ہوٹلوں میں مقرر کردہ پیسوں کے عوض سالن لے کر کھایاجاتا ہے مگر کچھ ساتھی سالن ختم کر کے مزید گریوی مانگتے ہیں،کیا ان کا یہ مزید سالن لینا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عموما ہوٹلوں والے اپنی رضا مندی سے تبرعاً یہ زائد سالن دیتے ہیں اس لیےاس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں،البتہ جن ہوٹلوں میں گریوی دینے کا معمول نہ ہو توا ن سے اصرار کر کے گریوی حاصل کرنا مناسب نہیں۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(10/65،علوم اسلامیہ)
واما الاجماع فقد اتفقت الامۃ علی مشروعیۃ التبرع ولم ینکر ذلک احد
وفی الھدایة:(3/80،رحمانیہ)
ویجوز للمشتری ان یزید للبائع فی الثمن ویجوز للبائع ان یزید للمشتری فی المبیع
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/387،الطارق)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(8/567،568،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3980، رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(3/60،رحمانیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(4/83،امدادیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(42/252،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10//3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:34

محکمہ بہبود آبادی میں ملازمت کرناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس محکمے کا ملازم جائز کام کرتا ہو،مثلاحفاظتی ٹیکے لگانا،زچہ بچہ کی صحت سے متعلق رہنمائی وادویات فراہم کرنا تو پھریہ ملازمت جائز ہے۔البتہ اگر ناجائز کام کرتا ہو مثلا مرد یا عورت سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کرنا،بلاعذر ومجبوری عورت کی بچہ دانی نکالنا،نس بندی کرنایا حمل ضائع کرنا وغیرہ تو پھر یہ ملازمت جائز نہیں ہے۔

لما فی مشکوة المصابیح:(2/284،رحمانیہ)
وعن جذامة بنت وهب قالت: حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم في أناس وهو يقول:لقد هممت أن أنهى عن الغيلة فنظرت في الروم وفارس فإذا هم يغيلون أولادهم فلا يضر أولادهم ذلك شيئا ثم سألوه عن العزل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك الوأد الخفي وهي “وإذا الموؤودة سئلت
وفی البحر الرائق:(8/375،رشیدیہ)
ویکرہ کسب الخصی من بنی اٰدم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2644،رشیدیہ)
ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية أو ربط عروق المبايض إذا ترتب عليه امتناع الحمل في المستقبل
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/401،الطارق)
والجدیر بالذکر ھنا ان مشروعیۃ العزل لا تعنی تحدید النسل فلا وجود لھذہ الفکرۃ الرائجۃ فی عصرنا الحاضر فی الشریعۃ الاسلامیۃ….ولا یجوز استعمالھا کسیاسۃ جماعیۃ موجھۃ تودی الی تحدید النسل فی المجتمع
وکذافی فتح الملھم:(6/452،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی البحر الرائق:(8/377،365،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/157،فاروقیہ)
وکذافی عمدة القاری:(20/72،بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/82،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المختار:(6/360،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(326،زمزم)
وکذافی الشامیہ:(4/335،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/1/2021/1442/6/3
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 199

اگر روڈ خالی ہو اور اشارہ میں رکنے کی علامت چل رہی ہو تو کیا اشارہ توڑ کر آگے جا سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اشارہ توڑ کر گزرنا چونکہ قانوناً جرم ہے ،لہذا شرعاً بھی ممنوع ہے۔

لما فی التفسیر المنیر:(3/134،امیر حمزہ)
تجب طاعۃ الامراء او السلطان فیما فیہ طاعۃ ولا تجب فیما کان للّٰہ فیہ معصیۃ
وفی الشامیہ:(5/422،سعید)
قولہ امر السلطان انما ینفذ ای یتبع ولا تجوز مخالفتہ. . . . . عن الحموی ان صاحب البحر ذکر ناقلا عن ائمتنا ان طاعۃ الامام فی غیر معصیۃ واجبۃ فلو امر بصوم یوم وجب
وکذافی البحر المحیط:(3/290،291،بیروت)
وکذافی التفسیر الکبیر:(4/112،113،علوم اسلامیہ)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(5/260،بیروت)
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/624،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/6187،6190،6197،رشیدیہ)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/295،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/7/1442/2021/2/17
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:131

