عرب ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے کہ مسبوق ، مسبوقین کا امام بن جاتا ہے اور ان کو نماز پڑھانا شروع کردیتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں ۔ حنفیوں میں تو ہم نے ایسا کبھی پڑھا یا سنا نہیں ۔ کس امام کے نزدیک یہ جائز ہے اور دلیل کیا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

احناف اور مالکیہ کے نزدیک کوئی مسبوق دوسرے مسبوق کی امامت نہیں کرسکتا۔ البتہ حنابلہ اور شوافع کے نزدیک جمعہ کے علاوہ دوسری نمازوں میں مسبوق امامت کر سکتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1198،رشیدیہ)
والخلاصۃ ان الحنفیۃ والمالکیۃلایجیزون الاقتداء بمن کان مقتدیا بعد سلام امامہ ویصح عند الشافعیۃ والحنابلۃ
وکذافی کتاب الفقہ:(1/356،حقانیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/356،حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(1/92،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/356،حقانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1197،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/1197،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:64

چند افراد جیل میں ہیں ، معلوم نہیں کتنے دن رہنا ہے اور غالب گمان یہ ہے کہ 15دن سے زائد رہنا ہے ۔ یہ لوگ قصر کریں گے یا اتمام؟ قصر کرنا تھی اور اتمام کرلیا یا اس کے برعکس کرلیا ، تو کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ لوگ اپنے علاقےکی جیل میں ہوں یا ان کو کسی طرح یقین ہوجائے کہ ہم نے 15دن یا اس سے زائد رہنا ہے توپوری نماز پڑھیں گے ورنہ قصر کریں گے۔ اور اگر جیل کا مقام ہی معلوم نہ ہو، تو جیل کی انتظامیہ سے معلوم کریں۔ معلوم نہ ہوسکے تو قید سے پہلے والی حالت پر عمل کریں۔
قصر کے بجائے اتمام کرلیا اور ایسا جان بوجھ کر کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ اور اگر بھول کر کیا ، لیکن پہلے قعدہ میں بیٹھا تھا تو نماز ہوگئی اورآخری دو رکعتیں نفل شمار ہوں گی ، سلام میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگا، لیکن اگر پہلے قعدہ میں نہیں بیٹھا تھاتو نماز باطل ہوگئی ہے ۔اس کی قضاء کرنا ہوگی۔

لما فی ردالمحتار:(2/134،سعید)
قولہ واسیر) ذکر فی المنتقی ان المسلم ان اسرہ العدو ان کان مقصدہ ثلاثۃایام قصر وان لم یعلم سالہ فان لم یخبرہ وکان العدو مقیما اتم وان کان مسافرا قصر وان لا یکون کمن اخذہ الظالم لایقصر الا بعد السفر
وفی غنیة المتملی:(1/541،رشیدیہ)
ذکر فی المنتقی ان المسلم ان اسرہ العدو ان کان مقصدہ ثلاثۃایام قصر وان لم یعلم سالہ فان لم یخبرہ وکان العدو مقیما اتم وان کان مسافرا قصر وینبغی ان یکون ھذا اذا تحقق انہ مسافر وان لا یکون کمن اخذہ الظالم لایقصر الا بعد السفر
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیة:(1/170،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/401،حقانیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(2/401،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:155

عرض یہ ہے کہ پٹرول پمپ پر موجود چھوٹی سی مسجد پر نماز جمعہ ادا ہورہی تھی ، مسجد سے باہر کچھ لوگوں نے بارش کی وجہ سے5/6 صفیں چھوڑ کر چھت کے نیچے نماز ادا کی ، ان کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد سے باہر امام کی اقتداء اس صورت میہن جائز ہے جب باہر والی صفوں کا مسجد والی صفوں سے اتصال ہو، صورت مسئولہ میں چونکہ اتصال نہیں پایا جارہا ، اس لیے ان لوگوں کی نماز نہیں ہوئی۔

لما فی البدائع:(1/362،رشیدیہ)
فان کنت الفرجۃ بین الامام والقوم قدر الصفین فصاعدا لایجوز اقتداءھم بہ لان ذالک بمنزلۃ الطریق العام او النہر العظیم فیوجب اختلاف المکان
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی:(1/292،قدیمی)
ولیس فیہ صفوف متصلۃ والمانع فی الصلاۃ فاصل یسع فیہ صفین علی المفتی بہ
وکذافی التنویر مع الدر:(1/575،سعید)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1249،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/88،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(1/635،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1442/2021/12/31
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:108

