آج کل دفتروں میں رشوت عام ہے ، رشوت دیے بغیر اپنا کام کروانا مشکل ہے ، تو کیا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رشوت دینا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رشوت چونکہ ایک عظیم جرم ہے ، اس لیے ہر مسلمان کو رشوت دینے اور لینے سے بچنا انتہائی ضروری ہے ، لیکن اپنے جان و مال کو ضرر سے بچانے کے لیے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رقم دیکر اپنا حق وصول کرنا جائز ہے ۔ اس صورت میں رقم دینے والا گنہگار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینا کسی بھی حال میں جائز نہیں ۔

لما فی الھندیہ:(3/331،رشیدیہ)
وھل یحل للمعطی الاعطاء ، عامۃ المشائخ علی انہ یحل لانہ یجعل مالہ وقایۃ لنفسہ او یجعل بعض مالہ وقایۃ للباقی
وفی الشامیة:(9/699،رشیدیہ)
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع
وفی الموسوعة الفقھیة:(22/222،علوم اسلامیہ)
غیر انہ یجوز للانسان عند الجمھور ان یدفع رشوۃ للحصول علی حق او لدفع ظلم او ضرر ویکون الاثم علی المرتشی دون الراشی
وکذافی حاشیہ الطحطاوی:(4/211،رشیدیہ)
وکذافی شرح المجلة:(6/40،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:21

بیت الخلاء اور غسل خانہ میں تھوکنا کیسا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

ان جگہوں پر بلاضرورت تھوکنا منع ہے۔

لمافی ردالمحتار علی الدرالمختار:(1/616،رشیدیة)
ولا ینظر الی عورتہ ولاالی ما یخرج منہ،ولا یبزق فی البول
وفی فتح القدیر:(1/213،رشیدیة)
ولایمتخط ولا یبزق ولا یذکراللہ تعالی حال جلوسہ ولا فی ذلک المحل
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/616،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/422،رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/166،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(1/231،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(1/50،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:ولی اللہ غُفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1443/2021/12/5
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:156

لوگ صدقہ وخیرات کرتے ہیں مثلاً کچھ پکا کر ہمسایوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں تقسیم کر دیتے ہیں حالانکہ بہت سارے ہمسائے اور رشتہ دار صدقہ وخیرات کے مستحق نہیں ہوتے،کیا اس طرح سے صدقہ وخیرات کرنا درست ہے؟اگر نہیں تو اس کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

نفل صدقہ وخیرات ہمسائیوں اور رشتہ داروں کو دینا درست ہے،اس کے لیے ان کا مستحق ہونا ضروری نہیں۔البتہ ان میں سے ضرورتمندوں کو ترجیح دینا چاہیئے۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(26/331،علوم اسلامیة)
لا اختلاف بین الفقہاء فی جوز التصدق علی الأقرباء والأزواج صدقۃ التطوع بل صرح بعضہم: بأنہ یسن التصدق علیہم ولہم أخذہا ولو کانوا ممن تجب نفقتہ علی المتصدق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وقالﷺ:الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وعلی ذی الرحم ثنتان:صدقۃ وصلۃ
وفیہ ایضاً:(26/332،علوم اسلامیة)
الأصل أن الصدقہ تعطی للفقراء والمحتاجین وہذا ہو الأفضل کما صرح بہ الفقہاء وذالک لقولہ تعالی:أو مسکینا ذا متربۃ.الآیۃ واتفقوا علی أنہا تحل للغنی لأن صدقۃ التطوع کالہبۃ فتصح للغنی والفقیر
وکذا فی فتح القدیر:(9/57،رشیدیة)
۔۔۔۔والتصدق علی الغنی لا ینافی القربة
وکذا فی الشامیة:(2/360،رشیدیة)
وکذا فی الکفایة:(9/17،رشیدیة)
وکذا فی الہندیة:(4/406،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(12/92،دار المعرفة)
وکذا فی التاتارخانیة:(14/498،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرہانی:(9/212،ادارة القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
17/09/1443/2022/04/19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:176

کیا قادیانی کمپنی کی چیزیں گھر اور مسجد میں استعمال کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

