ایک آدمی کو وراثت میں زمین اور کچھ دیگر سامان ملا ہے۔ اس میں اس کے چچازاد بھائی بھی شریک ہیں ۔ اب اس زمین اور سامان پر ان چچازاد بھائیوں کا ہی قبضہ ہے۔ اس آدمی کو زمین اور اس کی پیداوار میں کسی قسم کے تصرف کا کوئی اختیار نہیں ہے،نہ ہی کاغذات میں زمین کا انتقال اس آدمی کی طرف ہوا ہے،البتہ ایک ثالث نے اس کے حق میں فیصلہ کیا ہے،مگر اس پر بھی عمل درآمدنہیں ہوا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس آدمی پر اس زمین ،اس کی پیداوار اور دیگر سامان کی زکوۃ واجب ہے یا نہیں؟ اور کیا ایسا شخص زکوۃ لے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مذکورہ زمین اور اس کی پیداوار وغیرہ کی زکوۃ اس مذکورہ شخص پر واجب نہیں ہے۔
مذکورہ شخص کے پاس اس مقبوضہ زمین اور اس کی پیداوار وغیرہ کے علاوہ اگر سونا،چاندی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد دیگر سامان یا ان میں سے کوئی ایک یا متعدد اشیاء ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہے تو یہ شخص زکوۃ لینے کا حق دار نہیں ہے اور اگر اس سے کم مالیت کا مالک ہے تو زکوۃ وصول کرسکتا ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(23/237،علوم اسلامیة)
الشرط الثانی أن یکون ملکیۃ المال مطلقۃ….و ھو ما کان فی ید مالکہ ینتفع بہ و یتصرف فیہ
وفیہ ایضاً:(23/314،علوم اسلامیة)
من ملک نصابا من أی مال زکوی کان فھو غنی فلا یجوز أن تدفع الیہ الزکاۃ…. و من لم یملک نصابا کاملا فھو فقیر أو مسکین فیجوز أن تدفع الیہ الزکوۃ
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1800،رشیدیة)
أن یکون مملوکا فی الید أی مقبوضا ، فلو ملک شیئاً و لم یقبضہ کصداق المرأۃ قبل قبضہ فلا زکوۃ علیھا فیہ و لا زکوۃ فی المال الضمار :و ھو کل مال غیر مقدور الانتفاع بہ مع قیام اصل الملک
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/237،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/357،الطارق)
وکذافی البحر الرائق:(2/362،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/88،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/174،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(3/219،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:146

ایک آدمی نے کسی سے قرض لینا تھا۔جب مقروض اس کو ملا تو اس نے مقروض سے کہا کہ قرض دو۔ مقروض نے کہا ٹھیک ہے،میں دیتا ہوں۔مقروض کے پاس اس وقت موٹرسائیکل تھی۔قرض خواہ نے پوچھا کہ اس کی کتنی قیمت ہے؟ مقروض نے کہا:”تقریبا 20 ہزار“قرض خواہ نے وہ موٹرساہیکل قبضہ میں لی اور کہا کہ یہ میں نے اس قرض کے بدلہ خرید لی۔پھر قرض خواہ نے وہی موٹر سائیکل مقروض کو 25ہزار کے عوض ایک سال کی قسطوں پر فروخت کر دی۔کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی سے 30 ہزار روپے قرض لینا تھا۔ اب قرض خواہ مقروض کے پاس گیا تو اس کے ہاں 30ہزار سے زائد مالیت کی موٹرسائیکل کھڑی تھی۔ قرض خواہ اسے ہی اپنے قرض کے بدلےلے آیا اور پھر اسی مقروض کو 45ہزار کے عوض قسطوں پر فروخت کردی تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں صورتوں میں یہ خریدوفروخت درست ہے،بشرطیکہ ان باتوں کا لحاظ رکھا جائے:(1)قرض کے بدلے میں موٹرسائیکل خریدنا اور پھر اس کو بیچنا فریقین کی دلی رضامندی سے ہو اور خریدتے وقت دوبارہ بیچنے کی شرط بھی نہ لگائی جائے۔(2)ان معاملات کو مستقل اور حیلہ سود کے طور پر اختیار نہ کیا جائے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/15،الطارق)
 شروط البیع… فی العاقد وھو ان یکون عاقلا ممیزا راضیا لقولہ تعالی: یٰآیھا الذین آمنوا لاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا أن تکون تجٰرۃ عن تراض منکم
وفیہ ایضاً:(4/30،الطارق)
عن ابن عمر قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول: اذا ضمن الناس بالدینار و الدرھم وتبایعوا بالعینۃ… انزل اللہ بھم ذلاً …فی ھذا الحدیث دلالۃ علی کراھۃ العینۃ و لکن لم یقع تفسیرھا فی الحدیث و قد فسر فی أثر ابن عباس بأن یبیع الرجل حریرۃ بمائۃ ثم یشتریھا بخمسین و ھذا غیر جائز عندنا ان کان البیع الثانی قبل نقد الثمن فان کان بعد نقد الثمن فان کان البیع الاول مشروطا بالبیع الثانی فھو غیر جائز ایضا لعدم جواز البیعتین فی بیعۃ و ان لم یکن مشروطا فھو مکروہ لانہ مضطر… و الوجہ فیہ ان فیہ بخلا مذموما و ترکا للمبرۃ و الاحسان
وفی الدر المختار:(7/415،رشیدیہ)
شراء الشیٔ الیسیر بثمن غال لحاجۃ القرض یجوز و یکرہ
وکذافی فقہ البیوع:(1/27،547،558،معارف القرآن) وکذافی الھدایة:(3/57،رحمانیہ)
وکذافی الشامیہ:(7/415،رشیدیہ) وکذافی البنایة:(7/229،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:81

