،تو یہ عصر کی نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھی جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز ہوگئی،البتہ اتنی تاخیر سے نماز ادا کرنا نہایت مکروہ ہے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/221،قدیمی کراچی)
قال رسول اللّٰہ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم من ادرک من العصر رکعۃ قبل ان تغرب الشمس فقد ادرک
وفی الھندیة:(1/52،رشیدیہ کوئٹہ)
ثلاث ساعات لا تجوز فیھا المکتوبۃولاصلٰوۃ الجنازۃ ولا سجدۃ التلاوۃ.اذ طلعت الشمس حتّٰی ترتفع وعند الانتصاف الٰی ان تزول وعند احمرارھا الٰی ان تغیب الّا عصر یومہ فانّہ یجوز ادائہ
وفی المحیط البرھانی:(2/12،دار احیاء تراث العربی بیروت)
ولو غربت الشمس فی خلال العصر،لا یفسد عصرہ ویتمھا
و فی خلاصة الفتاوی:(1/67،رشیدیہ کوئٹہ)
واوّل وقت العصرحین یخرج وقت الظھر واخر وقتھا حین تغرب الشمس،ویکرہ التاخیر الٰی تغیّر الشمس
وکذا فی الصحیح لمسلم:(1/225،قدیمی کراچی)
وکذافی التاتارخانیة:( 2/19، فاروقیہ کوئٹہ )
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/316، حقانیہ پشاور)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/329،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1 / 678، رشیدیہ کوئٹہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(1/152،دار المعرفہ بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/4/1442/2020/11/28
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:179

ظہر سے پہلے والی سنتیں اگر پہلے نہ پڑھ سکیں تو نماز کے بعد پڑھنے پر سنت کا ثواب ملے گا یا نفل کا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صحیح یہ ہے کہ بعد میں پڑھنے کی صورت میں بھی یہ سنتیں ہی ہیں،لہٰذا ان پر سنتوں ہی کا ثواب ملے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/235،دار احیاء تراث العربی،بیروت)
ثم اختلفت العامۃ فیما بینھم ان ھذا یکون سنۃ ،أو نفلا مبتدأ،بعضھم قالوا:یکون نفلا مبتدأ،…..وبعضھم قالوا :یکون سنۃ،…..وھو الاظھر
وفی البحر الرائق:(2/132،رشیدیة کوئٹہ)
قولہ:(وقضی التی قبل الظھر فی وقتہ قبل شفعہ)بیان لشیئین:احدھما القضاء والثانی محلہ…..وظاھر کلام المصنف انھا سنۃ لا نفل مطلق
وکذافی مجمع الانھر:(1/211،المنارکوئٹہ)
وکذافی البنایة:(2/685،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی فتح القدیر:(1/493،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التاتارخانیة:(2/302،فاروقیة کوئٹہ)
وکذافی ھامش تبیین الحقائق:(1/183،امدادیة ملتان)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/301،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار:(2/85،ایچ.ایم .سعید کراچی)

 

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:32

اگر ایک آدمی نمازِ جمعہ کے لیے مسجد میں آئے اور با وضو نہ ہو اور ادھر جمعہ کا خطبہ ہو رہا ہوتو اس کو کیا کرنا چاہیے؟یا دورانِ خطبہ اگر کسی کا وضو جاتا رہے تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

وضو کرکے خطبہ کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/450،دار احیاءالتراث العربی بیروت)
ولو خطب والقوم حضور إلا أنهم محدثون، أو كانوا جنباً فذهبوا وتوضؤوا ثم رجعوا وصلى بهم الجمعة جاز
وکذافی التاتارخانیة:(2/526،فاروقی ،کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:113

دورانِ خطبہ خطیب کی کسی دعا پر بلند آواز سے آمین کہہ سکتے ہیں؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