یہ بات سب پر عیاں ہے کہ قادیانی،سید الکونین وخاتم الرسل حضرت محمدﷺ کی ختم نبوت کے منکر ہیں اور اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں؛ہر وہ عمل جس سے دشمنانِ اسلام کو تقویت پہنچےاس سے روکا گیا ہے اور یقیناً قادیانی کمپنیوں کی اشیاء خریدنے سے ان کی معیشت مضبوط ہو گی جسے وہ یقیناً حضور نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کے خلاف استعمال کریں گے؛لہذا،قادیانی کمپنیوں کی اشیاء استعمال کرنا جائز نہیں۔

لما فی الفتاوی الہندیة:(2/285،رشیدیة)
“ویکرہ بیع السلاح من أہل الفتنۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔.”
وفی مجمع الأنہر:(2/418،المنار)
ولا یباع) أی یکرہ کراہۃ التحریم(منہم سلاح)۔۔۔۔۔۔۔۔(ولا خیل ولا حدید) لئلایتقوی بہ الکفار ولا یبلّغ ما فی حکمہ من الحریر والدیباج
وکذا فی الدر المختار:(6/408،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/91،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(7/83،فاروقیة)
وکذا فی الدر المنتقی:(2/419،المنار)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(1/434،المکتبة التجاریة)
وکذا فی مشکوة المصابیح:(1/31،حقانیۛة)
وکذا فی فتح القدیر:(6/101،رشیدیة)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/174،معارف القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب وعلمہ اتمّ
کتبہ:محمد نوید بن اللہ بخش عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/06/1443/2021/02/08
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:166

شادی بیاہ کےموقع پرمروجہ نیوتہ کی شرعی حیثیت کیاہے؟

الجواب حامداومصلیا

شروع میں توخوشی کےموقع پرتعاون باہمی کےطورپرایسی رقم دی جاتی تھی جوکہ درست تھی اب بھی اگرکوئی ایسے مواقع پربطورہبہ،تحفہ کوئی چیزیانقدرقم دیتاہےجس میں ریاءنام ونموداورواپس لینےکی نیت نہ ہوتوجائزہےگناہ نہیں،لیکن شادی بیاہ کےموقع پرجورسم”نیوتہ”کےنام سےجاری ہےاس میں کئی خرابیاں ہیں جن کی وجہ سےجائزنہیں ہے،ان میں سےچندیہ ہیں :1< اس کاحساب وکتاب رکھاجاتاہےاورعموماًدینےوالوں کوایسی تقاریب کےمواقع پرواپس کیاجاتاہے،تویہ قرض کے حکم میں ہواتواس پرقرض کےاحکام جاری ہوں گےاوراس میں عموماًبرابریاکم دینےوالوں کوبراسمجھاجاتاہے،اس لیےاس میں رقم لےکرزیادہ واپس کی جاتی ہےجومشابہ سودہے۔2< بعض اوقات دلی رضامندی کےبغیربرادری کےرکھ رکھاؤکےلیےدی جاتی ہے،جبکہ دلی رضامندی کےبغیرکسی کامال لینا حلال نہیں ہے،ان خرابیوں کی بنیادپر”نیوتہ”لینادینادرست نہیں ہے۔

لمافی الردالمحتار:(5/696،ایچ،ایم،سعید)
وفی الفتاوی الخیریۃ˸سئل فیمایرسلہ الشخص الی غیرہ فی الاعراس ونحوھاھل یکون حکمہ حکم القرض فیلزمہ الوفاء بہ ام لا؟اجاب:ان کان المعروف بأنہم یدفعونہ علی وجہ البدل یلزم الوفاء بہ مثلیافبمثلہ ،وان کان قیمیا فبقیمتہ،وان کان المعروف خلاف ذٰلک بأن کانوایدفعونہ علی وجہ الھبۃولاینظرون فی ذالک الی اعطاءالبدل فحکمہ حکم الھبۃ فی سائراحکامہ ، فلارجوع فیہ بعدالہلاک اوالاستھلاک،والاصل فیہ ان المعروف عرفاکالمشروط شرطا،
قلت والعرف فی بلادنامشترک نعم!فی بعض القریٰ یعدونہ قرضاحتی انھم فی کل ولیمۃیحضرون الخطیب یکتب لہم مایہدی فاذاجعل المھدی ولیمۃ یراجع المھدی الدفتر فیھدی الاول الی الثانی مثل مااھدی الیہ
وکذافی کنزالعمال:(5/51،رحمانیہ)
وکذافی مشکوٰة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
وکذافی مسندالامام احمد:(6/591،احیاءالتراث)