میں ایک قادیانی مبلغ تھا ، پھر میں نے اور میری بیوی نے اسلام قبول کرلیا ۔ اس پر میرے قادیانی باپ نے مجھے اور میری بیوی کو گھر سے نکال دیا۔ باقی خاندان والوں نے بھی بائیکاٹ کردیا ۔ہم میاں بیوی جب گھر سے نکالے گئے تو ہمارے پاس تن کے کپڑوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس وقت بھی ہم انتہائی فقر اور کسمپرسی کی حالت میں ہیں،انتہائی سخت حالات کا سامنا ہے۔ اب میرا باپ فوت ہوا ہے اور اس کی طرف سے مجھے سینکڑوں ایکڑ زمین وراثت میں مل سکتی ہے ،مگر اہل علم سے معلوم ہوا ہے کہ مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں بن سکتا ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا میرے لیے موجودہ فقر اور تنگی کی حالت میں وراثت سے حصہ لینے کی کوئی صورت ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت کا اصول ہے کہ مسلمان کسی کافر کا اور کافر کسی مسلمان کا وارث نہیں بن سکتا، لہذا آپ بھی اپنے قادیانی باپ کے وارث نہیں بن سکتے۔
باقی دین اسلام کو قبول کرنے پر تکالیف اور آزمائشوں کا سامنا ہونا تو یہ کوئی عجب بات نہیں۔ اسلام کی تاریخ ایسے جانثاروں سے بھری پڑی ہے جنہیں اسلام قبول کرنے پر بےشمار آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ دشمنان دین نے انہیں تپتی ریت اور دہکتے انگاروں پر لٹایا، انہیں زنجیروں میں باندھ کر پتھروں پر گھسیٹا گیا ۔انہیں گھر بار، قبیلہ و خاندان ، مال و دولت، اہل و عیال سب سے جدا کرکے وطن سے بےوطن کیا گیا۔ ان کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا ۔ زمین کی وسعتوں کو ان پر تنگ کردیا گیا۔ خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لانے کی وجہ سے بعضوں کے جسموں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا، مگر وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مخلصین محبین آزمائشوں کی ان کٹھن وادیوں کو دل و جان سے عبور کرگئے اور دنیا و آخرت میں ہمیشہ کی سعادتوں کو حاصل کر گئے۔
آپ بھی ان مشکل حالات میں صبر و استقامت سے کام لیں، اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کریں اور اللہ کی رحمت سے امید رکھیں۔ یہ تکالیف اور آزمائشیں بندے پر اللہ تعالی کی جانب سے کچھ وقت کےلیے بطور امتحان نازل ہوتی ہیں ، اگر آدمی ہمت اور استقامت سے کام لے تو اللہ تعالی جلد ہی کشادگی و فراخی کی راہیں کھول دیتے ہیں۔ اللہ تعالی کا وعدہ ہے

من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا و یرزقہ من حیث لایحتسب(الطلاق:3)

