ایک مولوی صاحب بیان کر رہے تھے کہ جو شخص گھر سے وضو کرکے مسجد کی طرف جاتا ہے،اس کے لیے اتنا اجر ہے کہ جیسے احرام باندھ کر حج کے لیے جا رہا ہو، کیا یہ حدیث ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی یہ حدیث ہے۔

لما فی سنن ابی داود:(1/93،رحمانیة)
عن أبی اُمامۃان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من خرج من بیتہ متطھراالی صلوۃ مکتوبۃ فاجرہ کأجرالحاج المحرم
وفی مسند الامام احمد بن حنبل:(6/359،دارالاحیاء)
عن أبی اُمامۃان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من مشی الی صلوۃ مکتوبۃوھومتطھر کان لہ کأجرالحاج المحرم،ومن مشی الی سبحۃالضحی کان لہ کأجر المعتمر
وکذا فی فیض القدیر: ( 6/ 296 ، دارالکتب)
وکذا فی کنز العمال:(7/234،رحمانیة)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/71، رحمانیة)
وکذافی الترغیب والترھیب :(1/134،رشیدیہ)
وکذافی المعجم الاوسط:(4/163،المعارف)
وکذافی المعجم الکبیر:(4/299،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمدامجدڈوگرغفرلہ ولوا لدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/3/2023/3/9/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:137

چوتھے کلمے میں جوالفاظ”اَبَدًااَبَدَاذُوالجَلَالِ وَالاِکرَام“پڑھے جاتے ہیں کیایہ حدیث سے ثابت ہیں؟دوسرایہ کہ پانچواں کلمہ اَستَغفِرُاللہَ رَبِّی۔۔۔۔الخ اوراَلّٰلھُمَّ اَنتَ رَبِّی۔۔۔۔۔الخ یہ دوپڑھے جاتے ہیں ان میں سے کون ساکلمہ حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

چوتھے کلمے کے مذکورہ الفاظ احادیث مبارکہ میں ہمیں نہیں ملے۔
پانچواں کلمہ اَلّٰلھَمَّ اَنتَ رَبِّی۔۔۔۔۔الخ یہ تو مکمل طورپرحدیث سے ثابت ہے لیکن اَستَغفِراللہَ رَبِّی۔۔۔۔الخیہ مکمل طورپراحادیث میں نہیں اس کلمے کے تھوڑے الفاظ ملتے ہیں۔
یادرہے چھ کلمے جوعلماء نے ذکرکیےہیں یہ عوام کی آسانی کے لیے بطوردعاواقرارکےذکر کیے ہیں جن سے ایک عام آدمی دین کی بہت ساری ضروری باتوں کازبان اوردل سے اقراروتصدیق کرلیتاہے احادیث میں ان کابالترتیب ہونا ضروری نہیں۔

لما فی فی البخاری: (2 /460 ،رحمانیة )
قال ابوھریرۃ سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول واللہ انی لاستغفراللہ واتوب الیہ فی الیوم اکثرمن سبعین مرۃ
وفی سنن الترمذی: (789 ،بیروت )
عن سالم بن عبداللہ بن عمر فحدثنی عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:من دخل السوق فقال لاالہ الااللہ ووحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد یحیی ویمیت وھو حی لایموت بیدہ الخیر وھوعلی کل شیئ قدیر کتب اللہ لہ الف حسنۃ ومحی عنہ الف سیئۃ ورفع لہ الف درجۃ
وکذافی البخاری: (2 /474 ،رحمانیة ) وکذافی فی البخاری: (2 /474 ،رحمانیة )
وکذافی سنن الترمذی: (798 ،بیروت ) وکذافی مصنف عبدالرزاق: (2 /235 ،بیروت )
وکذافی مصنف عبدالرزاق: (2 /238 ،بیروت ) وکذافی مصنف ابن ابی شیبة: (6 /37 ،بیروت )
وکذافی مصنف ابن ابی شیبة: (6 /57 ،بیروت ) وکذا فی مصنف ابن ابی شیبة: (6 /57 ،بیروت )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2023/2/13/21/7/1444
جلد نمبر:29 فتوی نمبر:33

میں نے سنا ہے کہ جنازہ کے ساتھ چالیس قدم چلنا سنت ہے کیا یہ روایات وغیرہ میں ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضرات فقہاءکرام نے اس عمل کو سنت کہا ہے،لیکن ہمیں ایسی کوئی روایت نہیں ملی،البتہ یہ روایت موجود ہے کہ جوشخص جنازے کے چاروں پائیوں کو کندھا دے گا تو اس کے چالیس گناہ معاف ہوجاتےہیں۔