ایک آدمی کے گھر مہمان آئے اور انہوں نے اپنے خیال کے مطابق قبلہ رخ منہ کرکے نماز پڑھی ۔ بعد میں میزبان نے بتایا کہ آپ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں تھا نماز کا وقت بھی نکل چکا ہے ۔ کیا اس نماز کی قضاء ہوگی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مہمان صاحب کی نماز نہیں ہوئی ،قضاء کرنا ہوگی۔

لما فی الھدایہ:(1/91،رشیدیہ)
والاستخبار فوق التحری
وفی البدائع:(1/309،رشیدیہ)
فان کا ن بحضرتہ من یسئلہ عنھا لایجوز لہ التحری لما قلنا بل یجب علیہ السوال فان لم یسئل وتحری و صلی فان اصاب جاز والا فلا
وفی ردالمحتار:(1/431،سعید)
فان کا ن بحضرتہ من یسئلہ عنھا لایجوز لہ التحری بل یجب ان یسئل لما قلنا ای من ان السوال اقوی من التحری
وکذافی الجوہرة:(1/133،قدیمی)
وکذافی البحر الرائق:(1/499،رشیدیہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(1/89،قدیمی)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:94

اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا گھر ملتان میں ہے،اس نے لاہورمیں بھی ایک مکان خریدا ہے،وہ خود فیملی سمیت ملتان رہتا ہے،لاہور والا مکان صرف اس لیے خریدا ہےکہ اسے کرایہ پر دے گا،تو جب وہ شخص لاہور جائے گا تو پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئلہ میں یہ شخص لاہور میں قصر کرے گا،البتہ اگر وہاں15 دن ٹھہرنے کی نیت کی یا وہاں مستقل رہائش اختیار کرلی تو پوری نماز پڑھے گا۔

لما فی الشامیہ:(2/ 739،رشیدیہ)
فان ماتت زوجتہ فی احداھما وبقی لہ فیہا دوروعقارقیل لایبقی وطناً لہ،اذالمعتبر الاھل دون الدار کما لو تا ھل ببلدۃ واستقرت سکناً لہ ولیس لہ فیھا دار
وفی عمدۃ القاری:(7 /120، داراحیاء التراث)
واما الوجہ الثالث ففیہ بعد اذ لم یقل احد ان المسافر اذا مر بما یملکہ من الارض ولم یکن لہ فیھا اھل ان حکمہ حکم المقیم
وکذافی النھرالفائق :(1 / 349، قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق: (2/ 239،رشیدیہ)
وکذا فی العالمکیریہ : (1/ 142،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی : (2/ 1364،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ: (1/ 150 ،رشیدیہ)
وکذا فی التنویر مع الدر : (2/ 739،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (2/402 ،دار احیاء)
وکذا فی التاتارخانیہ: (2/ 510،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی: (2/ 108،دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیر الدین عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/1442/6/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:2

منفرد سری نمازوں میں جہر کرتا رہا اور اس کا یہ عمل کئی سال رہا ، کیا اس طرح ادا کی گئی نمازیں درست ہوگئیں یا واجب الاعادہ ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منفرد اگر سری نماز میں تین یا تین سے زائد آیات جہرا پڑھ لے تو ظاہرالروایت کے مطابق سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔ یہ قول اوسع ہے ، علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ، البتہ بعض فقہاء نے اس صورت میں سجدہ سہو واجب قرار دیا ہے ۔ یہ قول احوط ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں اوسع قول کے مطابق نمازیں درست ہوگئیں ہیں ، تاہم احوط قول کا تقاضا یہ ہے کہ ان نمازوں کا اعادہ کرلیا جائے ۔

لما فی ردالمحتار:(2/81،سعید)
قولہ والجہر فیما یخافت فیہ) فی العبارۃ قلب ، وصوابھا والجھر فیمایخافت لکل مصل وعکسہ الامام وھذا ما صححہ فی البدائع والدرر ومال الیہ فی الفتح وشرح المنیۃ والبحر والنھر والحلیۃ علی خلاف مافی الھدیۃ والزیلعی وغیرھما من ان وجوب الجھر والمخافتۃ من خصائص الامام دون المنفرد
وفیہ ایضا:(2/81،سعید)
والحاصل ان الجھر فی الجھریۃ لایجب علی المنفرد اتفاقاوانما الخلاف فی وجوب الاخفاء علیہ فی السریۃ وظاہرالروایۃ عدم الوجوب کما صرح بذالک فی التاتار خانیۃ عن المحیط وکذا فی الذخیرۃ وشروح الھدایۃ کالنھایۃ والکفایۃ والعنایۃ ومعراج الدرایۃ وصرحوا بان وجوب السھو علیہ اذا جھر فیما یخافت روایۃ النوادر فعلی ظاہر الروایۃ لاسھو علی المنفرد اذا جھر فی مایخافت فیہ وانماھو علی الامام فقط
وفی المبسوط للسرخسی:(1/222،بیروت)
وان کان منفردا فلیس علیہ سجود السھو بھذا)اما فی صلاۃ الجھر ھو مخیر بین الجھر والمخافتۃ واما فی صلاۃ المخافتۃ فجھر المنفرد بقدراسماعہ نفسہ وھو غیر منھی عن ذالک فلھٰذا لایلزمہ السھو
وکذافی منحة الخالق:(2/171،)
وکذافی الھندیة:(1/128،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(2/396،فاروقیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(1/456،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:92

