وتر کی پہلی رکعت میں سورہ نصر ، دوسری میں سورہ لہب اور تیسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھنے سے کبھی دانت کمزور نہیں ہونگے۔ کیا یہ بات حدیث سے ثابت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ بات حدیث سےتو ثابت نہیں ہے ، البتہ بعض بزگوں کے مجربات میں اس کا ذکر ملتا ہے جیسا کہ گنجینہ اسرار وغیرہ میں مذکور ہے، اس لیے اس کولازم اور سنت نہ سمجھا جائے۔

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:141

علماءامتی کانبیاء بنی اسرائیل حدیث ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ان الفاظ سے یہ حدیث ثابت نہیں ہے ۔

لما فی کشف الخفاء:(2/64،غزالی)
قال السیوطی فی الدرر لا اصل لہ ، وقبلہ الدمیری والزرکشی وزاد بعضھم ولایعرف فی کتاب معتبر
وفی المقصد الحسنة:(1/293،نوریہ)
حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل، قال شیخنا ومن قبلہ الدمیری والزرکشی انہ لا اصل لہ
وفی الموضوعات الکبری:(1/159،قدیمی)
قال الدمیری والعسقلانی لا اصل لہ وکذا قال وسکت عنہ السیوطی
وکذافی کشف الخفاء:(2/64،غزالی)
وکذافی الدرر المنتثرة:(1/188،بیروت)
وکذافی الھامش علی الدرر المنتثرة:(1/188،)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:16

اقتلوا الموذی قبل الایذاء” کیا یہ حدیث پاک ہے یا کسی کا قول ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حدیث کی کسی معتبر کتاب میں یہ الفاظ نہیں ملے ، البتہ اس کے مضمون سے ملتی جلتی احادیث کتب حدیث میں موجود ہیں جن میں ایذاء دینے والی چیز ( مثلا سانپ، بچھو وغیرہ ) کے قتل کا حکم دیا گیا ہے ۔

لما فی السنن ابی داؤد:(1/140،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقتلوا الاسودین فی الصلاۃ الحیۃ والعقرب
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/451،رحمانیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(3/84،التجاریہ)
وکذافی شرح الطیبی:(2/481،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:62

سترہزارکلمہ طیبہ پڑھنے سے میت کی مغفرت ہوجاتی ہے”اس سے متعلق روایات کی تحقیق بتلادیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس صورت سے متعلق جوروایات ملتی ہیں ان کی صحت پر کلام کیا گیا ہے ۔لیکن کلمہ کی فضیلت والی احادیث سے ، چونکہ ان روایات کی کسی نہ کسی درجہ میں تائیدہوتی ہے ، اس لیے لازم اور سنت سمجھے بغیر یہ عمل کیا جاسکتا ہے ۔

لما فی مرقاة المفاتیح:(3/222،التجاریہ)
فکان الترمذی یرید تقویۃ الحدیث بعمل اھل العلم والعلم عنداللہ کما قال الشیخ محی الدین بن العربی انہ بلغنی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان من قال لاالاہ الااللہ سبعین الف مرۃ ومن قیل لہ غفرلہ ایضا فکنت ذکرت التھلیلۃ بالعدد المروی من غیر ان انوی لاحد بالخصوص بل علی الوجہ الاجمالی فحضرت طعاما مع بعض الاصحاب وفیھم شاب مشھور بالکشف ، فاذا ھو فی اثناء الاکل اظھر البکاء فسالتہ عن السبب فقال اری امی فی العذاب فوھبت فی باطنی ثواب التھلیلۃ المذکورۃ لھا فضحک وقال انی اراھا الآن فی حسن المآب قال الشیخ فعرفت صحۃ الحدیث بصحۃ کشفہ وصحۃ کشفہ بصحۃ الحدیث
وفی فیض القدیر:(6/245،بیروت)
قال ابن العربی اوصیک ان تحافظ علی ان تشتری نفسک من اللہ بعتق رقبتک من النار بان تقول لاالاہ الااللہ سبعین الف مرۃ فان اللہ یعتق رقبتک او رقبۃ من تقولھا عنہ بھا ورد بہ خبر نبوی واخبرنی ابوالعباس القسطلانی بمصر ان العارف اباالربیع المالقی کان علی مائدۃ وقد ذکر ھذا الذکر علیھا صبی صغیر من اھل الکشف فلما مد یدہ للطعام بکی فقیل ماشانک قال ھذہ جھنم اراھا وامی فیھا فقال المالقی فی نفسہ اللھم انی قدجعلت ھذہ التھلیلۃ عتق امہ من النار فضحک الصبی وقال الحمدللہ الذی خرجت امی منھا وماادری سبب خروجھا قال المالقی فظھر لی صحۃ الحدیث قال ابن عربی وقد علمت انا علی ذالک ورایت برکتہ
وکذافی المعجم الاوسط:(4/287،معارف)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:90