لما فی مجمع الزوائد: (3 /95 ،العلمیة )
عن انس بن مالک،قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حمل جوانب السریرالاربع کفراللہ عنہ اربعین کبیرۃ
وفی الھندیة: (1 /162 ،رشیدیة )
ثم ان فی حمل الجنازۃ شیئین نفس السنۃ وکمالھا اما نفس السنۃ فھی ان تاخذ بقوائمھا الاربع علی طریق التعاقب بان تحمل من کل جانب عشر خطوات وھذا یتحقق فی حق الجمع واما کمال السنۃ فلا یتحقق الا واحد وھوان یبدأالحامل بحمل یمین مقدم الجنازۃ
وکذافی المجمع الاوسط: (6 /428 ،المعارف ) وکذافی التاتارخانیة: (3 /33 ،فاروقیة )
وکذافی بدائع الصنائع: (2 / 43 ،رشیدیة ) وکذافی محیط البرھانی: (3 /69 ،داراحیاء )
وکذافی الھدایة: ( 1/ 289 ،بشریٰ ) وکذافی الشامیة: (3 /158 ،رشیدیة )
وکذافی المبسوط: (2 /56 ،دارالمعرفة ) وکذافی فتح القدیر: (2 /140 ،رشیدیة )

واللہ اعلم بالصواب
کلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2022/12/4/9/5/1444
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:80

سور المومن شفاء.” حدیث ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

خاص ان الفاظ کے ساتھ حدیث ثابت نہیں ہے۔

لما فی کشف الخفاء و مزیل الالباس: (1/458، ط: الغزالی)
سؤر المؤمن شفاء” قال النجم: لیس بحدیث
و فی الموضوعات الکبریٰ: (129، ط: قدیمی)
و اما مایدور علی الالسنۃ من قولھم : “سؤر المؤمن شفاء” فصحیح من جھۃ المعنی لروایۃ الدارقطنی فی الافراد من حدیث ابن عباس مرفوعاً: من التواضع ان یشرب الرجل من سؤر اخیہ ای المؤمن
و کذا فی المقاصد الحسنہ: (239، ط: النوریہ الرضویہ)
و کذا فی المرقاہ شرح المشکوہ (5/552، ط: التجاریہ)
و کذا فی کشف الخفاء و مزیل الالباس: (1/436،ط: الغزالی)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:127

کیا یہ الفاظ” موتوا قبل ان تموتوا وحاسبواقبل ان تحاسبوا”کسی حدیث سے ثابت ہیں یا کسی کا مقولہ ہیں؟اور اگر انہیں الفاظ کے ساتھ ثابت ہیں تو کیا یہ دونوں جملے اکٹھے ہیں یا دو جملوں کو مختلف جگہوں سے لے کر ملایا گیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

” موتوا قبل ان تموتوا وحاسبواقبل ان تحاسبوا”یہ مکمل الفاظ توکسی حدیث سے ثابت نہیں ،”موتوا قبل ان تموتوا”یہ صوفیاء کے ہاں بولے جانے والا جملہ ہے،اس جملے کا دوسرا حصہ “وحاسبواقبل انفسکم ان تحاسبوا”یہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ثابت ہے

لمافی الموضوعات الکبری:(246،قدیمی)
موتوا قبل ان تموتوا”قلت :العسقلانی: انہ غیر ثابت قلت:ھو من کلام الصوفیۃ،والمعنی”موتوا قبل ان تموتوا”اضطرارا،المراد بالموت الاختیاری ترک الشھوات واللھوات ،ومایترتب علیہا من الزلات والغفلات
وکذا فی کشف الخفاء ومزیل الالباس(2/291،الغزالی)
موتوا قبل ان تموتوا”قال الحافظ ابن حجر :ھو غیر ثابت وقال القاری:ھو من کلام الصوفیۃ،والمعنی”موتوا ” اختیارا بترک الشھوات قبل ان اضطرارا بالموت الحقیقی
وکذا فی مصنف ابن ابی شیبہ:(7/515،بیروت)
وكيع، عن، جعفر بن برقان، عن، رجل، لم يكن يسميه عن عمر بن الخطاب، أنه قال في خطبته: «حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا وزنوا أنفسكم قبل أن توزنوا وتزينوا للعرض الأكبر , يوم تعرضون لا تخفى منكم خافية
وکذا فی مرقاةالمفاتیح:(9/142،التجاریہ)
وکذا فی حلیةالاولیاء وطبقات الصفہاء:(1/52،بیروت)
وکذا فی تحفة الاحوذی شرح جامع الترمذی:(7/43،قدیمی)
وکذافی مقاصد الحسنة لشیخ عبدالرحمٰن السخاوی:(443،النوریة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/2021/3/8
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:193