اگر کوئی نابالغ بچہ آیت سجدہ تلاوت کرے ، تو سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نابالغ بچے سے آیت سجدہ سننے والا اگر مکلف(عاقل ، بالغ )ہے تواس پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا ۔

لما فی الھندیة:(1/132،رشیدیہ)
والاصل فی وجوب السجدۃ ان کل من کان من اھل وجوب الصلاۃ اما اداء او قضاء کان اھلا لوجوب سجدۃ التلاوۃ….حتی لوکان التالی کافرا او مجنونا او صبیا لم یلزمھم وکذا السامع…..ولوسمع منھم مسلم عاقل بالغ تجب علیہ لسماعہ
وفی البدائع:(1/439،رشیدیہ)
واما بیان من تجب علیہ فکل من کان اھلا لوجوب الصلاۃ علیہ امااداء او قضاء فھو من اھل وجوب السجدۃ علیہ ومن لا فلا…..حتی لاتجب علی الکافر والصبی والمجنون والحائض والنفساء قرؤا او سمعوا…..تجب علی السامع بتلاوۃ ھٰولآء الا المجنون
وکذافی البحر الرائق:(2/211،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(1/323،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/107،سعید)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(2/4،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:135

شہر سے دور دراز ایک بستی ہے جہاں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں ، لیکن جمعہ کے دن وہاں ایک بڑا بازار لگتا ہے جس میں عارضی طور پر تقریباً 60 کے قریب سٹال لگائے جاتے ہیں اور آس پاس کے علاقوں سے بہت سے لوگ وہاں آتے ہیں ۔ کیا اس جگہ جمعہ کی نماز پڑھی جاسکتی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صرف ایک دن بازار لگنے کے باوجودبعض شرائط پھر بھی نہیں پائی جاتیں ، اس لیے جمعہ جائز نہیں ہوگا ۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/439،بیروت)
للجمعۃ شرائط احدھا المصر….. (وبعد صفحۃ) قال شمس الائمۃ ظاھر المذھب ان المصر الجامع ان یکون فیہ جماعات الناس وجامع واسواق للتجارات وسلطان
وفی التنویر مع الدر:(2/144،سعید)
وجازت) الجمعۃ( بمنی فی الموسم) فقط (ل) وجود( الخلیفۃ)
وفی ردالمحتار تحتہ:(2/144،سعید)
قولہ فی الموسم) ای موسم الحاج وھو سوقھم ومجتمعھم من الموسم
وفی تقریرات الرافعی:(2/111،سعید)
قولہ ای موسم الحاج) فانھا تتمصر ایام الموسم لان لھا بناء وتنقل الیھا الاسواق و یحضرھا وال وقاض
وکذافی الھندیة:(1/145،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1294،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/222،قدیمی)
وکذافی المختصر فی فقہ الحنفی:(1/201،بشری)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/338،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:156

مثل اول اور مثل ثانی کی وضاحت کیا ہے ؟ (2) احناف کے ہاں جمع بین الصلاتین (صوری) کس وقت اور کن کن حالات میں کرسکتے ہیں ؟ (3) عام حالات میں مثل ثانی میں کبھی ظہر کو اور کبھی عصر کو (دونوں کو جمع کیا بغیر) پڑھنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جتنا سایہ ٹھیک دوپہر میں ہوتا ہے اس کو چھوڑ کر جب ہر چیز کا سایہ ایک گنا ہوجائے تو یہ وقت مثل اول کہلائے گا اور جب ہر چیز کا سایہ مزید بڑھ کر دو چند ہوجائے تو یہ وقت مثل ثانی کہلائےگا مثلا ایک گز لکڑی کاسایہ ٹھیک دوپہر میں چار انچ ہو ، تو جب اس کا سایہ ایک گز اور چار انچ ہوجائے تو مثل اول اور دوگز چارانچ ہوجائے تو مثل ثانی ہوگا ۔
احناف کے ہاں جمع بین الصلاتین(جمع صوری ) عذر اور ضرورت کے حالات میں جائز ہے بشرطیکہ معمول نہ بنایاجائے ۔ یہ مسئلہ چونکہ خود احناف کےہاں مختلف فیہ ہے ، اس لیے عذر (مثلا سفر یا جب غیرمقلد کی اقتداء کرنی پڑجائے ) میں عصر کو مثل ثانی میں پڑنے کی گنجائش ہے ۔ البتہ ظہر کو مثل ثانی میں پڑنا جائز تو ہے ،لیکن خلاف احتیاط ہے ۔