ترجمہ:”جو کوئی اللہ سے ڈرے گا ، اللہ تعالی اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطاء کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا۔

اور اللہ تعالی کا وعدہ ہے

من یتق اللہ یجعل لہ من أمرہ یسراً (الطلاق:4)

ترجمہ:جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کرے گا۔

دوسرے اہل اسلام کا بھی حق بنتا ہے کہ وہ اپنے اس مسلمان بھائی کا دل و جان سے تعاون کریں اور اس کی مشکلات کو دور کرنے میں حتی الوسع کوشش کریں۔

 

لما فی الصحیح للبخاری:(2/533،رحمانیہ)
عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(10/7718،رشیدیہ)
اختلاف الدين بين المورث والوارث بالإسلام وغيره مانع من الإرث باتفاق المذاهب الأربعة، فلا يرث المسلم كافراً، ولا الكافر مسلماً، سواء بسبب القرابة أو الزوجية، لقوله صلّى الله عليه وسلم:لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم وقوله علیہ السلام: لا يتوارث أهل ملتين شتى
وفی الموسوعة الفقھیة:(3/24،علوم اسلامیہ)
ذهب جمهور الفقهاء وهو قول أبي طالب من الحنابلة وقول علي وزيد بن ثابت وأكثر الصحابة إلى أن الكافر لا يرث المسلم….وذهب جمهور الفقهاء أيضا إلى أن المسلم لا يرث الكافر
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/43،رحمانیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(6/454،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/365،رشیدیہ)
وکذافی إعلاء السنن:(18/336،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1442/2021/4/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:75