رشتہ ڈھونڈنے میں شرعاً کن امور کا خیال رکھا جائے ،کچھ رہنماء اصول بتلا دیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رشتہ تلاش کرتے وقت درج ذیل صفات والی عورت کا انتخاب کیا جائے:(1)عورت دیندار اور نیک سیرت ہو۔(2) اہل خانہ کی خوشی وغمی میں شریک ہونے والی ہو۔(3) پاکدامن،امانت دار،مہذب اور گھر کا نظام خوش اسلوبی سے چلانے والی ہو۔(4) بچوں کی اچھی تربیت اور ان سے محبت وشفقت کا برتاؤ کرنے والی ہو۔(5) شوہر سے انس و محبت کرنے والی اور زیادہ اولاد جننے والی ہو۔(6)تعلیم یافتہ اورسلیقہ مند ہو۔(7)باعزت اور اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔

لما فی صحیح البخاری:(2/268،رحمانیہ)
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين، تربت يداك
وفی سنن ابن ماجہ:(249،رحمانیہ)
عن أبي أمامة، عن النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه كان يقول: “ما استفاد المؤمن بعد تقوى الله، خيرا له من زوجة صالحة، إن أمرها أطاعته، وإن نظر إليها سرته، وإن أقسم عليها أبرته، وإن غاب عنها نصحته في نفسها وماله
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/275،276،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/296، رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(2/69،71، رحمانیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/274،التجاریة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/2021/1442/9/7
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:111

کیا شریعت میں رات کو جھاڑو لگانے میں کوئی قباحت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

رات کو جھاڑو لگانے سےمتعلق شریعت مطہرہ میں کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی،بلکہ مطلقا نظافت اور صفائی ستھرائی کا حکم دیا ہے،وقت کی کوئی قید نہیں لگائی،لہذا رات کو جھاڑو لگانا جائز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5330،رشیدیہ)
الاصل فی الاشیاء والافعال ولاقوال الاباحۃ
وفی الشامیة:(2/432،سعید)
والحاصل ان مقتضی القواعد الجواز ما لم یوجد نقل صریح بخلافہ تامل
وکذافی فتح الباری:(13/334،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(1/130،علوم اسلامیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(6/52،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الاستذکار:(3/276،بیروت)
وکذافی فیض القدیر:(4/384،بیروت)
مشکوۃ المصابیح:(1/39،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/12/2020/1442/8/5
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 67

ہمارے ہاں نظر بد کا ایک ٹوٹکا بہت مشہور ہے اور مجرب بھی ہے۔وہ یہ ہے کہ جس بچہ کو نظر بد لگی ہو اس کو لِٹا کر سات سرخ مرچیں اس بچہ پر گھما کر آگ میں ڈال دی جاتی ہیں ،اس سے نظر بد اتر جاتی ہے۔کیا یہ ٹوٹکا استعمال کرنا درست ہے؟ اور اس کے استعمال کرنے میں شرعا کوئی قباحت تو نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نظر بد سے بچنے کے لیے احادیث مبارکہ میں مختلف اذکار موجود ہیں، مثلا اس دعا کا اہتمام کیا جائے:”اعوذبکلمات اللّٰہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ ومن کل عین لامۃ”
مذکورہ قسم کے ٹوٹکے استعمال کرنے سے بچنا چاہیے، کیونکہ عمومًا ان کو مؤثر حقیقی سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے جو کہ سراسر بداعتقادی اور ناجائز ہے۔تاہم اگر ان کو محض سبب کے طور پر اختیار کیا جائے اور اس بات کا اعتقاد رکھا جائے کہ حقیقتا شفاء دینے والی ذات اللہ تعالی ہی کی ہے تو پھر استعمال کی گنجائش ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(2/376،رحمانیہ)
حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، قال: حدثني معبد بن خالد، قال: سمعت عبد اللّٰه بن شداد، عن عائشة، رضي اللّٰه عنها قالت: «أمرني رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أو أمر أن يسترقى من العين »
وفیہ ایضا
حدثني محمد بن خالد، حدثنا محمد بن وهب بن عطية الدمشقي، حدثنا محمد بن حرب، حدثنا محمد بن الوليد الزبيدي، أخبرنا الزهري، عن عروة بن الزبير، عن زينب ابنة أبي سلمة، عن أم سلمة، رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى في بيتها جارية في وجهها سفعة، فقال: «استرقوا لها، فإن بها النظرة»
وفی الشامیہ:(6/364،سعید)
وفيها لا بأس بوضع الجماجم في الزرع والمبطخة لدفع ضرر العين، لأن العين حق تصيب المال، والآدمي والحيوان ويظهر أثره في ذلك عرف بالآثار فإذا نظر الناظر إلى الزرع يقع نظره أولا على الجماجم، لارتفاعها فنظره بعد ذلك إلى الحرث لا يضره
وکذافی فتح الباری:(10/240،قدیمی) وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(6/228،دارالکتب العلمیة)
وکذافی کنزالعمال:(4/15، رحمانیہ) وکذافی دلیل الفالحین:(3/330،دارالحدیث القاھرة)
وکذافی شرح معانی الٰاثار:(2/369، رحمانیہ) وکذافی عمل الیوم واللیلة للنسائی:(291،292،دار الباز)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/401،رحمانیہ) وکذافی مرقاة المصابیح:(8/318،304،التجاریہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/375،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/2021/1442/9/7
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:114