سنن ابی داؤد میں حج کے متعلق ایک روایت” من اراد الحج فلیتعجل“ کے الفاظ سے مذکور ہے ،جبکہ چالیس اسباق میں یہ الفاظ” من اراد الحج فلیعجل“لکھے گئے ہیں۔سوال یہ ہے کیا فلیعجل کے لفظ سے یہ روایت صحاح ستہ یا حدیث کی کسی اور مستند اوربنیادی کتاب میں مذکور ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فلیعجل“کے لفظ کے ساتھ مشکوۃ المصابیح ،عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری اورفیض الباری میں آئی ہےاور سنن دارمی میں فلیسعجل“ کے لفظ سے مذکور ہے۔

لما فی : مشکوۃ المصابیح (1/225،رحمانیہ)
من اراد الحج فلیعجل رواہ ابو داؤد والدارمی
وفی فیض الباری:(3/174،الرشید)
من اراد الحج فلیعجل
وفی سنن ابی داؤد:(1/254،رحمانیہ)
من اراد الحج فلیتعجل
وفی شرح مسند ابی حنیفہ:(1/297،شاملہ)
من اراد الحج فلیعجل
وکذافی عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری:(8/127،بیروت)
وکذافی مرقاہ المصابیح:(5/397،المکتبہ التجاریہ)
وکذافی سنن دارمی :(2/45،قدیمی)
وکذافی فتاوی السبکی:(1/263،شاملہ)
وکذافی حاشیہ مسند ی علی سنن ابن ماجہ:(2/207،شاملہ)
وکذافی مرعاہ المفاتیح:(8/289،شاملہ)
وکذافی ذخیرۃالعقبی فی شرح المجتبی:(23/271،شاملہ)
وکذافی مجموع فیہ مصنفات ابی جعفر ابن البختری:(1/223،شاملہ)
وکذا فی الاربعون حدیثا للاجری:(1/64،شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1442/2021/3/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:35

نوم العالم خیر من عبادۃ الجاھل“ کیا یہ حدیث ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ الفاظ کے ساتھ یہ روایت تلاش و جستجو کے باوجود کتب احادیث میں نہ مل سکی، البتہ اسی مضمون کی ایک اور روایت ملتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں

عن سلمان أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل (حلیۃ الاولیاء: 4/385،دارالکتب العلمیہ)

ترجمہ: ”علم کی حالت میں سونا جہالت کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے“
اس روایت کو محدثین نے ضعیف کہا ہے۔

لما فی کنز العمال:(10/61،رحمانیہ)
” نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل.”
وفی حلیة الأولیاء:(4/385،دارالکتب العلمیة)
“عن أبی البختری عن سلمان أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل.”
وکذافی کشف الخفاء:(2/329،الغزالی)
وکذافی الموضوعات الکبری:(255،قدیمی)
وکذافی مسند الفردوس للدیلمی:(4/247،بیروت)
وکذافی فیض القدیر:(6/378،دارالکتب العلمیة)
وکذافی الطبقات الکبری:(3/506،عمریة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:154

جناب نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہجرت کے سفر میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ کی معیت میں غار میں تشریف فرما تھے ،اس دوران سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن لگایا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تکلیف ختم ہوگئی ۔ مدلل کتب سے دلائل کے ساتھ اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

تفسیر، حدیث اور تاریخ کی مختلف کتب میں یہ واقعہ متعدد طرق و اسناد سے مروی ہے۔ محدثین نے اگرچہ بعض طرق کو منکر اور ضعیف قرار دیا ہے ،مگر یہ واقعہ بعض دوسرے طرق سے بھی مروی ہے ،ان طرق و اسناد پر محدثین نے کسی قسم کے ضعف کا حکم نہیں لگایا ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ درست اور ثابت ہے۔

چنانچہ احادیث مبارکہ کی مشہور کتاب ”مشکوۃ المصابیح“ میں یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،اس کے الفاظ درج ذیل ہیں