میرا نام جاوید ہے اور میں گورنمنٹ کے ایک ادارے میں ملازمت کرتا ہوں۔ میرے ایک دوست (سعد) کو ادارے نے ان کی ملازمت کے صلہ میں بطور تحفہ ایک پلاٹ دیا ہے جو کہ اصل قیمت سے بہت کم قیمت میں دیا جا رہا ہے۔ سعد کو یہ پلاٹ 19 لاکھ کا مل رہا ہے۔ کچھ رقم ابتداء میں اور باقی کئی سالوں میں ششماہی اقساط کے ذریعہ ادا کرنی ہوں گی۔ جس کے بعد قبضہ ملے گا، اس وقت پلاٹ کا تعین بھی نہیں ہے کہ پلاٹ نمبر کیا ہے۔ سعد کی ملازمت چونکہ 2 ماہ بعد ختم ہو جائے گی اور وہ ان سب معاملات کو مزید آگے نہیں لے جانا چاہتا، اسی بناء پر وہ مذکورہ پلاٹ سرِ دست فروخت کرنا چاہتا ہے اور میں (جاوید)یہ پلاٹ خریدنا چاپتا ہوں۔ اس صورت میں تمام رقم ، جس بھی ترتیب سے ادارے کی پالیسی ہے، میں ادا کروں گا ، البتہ سعد کو ایک قسم کے نفع کے طور پرمزید 5 لاکھ ادا کروں گا۔ کیونکہ اگر یہی پلاٹ میں باہر کسی اور سے لیتا تو شاید 19 لاکھ کا نہ ملتا اور سعد کی بدولت مجھے یہ اصل رقم سے سستا مل رہا ہے۔ میں اور سعد اِس وقت ایک معاہدہ کریں گے جس کے تحت جب تما م رقم ( 19 لاکھ اور 5 لاکھ) کی ادائیگی میں کر دوں گا تو یہ پلاٹ میرا ہو جائے گا ۔ نوٹ: (ا)۔جاوید اور سعد ایک ہی ادارے کے ملازم ہیں۔(ب)۔ ادارے کی طرف سے پلاٹ کی قسطیں مکمل ہو جانے کے بعد فروخت کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔(ج)۔مذکورہ معاملہ میں تمام اقساط اگرچہ جاوید ادا کروائے گا لیکن ادارے میں یہ اقساط سعد ہی کے نام سے جمع ہوں گی۔ (د)۔سعد اور جاوید کے درمیان ابتداء ہی میں گواہوں کی موجودگی میں ایک قانونی دستاویز تیار کی جائے گی جس کی بناء پر جب اقساط مکمل ہو جائیں گی تو وہ پلاٹ جاوید کے نام منتقل ہو جائے گا۔ سوال:1۔کیا یہ خرید و فروخت کا طریقہ درست ہے؟2۔اگر نہیں تو اس کا متبادل جائز طریقہ کیا ہے کہ اس معاملہ کو مکمل کیا جا سکے؟ کیونکہ اگر میں نہیں بھی لوں گا تو سعد کسی نہ کسی کو تو فروخت کر ہی دے گا۔ 3۔کیا سعد کے لئے اس پلاٹ کو اس طرح فروخت کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جب کوئی سرکاری ادارہ اپنے ملازمین کےلیے زمین الاٹ کرتا ہے تو عموماً پہلے جگہ کاانتخاب کرلیا جاتا ہے اور یہ تعیین کرلی جاتی ہے کہ فلاں جگہ پلاٹ بنا کر ملازمین میں تقسیم کیے جائیں گے اور اس زمین اور محل وقوع سے متعلق دستاویز ڈاکومنٹس کے نام پر گورنمنٹ ملازم کو بھی دیتی ہے۔اس صورت میں چونکہ پہلے سے زمین کا محل وقوع اور حدود اربعہ معلوم ہو چکی ہوتی ہیں اور اوصاف کی بھی قدرے تعیین ہوجاتی ہے،لہذا اس صورت میں اگر کوئی ملازم اپنے نام الاٹ ہونے والے پلاٹ کو فروخت کرنا چاہے تو جائز ہے، اس میں شرعا کوئی قباحت نہیں،کیونکہ یہ ایک مشاع حصہ کی بیع ہے اور متعینہ زمین میں سے مشاع حصہ کی بیع جائز ہے۔
البتہ یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ بعض دفعہ کچھ سرکاری ادارے زمین کا انتخاب کرنے سے پہلے ہی ملازمین کےلیے پلاٹ الاٹ کرنے کا اعلان کردیتے ہیں ،پلاٹ کا محل وقوع اور دیگر اوصاف کا کوئی تعین نہیں ہوتا۔ اگر ایسی صورت ہو تو پھر مذکورہ پلاٹ کی فروخت جائز نہ ہوگی، کیونکہ ابھی تک پلاٹ ذات و اوصاف کے اعتبار سے مجہول ہونے کی وجہ سے بمنزلہ معدوم کے ہے اور معدوم چیز کی بیع شرعا جائز نہیں۔
اس صورت میں اس معاملے کا درست متبادل یہ ہوسکتا ہے کہ ابھی سعد جاوید سے اس طرح وعدہ بیع کرے کہ جب مجھےپلاٹ مل جائے گا تو میں 24 لاکھ کا تمہیں فروخت کردونگااور پھر اس وعدہ سے ہٹ کر الگ طور پر جاوید سے کہے کہ آپ مجھے یکمشت یا قسطوں کی صورت میں 19 لاکھ روپے قرض دے دو۔ یہ دونوں معاملے الگ الگ ہونے چاہئیں،ایک ساتھ نہ ہوں۔
پھر جب اس پلاٹ کی تعیین وغیرہ ہوجائے یا سعد کو قبضہ مل جائے تو اس وقت اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے یہ پلاٹ 24 لاکھ میں جاوید کو فروخت کردے گا ۔ اب 19 لاکھ جاوید نے بھی سعد سے وصول کرنا ہوگا تو اس رقم کا ادلہ بدلہ ہوجائے گا ،باقی 5 لاکھ جاوید سعد کے سپرد کرکے پلاٹ پر قبضہ کرلے گا۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(3/3،رشیدیة)
و منھا أن یکون المبیع معلوما و الثمن معلوما علما یمنع من المنازعۃ فبیع المجھول جھالۃ تفضی الیھا غیر صحیح
وفی فقہ البیوع:(1/376،377،378،معارف القرآن)
قد تباع قطعۃ من الارض مقدرۃ بالخطوات او الأمتار ولکن یترک تعیینھا للمستقبل و ھذا یکون عادۃ فی أرض واسعۃ تشتریھا شرکۃ ثم تبیع قطعاتھا لعامۃ الناس تقدر بالخطوات و الأمتار فمثلاً کل قطعۃ منھا بقدر خمسمائۃ متر و لکن لا یتعین محل تلک الخمسمائۃ عند الشراء وانما یتعین حسب التصمیم الذی تعملہ الشرکۃ فیما بعد فالسؤال ھل یصح ھذا البیع علی انہ بیع حصۃ مشاعۃ من تلک الارض الواسعۃ ؟ ….قال صاحباہ یجوز ذلک علی اساس انہ بیع لحصۃ مشاعۃ من الدار و بیع المشاع جائز…. و علی ھذا فإن بیع قطعۃ غیر معینۃ من جملۃ القطعات لا یجوز عند ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی و یجوز عند صاحبیہ و الظاھر أنہ ان کانت جھالۃ التعیین تفضی الی المنازعۃ فالأخذ بقول الامام ابی حنیفۃ اولی و ان لم تکن مفضیۃ الی المنازعۃ فقول الصاحبین اولی بالاخذ ….حینما تباع قطعۃ من الارض فی الصورۃ المذکورۃ فانھا تقوم علی اساس محل وقوعھا فان القطعۃ الواقعۃ علی شارع عام ثمنھا مختلف عن القطعۃ التی لیست علی شارع عام ….فإن تعین محل وقوعھا وثمنھا بھذا الطریق فانہ یمکن ان تعتبر مما لایتفاوت آحادھ فیجوز ھذا البیع علی قول الشافعیۃ و الصاحبین و کذلک ینبغی ان یجوز لمن اشتراہ ان یبیعہ الی آخر علی قول ابی یوسف رحمہ اللہ لانہ یجوز بیع العقار قبل قبضہ
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3463،رشیدیہ)
و اما العقار کالاراضی و الدور فیجوز بیعہ قبل القبض عند ابی حنیفۃ و ابی یوسف استحسانا استدلالا بعمومات البیع من غیر تخصیص عموم الکتاب بخبر واحد ، و لاغرر فی العقار اذ لا یتوھم ھلاک العقارولایخاف تغیرہ غالبا بعد وقوع البیع و قبل القبض
وکذافی بدائع الصنائع:(4/355،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(7/383،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(9/125،علوم اسلامیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(26/290،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/2/2021/1442/6/23
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:34