جب جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا دور تھا، اس وقت زمینداروں پر ان کے پاس موجود (زیادہ نام) زمینوں پر کافی ٹیکس لگائے جاتے تھے تو اس وقت اضافی ٹیکسوں سے بچنے کے لیے میرے والد محترم نے میرے دو سوتیلے بھائیوں کے نام زمین لگوا دی ۔یاد رہے کہ میرے والد محترم کی پہلی زوجہ وفات پا چکی تھیں اور میرے مرحوم والد صاحب نے میری والدہ سے نکاح کیا ہوا تھا،لیکن اس وقت تک دوسرے نکاح سے کوئی بھی اولاد نہ ہوئی تھی تو اس وقت ساری برادری کے سامنے میرے والد صاحب نے میرے دو سوتیلے بھائیوں(مشتاق،مناف)کے ساتھ ایک فرضی بیٹے محمد اشفاق کے نام زمین لگوا دی ،حالانکہ اس ٹائم تیسرے بیٹے کا وجود نہ تھا،یہ بیٹا بعد میں پیدا ہوا تو اس کا نام محمد اشفاق رکھا گیا جو کہ ذہنی معذور تھا اور بعد ازاں وہ بھی وفات پا گیا۔ اس کی وفات کے بعد اس کے حصہ کی زمین والد صاحب نے میری والدہ کے نام کروا دی اس کے بعد ہم تین بھائی(محمد خالد،محمد ماجد، محمد ساجد)پیدا ہوئے،یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہماری زمین دو ضلعوں میں ہے ،کچھ زمین ضلع دیپالپور چک ریتکی میں اور کچھ ضلع لودھراں میں ہے۔ جب میرے والد صاحب لودھراں والی زمین تقسیم کرنے لگے تو والد صاحب نے مشتاق اور مناف سے برادری کے سامنے کہا کہ آپ کے نام زمین جو ریتکی میں ہے اس میں آپ کے تین بھائیوں کا حصہ بنتا ہے وہ انہیں دے دو ورنہ یہاں سے تمہیں زمین نہ دوں گا تو مشتاق اور مناف نے اس وقت کہا کہ ہم ریتکی والی زمین سے جو حصہ بنتا ہے وہ ان کو دے دیں گے اور برادری کے سامنے مشتاق نے قسم اٹھائی کہ میرے پاس ریتکی والی زمین جو زیادہ ہے وہ میں واپس کرونگا آپ ہمیں لودھراں والی زمین سے مکمل حصہ دیدیں۔ اب مناف کے پاس جو زمین زیادہ تھی وہ اس نے تینوں بھائیوں میں برابر برابر تقسیم کر دی ہے ،جبکہ مشتاق ہمیں ہمارا حصہ واپس نہیں کر رہا اور میرے والد کی وفات کے بعد کہتا ہے کہ یہ میری اولاد کا حق ہے، زمین واپس نہیں کرونگا۔میرے والد نے وفات سے چند دن قبل برادری سے کہا کہ مشتاق سے کہو کہ زمین اس کے بھائیوں کا حق ہے واپس کرے جیسے مناف نے اپنے بھائیوں کو واپس کی ہے۔ میرے والد محترم کئی مواقع پر مشتاق سے اس وجہ سے ناراض رہے کہ مشتاق اپنے تین بھائیوں کو زمین واپس نہیں دے رہا ساری برادری اس بات کی گواہ بھی ہے۔( وضاحت: مشتاق کے نام جو زیادہ زمین ہے وہ ہمارے قبضہ میں ہے) اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا مشتاق کا حق نہیں بنتا کہ وہ زمین جو کہ 7.50 ایکڑ ہے جو ایک حیلے میں نام لگی تھی وہ اب واپس کرے؟ ایسے آدمی کے بارے میں قرآن واحادیث میں کیا حکم ہے جو کسی کی زمین پر قابض ہو جائے اور صاحب حق کو اس کا حق واپس نہ کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکور باتیں اگر حقیقت پر مبنی ہیں تو مشتاق کے پاس جو ریتکی والی زمین ہے اس میں اس کے بھائی بھی حق دار ہیں۔اب مشتاق کو چاہیے کہ بھائیوں کا حق انہیں دے دے، کیونکہ قرآن و احادیث میں کسی کا حق ظلماً دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،مثلا بخاری شریف کی روایت ہے:
”آپﷺ نے فرمایا جو شخص ظلما کسی کی زمین لے گا تو اس کے گلے میں سات زمینیں طوق بنا کر ڈال دی جائیں گی“

