ایک صاحب کا کہنا ہے کہ امام مہدی کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔ مہربانی فرما کر صحیح احادیث بتلا دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اخیر زمانہ میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظہور یقیناً ہوگا۔آپ کا نام محمد اور والد کا نام عبد اللہ ہوگااور آپ کا لقب مہدی ہوگا۔آپ اہلبیت میں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد میں سے ہونگے۔آخر زمانہ میں جب اہل مدینہ کا حکومت پر اختلاف ہوگا تو آپ مدینہ منورہ سے نکل کر مکہ مکرمہ چلے جائیں گے۔اہل مکہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے۔ انکے مقابلے کےلیے شام سے ایک لشکر آئے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ملک شام اور عراق کے ابدال اور صلحاء حضرت مہدی کے ہاتھ پربیعت کرلیں گے۔ پھر ایک قریشی شخص ان کے خلاف لشکرکشی کرے گاجسے شکست ہوگی۔ پھر حضرت مہدی اسلامی حکومت قائم فرمائیں گے،کثرت سے فتوحات ہونگی،عدل و انصاف کا نظام قائم ہوگا۔ آپ 7 سال حکومت کرنے کے بعد انتقال فرما جائیں گے اور مسلمان آپ کا جنازہ ادا کریں گے۔
حضرت مہدی سے متعلق یہ سب باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ بہت سی کتب احادیث مثلاً سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، المستدرک للحاکم ، مشکوۃ المصابیح، مجمع الزوائد اور مسند ابی یعلی وغیرہ میں اس سے متعلق کثرت سے روایات موجود ہیں ۔یہ سب روایات مختلف صحابہ کرام مثلاً حضرت علی ، ابو سعید، ابو ہریرہ،حذیفہ بن یمان ، ابو امامہ، عبد الرحمان بن عوف ، انس بن مالک، ابن جابر ، ابن عبد اللہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھم وغیرہ سے منقول ہیں۔
لہذا امام مہدی کے خروج کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے اور اسکا انکار ضلالت و گمراہی ہے۔

لما فی جامع الترمذی:(2/494،رحمانیہ)
عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي: وفي الباب عن علي، وأبي سعيد، وأم سلمة، وأبي هريرة وهذا حديث حسن صحيح
وفیہ ایضاً:(2/494،رحمانیہ)
عن أبي سعيد الخدري قال: خشينا أن يكون بعد نبينا حدث فسألنا نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن في أمتي المهدي يخرج يعيش خمسا أو سبعا أو تسعا۔ هذا حديث حسن
وفی سنن ابی داؤد:(2/238،رحمانیہ)
عن علي، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو لم يبق من الدهر إلا يوم، لبعث الله رجلا من أهل بيتي، يملؤها عدلا كما ملئت جورا
وفی سنن ابن ماجہ:(437،رحمانیہ)
عن ثوبان، قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “يقتتل عند كنزكم ثلاثة، كلهم ابن خليفة، ثم لا يصير إلى واحد منهم، ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق، فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم ثم ذكر شيئا لا أحفظه، فقال: “فإذا رأيتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج، فإنه خليفة الله، المهدي
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(5/376،قدیمی)
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: ينزل بأمتي في آخر الزمان بلاء شديد من سلطانهم لم يسمع بلاء أشد منه، حتى تضيق عنهم الأرض الرحبة، وحتى يملأ الأرض جورا وظلما، لا يجد المؤمن ملجأ يلتجئ إليه من الظلم، فيبعث الله عز وجل رجلا من عترتي، فيملأ الأرض قسطا وعدلا، كما ملئت ظلما وجورا، يرضى عنه ساكن السماء وساكن الأرض، لا تدخر الأرض من بذرها شيئا إلا أخرجته، ولا السماء من قطرها شيئا إلا صبه الله عليهم مدرارا، يعيش فيها سبع سنين أو ثمان أو تسع، تتمنى الأحياء الأموات مما صنع الله عز وجل بأهل الأرض من خيره۔ هذا حديث صحيح الإسناد
وکذافی جامع الترمذی:(2/494،رحمانیة)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/239،رحمانیة)
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(5/407،423،قدیمی)
وکذافی مجمع الزوائد:(7/431،433،435،بیروت)
وکذافی تحفة الاحوذی:(6/484،قدیمی)
وکذافی التعلیق الصبیح:(6/183،184،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 60