محاسن اسلام میں پڑھا،ایک روایت ہےکہ’’آپﷺکی آنکھیں مبارک بندہوتی تھیں،لیکن آپ کادل بیدارہوتاتھا‘‘اس کاکیامطلب ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ روایت مختلف کتابوں میں موجودہے،اس حدیث کامطلب یہ ہےکہ جناب نبی کریمﷺ اوراُمّتی کی نیندمیں فرق ہوتاہے:وہ یہ کہ نیندکی وجہ سےاُمتی کی آنکھیں اوردل دونوں مکمل طورپردنیوی معاملات سےغافل ہوجاتےہیں اورانسان کابدن پرجوکنٹرول اوراختیارہوتاہےوہ ختم ہوجاتاہے۔اورآپﷺکی آنکھیں اگرچہ سوجاتی تھیں،لیکن دل بیداررہتاتھااوربدن پرمکمل کنٹرول اوراختیارحاصل رہتاتھا۔اسی لیےاُمتی کی نیندتووضوتوڑدیتی ہےلیکن آپﷺکی نیندوضونہیں توڑتی۔نیزچونکہ انبیاءعلیہم السلام کےخواب وحی ہوتےہیں۔اس لیےآپﷺکاقلب مبارک بیداررہتاتھاتاکہ آپﷺ اس وحی کومحفوظ رکھ سکیں اورہرحال میں معارفِ الہیہ میں ترقی فرماتےرہیں۔

لما فی صحیح البخاری:(1/361،رحمانیہ)
عن ابی سلمۃبن عبدالرحمٰن انہ سأل عائشۃ کیف کانت صلٰوۃرسول اللہﷺفی رمضان فقالت:ماکان یزیدفی رمضان ولافی غیرہ علٰی احدٰی عشرۃرکعۃیصلی اربعًافلاتسأل عن حسنہنّ وطولھنّ ثم یصلی اربعًا فلاتسأل عن حسنہنّ وطولھنّ ثم یصلی ثلٰثافقلتُ یارسول للہ اتنام قبل ان تُوتِرقال:یاعائشۃانّ عینیّ تنامان ولاینام قلبی
وفی فیض الباری مع حاشیةالبدرالساری:(2/569،رشیدیہ)
قولہ:(وانّ عینیّ تنامان)الخ.وعندی ہذہ حکایۃعن حالتہ فی الیقضۃ
وفی حاشیتہ)قال ابن العربی فی’’العارضۃ‘‘(وھذا)بیان لخروجہﷺمن جملۃالآدمیین فی انّ نومہ ویقضتہ سواءفی حفظ حالہ،وصیانۃعبادتہ.وذلک ﺃن النوم آفۃیسلھااللہ علی العبدیخلع فیہاالسلطنۃالتی للنفس علی البدن،فیستریح من خدمتھافی ﺃغراضھاویقطع تلک العلاقۃالتی بینھما،فیبقی البدن مستریحا،حتی اذاشاءاللہ ربط العلاقۃبالیقضۃ، وردالاستشعارکماکان.فأخبرالنبیﷺﺃن النوم ﺇنمایحل عینہ لاقلبہ،فانّﺃحوالہ محفوظۃعندہ،لاخصیصۃخُصّ بھا
وفی عون المعبودشرح سنن أبی داوٗد:(1/175،قدیمی)
“وقال:کان النبیﷺمحفوظا،وقالت عائشۃ:قال النبیﷺ((تنام عینای ولاینام قلبی))
قال)ﺃی ابن عباس…(محفوظا)ﺃی عن النوم القلب(ولاینام قلبی)لیعیی الوحی الذی یأتیہ،ولذاکانت رؤیاہ وحیاً ولاینقض طھارتہ بالنوم،وکذاالأنبیاءلقولہﷺ:((ﺇنامعشرالأنبیاءتنام أعینناولاتنام قلوبنا
وکذافی صحیح ابن خزیمة:(1/169،شان اسلام)
وکذافی معالم السنن:(1/102،المعارف)
وکذافی السنن الکبری:(1/196،العلمیہ)
وکذافی بذل المجہود:(2/101،قدیمی)
وکذافی التعلیق الصبیح:(6/239،رشیدیہ)
وکذافی المصنف لعبدالرزاق:(3/38،اسلامی)

