حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہرعصر اور مغرب عشاء کومدینہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کیا۔وکیع کی روایت میں ہیں(سعید نے کہا) میں نے ابنِ عباسؓ سے پوچھا،آپ نے ایسا کیوں کیا؟انہوں نے فرمایا،تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہےکہ ابنِ عباسؓ سے پوچھا گیا کہ حضور نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟انہوں نے کہا، آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔مفتی صاحب اس حدیث سے تو یہ معلوم ہو رہا ہےکہ بغیر کسی عذر کے ایک وقت میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے کیا یہ صحیح ہے؟

 الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت مطہرہ میں چونکہ نمازوں کے اوقات متعین ہیں،جیسا کہ قرآن کریم میں ہے”إِنَّ الصَّلَاۃكَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِین كِتَابًا مَوْقُوتًا(سورت النساء/ 103) ترجمہ: بیشک نماز مسلمانوں کے ذمے ایک ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے۔اور رسول اللہ نے بھی ایک وقت میں دو نمازوں کے جمع کرنے کو گناہ قرار دیا ہے۔سوال میں موجود حدیث بھی حضرت عبداللہ ابنِ عباسؓ سے مروی ہے اور ایک دوسری حدیث بھی حضرت ابنِ عباسؓ ہی کی حدیث ہے۔ترجمہ:رسول اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بغیر عذر کے دو نمازوں کو جمع کرے تو وہ گناہ کبیرہ کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے پاس آیا۔(جامع ترمذی:1/145،رحمانیہ)پس اگر حدیث ابنِ عباسؓ کو اپنے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے،تو یہ مندرجہ بالا حدیث کے خلاف اور متعارض ہو جائے گی،لہذا حدیث ابنِ عباسؓ کا ایسا معنی بیان کیا جائے گاجو ان اصولوں کے خلاف نہ ہو،مزید یہ کہ خود حضرت ابنِ عباسؓ سے بھی منقول ہے کہ میں نے رسول اللہ کے ساتھ ظہر اور عصر،اور مغرب اور عشاء کی نماز اکٹھے پڑھی،اس حال میں کہ رسول اللہ نے ظہر کی نماز ظہر کے بالکل آخری وقت میں اورعصر کو عصر کے بالکل ابتدائی وقت میں پڑھا اور مغرب کی نماز کو آخری وقت میں اور عشاء کی نماز کو جلدی پڑھا(نیل الاوطار:3/246،دار الباز )اسی وجہ سے محدثین حضرات نے اسکو “جمع صوری” پر محمول کیا ہے۔یعنی ظہر کو بالکل آخری وقت میں اور عصر کو عصرکے بالکل ابتدائی وقت میں پڑھا جائےاور یہی صورت مغرب اور عشاء کی ہے،لہذا اس طرح دونوں حدیثوں پر عمل بھی ہو جاتاہے اور حدیث کا مرادی معنی بھی معلوم ہو جاتا ہے اورکسی حدیث کا انکار یا اس کا ترک کرنا بھی لازم نہیں آتا۔

لما فی جامع الترمذی:(1/145،مکتبہ رحمانیہ)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال من جمع بین الصلو تین من غیر عذر فقد اتیٰ بابا من ابواب الکبائر
وفی صحیح التر مذی مع عارضةالاحوذی: (1/303،دار احیاءالتراث)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم قال من جمع بین الصلو تین من غیر عذر فقد اتیٰ بابا من ابواب الکبائر،قال علماءنا الجمع بین الصلوتین فی المطر والمرض رخصۃ وقال أبو حنیفۃ بدعۃ،وباب من أبواب الکبائر کما تقدم فی الحدیث وفیہ اخراج الصلاةعن أوقاتھا التی تثبت لھا ثبوتا متواترا وانما یکون الجمع بعرفۃ حیث نقل تواترا فیکون النسخ للشئ بمثلہ لا بما ھو أقل منہ
وفی حاشیة اعلاءالسنن: (2 /95،ادارة القرآن)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم الظہر والعصر جمیعاً بالمدینۃ فی غیر خوفٍ ولا مطرٍ۔۔۔۔۔۔ قلت،وقد روی ھذا عن الاعمش وھو ثقۃ،فھو محمول علی الجمع الصوری،وحملہ علی الجمع الحقیقی خلاف الجماع
وکذا فی عمد ةالقاری: (5 /30،داراحیاء التراث)
وکذافی فتح الباری: (2 /30،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی فیض الباری:(2/148، رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/327،رشیدیہ)
وکذافی جامع الترمذی مع تحفة الاحوذی:(1/583،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/9،دار احیاء التراث)
وکذافی آثار السنن :(244،رحمانیہ)
وکذا فی سنن النسائی مع حاشیة الامام السندی:(1/112،رحمانیہ)
وکذا فی البخاری :(1/228، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی القرآن الکریم:(نسآء/103)
وکذافی نیل الاوطار: (3 /246،دار الباز مکة المکرمة)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد مجیب الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/8/16/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:18