مومن مسجد میں ایسے خوش ہوتا ہےجیسےمچھلی پانی میں “کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

یہ کلام اگرچہ بطور حدیث مشہور ہوگیا،مگر حقیقت میں یہ حدیث نہیں ہے،البتہ اس سے ملتا جلتا کلام حضرت مالک بن دیناررحمہ اللہ سے منقول ہےکہ:”منافق مسجد میں ایسے ہوتے ہیں جیسے پرندے پنجروں میں”لہذا اس کو بطور حدیث بیان کرنا جائز نہیں۔

لما فی کشف الخفاء:(2/294،غزالی)
المؤمن فی المسجد کالسمک فی الماء،والمنافق فی المسجد کالطیر فی القفص)لم أعرفہ حدیثا وان اشتھر بذلک ویشبہ ان یکون من کلام مالک بن دینارفقد نقل المناوی عنہ أنہ قال المنافقون فی المسجد کالعصافیر فی القفص
وفی مرقاة المفاتیح:(2/405،تجاریہ)
إذا خرج منه) أي: من المسجد (حتى يعود إليه) : لأن المؤمن في المسجد كالسمك في الماء، والمنافق في المسجد كالطير في القفص
وکذافی تحفة الاحوذی:(7/113،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/2021/9/03
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 184

ایک حدیث سننے میں آئی ہے کہ حضورﷺ کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ نےاپنی تین پسندیدہ چیزوں کا ذکر کیا :1)مہمان کا اکرام2)جہاد فی سبیل اللہ3)گرمی کے روزے،اس حدیث کی تحقیق مطلوب ہے،کیا اس میں دیگر حضرات کا بھی ذکر ملتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

محبوبات ثلاثہ کے نام سے یہ واقعہ چند کتب میں ملتا ہے،چنانچہ کشف الخفاء اور علامہ ابن حجر رحمہ اللہ نے “المنبھات”میں یہ واقعہ تفصیلاً ذکر کیا ہے،جس میں آپ ﷺ،خلفاء راشدین رضوان اللہ اجمعین ،جبرائیل علیہ السلام اور اللہ تعالی کی تین تین محبوب چیزوں بیان فرمائیں،لیکن ان کتب میں یہ بلا سند ذکر کیا گیا ہے،لہذا کسی صحیح حدیث سے صحیح سند کے ساتھ یہ تفصیلی واقعہ ثابت نہیں۔البتہ حضورپر نور ﷺکی محبوبات ثلاثہ کا ذکر صحیح احادیث میں موجود ہے کہ آپ ﷺ کو عورت،خوشبو اور نماز یہ تین چیزیں پسند تھی۔

لما فی المستدرک علی الصحیحین:(2/281،قدیمی)
عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:حبب الی النساء والطیب وجعلت قرۃ عینی فی الصلوۃ
ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم ولم یخرجاہ
وفی کشف الخفاء ومزیل الالباس :(1/340،الغزالی)
حبب الی من دنیاکم ثلاث النساء…..) ھکذا اشتھر علی الالسنۃ وترجم بہ النجم لکن ذکرہ فی المقاصد وکثیرون بدون من دنیاکم ثلاث …..وقال ابن القیم وغیرہ من رواہ” حبب الی من دنیاکم ثلاث”فقد وھم ولم یقل علیہ السلام ثلاث اذاالصلوۃ لیست من امور الدنیا التی تضاف الیھا بل ھی عبادۃ محضۃ ،نعم یصح أن تضاف الیھا لکونھا ظرفا لوقوعھا فیھا .
تنبیہ:قال فی المواھب وھنا لطیفۃ روی أنہ علیہ الصلاۃ والسلام لما قال حبب الی من دنیاکم ……قال ابو بکررضی اللہ عنہ وانا یارسول اللہ حبب الی من الدنیا النظر الی وجھک ،وجمع المال للانفاق علیک ،والتوسل بقرابتک الیک ،وقال عمر رضی اللہ عنہ وانا یارسول اللہ ……وقال علی رضی اللہ عنہ وانا یا رسول اللہ حبب الی من الدنیا الصوم فی الصیف،واقراء الضیف،والضرب بین یدیک بالسیف
قال الطبری خرجہ الجندی والعھدۃ علیہ انتھی،وفی بعضھا مخالفۃ لما فی المواھب انتھی،وفی المجالس للخفاجی بعض مخالفۃ وزیادۃ
وکذافی المقاصد الحسنة:(186،النوریہ)
وکذا فی الموضوعات الکبری:(107،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/17/03
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 67

کیا گدھے کی سواری سنت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھےپر سواری کرنا احادیث سے ثابت ہے مگر یہ سنن زوائد میں سے ہےاور سنن زوائد پر عمل کرنے سے ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے سے گناہ نہیں ملتا۔

لما فی شمائل ترمذی:(2/747،رحمانیہ)
عن انس بن مالک قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعود المریض ویشھد الجنازۃ ویرکب الحمار ویجیب دعوۃالعبد
وفی الشامیة:(1/103،ایچ ایم سعید کمپنی)
فلا فرق بین النفل وسنن الزوائد من حیث الحکم لانہ لا یکرہ ترک کل منھما،وانما الفرق کون الاول من العبادات والثانی من العادات
وکذافی المواہب اللدنیة:(238،ادارہ تالیفات)
وکذا فی سبل الھدی والرشاد:(7/405،406،نعمانیہ)
وکذافی نیل الاوطار:(2/139،دار الباز)
وکذافی فیض الباری:(4/215،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 103

سنت پگڑی کی کتنی مقدار ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آقا کریم ﷺکی پگڑی کے بارے میں مشائخ علیہ الرحمۃ نے مختلف اقوال نقل فرمائےہیں کسی خاص مقدار کو متعین نہیں فرمایا۔آپ ﷺعام حالات میں تین ہاتھ اور پانچوں نمازوں میں سات ہاتھ اور جمعہ وعیدین میں 12 ہاتھ لمبی پگڑی باندھتے تھے۔
تین ہاتھ پگڑی تقریباً1.37میڑ،7ہاتھ تقریباً3.20میڑ اور 12ہاتھ پگڑی تقریباً 5.48میڑ بنتی ہے۔

لما فی التعلیق الصبیح:(4/511،رشیدیہ)
کان لہ ﷺعمامۃقصیرةوعمامۃطویلۃ وان القصیرۃکانت سبعۃاذرع والطویلۃاثنی عشر ذراعا
وفی ھامش جامع ترمذی :(1/436،رحمانیہ)
کانت عمامتہﷺفی اکثر الاحیان ثلثۃاذرع شرعیۃ وفی الصلوات الخمس سبعۃاذرع وفی الجمع والاعیاد اثنا عشرذراعا
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/276،نعمانیہ)
وکذا فی مرقاۃ المفاتیح:(8/148،التجاریة)
وکذا فی نیل الاوطار:(2/123،دارالباز)
وکذا فی عون المعبود:(11/81،قدیمی)
وکذا فی الموسوعةالفقھیة:(30/303،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/ 2020/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:47

آپ ﷺ پر عرش پر کون سی آیات اتری ہیں؟جواب سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

معراج کے موقع پر آپ ﷺ کوسورۃ البقرۃ کی آخری دو آیتیں ” آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون. . .. فانصرنا علی القوم الکفرین”عطاء کی گئیں۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/126،رحمانیہ)
عن عبد الله، قال: «لما أسري برسول الله صلى الله عليه وسلم، انتهي به إلى سدرة المنتهى، وهي في السماء السادسة، إليها ينتهي ما يعرج به من الأرض فيقبض منها، وإليها ينتهي ما يهبط به من فوقها فيقبض منها»، قال: ” إذ يغشى السدرة ما يغشى ” قال: «فراش من ذهب»، قال: ” فأعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا: أعطي الصلوات الخمس، وأعطي خواتيم سورة البقرة، وغفر لمن لم يشرك بالله من أمته شيئا، المقحمات
وفی البحر المحیط:(2/378،بیروت)
آمن الرسول قال الحسن، ومجاهد، وابن سيرين، وابن عباس في رواية: أن هاتين الآيتين لم ينزل بهما جبريل، وسمعهما صلى الله عليه وسلم ليلة المعراج بلا واسطة، والبقرة مدنية إلا هاتين الآيتين
وفی التفسیر الکبیر للامام الفخر الرازی:(3/125،علوم اسلامیہ)
وکذافی التفسیر المظھری:(1/428،رشیدیہ)
وکذافی تفسیر القرآن العظیم:(1/349،بیروت)
وکذافی الکشاف:(1/286،منشورات البلاغة)
وکذافی تفسیر البغوی:(1/275،بیروت)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(3/425،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:31