واللہ اعلم بالصواب
محمدعدنان غفرلہ الکریم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1443/2202/2/5
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:143

ایک حدیث ہے جو عام طور پربیان کی جاتی ہے کہ ایک صحابی گھر میں تشریف لے گئے تو کھانے کو کچھ نہیں تھا،صحابی مسجد میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی۔۔۔۔۔اس طرح مسجد میں آ کر تین مرتبہ نماز پڑھی،تیسری مرتبہ نماز پڑھی تو بند چکی سے آٹا آنا شروع ہو گیا،انھوں نے گھر کے سارے برتن بھر لیے،آٹا پھر بھی نکل رہا تھا۔ان صحابی نے چکی کا پاٹ اٹھا کر دیکھا تو اس میں صرف ایک دانہ گندم کا تھا۔ ان صحابی نے یہ واقعہ حضور اقدسﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بیان کیا۔آپﷺ نےفرمایا کہ اگر تم اس کا پاٹ نہ اٹھاتے تو قیامت تک اس سے آٹا نکلتا رہتا۔ کیا یہ حدیث ہے؟وضاحت فرما دیں اور اگر یہ حدیث نہ ہو بلکہ اس سے ملتی جلتی کوئی اور حدیث ہو تو وہ بھی بیان فرما دیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ واقعہ احادیث میں موجود ہے مگر کسی صحابی سے متعلق نہیں بلکہ گزشتہ امتوں میں سے کسی شخص اور اس کی بیوی کا واقعہ ہے،نیز اس میں نماز پڑھنے کا ذکر بھی نہیں ہے اور یہ بھی نہیں ہے کہ جب اس نے چکی کا پاٹ اٹھا کر دیکھا تو صرف ایک دانا گندم کا پایا جس سے آٹا نکل رہا تھا۔اب ذیل میں مسند احمد کے حوالے سے یہ روایت ذکر کی جاتی ہے

بہ قال الامام احمد ابن حنبل حدثنا عبد اللہ قال حدثنی ابی قال حدثناھاشم ابن القاسم قال حدثنا عبد الحمید(یعنی ابن بھرام) قال حدثنا شھرابن حوشب قال :قال ابو ھریرہ:بینما رجل وامرءۃ لہ فی السلف الخالی لا یقدران علی شئ فجاء الرجل من سفرہ فدخل علی امرءتہ جائعا قد اصابتہ مسغبۃ شدیدۃ فقال لامرءتہ:اعندک شئ؟ قالت نعم! ابشر اتاک رزق اللہ، فاستحثہا فقال ویحکِ!ابتغی ان کان عندکِ شئ؟ قالت نعم!ہنیئۃ نرجو رحمۃ اللہ حتی اذا طال علیہ الطِوی قال ویحک! قومی فابتغی ان کان عندکِ خبز فاتنی بہ فانّی قد بلغت وجھدت فقالت نعم، الآن ینضج التنّور فلا تعجل فلماان سکت عنہا ساعۃً وتحیّنت ایضاً ان یقول لہا قالت ہی :من عند نفسہا لو قمت ونظرت الی تنّوری، فقامت فوجدت تنورہا ملآن جنوب الغنم ورحییہا تطحنان فقامت الی الرحیٰ فنفضتہا واخرجت ما فی تنورہا من جنوب الغنم قال ابو ہریرۃ فو الذی نفس ابی القاسم بیدہ عن قول محمد ﷺ”لو اخذت ما فی رحییہا ولم تنفضہا لطحنتہا الی یوم القیمۃ
(مسند احمد:3/315،دار احیاء التراث)
(وفیہ:علی الصفحہ3/315،دار احیاء ایضا)