واللہ اعلم بالصواب
محمدرفیق غفرلہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1443/2021/12/15
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:183

ایسے اوراق کا کیا حکم ہے جن پر احادیث،صحابہ کرام کے نام و واقعات ،فنی تعلیم کے بارے میں ،تفسیر قرآن اردو میں لکھی ہو آیا ان کو جلایا جا سکتا ہے یا نہیں ؟

الجواب حامداومصلیا

ایسے اوراق مقدسہ کو جلانا مناسب نہیں ،البتہ بہتر یہ ہے کہ ان کو”تحفظ اوراق مقدسہ “کے لیے لگائے گئے بکس وغیرہ میں رکھ دیا جائے ،اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر ان کو کسی صاف کپڑے میں لپیٹ کر کسی محفوظ جگہ مثلا قبرستان وغیرہ میں لحد کھود کر دفن کر دیا جائے ،اور اگر ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو ان سے اسماء مقدسہ کو مٹاکر جلا سکتے ہیں، لیکن یہ حکم انتہائی مجبوری کے وقت کا ہے۔

لما فی الدر المختار:(9/696،رشیدیہ)
الکتب التی لا ینتفع بھا یمحیٰ عنھا اسم اللہ وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أو تدفن وھو أحسن کما فی الأنبیاء
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/210،رشیدیہ)
الکتب التی لا ینتفع بھا یمحیٰ عنھا اسم اللہ وملائکتہ ورسلہ ویحرق الباقی ولا بأس بأن تلقی فی ماء جار کما ھی أ و تدفن وھو أحسن کما ھی فی الأنبیاء
قولہ (وھو أحسن) لأنہ یفعل بالأنبیاءوالأولیاء إذا ماتوا فکذا جمیع الکتب اذا بلیت وخرجت عن الإنتفاع بھا
وکذا فی التاتارخانیة:(18/68،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/10،ادارة القرآن)
وکذا فی السراجیة:(313،زمزم پبلشرز)
وکذا فی الھندیة:(5/323،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(9/696،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
17،8،1443/22،3،21
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:69

جاز کیش کمپنی کی طرف سے یہ پیغام آتا ہے کہ آپ فلاں تاریخ تک اپنے موبائل اکاؤنٹ میں بینک اکاونٹ یاجاز کیش اکاؤنٹ سے 50 روپے سے زائد رقم جمع کروائیں اور فوری 50روپے حاصل کریں۔اسی طرح یہ میسج آتا ہے کہ آپ اپنے اکاونٹ سے 1000 سے زائد رقم نکلوائیں اور اگلے دن 500منٹ SMSاورMB پائیں ۔ اب کوئی آدمی اپنی ضرورت کےلیےرقم جمع کراتا ہے یا نکلواتا ہے اور اسے پیسے منٹ SMSیا MB دے دیے جاتے ہیں، تو ان کے استعمال کا شرعا کیا حکم ہے؟اوراگر کوئی آدمی پیسے اور منٹ وغیرہ حاصل کرنے کےلیے رقم جمع کراتا یا نکلواتا ہے ،تو اس صورت میں پیسے اور منٹ وغیرہ استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

 

اکاؤنٹ میں محض پیسے رکھنے پر جو پیسے ،منٹ،ایس ایم ایس یا ایم بی وغیرہ ملتے ہیں ،ان کا استعمال ناجائز اور حرام ہے ۔کیونکہ یہ قرض پر سود لینے کی طرح ہے ،البتہ جو پیسے ،منٹ ،ایس ایم ایس یا ایم بی رقم کی ٹرانزیکشن یا لوڈ خریدنے پر ملتے ہیں ،ان کا استعمال جائز ہے۔

 