ایک آدمی گنے کا کاروبار اس طرح کرتا ہے کہ روڈ پر کھڑی ٹرالی کا سودا کرتا ہے ۔ گنے کے مالک سے کہتا ہے کہ اس ٹرالی کا جو وزن مِل میں جا کر کانٹے پر ہوگا اس کی رسید ملتے ہی میں آپ کو اس کی قیمت فی من پانچ روپے کم پر ادا کر دونگا ۔ پھر وہ اپنے نام کا ایڈنٹ لے لیتا ہے ،یعنی گنا اس کے نام پر مِل جاتا ہے پھر یہ مِل کی پالیسی کے مطابق پانچ یا دس دن بعد پیسے مِل سے لے لیتا ہے ۔ پوچھنا یہ ہے کہ بظاہر تو وہ نقد رقم کی چیز لے کر ادھار بیچ رہا ہے ، جبکہ وہ گنے کی ٹرالی کو دیکھتا ہے، لیکن اس کی نگرانی نہیں کرتا مِل تک لے جانے کی۔ اس طرح جب عقد کرتے ہیں تو مبیعہ کے ساتھ ساتھ ثمن بھی مجہول ہوتا ہے ، کیونکہ یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کتنا گنا اور کتنے پیسے ہیں۔ یہ صورت شرعا درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جواز کی صورت کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر مالک سے بات کرنے کے بعد یہ شخص مبیع کے نفع نقصان کا ذمہ دار بنتا ہے یعنی ضمان قبول کرتا ہے تو یہ عقد جائز ہے اور مبیع و ثمن کی جہالت بھی مضر نہیں ہے، کیونکہ وزن ہوتے ہی یہ جہالت ختم ہوجائے گی اس لیے جہالت مفضی الی النزاع نہیں ہوگی۔
اگر یہ شخص ضمان قبول نہیں کرتا تو یہ عقد صرف وعدہ بیع ہوگا۔ جب گنے کا وزن ہوجائے گا تب یہ دونوں دوبارہ ایجاب و قبول کرکے عقد کریں گے اور اس کےلیے خریدار خود وہاں موجود ہو یا اس کا کوئی وکیل موجود ہو۔

