کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیر کے دن کا روزہ اس لیے رکھا کرتے تھے کہ اس دن آپ کی ولادت ہوئی تھی، یا کوئی اور وجہ بھی تھی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیرکے دن کا روزہ کئی وجوہات سے رکھا کرتے تھے،(1) پیر کے دن اللہ کے ہاں اعمال پیش کیے جاتے ہیں،(2) اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی (3) اسی دن آپ مدینہ میں داخل ہوئے، (4) اسی دن آپ کو نبوت ملی، (5) اسی دن آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/430،رحمانیہ)
عن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سئل عن صوم الاثنین فقال فیہ ولدت وفیہ انزل علی.”
وکذا فی جامع الترمذی :(1/276،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال :تعرض الاعمال یوم الاثنین والخمیس فاحب ان یعرض عملی واناصائم.”
وکذا فی معارف السنن :(5/426،سعید )
واما وجہ تخصیص صلی اللہ علیہ وسلم یوم الاثنین والخمیس فلرفع الاعمال فیھما الی اللہ تعالی ، وایضا ان الاثنین فیہ ولد صلی اللہ علیہ وسلم وفیہ دخل المدینہ ای قباء
وکذا فی مشکاة المصابیح:(1/181،رحمانیہ)
وکذا فی مرقاةالمفاتیح:(4/543، التجاریہ)
وکذا فی فتح المھم :(5/323،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی شرح الطیبی:(4/219،کتب العلمیہ)
وکذا فی تحفة الاحوذی:(3/515،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
26، 7، 1440،2019،4، 3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:138

ايك شخص کی روزہ رکھنے کی نیت نہ تھی طلوع آفتاب کےبعد تک اس نے کچھ کھایا پیا نہیں، اب اس نے روزہ رکھنے کی نیت کر لی، پھر اس شخص نے کچھ کھا کر روزہ توڑ دیا تو اس پر کفارہ اور قضاء دونوں ہیں یا صرف قضاء ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

مذکورہ شخص پر صرف قضا واجب ہے۔

لما فی مجمع الانھر:(1/355،359،المنار)
“ویجب القضاء فقط بلا کفارۃ……(وکذا لو اصبح غیرنا وللصوم فاکل) فیجب القضاء ولا کفارۃ علیہ عند الامام سواء اکل قبل الزوال او بعدہ.”
وفی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/478،رشیدیہ)
“(ولو نوی مسافر الفطراو لم ینو(فاقام ونوی الصوم فی وقتھا) قبل الزوال(صح)مطلقا(ویجب علیہ) الصوم(لو) کان (فی رمضان سافر فیہ)ای فی ذلک الیوم(و)ولکن(لاکفارۃ علیہ) لو افطر فیھما”
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/366،بیروت)
وکذا فی التاترخانية:(3/424،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/483،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/417،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اكرام کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22-9-1440،2019-05-28
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:84

میں کہ ایک شخص نے سحری کی اور پھر نسوار منہ میں رکھ کر سو گیا اور اذان کے بعد اس کو جاگ آئی اور نسوار نکال دی تو اس کے روزے کا کیا حکم ہے ؟

الجواب باسم ملہم الصواب

نسوار کے ذرات پیٹ میں جانے کا ظن غالب ہو تو قضاء واجب ہو گی ورنہ نہیں ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3 /1720، رشیدیہ)
“ويفطر بتناول الدخان المعروف ونحوه كالتمباك والنشوق، وبوصول شيء إلى باطن الدماغ، والبطن، والأمعاء، والمثانة۔”
وکذافی المحیط البرھانی:(3 /349،دار احیاءالتراث)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/203، رشیدیہ )
وکذ افی البحر الرائق :(2 /477،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (3/382، فاروقیہ)
وکذا فی حا شیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق:(1/325،امدادیہ)
وکذا فی المبسوط:(3/93،دار المعرفہ)
وکذا فی الشامیہ:(3/422، دار المعرفہ)
وکذا فی کتاب التجنیس و المزید:(2/378،ادارۃ القرآن)
وکذا فی التنویر وشرحہ مع رد المحتار:(2/401و406،ایچ ۔ ایم ۔سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1440
13/1/2019
جلد نمبر:17 فتوی نمبر :89

رمضان کے روزے چل رہے تھے کہ اس حالت میں شوہر نے بیوی سے جماع کر لیا پھر اسی روز شوہر شرعی سفر پر چلا گیا اور بیوی کو حیض شروع ہو گیا تو اب دونوں کے لیے قضا اور کفارے کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملہم ا لصواب

صورت مسئولہ میں شوہر تو قضا اور کفارہ دونوں ادا کرے گا ،جبکہ بیوی کےذمہ صرف قضا ہے۔

لما فی التاتارخانیة:(3/423،فاروقیة)
“إذا جامع امرأته في نهار رمضان، ثم حاضت امرأته، اومرضت في ذلك اليوم سقطت عنھاالکفارة عندنا.۔۔۔۔ م :وإذا جامع أو أكل أو شرب، ثم سافر في ذلك اليوم لا تسقط عنه الكفارة