ترجمہ:“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ایک جگہ شوہر بیوی رہتے تھے کہ جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا، ایک مرتبہ شوہر سفر سے گھر واپس آیا،اسے شدید بھوک لگی تھی،اس نے بیوی سے کہا کھانے کو کچھ ہے تو لاؤ! بیوی نے کہا جی ہاں!آپ اطمینان رکھئے! اللہ تعالی رزق کا بندوبست کر دیں گے،شوہر نے ذرا زور دے کر کہا:تیرا بھلا ہو مجھے کھانے کو کچھ چاہیے،اگر تیرے پاس کچھ ہے تو لے آ! بیوی نے کہا ہاں!بس تھوڑی دیر صبر کیجئے ہم اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں۔
جب بھوک برداشت سے زیادہ ہونے لگی تو بیوی سے کہا:تیرا ناس ہو کھڑی ہو!تیرے پاس روٹی وغیرہ ہے تو ،لے آ کیونکہ مجھے شدید بھوک لگی ہے۔کہنے لگی جی ہاں بس!ابھی تندور روٹیاں لگانے کے قابل ہو جاتا ہے،آپ تھوڑا سا صبر کر لیں(جلدی نہ کریں)
پھر جب اسی طرح کہتے کہتے کافی دیر بیت گئی تو بیوی کے دل میں خیال آیا کہ جاؤں اپنے تندور کو تو ذرا دیکھوں،تندور کے پاس گئی تو اس کو بکری کی دستیوں سے بھرا ہوا پایا اور چکی سے آٹا نکل رہا تھا اور اس کا پاٹ اٹھا لیا اور بکری کی دستیاں جو تندور میں تھیں ان کو بھی نکال لیا۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد مبارک نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:“اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں ابو القاسم ﷺ کی جان ہے،اگر وہ عورت اپنی چکی کے پاٹوں سے آٹا نکال لیتی اور اس (کے پاٹ) کو وہاں سے نہ ہٹاتی تو وہ چکی قیامت تک آٹا پیستی رہتی۔

وکذا فی المسند الجامع:(18/371،372،دار الجیل،بیروت)
وکذا فی مجمع الزوائد:(10/325،دار الکتب العلمیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید عفی اللہ تعالی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21/03/1443/2021/09/28
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:105

کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کی زیارت ثواب ہے،علماءکی برکت تو تسلیم ہے،البتہ زیارت پر دلیل مطلوب ہے؟بعض لوگ کہتے ہیں یہ بات حدیث سے ثابت ہے،اگر حدیث موجود ہےتو اس پر بھی مطلع فرمائیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

احادیث کی رو سےکسی عام مسلمان کی زیارت موجب ثواب ہےتو عالم دین کی زیارت توبطریق اولی باعث اجر ہو گی۔

لما فی جامع الترمذی:(2/464 ،رشیدیہ)
عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ:من عاد مریضاً او زار اخاً لہ فی اللہ ناداہ منادٍ ان طبت وطاب ممشاک وتبوّئت من الجنۃ منزلا

ترجمہ:”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے کسی مریض کی تیمار داری کی یا ،اللہ کی رضا کیلئے اپنے کسی بھائی کی زیارت کی تو اس کے لیے ایک فرشتہ یہ اعلان کرتا ہے،تو اورتیرا چلنا مبارک ہواور تو نے اپنے لیے جنت میں ایک گھر بنا لیا ہے۔

وفی صحیح المسلم:(2/321 ،رحمانیہ)

