نماز تراویح پر اجرت لینا کیسا ہے؟

الجواب حامداومصلیا

جائز نہیں ہے۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/398،الطارق)
فالحاصل أن ماشاع فی زماننا من قراءۃ الأجزاء بالأجرۃ لایجوز،لأن فیہ الأمر بالقراءۃوإعطاءالثواب للآمروالقراءۃ لأجل المال،فإذا لم یکن للقاریٔ ثواب لعدم النیۃ الصحیحۃ،فأین یصل الثواب إلی المستأجرولو لاالأجرۃ ماقرأ أحد لأحد فی ھذا الزمان بل جعلوا القراٰن العظیم مکسبا ووسیلۃ إلی جمع الدنیاوإناللّٰہ وإناالیہ راجعون فالمفتی بہ جواز الأخذاستحسانا علی تعلیم القراٰن لاعلی القراٰۃالمجردۃ
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(399،البشری)
لایجوز أن یستاجر قارئا،لیقرأالقراٰن ویھدی ثوابہ إلی المیت،لأن القاریٔ إذا قراللمال فلاثواب لہ ،فما ذایہدی إلی المیت
وکذافی مجمع الانھر:(3/533،المنار)
وکذافی الشامیة:(9/95،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3821،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(3/301،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/43،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(3/115،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،6،1443/2022،1،19
جلدنمبر:26 فتوی نمبر:113

حدیث مبارک میں آتا ہے”السفر قطعۃ من العذاب “اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے لیے جو دعا سکھلائی ہے اس میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں:”اللھم انّا نعوذبک من وعثاء السفر وکابۃ المنظر وسوء المنقلب۔۔۔۔“اس سے پتا چلتا ہے کہ سفر میں جتنی آسانی میسر ہو اختیار کرنی چاہیے ۔ موجودہ دور میں ٹرانسپورٹ میں زیادہ سے زیادہ سہولیات دی جارہی ہیں مثلاً ایک سہولت یہ بھی ہے کہ خدمت کے لیے ایک عورت موجود ہوتی ہے جو مسافر کو پانی وغیرہ مہیا کرتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ سہولیات اور وقت کی بچت کی طرف دیکھیں توایسی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا بہتر ہے اور اگر ایسی ٹرانسپورٹ میں دوسری شرعی قباحتوں کی طرف دیکھیں مثلا ٹی وی اور نوجوان لڑکی کا برائے نام پردے میں ہونا وغیرہ، ایسا آدمی جو اپنے نفس پر قابو پا سکتا ہو اور جو قابو نہ پا سکتا ہو ان کے لیے اس قسم کی ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا جائز ہے؟ان دونوں صورتوں میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلّیا ومسلّما

ایسی گاڑیوں مین سفر کرنا جائز ہے ،لیکن نظر کی حفاظت کرنا بھی ضروری ہے۔ اور اگر کسی کو یقین ہو کہ وہ نظر کی حفاظت نہیں کر سکے گا تو اس کے لیے ایسی گاڑیوں میں سفر کرنا درست نہیں۔