 

ولمافی المحیط البرھانی:(3/366،دار احیاءتراث العربی)
“إذا جامع امرأته في نهار رمضان، ثم حاضت امرأته، اومرضت في ذلك اليوم لا كفارة عليها عندنا.۔۔۔۔ وإذا جامع أو أكل أو شرب، ثم سافر في ذلك اليوم لا یسقط عنه الكفارة”
وفی بدائع الصنائع:(2/258، رشیدیة)
“ولو أفطر وهو مقيم فوجبت عليه الكفارة ثم سافر في يومه ذلك لم تسقط عنه الكفارة،۔۔۔۔۔۔۔وكذلك إذا أفطرت المرأة ثم حاضت في ذلك اليوم أو نفست سقطت عنها الكفارة۔”
وکذا فی فتح القدیر:(2/342، رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/421،الطارق)
وکذا فی الفتاوی العالمکیریة:(1/207،206، رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/484، رشیدیة)
وکذا فی الدر المختار مع رد المحتار:(3/448،دار المعرفة)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(1/458، رشیدیة)
وکذا فی الجوھرۃالنیرۃ:(1/339،قدیمی)
وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار:(2 /136، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29/4/1440
6/1/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :71

 

 

روزے کی حالت میں کان یا آنکھ میں دوا ڈالنے کا کیا حکم ہے؟ یعنی اس سے روزہ باقی رہتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جبکہ کان میں دوا ڈالنے سے جدید تحقیق کے مطابق روزہ نہیں ٹوٹتا جیسا کہ درج ذیل عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔

”جدید طبی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کان سے حلق یا دماغ تک کوئی کھلا سوراخ نہیں کہ جس سے کان میں ڈالی گئی دوا یا تیل دماغ یا حلق میں پہنچ جائے اور قدیم فقہ کی کتابوں میں روزہ فاسد ہونے کی بنیاد یہی سمجھی گئی تھی، مگر اب جبکہ یہ معلوم ہوگیا کہ راستہ نہیں تو فسادِ صوم کا حکم بھی نہ ہوگا۔ ھکذا حقق الشیخ رشید احمد رحمہ اللہ تعالیٰ ومشایخ دارالعلوم کراتشی وبہ أفتوا، واﷲ اعلم۔

حاشیہ تسھیل بہشتی زیور:1/436، الحجاز

وفی الفتاوی الھندیہ: (1 /203 ،رشیدیہ )
ولو أقطر شيئا من الدواء في عينه لا يفطر صومه عندنا، وإن وجد طعمه في حلقه، وإذا بزق فرأى أثر الكحل، ولونه في بزاقه عامة المشايخ على أنه لا يفسد صومه كذا في الذخيرة، وهو الأصح هكذا في التبيين
وفی الموسوعہ الفقھیہ الکویتیہ: ( 28/71 ،علوم اسلامیہ )
الاكتحال غير مكروه عند الحنفية والشافعية، بل أجازوه، ونصوا على أنه لا يفطر به الصائم ولو وجد طعمه في حلقه، قال النووي: لأن العين ليست بجوف، ولا منفذ منها إلى الحلق
وکذافی سنن ابی داؤد: ( 1/344 ،رحمانیہ ) وکذا فی تبیین االحقائق : (1 /323 ،امدادیہ-ملتان )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (3 /1710 ،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ بن طارق غفر لہ
یا دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10-08-1440، 2019-04-16
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:32

بیوی نفلی روزے سے ہو اور مرد اس کے ساتھ ہم بستری کر لے تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صرف بیوی پر ایک روزے کی قضاء لازم ہے، نیز عورت کو چاہیے کہ نفلی روزہ خاوند کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/394،الطارق)
“صوم واجب غیر معین:۔۔۔۔۔۔صوم التطوع فی بعد الشروع فیہ فانہ یلزم بالشروع، وعلیہ قضائہ ان افسدہ بقصد اوبغیر قصد.
وفیہ ایضا:یکرہ للمراءۃ المتزوجۃ ان تصوم نفلا الاباذن زوجھا الا عند عدم الضرر بہ.”
و فی المختصر للقدوری:(52،الخلیل)
“ولیس فی افساد الصوم فی غیر رمضان کفارۃ.”
وکذا فی رد المحتار:(2/404،سعید)
“(قولہ:اوافسد)ای ولوباکل اوجماع(قولہ:غیرصوم رمضان)۔۔۔۔وقیدبہ لافادۃ نفی الکفارۃ بافساد قضاء رمضان لا لنفی القضاء ایضا بافسادہ.”
وکذافی الھندیۃ :(1/201،رشیدیہ)
وفی الجوھرہ النیرۃ:(1/341،قدیمی)
وکذا فی الھدایۃ:(1/237،المیزان)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/،1705 تا 1708،رشیدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق:(68،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالخالق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
شوال المکرم1441،18، 10جون2020