مثل اول اور مثل ثانی کی وضاحت کیا ہے ؟ (2) احناف کے ہاں جمع بین الصلاتین (صوری) کس وقت اور کن کن حالات میں کرسکتے ہیں ؟ (3) عام حالات میں مثل ثانی میں کبھی ظہر کو اور کبھی عصر کو (دونوں کو جمع کیا بغیر) پڑھنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جتنا سایہ ٹھیک دوپہر میں ہوتا ہے اس کو چھوڑ کر جب ہر چیز کا سایہ ایک گنا ہوجائے تو یہ وقت مثل اول کہلائے گا اور جب ہر چیز کا سایہ مزید بڑھ کر دو چند ہوجائے تو یہ وقت مثل ثانی کہلائےگا مثلا ایک گز لکڑی کاسایہ ٹھیک دوپہر میں چار انچ ہو ، تو جب اس کا سایہ ایک گز اور چار انچ ہوجائے تو مثل اول اور دوگز چارانچ ہوجائے تو مثل ثانی ہوگا ۔
احناف کے ہاں جمع بین الصلاتین(جمع صوری ) عذر اور ضرورت کے حالات میں جائز ہے بشرطیکہ معمول نہ بنایاجائے ۔ یہ مسئلہ چونکہ خود احناف کےہاں مختلف فیہ ہے ، اس لیے عذر (مثلا سفر یا جب غیرمقلد کی اقتداء کرنی پڑجائے ) میں عصر کو مثل ثانی میں پڑنے کی گنجائش ہے ۔ البتہ ظہر کو مثل ثانی میں پڑنا جائز تو ہے ،لیکن خلاف احتیاط ہے ۔

لما فی الھندیة:(1/51،رشیدیہ)
فاذا ازداد علی ذالک وصارت الزیادۃ مثلی ظل اصل العود سوی فیئ الزوال یخرج وقت الظھر عند ابی حنیفۃ
وفی التاتارخانیة:(2/5،فاروقیہ)
واختلفوا فی آخر وقت الظھر ، روی الحسن عن ابی حنیفۃ ان آخر وقت الظھر ان یصیر ظل کل شیئ مثلہ سوی الظل الاصلی
وفی الجامع للترمذی:(1/145،رحمانیہ)
عن بن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال من جمع بین الصلاتین من غیر عذر فقد اتی بابا من ابواب الکبائر
وفی مرقاة المفاتیح:(5/500،التجاریہ)
وقال العینی وماورد فی الاحادیث من الجمع بین الصلاتین فی السفر فمعناہ الجمع بینھما فعلا لاوقتا کذا ذکرہ القسطلانی
وفی الفقہ الاسلامی:(2/1375،رشیدیہ)
واما المرض کالمبطون او غیرہ فیجیز الجمع الصوری بان یصلی الفرض فی آخر وقتہ الاختیاری والفرض الثانی فی اول وقتہ الاختیاری

 

وکذافی فتح الملھم:(4/81،دار العلوم کراچی)
وکذافی معارف السنن:(2/165،سعید کراچی)
وکذافی بذل المجھود:(6/207،قدیمی کراچی)
وکذافی رد المحتار:(2/20،رشیدیة کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/1/2021/1442/5/29

جلد نمبر:22 فتوی نمبر:147

سفر میں جمع بین الصلاتین کے حوالے سے ظہر و عصر کا وقت معلوم کرنا تو مثل اول و ثانی کے اعتبار سے آسان ہے۔ لیکن مغرب میں وہ مشترک وقت (جو کہ احناف کے ہاں مختلف فیہ ہے) کب ہوتا ہے جس میں مغرب و عشاء دونوں پڑھ سکیں؟ میں نے کسی سے سنا ہے کہ مغرب کا وقت داخل ہونے کے پونے گھنٹہ (45 منٹ) کے بعد مغرب و عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

محتاط قول کے مطابق آغازِ وقتِ عشاء سے تقریبا 10 منٹ پہلے معذور اور مسافر، مغرب اور عشاء اکٹھی پڑھ سکتے ہیں۔

لما فی فیض الباری: ( 2/133، رشیدیہ)
وهكذا أقول بالاشتراك بين المغرب والعشاء، ففي المغرب أيضا روايتان عن الإمام. الأولى: أنها إلى الشفق الأبيض، قالوا: إنه ظاهر الرواية. والثانية: أنها إلى الأحمر.
قلت: الأحمر، وقت مختص بالمغرب، وما بعد الأبيض وقت مختص بالعشاء، والأبيض يصلح لهما، والمطلوب هو الفاصلة، وترتفع تلك المطلوبية في السفر والمرض، فيجوز الجمع فيه كالجمع بين الظهرين في المثل الثاني،… وإليه تومىء الأحاديث لتعرضها إلى التأخير والتعجيل، وهما أصدق وأفيد على نظر الحنفية، وإن صدقا على نظرهم أيضا، لكن ليس فيه لطف.
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 1/668، رشیدیہ)
و بین الشفقین تفاوت یقدر بثلاث درجات، و الدرجۃ أربع دقائق.
وکذافی اللباب علی المختصر: ( 1/72، قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی اعلاء السنن: ( 2/14، ادارة القرآن)
وکذافی فتح الملھم: ( 4/77، مکتبہ دارالعلوم)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة: ( 2/7، فاروقیہ)

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/9/1440، 2019/5/26
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :69