روزےکی حالت میں اگربارش کےقطرےمنہ میں چلےجائیں تواس سےروزہ ٹوٹ جائےگایانہیں؟

الجواب حامدا ومصلیا

بارش کےقطرےحلق میں چلےجانےسےروزہ ٹوٹ جاتاہے۔پھربارش کےقطرےاگرحلق میں خودبخودچلےگئےتوصرف قضالازم ہوگی اوراگرجان بوجھ کران کونگل لیاتوقضاءاورکفارہ دونوں لازم ہونگے۔

لمافی الھندیة:(1/203،رشیدیة)
“والمطروالثلج اذادخل حلقہ یفسدصومہ وھوالصحیح.”
وکذافی حاشیةالطحطاوی علی الدر:(1/454،رشیدیة)
اودخل حلقہ مطراوثلج)بنفسہ
قولہ بنفسہ)بأن رفع وجھہ فدخل وان کان بادخالہ ثبت القضاءوالکفارۃ
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(28/30،علوم اسلامیة)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(162،زمزم)
وکذافی الشامیة:(3/434،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/98،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی اتتاتارخانیة:(3/382،فاروقیة)
وکذافی الفتاوی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/211،رشیدیة)
وکذافی خلاصةالفتاوی:(1/254،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالصمدغفرلہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
12-08-1443/2022-03-16
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:17

روزے کی حالت میں سالن کا نمک چکھنا جائز ہےیا نہیں ؟بعد میں تھوک بھی دیتےہیں۔

الجواب حامداومصلیا

بلا عذر روزے کی حالت میں سالن کا نمک چکھنا مکروہ ہے۔اگر عذرہو تو چکھ سکتے ہیں۔لیکن چکھ کر تھوکنا ضروری ہے، اگر نگل لیا تو روزہ ٹوٹ جائےگا۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/422،الطارق)
یکرہ کراہۃتنزیہیۃ للصائم ذوق شییٔ ومضغہ بلا عذر وتنتفی الکراہۃ اذاکان مضطرا إلی الشراء وخشی الغبن أو کان زوج المرأۃ أو سیدھا سییٔ الخلق
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/483،حقانیہ)
وکذا ذوق طعام لغیر حاجۃ فإن کان ذوقہ لحاجۃ لم یکرہ ویبطل الصوم بما وصل منہ إلی حلقہ إذا کان لغیر حاجۃ
وکذا فی الھندیة:(1/199،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(256،البشریٰ)
وکذا فی السراجیة:(164،زمزم پبلشرز)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/268،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1690،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/396،فاروقیہ)
وکذا فی التنویروالدر والشامیة:(3/453،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/356،إدارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
19،8،1443/22،3،23
جلدنمبر:27 فتوی نمبر:71

روزہ کی حالت میں بلغم یا ناک کی رینٹھ وغیرہ منہ میں چلی جائے اور اس کو آدمی نگل لے تو اس سے روزہ ٹوٹ جائےگایا نہیں ؟

الجواب حامداومصلیا

نہیں ٹوٹے گا۔

لما فی خلاصة الفتاویٰ:(1/253،رشیدیہ)
“إذا دخل المخاط انفہ فاستشمہ فأدخل حلقہ علی تعمد منہ لا شییٔ علیہ۔”
وکذا فی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/207 ،رشیدیہ)
“ان ابتلع بزاقہ الذی فی فیہ او المخاط الذی نزل من رأسہ إلی الفم لا یفسد صومہ۔”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1710،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/203،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(255،البشریٰ)
وکذا فی التنویر والدر:(3/428،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(3/428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد انیس غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
16،8،1443/22،3،20
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:32

ایک آدمی کو رات کے وقت میں احتلام ہوا،اس نے صبح روزہ رکھنا ہے اس آدمی نے سحری کی اور طلوع فجر کے بعد غسل کیا،اس کے جان بوجھ کر طلوع فجر کے بعد غسل کرنے کی وجہ سے روزہ درست ہے یا نہیں؟

الجواب حامداومصلیا

روزہ درست ہے،البتہ جان بوجھ کر غسل میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(257،البشری)
“من احتلم لیلا ولم یغتسل حتی بقی جنبا طول النھارلم یفسد صومہ ولکن یأثم بتاخیر الغسل․”
وکذافی بدائع الصنائع:(2/241،رشیدیہ)
“أحل اللّٰہ عزوجل الجماع فی لیالی رمضان إلی طلوع الفجر وإذا کان الجماع فی آخر اللیل یبقی الرجل جنبا بعد طلوع الفجر لا محالۃ فدّل أن الجنابۃ لاتضرّالصوم․”
وکذافی الفقہ الحنفی ثوبہ الجدید:(1/387،الطارق)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/260،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/480،حقانیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(661،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1712،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
15،7،1443/2022،2،17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:190

اگر کسی آدمی نے رمضان کے دوروزے فاسد کردے تواس پر دو کفارےہونگے یا ایک ہی کفارہ کافی ہوگا؟

الجواب حامداومصلیا

اس مسئلے کی دو صورتیں ہیں(1)اگر کھانے پینے سے متعددروزے فاسد کردئے اور ابھی تک کوئی کفارہ ادا نہیں کیا توبالاتفاق ایک ہی کفارہ کافی ہو گااور اگر ایک کفارہ ادا کرنے کے بعد دوبارہ روزہ فاسد کردیا تو دوبارہ کفارہ لازم ہوگا(2)اگر جماع کی وجہ سے متعدد روزے فاسد کردئے تواس بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک ایک کفارہ کافی ہوگا،یہ بات زیادہ سہولت والی ہے بعض کے نزدیک دو کفارے ہونگے اور احتیاط اسی میں ہے۔

لمافی الھندیة:(1/215،رشیدیہ)
ولوجامع مرارافی ایام من رمضان واحد ولم یکفر کان علیہ کفارۃ واحدۃولو جامع وکفر ثم جامع وکفر ثم جامع علیہ کفارۃ اخری
وکذافی فی الدر:(3/448،رشیدیہ)
واختار بعضھم للفتوی ان الفطر بغیرالجماع تداخل والالاوفی الرد المحتار:(والالا)ای:وان کان الفطرالمتکررفی یومین بجماع لاتداخل الکفارۃوان لم یکفر للاول لعظم الجنایۃ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/421،الطارق)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(259،البشریٰ)
وکذافی االسراجیة:(168،زمزم)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1729،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(3/394،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:191

حالت روزہ ایک آدمی سے غلطی سے ناک میں پانی چلا گیا تو اس نے بعد میں کھاناپینا شروع کردیاتواس پر کفارہ ہو گا یا نہیں ؟

الجواب حامداومصلیا

اس پر قضاء ہو گی کفارہ نہیں ہو گا۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(255،البشریٰ)
لوتمضمض الصائم فدخل الماء فی حلقہ خطأفھو ذاکر لصومہ فسد صومہ وعلیہ القضاء دون الکفارۃ
وکذافی الھندیة:(1/206،رشیدیہ)
لواکل اوشرب او جامع ناسیا وظن ان ذلک فطرہ فاکل متعمدا لا کفارۃ علیہ وان علم ان صومہ لا یفسدہ بالنسیان عند ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالی لا تلزمہ ھو الصحیح
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/258،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/199،رشیدیہ)
وکذافی السراجیة(161،زمزم)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1707،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/417،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:فیصل نذیر غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17،9،1443/2022،4،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:192

ایک آدمی شیخ فانی ہے اس نے رمضان کے روزوں کر فدیہ ادا کیا اور بعد میں وہ اس پر قادر ہو گیا کہ وہ روزے رکھ سکے تو کیا وہ قضاء کرے گا یا نہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

شیخ فانی اگر روزے پر قادر ہو گیا تو اس پر قضاء لازم ہے۔

لمافی الفتاویٰ الھندیہ:(1/207،رشیدیہ)
فا لشیخ الفانی الذی لا یقدر علی الصیام یفطر و یطعم لکل یوم مسکینا لما یطعم فی الکفارۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ثم ان شاء اعطیٰ الفدیۃ فی اول رمضان بمرۃ وان شاء اخرھا الی آخرہ کذا فی النھر ۔ولو قدر علی الصیام بعد ما قدر فدی بطل حکم الفداء الذی فداہ حتی یجب علیہ الصوم۔
وفی البحر الراءق:(2/501،رشیدیہ)
” قولہ وللشیخ الفانی و ھو یفدی فقط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولو قدر علی الصیام یبطل حکم الفداء لان شرط الخلیفۃ استمرار العجز فی الصوم۔ “
وکذافی الفتاویٰ التاتارخانیہ:(3/409،فاروقیہ)
وکذافی بدائع الصنا ئع:(2/265،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/369،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ طیب کان اللہ لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
18،9،1443/2022،4،20
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:6