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبیﷺ ان رجلاً زار اخاً لہ فی قریۃٍ اخریٰ فارصد اللہ تعالیٰ لہ علی مدرجتہٖ ملکاً فلما اتی علیہ قال این ترید؟ قال ارید اخا لی فی ھذہ القریۃ قال ھل لک علیہ من نعمۃ تربھا قال لا غیر انّی احببتہ فی اللہ قال فانّی رسول اللہ الیک بانّ اللہ قد احبّک کما احببتہ فیہ

ترجمہ:”نبی کریمﷺنے فرمایا کہ ایک شخص کسی دوسری بستی میں اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لیے گیاتو اللہ تعالی نےاس کے راستے پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیا۔ فرشتے نے اس سےپوچھا:کہاں کا ارادہ ہے؟تو وہ بولا:فلاں بستی میں اپنے بھائی کی زیارت کے لیے جا رہا ہوں۔فرشتے نے کہا؛کیا آپ کا اس کے ساتھ کوئی احسان کا معاملہ(پہلے سے)ہے جس کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہو؟اس نے جواب دیا:نہیں! بلکہ مجھے اس سے اللہ کے لیےمحبت ہے ، اس لیے ملنے جارہاہوں۔فرشتے نے کہاکہ مجھے اللہ نے تمہارے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ اللہ بھی تم سے ایسے ہی محبت کرتے ہیں جیسے تم اپنے بھائی سے محبت کرتے ہو۔

البتہ خاص طور پر علماء کی زیارت پر کوئی صحیح روایت نہیں ملی، بلکہ محض موضوع روایات اس بارے میں کتب میں پائی جاتی ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں

فی کشف الخفاء:(2/251 ،مکتبہ الغزالی)
من زار العلماء فکانما زارنی ومن صافح العلماء فکانما صافحنی ومن جالس العلماء فکانما جالسنی ومن جالسنی فی الدنیا اجلس الیّ یوم القیٰمۃ.”قال فی(الذیل)فی اسنادہ حفص کذاب

وفیہ ایضاً:(2/243 ،مکتبہ الغزالی)

من جالس عالماً فکانما جالس نبیاً.”قال فی المقاصد لا اعرفہ فی المرفوع

وفی الموضوعات الکبری:(253،قدیمی)

نظرۃ الی وجہ العالم احب الی اللہ من عبادۃ ستین سنۃ صیاما وقیاما.”لا یصح قالہ السخاوی.

 

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد نوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15/08/1443/2022/03/19
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:28

ہمارے ہاں لندن مرکز میں شب جمعہ پر بزرگوں نے ایک درود شریف اور اس کی فضیلت یہ بتلائی کہ جو بندہ “اللھم صل علی محمد فی اول کلامنا اللھم صل علی محمد فی اوسط کلامنا اللھم صل علی محمد فی آخر کلامنا”کو تین بار دن اور تین بار رات کو پڑھ لے تو گویا وہ دن رات درو د شریف پڑھتا رہا ۔پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ درودشریف اور اس کی فضیلت احادیث مبارکہ سے ثا بت ہے یا بزرگوں کا مجرب اور انہی سے منقول ہے؟

الجواب حامداو مصلیا

مذکورہ درود شریف اور اس کی فضیلت احادیث مبارکہ سےتو ثابت نہیں بلکہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ نے ”ذریعۃ الوصول الی جناب الرسول ﷺ “علامہ مخدوم محمد ہاشم سندھی رحمہ اللہ کی کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے ، اس کے صفحہ 237پرہے
”شیخ الاسلام ابو العباس بو نی روح اللہ روحہ نے فرمایا کہ جو شخص کہ دن اور رات میں تین تین مر تبہ یہ درود بھیجے گویا وہ دن رات کے تمام اوقات میں درود بھیجتا رہا “ (مکتبہ لدھیانوی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ مدثر شریف غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
8/2/2022/6/7/1443
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:130