”عن عمرذكر عنده أبو بكر فبكى وقال: وددت أن عملي كله مثل عمله يوما واحدا من أيامه وليلة واحدة من لياليه أما ليلته فليلة سار مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الغار فلما انتهينا إليه قال: والله لا تدخله حتى أدخل قبلك فإن كان فيه شيء أصابني دونك فدخل فكسحه ووجد في جانبه ثقبا فشق إزاره وسدها به وبقي منها اثنان فألقمها رجليه ثم قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ادخل فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم و وضع رأسه في حجره ونام فلدغ أبو بكر في رجله من الجحر ولم يتحرك مخافة أن ينتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم فسقطت دموعه على وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما لك يا أبا بكر؟ قال: لدغت فداك أبي وأمي فتفل رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهب ما يجده“ (مشکوۃ المصابیح:2/564،رحمانیہ)

ترجمہ:”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر چھیڑا گیا تو وہ رونے لگے اور پھر بولے مجھ کو آرزو ہے کہ کاش! میری پوری زندگی کے اعمال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صرف اس ایک دن کے عمل کے برابر ہوجاتے جو آپ ﷺ کے زمانہ حیات کے دنوں میں سے ایک دن تھا اور ان کی اس ایک رات کے عمل کے برابر ہو جاتے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ حیات کی راتوں میں سے ایک رات تھی، یہ ان کی اس رات کا ذکر ہے جس میں وہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر ہجرت پر روانہ ہوئے اور غار ثور ان کی پہلے منزل بنا تھا ، جب آنحضرت ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اس غار پر پہنچے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کے واسطے آپ اس غار میں ابھی داخل نہ ہوں ، پہلے میں اندر جاتا ہوں تاکہ اگر اس میں کوئی موذی چیز ہو اور وہ ضرر پہنچائے تو مجھ کو ضرر پہنچائے نہ کہ آپکو۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں داخل ہوگئے اور اس کو صاف کیا ۔ انہوں نے غار کے ایک کونے میں کئی سوراخ بھی دیکھےان میں سے بیشتر سوراخوں کو انہوں نے اپنے تہمند سے چیتھڑے پھاڑ کر بند کردیا اور جو دو سوراخ باقی رہ گئے تھے ان کے منہ میں وہ اپنے دونوں پاؤں اڑا کر بیٹھ گئے ۔پھر انہوں نےرسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اب اندر تشریف لے آئیے ، چنانچہ رسول کریم ﷺ غار میں داخل ہوئے اور اپنا سر مبارک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی گود میں رکھ کر سو گئے اسی دوران ایک سوراخ کے اندر سے سانپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں کاٹ لیا ،لیکن آپ نے اس ڈر سے اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کی کہ کہیں رسول کریم ﷺ جاگ نہ جائیں ۔آخر کار ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل گئے اور رسول کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے ۔ آپ نے پوچھا ابوبکر یہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا ہے ۔ آپ ﷺ نے اپنا مبارک لعاب دہن ٹپکا دیا اور جو کیفیت ان کو محسوس ہو رہی تھی وہ فوراً جاتی رہی۔“ ( توضیحات:8/379،العربیہ)    استاذ المحدثین حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی علیہ الرحمۃ ”سیرت مصطفی“ میں فرماتے ہیں
”غار ثور میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سانپ نے ڈس لیا تھا تو آپ ﷺ نے لعاب دہن لگا دیا ، اسی وقت شفاء ہوگئی۔“
(سیرت المصطفی:3/486،الحسن)
اسی طرح یہ واقعہ بعض دیگر معتبر کتب میں بھی موجود ہے۔

لما فی فی تفسیر الخازن :(2/240،رشیدیہ)
روي عن عمر بن الخطاب أنه ذكر عنده أبو بكر فقال: وددت أن عملي كله مثل عمله يوما واحدا من أيامه وليلة واحدة من لياليه أما فليلته ليلة سار مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الغار فلما انتهيا إليه قال والله لا تدخله حتى أدخله قبلك فإن كان فيه شيء أصابني دونك فدخله فكنسه ووجد في جانبه ثقبا فشق إزاره وسدها به وبقي منهما ثقبان فألقمهما رجليه ثم قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ادخل فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع رأسه في حجره ونام فلدغ أبو بكر في رجله من الجحر ولم يتحرك مخافة أن ينتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم فسقطت دموعه على وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: مالك يا أبا بكر فقال: لدغت فداك أبي وأمي فتفل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهب ما يجده
وکذافی تفسیر المظھری:(3/290،رشیدیہ)
وکذافی روح المعانی للعلامة آلوسی رحمہ اللہ:(10/98،داراحیاء تراث)
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(3/240،نعمانیہ)
وکذافی کنز العمال:(12/222،رحمانیہ)
وکذافی دلائل النبوة للبیھقی:(2/476،بیروت)
وکذافی سیر أعلام النبلاء:(1/224،دارالفکر)
وکذافی البدایة و النھایة:(3/142،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:5