لما فی الشامیة:(7/413 ،رشیدیہ)
قولہ:( کل قرض جر نفعا حرام) أی :اذا کان مشروطا کما علم مما نقلہ عن البحر وعن الخلاصۃ وفی الذخیرۃ وإن لم یکن النفع مشروطا فی القرض فعلی قول الکرخی لا بأس بہ
وکذا فی المحیط البرھانی:(10/351،دار إحیا )
قال محمد فی کتاب الصرف أن ابا حنیفۃ کان یکرہ کل قرض جر منفعۃ،قال الکرخی ھذا إذا کانت المنفعۃ مشروطۃ فی العقد ۔۔۔۔۔۔فإن لم تکن المنفعۃ مشروطۃ فأعطاہ المستقرض أجود مما علیہ ،فلا بأس بہ۔
وکذا فی سورةآل عمران:(آیت،275)
وکذا فی اعلاء السنن:(14/512،ادارة القرآن )
وکذا فی الھدایة:(3/82،رحمانیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(9/390،فاروقیہ)
وکذا فی الھندیة:(3/202،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(ا4/30،دارالمعرفہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی :(3/102،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/204،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
15،8،1443/22،3،19
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:30

حرام کھانے سے پہلے یاکسی حرام فعل کے ارتکاب کے وقت ”بسم اللہ “پڑھنے کاکیا حکم ہے؟

الجواب حامداومصلیا

کسی یقینی حرام کھانے سے پہلے یاکسی یقینی حرام فعل کوکرتے وقت،اگراس کام کو حلال سمجھتےہوئے یااللہ تعالیٰ کے نام کی تحقیرکے لئے،بسم اللہ پڑھنا تو کفر ہے،ورنہ بے ساختہ اور غیر اختیاری طور پر بسم اللہ پڑھنے سے کافر تو نہیں ہو گا،لیکن گناہ گار ضرور ہوگا۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة:(16/499،فاروقیہ)
وفی الصیرفیة:سئل ایضا عمن غصب طعاما فقال عند أکلہ:بسم اللہ لایکفر ولو ذکر عند شرب الخمر؟ قال :إن کان علی وجہ الاستخاف یکفر وکذا عند الزنا
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/380،رشیدیہ)
وقال العلامة عالم بن العلاء ومن أکل طعاما حراما وقال عند الأکل :بسم اللہ فقد حکی الإمام المعروف بالمستملی عن مشایخہ أنہ یکفر لاستخفافہ اسم اللہ ولو قال عند الفراغ عن الأکل:الحمد للہ فقد قال بعض المشایخ :إنہ لایکفر
وکذافی الخانیة:(6/330،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/318،الطارق)
وکذافی الھندیة:(9/337،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(9/561،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(1/38،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26،7،1443/2022،2،28
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:181

اگر کوئی حادثہ گاڑی چلانے والے کی غلطی سے ہوا اس میں کچھ لوگ جان سے چلے جائیں تو ہم کہتے ہیں یہ حادثہ ڈرائیور کی غلطی سے ہواہے،لیکن اللہ تعالیٰ نے مرنے والوں کی موت اس طرح لکھی تھی پھر وہ ڈرائیور کیسے قصوروارہوا؟

الجواب حامداومصلیا

تقدیر میں لکھے ہوئے کی وجہ سے انسان کامجبور اور بے اختیار ہونا لازم نہیں آتا،بلکہ ہرانسان اپنے ارادے اور اختیار سے کام کرتا ہے،اسی لئے کسی انسان کو اچھےکام پر انعام دیاجاتاہےاوربرے کام کی سزادی جاتی ہے۔اگر تقدیر کی وجہ سے انسان کو معاف کردیا جائے تو دنیا سے امن اور انصاف ختم ہوجائےگا۔

لمافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/543،الطارق)
فقد أثبت لھم ایمانا وعملا صالحا جزاھم بھما الجنۃ،فاللّٰہ تعالیٰ ھو الموجد والخالق للفعل ولیس للعبدإلّا کسبہ وتحصیلہ وبہ یثاب أویعاقب……………وعلی الصفحۃ الآتیۃ وقد تحمل علی علم اللّٰہ أزلا للذی سیکون من العبد خیرا کان أو شرّا،کقولہ علیہ وآلہ الصلاۃ والسلام:(السعید من سعد فی بطن أمہ)والعلم لیس فیہ معنی الإجبار
وکذافی حجة اللّٰہ البالغة:(1/57،قدیمی)
وقول الشرع شرط المؤاخذۃ علی الأفعال أن یفعلھا بالاختیار بمنزلۃ قول الطبیب شرط الضرربالسم والانتفاع بالتریاق أن یدخلافی البلغوم وینزل فی الجوف
وکذافی تفسیرالمظہری:(6/260،رشیدیہ)
وکذافی شرح العقیدةالطحاویة:(437،المکتب الاسلامی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
11،8،1443/2022،3،15
جلد نمبر :26 فتوی نمبر:189