لما فی الھندیة:(1/51،رشیدیہ)
فاذا ازداد علی ذالک وصارت الزیادۃ مثلی ظل اصل العود سوی فیئ الزوال یخرج وقت الظھر عند ابی حنیفۃ
وفی التاتارخانیة:(2/5،فاروقیہ)
واختلفوا فی آخر وقت الظھر ، روی الحسن عن ابی حنیفۃ ان آخر وقت الظھر ان یصیر ظل کل شیئ مثلہ سوی الظل الاصلی
وفی الجامع للترمذی:(1/145،رحمانیہ)
عن بن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من جمع بین الصلاتین من غیر عذر فقد اتی بابا من ابواب الکبائر
وفی مرقاة المفاتیح:(5/500،التجاریہ)
وقال العینی وماورد فی الاحادیث من الجمع بین الصلاتین فی السفر فمعناہ الجمع بینھما فعلا لاوقتا کذا ذکرہ القسطلانی
وفی الفقہ الاسلامی:(2/1375،رشیدیہ)
واما المرض کالمبطون او غیرہ فیجیز الجمع الصوری بان یصلی الفرض فی آخر وقتہ الاختیاری والفرض الثانی فی اول وقتہ الاختیاری

 

وکذافی فتح الملھم:(4/81،دار العلوم کراچی)
وکذافی معارف السنن:(2/165،سعید کراچی)
وکذافی بذل المجھود:(6/207،قدیمی کراچی)
وکذافی رد المحتار:(2/20،رشیدیة کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/1/2021/1442/5/29

جلد نمبر:22 فتوی نمبر:147

ایک بیمار آدمی جو کسی وقت ہوش میں ہوتا ہے اور کسی وقت بےہوشی میں ہوتاہے ، اس کی نمازوں کاکیا حکم ہے ؟(2)اور کیا وہ اپنی زندگی میں نمازوں کا فدیہ دے سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بےہوشی کی وجہ سے مسلسل چھ نمازیں قضاء ہوجائیں تو وہ معاف ہوتی ہیں، اس سے کم ہوں تو معاف نہیں ہوتیں ،بلکہ جیسے ہی ممکن ہو ،ادا کرنا ہوتی ہیں اگر ادا نہ ہوسکیں تو ان کے فدیہ کی وصیت واجب ہوگی ۔ تاہم اگر اسی مرض میں وفات پاگیا تو قضاء بھی لازم نہ ہوگی اور فدیہ بھی نہیں ۔(2)اپنی زندگی میں نمازوں کا فدیہ اد کرنا درست نہیں ہے ۔

لما فی التنویرمع الدر:(2/102،سعید)
ومن جن او اغمی علیہ)…. (یوماولیلۃ قضی الخمس وان زاد وقت صلاۃ) سادسۃ (لا) للحرج
وفیہ ردالمحتار:(2/74،سعید)
قولہ ولو فدی عن صلاتہ فی مرضہ لایصح فی التاتارخانیۃ عن التتمۃ سئل الحسن بن علی عن الفدیۃ عن الصلاۃ فی مرض الموت ھل تجوز فقال لا ، وفی القنیۃ ولافدیۃ فی الصلاۃ حالۃ الحیاۃ
وفی الھندیة:(1/137،رشیدیہ)
ان زاد عجزہ علی یوم ولیلۃ لایلزمہ القضاء وان کان دون ذالک یلزمہ…..والفتوی علیہ وان مات من ذالک المرض لاشیئ علیہ ولایلزمہ فدیۃ کذا فی المحیط
وکذافی التنویر مع الدر:(2/99،سعید)
وکذافی ردالمحتار:(2/99،سعید)
وکذافی الھندیة:(1/137،رشیدیہ)
وکذافی التبیین الحقائق:(1/204،)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:134