نہیں،البتہ زبان ہلائے بغیر دل میں کہہ سکتے ہیں۔

لما فی الشامیة:(2/158،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وإذا شرع في الدعاء لا يجوز للقوم رفع اليدين ولا تأمين باللسان جهرا فإن فعلوا ذلك أثموا وقيل أساءوا ولا إثم عليهم والصحيح هو الأول وعليه الفتوى وكذلك إذا ذكر النبي – صلى الله عليه وسلم  لا يجوز أن يصلوا عليه بالجهر بل بالقلب وعليه الفتوى
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/182،رشیدیة کوئٹہ)
ما دام الخطیب فی حمد اللّٰہ تعالیٰ والثناء علیہ والوعظ للناس فعلیہم الاستماع والانصات
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/206، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی المختصر فی الفقه الحنفی:(203،البشریٰ کراچی)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(3/448،التجاریة مکة المکرمة)
وکذافی مجموعة الفتاویٰ علی ھامش خلاصة الفتاویٰ:(1/149، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:14

ایک آدمی نمازِ وتر پڑھ رہا تھا۔تیسری رکعت میں دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلا گیا۔ابھی وہ رکوع میں گیا ہی تھا یعنی اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچے تھے کہ اس کو یاد آگیا اور اس نے فوراً کھڑے ہو کر دعائے قنوت پڑھ لی۔اب اس کے لیے سجدۂ سہو اور دوبارہ رکوع کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اس شخص کو قنوت پڑھنے کے لیے واپس کھڑا نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ آخر میں سجدۂ سہو کر لیتا۔بہر حال اب بھی اس پر سجدۂ سہو واجب ہے، البتہ رکوع اس کا ہو گیا ہے،دوبارہ نہیں کرنا چاہیے،لیکن اگر کوئی شخص لا علمی کی وجہ سے رکوع دوبارہ کر لے تو اس کی نماز بھی ہو جائے گی۔

لما فی التنویر مع شرحه:(2/9.10،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
ولو نسيه) أي القنوت (ثم تذكره في الركوع لا يقنت) فيه لفوات محله (ولا يعود إلى القيام) في الأصح لأن فيه رفض الفرض للواجب (فإن عاد إليه وقنت ولم يعد الركوع لم تفسد صلاته) لكون ركوعه بعد قراءة تامة(وسجد للسهو) قنت أولا لزواله عن محله
وفی حاشیتہ:(قوله لفوات محله) لأنه لم يشرع إلا في محض القيام فلا يتعدى إلى ما هو قيام من وجه دون وجه وهو الركوع….(قوله لكون ركوعه بعد قراءة تامة) أي فلم ينتقض ركوعه،….(قوله لزواله عن محله) تعليل لما فهم قبله من الصور الأربع؛ وهي ما لو قنت في الركوع أو بعد الرفع منه وأعاد الركوع أولا وما إذا لم يقنت أصلا
وفی بدائع الصنائع:(1/615،رشیدیة کوئٹه)
وأما حكم القنوت إذا فات عن محله فنقول:إذا نسي القنوت حتى ركع ثم تذكر بعد ما رفع رأسه من الركوع لا يعود ويسقط عنه القنوت وإن كان في الركوع فكذلك في ظاهر الرواية…..ولا يقنت في الركوع أيضا…..ولو أنه عاد إلى القيام وقنت ينبغي أن لا ينتقض ركوعه على قياس ظاهر الرواية…..فإذا عاد فقد قصد نقض الفرض لتحصيل واجب فات عليه فلا يملك ذلك
وکذافی الھندیة:(1/111، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی الھدایة:(1/140، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی البحر الرائق:(2/75، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش المجمع:(1/193،المنار کوئٹه)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(385،قدیمی کتب خانه کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/4/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:84

کیاجیل کی مسجد میں نمازِجمعہ ہو جاتی ہے؟حالانکہ وہاں اذنِ عام نہیں ہوتا،بلکہ صرف جیل سے متعلقہ افراد ہی شرکت کر سکتے ہیں اور جن لوگوں نے وہاں نمازِ جمعہ پڑھی یا پڑھائی،ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جیل کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے اذنِ عام کا نہ ہونا،دفاعی اور انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے،لہٰذا جیل کی مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنا صحیح ہے اور جن لوگوں نے وہاں نماز پڑھی یا پڑھائی ان کی نماز ہوگئی۔