موجودہ دور کے مروجہ جہیز کا کیا حکم ہے،جودلہن کی طرف سے لازم سمجھا جاتا ہےیہ جہیز اصل ذمہ داری کس کی ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

لڑکی کے والدین اپنی خوشی سے جو سامان چاہیں دے سکتے ہیں،لیکن اس میں کسی قسم کی ریا نہ ہواور لڑکے والوں کی طرف سے بھی یر قسم کا مطالبہ غیر اخلاقی ہو گااورلڑکی کی ضروریات کاسامان مہیا کرناشوہر کی ذمہ داری ہے۔جہیز کی موجودہ رسم قابل اصلاح ہے۔

لما فی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:(9/242،دار الکتب العلمیة)
وعن انس رضی اللہ عنہ،انّ عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ،اتی ابابکررضی اللہ عنہ فقال:یاابابکرمایمنعک ان تزوج فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:لایزوجنی(بعداسطر)فانطلق عمررضی اللہ عنہ الی علِی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ،قال:مایمنعک من فاطمۃ؟فقال:اخشی ان لایزوجنی،قال:فان لم یزوجک فمن یزوج؟وانت اقرب خلق اللہ الیہ،فانطلق علی رضی اللہ عنہ الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولم یکن لہ مثل عائشۃولامثل حفصۃ،قال:فلقی رسول اللہ صلی اللہ وسلم،فقال:انی اریدان اتزوج فاطمۃقال:فافعل قال ما عندی الادرعی الحطمیۃ قال:فاجمع ماقدرت علیہ وائتنی بہ قال:فاتنی باثنتی عشرۃاوقیۃاربعمائۃوثمانین،فاتی بھا رسول اللہ صلی اللہ وسلم،فزوجہ فاطمۃ رضی اللہ عنھا،فقبض ثلاث قبضات،فدفعھاالی ام ایمن،فقال اجعلنی منھا قبضۃ فی الطیب احسبہ قال:والباقی فیما یصلح المراۃ من المتاع،فلما فرغت من الجھازوادخلتھم بیتا
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6825،رشیدیہ)
فراواان الجھاز واجب علی الزوج،کما یجب علیہ النفقۃوکسوۃ المراۃوالمھرالمدفوع لیس فی مقابلۃ الجھاز وانماھو عطاءونحلۃ کما سماہ اللہ فی کتابہ اوھو فی مقابلۃ حل التمتع بھا،فھوحق علی الزوج لزوجتہ
وفی البحر الرائق:(3/325،رشیدیہ)
لوجھز بنتہ ثم ادعی ان مادفعہ لھا ؑعاریۃوقالت تملیکااوقال الزوج ذلک بعد موتھا لیرث منہ وقال الاب عاریۃ،ففی فتح القدیر والتجنیس الذخیرۃالمختارللفتوی ان القول للزوج ولھااذاکان العرف مستمراان الاب یدفع مثلہ جھازالاعاریۃ کمافی دیارناوان کان مشترکا فالقول قول الاب
وفی تنویر الابصار:(4/307،رشیدیہ)
ولو دفعت فی تجھیزھا لابنتھااشیاءمن امتعۃالاب بحضرتہ وعلمہ وکان ساکتاوزفت الی الزوج فلیس للاب ان یستردذلک من ابنتۃ لجریان العرف بہ وکذا لوانفقت الام فی جھازھاماھومعتادوالاب ساکت لاتضمن الام
وفی المبسوط:(5/214،دارالمعرفة)
وفی المحیط البرھانی:(4/227،ادارۃالقران)
وفی الخانیة:(1/401،رشیدیہ)
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(4/301،فاروقیہ)
وفی خلاصةالفتاوی:(2/45،رشیدیہ)
وفی الھندیہ:(1/328،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
22،2،1443/2021،9،30
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:58