احادیث مبارکہ میں”سفرجل“نامی پھل سے متعلق کیا فضائل وفوائد مذکور ہیں ، اور اس سے مراد کون سا پھل ہے؟ تفصیل سےبا حوالہ جواب دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سفرجل“ ایک پھل ہے جو سیب یا ا مرود کی طرح ہوتا ہےاردو میں اس کو” بہی“ کہا جاتا ہے۔معتدل علاقوں میں اس کی کاشت ہوتی ہے۔
احادیث مبارکہ میں اس کے متعدد فوائد مذکور ہیں۔اس کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے ،انسان کے دل کو قوی ومضبوط کرتا ہے،نہار منہ کھانے سےمعدے کی گرمی دور ہوتی ہے،کھانے والے کےاندر قوت و نشاط پیدا کرتا ہے۔

لما فی سنن ابن ماجہ : ( 375،رحمانیہ )
عن عبد الملک الزبیری عن طلحۃ قال دخلت علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدہ سفرجلۃفقال دونکھایا طلحۃ فانھا تجم الفواد
وفی کنز العمال : (10/18،رحمانیہ)
کلوا السفرجل فانہ یجلی عن الفؤاد ویذھب بطخاء الصدر
وفیہ ایضا
“کلو السفرجل علی الریق فانہ یذھب وغر الصدر.”
وفی سبل الھدی والرشادفی سیرة خیر العباد : ( 12/193، نعمانیه)
” وروی القالی فی امالیہ عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال اکل السفرجل یذھب بطخاء القلب.”
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی : ( 1/72، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(4/84، قدیمی)
وکذا فی القاموس الوحید:(774، ادارہ اسلامیات)
وکذا فی المنجد فی اللغہ:(337،بیروت )
وکذافی فرہنک آصفیہ:(1/ 660،الفیصل)
وکذا فی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:( 5/ 42،دار الکتب العلمیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر صدیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/4/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 193

در یا فت طلب امو ر یہ ہے کہ کیا” اللہ پا ک قیا مت کے دن علما ء سے فر ما ئیں گے کہ دنیا میں جو ہو گیا سو ہو گیا تمہیں میں نے علم اس لئے نہیں دیا تھا کہ تمہیں عذ اب دو ں گا ،چلو جنت میں“ یہ حد یث ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہا ں اسی طر ح کا مضمون احاد یث میں ملتا ہے ۔ چنا نچہ مجمع الز وا ئد میں ہے

 

و عن ثعلبۃ بن الحکم ، قال :قا ل رسو اللہ صلی اللہ علیہ و سلم :(یقو ل اللہ عز وجل للعلما ء یوم القیا مۃ اذا قعد علی کر سیہ لفصل عبا دہ :انی لم ا جعل علمی و حلمی فیکم الا وأنا أ رید أ ن اغفر لکم علی ما کا ن فیکم و لا أ با لی)رو اہ الطبر انی فی الکبیر ،ورجالہ مو ثقو ن،(مجمع الز و ائد 1/168.دارالکتب العلیۃ)

تر جمہ:اللہ تعا لی جب قیامت کے دن بند وں کےدر میا ن فیصلہ فر ما ئیں گے تو علما ء سے فر ما ئیں گے کہ میں نے تمہیں اپنا علم اور حلم اس لئے دیا کہ تمہاری بخشش کر دو ں

وفی التر غیب و التر ہیب :(1/57،رشید یة)
و عن ثعلبۃ بن الحکم ، قال :قا ل رسو اللہ صلی اللہ علیہ و سلم :یقو ل اللہ عز وجل للعلما ء یوم القیا مۃ اذا قعد علی کرسیہ لفصل عبا دہ :انی لم ا جعل علمی و حلمی فیکم الا وأنا أ رید أ ن اغفر لکم علی ما کا ن فیکم و لا أ با لی)رو اہ الطبرانی فی الکبیر ،و راتہ ثقات
وکذافی رد المحتا ر :(1/48،سعید )
وکذا فی المعجم الکبیر:(1/354،دا ر الکتب العلمیة)
وکذا فی المعجم الا وسط:(5/145،المعا رف)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قا سم خا ن ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:43

ایک صاحب سنت کی نیت سے اپنے پاس عصارکھنا چاہتے ہیں تو اس کی مسنون مقدار بیان فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