 

لما فی التنویر مع شرحه:(2/152،ایچ.ایم.سعید کراچی)
و)السابع:(الاذن العام) من الإمام، ……..فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن
وفی مجمع الانھر:(1/276،المنار کوئٹہ)
والإذن العام)،…….،قالوا: السلطان إذا أراد أن يصلي بحشمه في داره فإن فتح الباب وأذن إذنا عاما جازت الصلاة ولكن يكره وإلا لم يجز كما في الكافي ،وما لا يقع في بعض القلاع من غلق أبوابه خوفا من الأعداء ،أو كانت له عادة قديمة عند حضور الوقت فلا بأس به لأن إذن العام مقرر لأهله ،ولكن لو لم يكن لكان أحسن

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:165

ایک شخص کہتا ہے:دو نمازوں میں جمع صوری تو ہر شخص اپنے گھر میں کر سکتا ہے۔سفر میں جس جمع کی اجازت دی گئی ہے وہ جمع حقیقی ہےاور تمام احادیث اسی پر دلالت کرتی ہیں۔اگر سفر میں بھی صرف جمع صوری کی اجازت ہے توپھر یہ سہولت تو نہ ہوئی۔اس کا جواب کیا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جمع حقیقی تو کسی صورت جائز نہیں اور بلا عذر جمع صوری بھی جائز نہیں ہے،کیونکہ قرآن و حدیث میں نمازوں کے اوقات کو متعین کیا گیا ہے،ان کی محافظت و پابندی ضروری قرار دی ہے اور بلا عذر خلاف ورزی سے منع کیا گیا ہے،چنانچہ متعدد آیات و روایات میں نمازوں کو ان کے مستحب اوقات سے آگے پیچھے پڑھنے پر سخت نکیر کی گئی ہے،چنانچہ اس سلسلہ کی چند آیات و احادیث مندرجہ ذیل ہیں

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء:103)

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرۃ:238)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»(المستدرک علی الصحیحین:1/297،قدیمی کتب خانہ )

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الكَبَائِرِ»(جامع الترمذی:1/145،رحمانیہ لاھور)

لہٰذا نمازوں کو ان کے مستحب اوقات میں ادا کرنا چاہیے،البتہ سفر وغیرہ کا عذر ہو تو پھر جمع صوری کی اجازت دی گئی ہے۔

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442//2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:85

امام نے”قا لو لا طاقۃ لنا بجا لو ت“ میں ”لا “نہیں پڑ ھا تو نما زہو گئی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صو رت مسئو لہ میں معنی بالکل تبد یل ہو جا نے کی وجہ سے نما زنہیں ہو ئی لہذا اس نما ز کا اعادہ وا جب ہے ۔

لما فی الھند یة :(1/79،رشید یة)
و منھا) حز ف حر ف …وان غیّر المعنی تفسد صلا تہ عند عا مۃ المشا یخ نحو ان یقرأفما لھم یؤ منو ن فی لا یؤ منو ن بترک لا
وفی الفقہ الا سلا می و ا دلتہ :(2/1037،رشید یة)
تبطل الصلاۃ بکل ما غیّرالمعنی تغیرا یکون اعتقا دہ کفرا ، بکل ما لم یکن مثلہ فی القر آن ، و المعنی بعید متغیر تغیر اً فاحشاً ، …وتبطل أ یضاً عند أ بی حنیفۃ و محمد بما لہ مثل فی القرآن ،و المعنی بعید ، و لم یکن متغیراً تغیر اً فا حشاً
وکذافی الخا نیةعلی ھامش الھند یة:(1/154،رشید یة)
وکذا فی البزا زیة علی ھامش الھند یة:(4/45،رشید یة)
وکذا فی رد المحتا ر :(1/632،سعید)
وکذا فی خلاصة الفتا وی :(1/112،رشید یة)
وکذا فی التاتا رخا نیة:(2/102،فارو قیة)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(2/72،دار احیاء ترا ث)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(1/257،الطار ق)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:57