اعتکاف کرنے کی نذر مانی ہے تو اعتکاف کرنے کے لیے روزہ رکھنا ضروری ہے یانہیں؟

الجواب حامداًومصلیاً

نذر اعتکاف کے لیے بھی روزہ رکھنا ضروری ہے۔

لمافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(268،بشری)
” لایصح الاعتکاف الواجب ای :المنذور الا بالصوم لان الصوم شرط للاعتکاف الواجب۔ “
وفی در المختار مع الرد المحتار:(3/496،دارالمعرفہ)
وشرط الصوم) لصحۃ (الاول) اتفاقا (فقط) علی المذھب (فلو نذر اعتکاف لیلۃ لم یصح )(فی حاشیتہ) لو قال للہ علیّ ان اعتکف شھرا بغیر صوم فعلیہ ان یعتکف و یصوم۔
وکذافی التجنیس والمزید:(2/443،ادارة القران)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/276،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ السلامی وادلتہ:(3/1762،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/432،طارق)
وکذافی الھندیة:(1/211،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/225،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفایق:(2/50،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
15،8،1443-2022،3،19
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:67

ڈرائیور اکثر مسافر ہوتے ہیں، ان کے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداًومصلیاً

اگر روزہ رکھ سکتے ہوں تو ضرور رکھیں، لیکن اگر روزہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتو پھر بعد میں جب بھی موقع ملے، ان روزوں کی قضاء کریں، اور اس کے باوجود بھی کچھ روزے رہ جائیں یا قضاء کرنے کا موقع نہ ملے تو ان روزوں کے فدیہ کی وصیت کرنا ضروری ہے، ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۃالفطر کے برابر ہے۔

لمافی الفتاوی التاتارخانیة :(3/403،فاروقیہ)
یکرہ للمسافر ان یصوم اذا اجھد الصوم فاذا لم یکن کذلک فالصوم افضل للمسافر عندنا اذا لم یکن رفقاؤہ او عامتھم مفطرین ….فان لم یصم بعد ما صح او قام حتی مات فعلیہ ان یوصی ان یطعم عنہ و فی الھدایۃ اطعم عنہ ولیہ لکل یوم نصف صاع من بر او صاعا من تمر او صاعا من شعیر
وفی الموسوعة الفقہیة:(28/51،75،77،علوم اسلامیہ)
فمذھب الحنفیۃ و المالکیۃ والشافعیۃ و ھو وجہ عند الحنابلۃ ان الصوم افضل اذا لم یجھد ہ الصوم و لم یضعفہ و صرح الحنفیۃ والشافعیۃ بانہ مندوب .قال الغزالی والصوم احب من الفطر فی السفر لتبرئہ الذمۃ الا اذا کان یتضرر بہ
من افطر ایاما من رمضان کالمریض والمسافر قضی بعدۃ ما فاتہ لان القضاء یجب ان یکون بعدۃ مافاتہ لقولہ تعالی ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر
قال الحنفیۃ لو اخر قضاء رمضان بغیر عذر ثم مات قبل رمضان آخر او بعدہ ولم یقض لزمہ الایصاء بکفارۃ ما افطر علی من مات بقدر الاقامۃ من السفر و الصحۃ من المرض وزوال العذر ولایجب الایصاء بکفارۃ ماافطر علی من مات قبل زوال العذر
وکذافی الشامیة:(3/460،دارالمعرفة) وکذافی بدائع الصنائع:(2/248،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ السلامی وادلتہ :(3/1696،) وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/440،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
20/7/1443-2022/2/22
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:197

روزہ کی حالت میں حجامہ لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟ نیز ٹوٹنے کی صورت میں صرف قضاء ہو گی یا قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے؟

الجواب حامداًومصلیاً

حجامہ لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

لمافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1710،رشیدیہ)
مالا یفسد الصوم عند الحنفیۃ ھو اربعۃ و عشرون شیئا تقریبا۔۔۔۔ الحجامۃ لان النبیﷺ احتجم و ھو محرم، واحتجم وھو صائم۔
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/208،رشیدیہ)
اذا احتجم لا یفسد صومہ عندنا خلافا للمالک رحمہ اللہ تعالی
وکذافی اللباب:(1/157،قدیمی)
وکذافی الھدایه:(1/345،بشری)
وکذافی کنز الدقائق:(68،حقانیہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/351،رحمانیہ)
وکذافی شرح ملتقی الابحر:(1/359،منار)
وکذافی الفتاوی الولوالجیہ:(1/219،حرمین شریفین)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(28/69،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
21،9،1443/2022،4،23
جلد نمبر:28 فتوی نمبر:1