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے
”جو شخص ناحق کسی کی ایک بالشت زمین بھی لے گا تو قیامت کے دن اس کو سات زمینوں تک زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ (صحیح بخاری:1/332،قدیمی)

لما فی القرآن الکریم :(النساء،29)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ
وفی الصحیح للبخاری:(1/332،قدیمی)
اخبرہ ان سعید بن زید قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من ظلم من الأرض شیاً ،طوقه من سبع أرضين
وفی الصحیح لمسلم:(2/32،33،الحسن)
عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين»
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(1/261،272،رحمانیہ)
وکذافی شعب الایمان:(6/224،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/149،التجاریة)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/32،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل:(1/502،منشورات البلاغہ)
وکذافی البحر المحیط:(3/240،بیروت)
وکذافی تفسیر البغوی:(1/417،بیروت)
وکذا فی الا کلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التاویل:(2/592،بیروت)
وکذافی التفسیر الکبیر:(4/56،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر :24 فتوی نمبر: 40

ایک عورت اور اس کے اولیاء مل کر ایک شخص پر دعویٰ کرتے ہیں کہ اُس نے اِس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے،مگر وہ شخص کہتا ہے کہ مجھے ایسی کسی بات کا علم بھی نہیں ہےاور یہ محض الزام ہے۔مدعیان کے پاس اپنے دعویٰ پر گواہ بھی نہیں ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

صورتِ مسئولہ میں چونکہ زنا کی تہمت لگانے والوں کے پاس چار نیک عینی گواہ نہیں ہیں اس لیے زنا ثابت نہ ہو گا،بلکہ یہ تہمت لگانے والے سخت گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں،ان کو چاہیے کہ فوراً اس شخص سے بھی معافی مانگیں اور خوب توبہ و استغفار بھی کریں۔

لما فی القرآن الکریم:(النور:4)
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً……الآیۃ
وفی مقام آخر:(النساء:110.112)
 وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا…….وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا
وفی الھدایة:(2/507،رشیدیه کوئٹہ)
وإذا قذف الرجل رجلا محصنا أو امرأة محصنة بصريح الزنا وطالب المقدوف بالحد حده الحاكم ثمانين سوطا إن كان حرا
وفی الھندیة:(2/167، رشیدیه کوئٹہ)
والتعزير الذي يجب حقا للعبد بالقذف ونحوه فإنه لتوقفه على الدعوى لا يقيمه إلا الحاكم
وکذافی المشکوة:(2/436، رحمانیة لاھور)
وکذافی جامع الترمذی:(1/381،رحمانیة لاھور)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/524، رشیدیه کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(6/549، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی التنویر مع شرحه:(4/7.8،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی شرح النووی علی صحیح المسلم:(2/357، رحمانیة لاھور)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:111

