الجواب حامداًومصلیاً
دستیاب کتب میں بہت تلاش کے باوجود یہ درود شریف ہمیں نہ مل سکا۔
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،8،1443/2022،3،24
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:64
دستیاب کتب میں بہت تلاش کے باوجود یہ درود شریف ہمیں نہ مل سکا۔
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20،8،1443/2022،3،24
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:64
یہ حدیث “مجمع الزوائد، فیض القدیر، مسند الفردوس، المقاصد الحسنۃ، شعب الایمان، معجم اوسط اور حلیۃ الاولیاء” میں مذکور ہے، بعض محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
5،8،1443/2022،3،9
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:6
یہ حدیث کنز العمال، احیاءعلوم الدین اور دیگر چندکتب میں موجود ہے، لیکن محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
24-3-2022،1443-8-20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:66
ایک حدیث میں ہے کہ میتھی سے شفا حاصل کرو اور ایک کمزور حدیث میں ہے کہ اگر میری امت کو میتھی کے فوائد معلوم ہو جائیں تو لوگ اس کو سونے کے بدلے خرید لیتے ،لیکن اس حدیث پر کافی کلام ہے ، بعض نے تو اس کو من گھڑت بھی کہا ہے اور بعض نے اسے اطباء کا قول قرار دیا، البتہ حکماء و اطباء کے ہاں میتھی کے فوائد مسلم ہیں۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدعلیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1440، 2019/5/27
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:77
آپ ﷺ کو میٹھا پسند تھا،لیکن کھانے سے پہلے یا بعد میں میٹھا کھانے کا مستقل معمول نہیں تھا،بلکہ جب کبھی میٹھا میسر ہوتا آپ تناول فرمالیتے،البتہ طبی فوائد کے اعتبار سے میٹھا بعد میں کھانا صحت کے لیے زیادہ مفید اور بہتر ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کھانے کے آخر میں نمک استعمال کرنے کے متعلق کوئی اثر منقول نہیں، البتہ کھانے کے شروع میں نمک استعمال کرنے سے متعلق امام بیہقی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک اثر نقل کیا ہے،لیکن اس کو بھی علماء کرام نے ضعیف قرار دیا ہے۔البتہ اس ضعیف اثر کی بنا پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاويد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1440، 2019/5/22
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :67
” مَوْتُ الْعَالِمِ مَوْتُ الْعَالَمِ ” سے متعلق مولانا رضوان الدین معروفی صاحب اپنی کتاب ” عُمْدَۃُ الْاَقَاوِیْلِ فِی تَحْقِیْققِ الْاَبَاطِیْلِ “ کے صفحہ (379) پر نقل فرماتے ہیں :
” یہ عبارت حدیث نبوی نہیں ہے ، کسی شخص کا قول ہے ذخیرہ احادیث میں اس کا ذکر نہیں ملتا ، ہاں اس کا مضمون اپنی جگہ صحیح ہے کہ عالِم کی موت اتنا بڑا خسارہ ہے کہ اس کو عالَم کی موت کہنا بجا ہے ، اس قسم کا مضمون جس سے عالَم کی موت کا خسارہ ہونا بعض دوسری روایات میں وارد ہے ۔
(عمدۃ الاقاویل فی تحقیق الاباطیل : 379 ، معروفی کتب خانہ )
و اللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
28/05/1440 ، 2019/02/04
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :121
ایک ضعیف حدیث میں ہےکہ جب بیت اللہ پرنظرپڑ ےتوجودعاکرووہ قبول ہوتی ہے،علامہ عبدالروف مناوی رحمہ اللہ نقل کرتےہیں کہ راجح یہ ہےکہ اس سےمرادنظراول ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/7/1440،2019/4 /2
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :168
یہ واقعہ درست ہے، واقعہ اصل یوں ہے،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ موت کا فرشتہ،حضرت موسی علیہ السلام کے پاس بھیجا گیاتو حضرت موسی علیہ السلام نےطمانچہ مارا جس سے اس کی آنکھ پھوٹ گئی،وہ اللہ تعالی کےپاس گیا اور كہاکہ آپ نے مجھ کو ایسے بندےکے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا،اللہ نے اس کی آنکھ درست فرما دی اور فرمايا موسی علیہ السلام کے پاس پھر جاؤ اور ان سے عرض کرو کہ بیل کی پیٹھ پر ہاتھ رکھیں،جتنے بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے ہر با ل کے عوض ایک سال زندگی ملے گی،حضرت موسی علیہ السلام نے عرض کیا اے پرورد گار!پھر اس کے بعدکیا ہو گا؟حکم ہوا “موت” ۔موسی علیہ السلام نے عرض کیا پھر ابھی موت دے دیں۔
اس حدیث پرہونے والے اشکالات کےازالے کے لیے ملاحظہ فرمائیں امدادالفتاوی جلد5،صفحہ135تا138۔
والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/6/1440، 2019/2/17
جلد نمبر: 17 فتوی نمبر :169
الجواب باسم القادر الغفار
نبوت ملنے سے پہلے آپﷺ کی عبادت غارِ حرا میں صرف تدبّر و تفکّر کی صورت میں ہوتی تھی ۔نماز کی مشروعیت تو حضور اکرمﷺ کو نبوت ملنے کے بعد ہوئی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2019-2-9
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:158
یہ روایت صحیح اور ثابت ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23-06-1440، 2019-03-01
جلد نمبر :18 فتوی نمبر:93