عصا کی لمبائی کے متعلق شمائل کبری میں لکھا ہے

حضرت موسی علیہ السلام کا عصا ان کی قامت کے برابر تھا جوبارہ ہاتھ تھا ایک قول میں اس کی لمبا ئی دس ذراع تھی جو آپ کی قامت سے کم تھا۔فائدہ :اس سے معلوم ہوا کہ عصاکی لمبا ئی عصا رکھنے والے کی قامت کے برابر ہو سکتی ہے اس سے چھوٹی بھی ہو سکتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے عصاکی لمبائی کا علم نہ ہوسکا ۔ (شمائل کبری:2/402 ،زمزم)

لما فی البحر المحیط:(6/221،دار الکتب العلمیة)
و ھذہ العصا أخذھا من بیت عصی الأنبیاء التی کا نت عند شعیب حین اتفقاعلی الرعیۃ ھبط بہاآدم من الجنۃ وطولھا عشرۃ أذرع وقیل اثنتا عشرۃ بذراع مو سی علیہ السلام
وفی روح المعانی :(16/174،داراحیاء التراث العربی)
وقال وھب :کانت من العوسج وطولھا عشرۃ أذرع علی مقدار قامتہ علیہ السلام وقیل اثنتاعشرۃ ذراعا بذراع مو سی علیہ السلام

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:119

قر آن کر یم میں کہیں لکھا ہو تا ہے”وقف لا زم “اورکہیں”وقف غفر ان “اور کہیں ”وقف جبریل“اور کہیں ”وقف النبیﷺ“ اور کہیں” وقف المعانقہ“ان کا کیا مطلب اورکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضر ت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ معارف القرآن میں”رموز اوقاف“ کی وضاحت کرتے ہوئےفرماتے ہیں :
” م :یہ ”وقف لازم“ کا مخفف ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہاں وقف نہ کیا جائے تو آیت کے معنی میں فحش غلطی کا امکان ہے،لہٰذا یہاں وقف کرنا زیادہ بہتر ہے ۔
وقف النبیﷺ :یہ ان مقامات پر لکھا جاتا ہے جہاں کسی روایت کی رو سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرتﷺنے تلاوت کرتے ہوئے اس جگہ وقف فرمایا تھا۔
مع :یہ”معانقہ“ کا مخفف ہے یہ علامت اس جگہ لکھی جاتی ہے جہاں ایک ہی آیت کی دو تفسیریں ممکن ہیں، ایک تفسیر کے مطابق وقف ایک جگہ ہوگا اور دوسری تفسیر کے مطابق دوسری جگہ، لہٰذا ان میں سے کسی ایک جگہ وقف کیا جا سکتا ہے ،لیکن ایک جگہ وقف کرنے کے بعد دوسری جگہ وقف کرنا درست نہیں۔“ (معارف القرآن:1/47،ادرۃ المعارف)
قاری محمد اسما عیل صاحب امر تسر ی اپنی کتاب ”تفہیم الو قوف“ میں وقف جبر یل اور وقف غفر ان کی کچھ اس طرح وضاحت فرماتے ہیں :
”وقف جبر یل علیہ السلا :ایک ایسا وقف ہے جو خصو صیت کے ساتھ جبر یل امین کی طرف منسوب ہے اور آپ (علیہ السلام)سے منقو ل ہے وقف جبر یل علیہ السلام جس کو وقف منزل بھی کہتے ہیں وہ وقف ہے جہاں پر نزول قرآن کے وقت جبریل علیہ السلام نے وقف کیا ہے اور اتباعا لجبر یل امین علیہ السلام رسول الصادق الامین صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی وقف فر مایاہے بناء ًعلیہ خواص ِامت ،علماء صلحاء اور قرآء استحبا با اس پر وقف کیا کر تے ہیں ….اور وقف جبر یل بارہ آیات میں منقول ہے ( سورۃ بقرۃ :120،146،174)،(العمران: 7، 94)،(المآ ئدہ: 52)،(الا نعام: 36،124)، (الا عراف :187)،(التوبۃ: 101)،(یٰس: 52)، اور (الملک: 19)۔
وقف غفران:ایک وقف سماعی ہے جو معنوی اعتبار سے ایسے محل پر واقع ہو تاہے کہ اگر واقف اور سا مع وہاں پر دعا ء مانگے ، تو قبول ہوجاتی ہے وقف غفران دس مقامات پر مروی ہے( المآ ئدہ:51)، (الا نعام:36)،( الم سجدہ:18)میں دو مرتبہ ، (یٰس: 12،30، 52، 61، 81)، اور( الملک:19)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قا سم خان ڈیر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:17