بھینس کا ایسا بچہ جس کی پرورش ” کتیا “ کے دودھ سے کی گئی ہو ، اس کے گوشت ، قربانی اور حمل کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

حرام جانوروں کے دودھ میں چونکہ بدبو وغیرہ نہیں ہوتی اس لیے اگر حلال جانور ان کا دودھ پی لیں تو ان کے گوشت میں کسی قسم کی بدبو پیدا نہیں ہوتی ، لہٰذا ایسے جانوروں کا گوشت و حمل حلال اور قربانی جائز ہوگی۔

لما فی التنویر مع شرحه:(6/340.341،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
و) كره (لحمهما) أي لحم الجلالة والرمكة، وتحبس الجلالة حتى يذهب نتن لحمها. وقدر بثلاثة أيام لدجاجة وأربعة لشاة، وعشرة لإبل وبقر على الأظهر. ولو أكلت النجاسة وغيرها بحيث لم ينتن لحمهاحلت كما حل أكل جدي غذي بلبن خنزير لأن لحمه لا يتغير، وما غذي به يصير مستهلكا لا يبقى له أثر.
وفی الشامیۃ:(قولہ علی الاظھر)…..قال السرخسي: الأصح عدم التقدير، وتحبس حتى تزول الرائحة المنتنة.(قولہ لان لحمہ لا یتغیرالخ)…..معناه إذا اعتلف أياما بعد ذلك كالجلالة، وفي شرح الوهبانية عن القنية راقما أنه يحل إذا ذبح بعد أيام وإلا لا
وفی البزازیة علی ھامش الھندیة:(6/302،رشیدیة کوئٹہ)
جدي غذي بلبن الخنزير لا بأس بأکلہ فعلی ھذا لا بأس بأکل الدجاج لأن لحمه لا يتغير وما غذي به صار مستهلكا لا يبقى له أثر وما روی عنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ یحبس الدجاج ثلاثۃ للتنزیہ وانما یشترط ذٰلک فی الجلالۃ التی لا تأکل الا الجیف وما یخلط ویأکل غیرہ ایضا علی وجہ لا یظھر اثرہ فی لحمہ لا بأس بہ
وکذافی الھندیة:(5/290، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/10،امدادیة ملتان)
وکذافی البحر الرائق:(8/335، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی المبسوط:(11/255،دار المعرفة بیروت)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/153.154، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/404،رشیدیة کوئٹہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:172

ایک شخص نے اپنے بھائی کی نوزائیدہ بچی گود لی تھی، اور اس کے والد کے طور پر اپنا نام لکھوایا تھا، کیا اس طرح کرنا شرعی طور پر جائز ہے؟ اس بچی کا اب نکاح ہونا ہے اس کے والد کے نام میں کس کا نام لکھا اور بولا جائے گا حقیقی والد کا یا منہ بولے والد کا؟ جبکہ شناختی کارڈ اور تمام کاغذات میں منہ بولے والد کا نام لکھا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس طرح کرنا قطعاً جائز نہیں۔ 2)بچی کے نکاح کے وقت حقیقی والد کا نام لکھا اور بولاجائے، نہ کہ منہ بولے والد کا۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة الاحزاب آیة 4)
و ماجعل ادعیاءکم ابنائکم ذالکم قولکم بافواھکم
وفی جامع الترمذی:(2/626،رحمانیہ)
عن ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال ماکنا ندعو زید بن حارثۃ الا زید بن محمد حتی نزل القرآن ادعوھم لآبائھم ھو اقسط عند اللہ
وفی تحفة الاحوذی:(9/70،قدیمی)
قولہ حتی نزل القرآن ادعوھم لآبائھم قال الحافظ ابن کثیر رحمہ اللہ تعالیٰ ھذا امر ناسخ لما کان فی ابتداء الاسلام من جواز الدعاء الابناء الاجانب و ھم الادعیاء فامر تبارک و تعالی برد نسبھم الی آبائھم فی الحقیقۃ
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/521،قدیمی)
وکذافی احکام القرآن للشفیع:(3/290،مکتبہ دارالعلوم)
وکذافی معالم التنزیل:(3/506،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/05/1442/2021/01/03
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:124