باپ بیٹے کو اپنی زندگی میں مکان ہبہ کرے اور قبضہ بھی دے دے، لیکن باپ بیٹا دونوں اسی مکان میں رہتے ہوں تو یہاں باپ کو سامان سمیت کچھ وقت کےلیے باہر نکلنا ضروری ہوگا؟ جیسا کہ بعض فتاوی میں مذکور ہے یا گھر میں رہتے ہوئے بھی بیٹے کا قبضہ مکمل ہوجائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!مکان پر قبضہ مکمل ہونے کےلیے ضروری ہے کہ باپ سامان سمیت کچھ وقت کےلیے گھر سے باہر نکل آئے اور پھر مکان بیٹے کو سپرد کرے۔
البتہ اس مشکل کے حل کےلیے بعض فقہاء نے یہ حیلہ بتلایا ہے کہ باپ پہلے گھر کا مکمل سامان بطور امانت بیٹے کے سپرد کر دےپھر کچھ وقت کےلیے خودگھر سے نکل آئے اور مکان بیٹے کو ہبہ کردے۔ اب بیٹا مکان پر قبضہ کرلے گا ،ہبہ تام ہوجائے گا۔گھر میں موجود سامان بیٹے کے پاس باپ کی امانت ہوگی ،باپ جب چاہے واپس لے لے۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(392،البشری)
لو وھب دارا و ھو یسکن فیھا او لہ فیھا اثاث لا تتم الھبۃ الّا اذا خرج منھا و افرغھا من اثاثہ
وفی الفتاوی الھندیة:(4/380،رشیدیہ)
ولو وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة فيها
وفی رد المحتار:(12/558،رشیدیہ)
والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة
وکذافی التاتارخانیہ:(14/430،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/174،بیروت)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/178،رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق:(7/489،رشیدیہ)
وکذافی دررالحکام:(2/448،449،العربیہ)
وکذافی الدر المختار:(12/558،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر :188

ایک عورت نے اپنے زیورات شوہرکو ہبہ کر دیے،اب اس عورت کے لیے ان زیورات کا استعمال شوہر کی اجازت کے بغیر درست ہے یا اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت نے جب زیورات شوہر کو ہبہ کر دیے اور شوہر نے ان پر قبضہ بھی کر لیا تو شوہر ان کا مالک بن گیا اب عورت شوہر کے مملوکہ زیورات کو اس کی صراحتاً یا دلالۃ اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتی۔

لما فی شرح المجلة:(1/262،رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یتصرف فی مال الغیر بلا اذنہ . . . . وعدم الجواز شامل لجمیع انواع التصرف من استعمال کرکوب ولبس ووضع جذع
وفی الدر المختار:(9/334،رشیدیہ)
“لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا اذنہ ولا ولایتہ.”
وکذافی دررالحکام شرح مجلة الاحکام:(3/201،202،المکتبة العربیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/125،139،الطارق)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،392،بشری)
وکذافی التاتارخانیہ:(14/413،فاروقیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(3/281،رحمانیہ)
وکذافی شرح المجلة:(1/264،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 154

ایک عو رت نے اپنے زیو رات اپنے شو ہر کو دیدیے اور اس کی ملکیت میں بھی دید یے لیکن بعد میں دینے سے انکا ر کر دیا ۔کیا اس کا رجو ع کر نا در ست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صو رتِ مسئو لہ میں اس عو رت کا رجو ع در ست نہیں ہے ۔

لما فی الھند یة :(4/386،رشید یة)
و اذا وھب أحد الز وجین لصاحبہ لا یر جع فی الھبۃ و ان انقطع النکاح بینھما
وفی بدائع الصنائع :(5/192،رشید یة)
الثانی :الزو جیۃ فلا یر جع کل وا حد من الز و جین فیما و ھب لصاحبہ ، لأن صلۃ الزو جیۃ تجر ی مجریٰ صلۃ القرا بۃ الکاملۃ بد لیل انہ یتعلق بہا التو ارث فی جمیع الأحوال فلا ید خلھا حجب الحر مان ، والقرا بۃ الکا ملۃ ما نعۃ من الر جوع فکذا مایجری مجراھا
وکذافی التا تا ر خا نیة :(14/449،فا روقیہ)
وکذا فی الفقہ الا سلا می وا دلتہ :(5/4010،رشید یة)
وکذا فی المو سو عةالفقھیة:(42/151،علوم اسلامیة)
وکذا فی البحر الر ائق :(7/499،رشید یة)
وکذا فی مجمع الانھر :(3/502،المنار)
وکذا فی الخا نیة علی ھا مش الھند یة:(3/274،رشید یة)
وکذا فی البنا یة:(9/339،رشید یة)
وکذا فی کنزالدقا ئق:(355،حقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:168

میرےوالدصاحب 1988ءمیں وفات پاگئے،ہم چاربھائی اورتین بہنیں ہیں،والدصاحب کی زمین چاربھائیوں اورتین بہنوں کےنام لگ گئی، تقریباًچار،یاپانچ سال بعدبہنوں نےیہ زمین خوشی سےچاروں بھائیوں کوہدیہ کردی ،اس دوران آج تک ہم اپنی بہنوں کوعیدوشبرات اورناقی شکیں ،وغیرہ بھی دیتےرہتے،جب ہماری بہنیں ہمارےپاس آتیں توہم ان کی خدمت روپوں یاکپڑوں سےدےکرکرتےتھے،بہنوں نےزمین ہمارےنام لگائےہوئے تقریبا30 سال گزرگئےاب وہ زمین جو30سال پہلےبہنوں نےہدیہ کی تھی وہ زمین ہم نےچھ لاکھ روپےفی ایکڑکےلحاظ سےفروخت کردی،ہم نےاپناحصہ اوروہ زمین جوبہنوں نےہدیہ کی تھی فروخت کردی ۔اب بہنیں مطالبہ کررہی کہ ہدیہ کی ہوئی زمین کی رقم ہمیں دےدو ہماراحق بنتاہے،مہربانی فرماکربتائیں کہ ہدیہ کی ہوئی زمین پربہنوں کاحق ہےیانہیں؟

الجواب حامداومصلیا

بہنوں نےجب زمین ہدیہ کردی تھی توان کواب شرعامطالبہ کاکوئی حق نہیں ہے۔

لمافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(395،البشری)
لووھب احدالزوجین لآخرشیأًلیس لہ الرجوع، وکذالک اذاوھب لذی رحم محرم منہ کالاصول والفروع، والعم، والعمۃ، والاخ،والاخت
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/4010،رشیدیہ)
“الثانی صلۃ الرحم،فلایصح الرجوع فی ھبۃذوی الارحام المحارم،لان ھذہ الصلۃ عوض معنوی ۔”
وفی البحرالرائق:(7/500،رشیدیہ)
“فلووھب لذی رحم محرم منہ لایرجع فیھا۔”
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3982،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(5/190۔رشیدیہ)
وکذافی التنویروالدر:(5/704،سعید) وکذافی المجلة:(28،قدیمی)
وکذافی الموسوعةالفقہیة:(42/151،علوم اسلامیة)
وکذافی السراجیة:(406،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
22/8/1443/2022/3/26
جلد نمبر : 27 فتوی نمبر:51