ہمارےپیارےنبی ﷺحضرت حفصہ رضی اللہ عنہاکوکیوں طلاق دینےلگےتھے؟

الجواب حامداومصلیا

آپﷺنےحضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہاکواپنےاوپرحرام کرلیاتھااوراس بات کی خبرصرف حضرت حفصہ رضی اللہ عنہاکوتھی،حضورﷺنےحضرت حفصہ رضی اللہ عنہاکومنع کیاتھاکہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکویہ بات نہ بتائےمگرحضرت حفصہ رضی اللہ عنہانےیہ رازحضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکوبتادیاتھااس وجہ سےآپ ﷺنےحضرت حفصہ کوطلاق دی تھی اور پھر اللہ کےحکم سےرجوع فرمالیا تھا۔

لمافی الجامع لاحکام القرآن:(18/187،احیاءالتراث)
واذاسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا)قال :اطلعت حفصۃ علی النبی ﷺ مع ام ابراہیم فقال :لاتخبری عائشۃوقال لھاان اباک واباھاسیملکان اوسیلیان بعدی فلاتخبری عائشۃقال فانطلقت حفصۃ فاخبرت عائشۃ،فاظہرہ اللہ علیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وجازاھاالنبیﷺ بان طلقھاطلقۃواحدۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فامرہ جبریل بمراجعتھاوشفع فیھا ۔
وفی سنن الدارقطنی:(4/28،دارالکتب)
عن عمررضی اللہ عنہ قال: دخل رسول اللہ ﷺبام ولدہ ماریۃفی بیت حفصۃرضی اللہ عنہا،فوجدتہ حفصۃمعھافقالت لہ تدخلھابیتی،ماصنعت بی ھذامن بین نسائک الامن ہوانی علیک،فقال لاتذکری ھذالعائشۃ،فھی علی حرام ان قربتھا،قالت حفصۃ:کیف تحرم علیک وھی جاریتک،فحلف لھالایقربھا،فقال النبی ﷺلاتذکریہ لاحد،فذکرتہ لعائشۃرضی اللہ عنہا
وکذافی التفسیرالکبیر:(10/569،علوم اسلامیہ)
وکذافی بذل المجھود:(11/16،قدیمی)
وکذافی تفسیرابی السعود:(6/286،الوحیدیة)
وکذافی التفسیرالاکلیل:7/339،دارالکتب)
وکذافی التفسیرالخازن:(4/305،رشیدیہ)
وکذافی التفسیرالمظہری:(7/172،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
10/7/1443/2022/2/12
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:180

استخارہ کا مسنون طریقہ کیا ہے؟ کیاعمل استخارہ کے بعد بات نہ کرنا اور سونا ضروری ہوتا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

استخارہ کا مسنون ومستحب طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نفل اس طرح پڑھے کہ پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعدسورت الکافرون اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ الاخلاص پڑھےپھرسلام کے بعداستخارے کی دعاپڑھے،دعا کے بعد پاک بستر پر قبلہ رخ ہو کر سوجائے،بیدارہونے کے بعد دل کا جس طرف رجحان ہو اختیارکرےاوراگر ایک مرتبہ یہ عمل کرنے سے سمجھ نہ آئے تو سات دن مسلسل یہ عمل کرے۔عمل استخارہ کے بعد سونابہتر ہے،ضروری نہیں ہے۔

لمافی البحر الرائق:(2/91،رشیدیہ)
من ھم بأمر وکان لایدری عاقبتہ ولایعرف أن الخیر فی ترکہ أو الإقدام علیہ فقد أمرہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یرکع رکعتین یقرأ فی الأولی فاتحة الکتاب(وقل یا أیھا الکافرون)وفی الثانیة الفاتحة و(قل ھو اللّٰہ أحد) فإذا فرغ قال اللھم الخ
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/245،علوم اسلامیہ)
قال الحنفیۃ والمالکیۃ والشافعیۃ: یستحب أن یقرأ فی لرکعۃ الأولی بعد الفاتحۃ(قل یا أیھا الکافرون) وفی الثانیۃ(قل ھو اللہ أحد)
وکذافی جامع الترمذی:(1/220،رحمانیة)
وکذافی الدر المختار:(2/570،رشیدیہ)
وکذافی بذل المجھود:(7/245،قدیمی)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(163،البشریٰ)
وکذافی تحفة الاحوذی:(2/606،قدیمی )
وکذافی سنن ابن ماجہ:(208،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:191