لما فی القرآن الکریم(النور:30)
قل للمؤ منین یغضّوا من ابصارھم ویحفظوا فروجھم ذلک ازکیٰ لھم انّ اللہ خبیر بما صنعون
وفی المبسوط(1/152،دارالمعرفہ بیروت)
فاما النظر الی الاجنبیات فنقول یباح النظر الی موضع الزینۃ الظا ھرۃ منھن دون الباطنۃ لقو لہ تعالیٰ ولا یبدین زینتھن الّا ما ظھر منھا ،وقال علی وعباس رضی اللہ عنھم ما ظھر منھا الکحل والخاتم ،وقالت عائشۃ رضی اللہ عنھا احدیٰ عینیھا وقال ابن مسعود رضی اللہ عنہ خفھا وملامتھا واستدل فی ذلک بقولہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم النساء حبائل الشیطان بھن یصید الرجال ،وقال صلی اللہ علیہ وسلم ما ترکت بعدی فتنۃاضرّ علی الرجالمن النساء
وفی المحیط البرھانی(8/29،دار احیاء تراث العربی)
واما النظر فی الاجنبیات :فنقول :یجوز النظر الی مواضع الزینۃ الظاھرۃ منھن، وزلک الوجہ والکف فی ظاھر الروایۃ، والاصل فیہ قولہ تعالیٰ :ولا یبدین زینتھن الّا ما ظھر منھا ․قال علی وابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھم :ما ظھر منھا الکف والخاتم․
وفی صفحۃ 30 ):ذلک کلّہ اذا لم یکن النظر عن شھوۃ ، فان کان یعلم انّہ ان نظر اشتھیٰ ، او کان اکبر رایہ ذلک ، فلیجتنب بجھدہ
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(5/329،رشیدیہ)        وکذا فی بدائع الصنائع(4/293،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق(6/17،امدادیہ)       وکذا فی الفقہ الاسلامیوادلتہ(4/2652،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ(4/99، البشریٰ)         وکذا فی کنز الدقائق(424،حقانیہ)
وکذا فی الفتاویٰ التاتارخانیہ(18/95،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساھیوال
21/4/1443-2021/11/27
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:144

قربانی کا گوشت پکانے کے لیے ہنڈیا میں ڈالا گیا تھوری دیر کے بعد ایک بوٹی اس میں سے نکال کر دیکھی تو اس بوٹی کے ریشوں میں لفظ ”اللہ “لکھا ہوا واضح طور پر نظر آ رہا تھا ،اس بوٹی کا کیا کیا جائے پکا کر کھا لیں یا اس کو محفوظ رکھیں یا زمین میں دفن کر دیں؟

الجواب حامداً ومصلیاًومسلماً

عام طور پر اس طرح کا تصور محض وہم و خیال ہوتا ہے،لہذا ایسے گوشت کو پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں۔

واللہ اعلم باصواب
کتبہ طیب عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساھیوال
24/3/1443-2021/10/30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:77

دیہاتوں میں رات کے وقت اسپیکر میں قرآن پڑھا جاتا ہے(شبینہ)اس کا پڑھنا شرعاً کیسا ہے۔کیا ثواب ہو گا یا گناہ ہو گا؟

الجواب حامداًومصلیاًومسلماً

مروجہ شبینہ حضورﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں،اس لئے ناجائز ہےاور اس میں اور بھی بہت سے مفاسد پائے جاتے ہیں مثلاً(1)عموماً یہ دکھلاوے اور ریا کے لئے ہوتا ہے۔(2)لوگ سننے میں سستی کرتے ہیں ۔(3)حفاظ جلدی کی وجہ سے تجوید اور ترتیل کا خیال نہیں رکھتے۔(4)روشنی اور دیگر اشیاء میں اسراف سے کام لیا جاتا ہے۔(5)عموماً اسپیکر کے استعمال کی وجہ سے لوگوں کے آرام میں خلل آتا ہے،نیز جب قرآن پڑھا جائے تو اس کا سننا واجب ہے لمبی قرات کی وجہ سے خاموشی سے سننا ممکن نہیں ہوتا لھذا لوگوں کو قرآن نہ سننے کے گناہ میں ملوث کیا جاتا ہے۔

لما فی القرآن الکریم(الاعراف:204)
”واذا قریٔ القرآن فاستمعوا وانصتوا لعلکم ترحمون․“
وفی صحیح البخاری(1/6،قدیمی کتب خانہ)
عن عبد اللہ بن عمرو عن النبیﷺ قال :المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمہاجر من ھجر ما نھی اللہ عنہ
وفی مشکوٰۃ المصابیح(1/27،رحمانیہ)
”عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت :قال رسول اللہ ﷺ من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد․“
وکذا فی مشکوٰہ المصابیح(1/13،رحمانیہ)     وکذا فی صحیح البخاری(2/1086،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفتاویٰ الھندیہ(5/317،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساھیوال
20/5/1443-2021/12/25
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:91