ایسی کوئی حدیث ہے کہ” شبنم کا ایک قطرہ جنت سے آتا ہے“؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تلاش و جستجو کے باوجود سوال میں مذکور الفاظ کتب احادیث میں کہیں نہیں ملے،البتہ ایک روایت میں کچھ اور الفاط ملتے ہیں اور ممکن ہے سائل کا یہ مضمون بھی انہی سے اخذ کیا گیا ہو

عَلَیْکُمْ بالْھِنْدُبَاءِفَاِنَّہٗ مَا مِنْ یَوْمٍ اِلَّا وَھُوَ یَقْطُرُ عَلَیْہِ قِطْرٌ مِنْ قِطْرِ الْجَنَّۃِ

ترجمہ :ہندباء (کاسنی ۔ایک پودا ہے) کو ضرور استعمال کرو کیونکہ اس پر ہر روز جنت سے ایک قطرہ ٹپکتا ہے
اس روایت کو بعض محدثین نے ضعیف اور بعض نے موضوع و منگھڑت کہا ہے۔

لما فی کنز العمال:(12/155،رحمانیہ)
على كل ورقة من الهندباء حبة من ماء الجنة
وفیہ ایضاً:(12/155،رحمانیہ)
ما من ورقة من ورق الهندباء إلا وعليها قطرة من ماء الجنة. ( طب – عن محمد بن علي بن الحسين عن أبيه عن جده؛ وقال ابن كثير: منكر جدا، وقال ابن دحية: موضوع
وفی زاد المعاد :(3/898،علمیہ)
هندبا: ورد فيها ثلاثة أحاديث لا تصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يثبت مثلها، بل هي موضوعة أحدها: ( «كلوا الهندباء ولا تنفضوه فإنه ليس يوم من الأيام إلا وقطرات من الجنة تقطر عليه
وفی مجمع الزوائد:(5/40،دارالکتب العلمیہ)
ما من ورق [من ورق] الهندباء إلَّا وعليها قطرة من ماء الجنة. (رواه الطبراني وفيه أرطأة بن الأشعث وهو ضعيف جدا
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(12/225،نعمانیہ)
وکذافی اللآلی المصنوعة للسیوطی رحمہ اللہ:(2/187،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی فیض القدیر:(4/457،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی شعب الایمان للبیہقی:(5/106،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی المعجم الکبیر:(2/251،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد:(5/223،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:70

بخاری شریف میں ایسی کوئی حدیث ہے کہ اس امت میں بہتر وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہوں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! بخاری شریف میں اس مضمون کی روایت موجود ہے ،مگر یہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مبارک نہیں ہے، بلکہ صحابی رسول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اثر مبارک ہے، چنانچہ بخاری شریف میں ہے

عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَزَوَّجْتَ؟ قُلْتُ: لاَ، قَالَ: “فَتَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الأُمَّةِ أَكْثَرُهَا نِسَاء(صحیح البخاری:2/264،رحمانیہ)

ترجمہ: حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ آپ نے شادی کی ہے ؟میں نے کہا نہیں تو انہوں نے فرمایا کہ شادی کر لو ، کیونکہ اس امت کا سب سے بہترین شخص وہ ہے جس کی بیویاں زیادہ ہوں۔“(کشف الباری : کتاب النکاح :142،فاروقیہ)
اس اثر مبارک کی تشریح کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں
”خیر ھذہ الامۃ سے یا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مراد ہیں اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت کا سب سے بہترین شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور ان کی نو بیویاں تھیں، اس لیے تم بھی شادی کرلو اور یا اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مراد نہیں ، بلکہ عام امتی مراد ہے۔ اس صورت میں حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ جس کی عورتیں زیادہ ہوں گی وہ بہترین آدمی ہوگا (بشرطیکہ وہ عدل بین الازواج کرنے والا ہو) اس لیے کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی امت میں اضافے کا سبب بنے گا۔“
(کشف الباری: کتاب النکاح:142،فاروقیہ)
اور یہ اثر دیگر کتب احادیث میں بھی موجود ہے۔

لما فی المستدرک علی الصحیحین:(2/280،قدیمی)
عن سعيد بن جبير، قال: قال لي ابن عباس: يا سعيد، تزوج فإِن خير هذه الأمّة أكثرهم نساء
وفی المعجم الکبیر للطبرانی:(6/19،دارالکتب العلمیہ)
عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: تزوَج فإن خير هذه الأمة كان أكثرها نساء

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:75