لما فی فتح القدیر:(6/248،251،رشیدیہ)
قوله (ومن باع صبرة طعام كل قفيز بدرهم جاز البيع في قفيز واحد عند أبي حنيفة رحمه الله )…وقال أبو يوسف ومحمد: صح البيع في الكل وهو قول الأئمة الثلاثة …لھما أن ھذہ الجھالۃ بیدھما إزالتھا بأن یکیلا فی المجلس والجھالۃ التی ھی کذلک لاتفضی الی المنازعۃ …ثم قال الفقیہ: والفتوی علی قولھما تیسیرا للأمرعلی الناس
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3346،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(6/412،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(3/23،رحمانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(5/476،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/93،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 152

ایک شخص نے پارکنگ سٹینڈ میں پیسے دے کر گاڑی پارک کی اور ٹوکن بھی لیا۔ جب واپس آیا تو گاڑی نہیں تھی۔ نگران سے پوچھا تو کہنے لگا کہ مجھے تو نہیں پتا کہ کون لے گیا۔ کیا اس نگران سے گاڑی یا اس کی قیمت وصول کی جاسکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گاڑی کی حفاظت کرنا سٹینڈ نگران کی ذمہ داری ہے اور اس میں کوتاہی کی وجہ سے گاڑی گم ہوجانے پر وہ ضامن ہے،لہذا نگران کا جرم ثابت ہوجانے پر اس سے قیمت وصول کی جاسکتی ہے۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(12/423،رشیدیة)
و ھی امانۃ فلا تضمن بالھلاک )الّا اذا کانت الودیعۃ بأجر
وفی الشامیة:(12/423،424،رشیدیة)
صرح الزیلعی فی کتاب الاجارۃ فی باب ضمان الأجیر: الودیعۃ اذا کانت بأجر تکون مضمونۃ ….و عللوہ بأن الحفظ حینئذ مستحق علیہ کما قدمنا فأفاد أن الأجرۃ تخرج الودیعۃ عن کونھا امانۃ الی الضمان ….المودع باجر فانہ یقال لہ: احفظ ھذہ الودیعۃ و لک من الاجر کذا
وفی شرح المجلة للشیخ خالد الاتاسی:(3/243،رشیدیة)
وجہ الضمان علی المودع بأجر ان الحفظ مستحق علیہ مقصودا اذ العقد عقد الحفظ و الأجر فی مقابلۃ الحفظ
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(148،قدیمی)
وکذافی دررالحکام:(2/270،العربیة)
وکذافی مجمع الضمانات:(125،الحقانیة)
وکذافی الاشباہ و النظائر:(268،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/402،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(43/24،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:151

کیا سگریٹ پینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سگریٹ نوشی سے اگرچہ وضو تو نہیں ٹوٹتا مگر اس کی وجہ سے منہ میں بدبو پیدا ہوجانے کی وجہ سے کراہت ضرور آجاتی ہے ، لہذا نماز و تلاوت سے پہلے سگریٹ کی بدبو کو بہر صورت زائل کرے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(10/111،علوم اسلامیہ)
كذلك لا يجوز لشارب الدخان دخول المسجد حتى تزول الرائحة من فمه، قياسا على منع آكل الثوم والبصل من دخول المسجد حتى تزول الرائحة ـ ـ ـ ولا يختص المنع بالمساجد، بل إنه يشمل مجامع الصلاة غير المساجدكمصلى العيد والجنائز ونحوها من مجامع العبادات، وكذا مجامع العلم والذكر ومجالس قراءة القرآن ونحوها
وفی الدر المختار:(10/51،رشیدیہ)
فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه، وقد كرهه شيخنا العمادي في هديته إلحاقا له بالثوم والبصل بالأولى
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(17/113،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/138،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/284،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/216،دار احیاء التراث العربی)
وکذافی بدایة المجتھد:(39،قدیمی)
وکذافی الشامیہ:(10/51،52،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:73

ایک شخص کا آموں کا باغ ہےاور باغ کا کوئی درخت اگر سوکھ جائے تو وہ اسکی لکڑی فروخت کر دیتا ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ سوکھ جانے والے درخت کا عشر بھی دینا ہوگا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اس خشک درخت کا عشر واجب نہیں ہے۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(3/315،رشیدیة)
یجب)العشر…( الا فی) ما لا یقصد بہ استغلال الارض( نحو حطب و قصب وحشیش )و تبن و سعف …و شجر قطن و باذنجان
وفی کتاب الفقہ:(1/522،حقانیة)
و ان یکون الخارج منھا مما یقصد بزراعتہ استغلال الارض و نماؤھا فلا تجب فی الحطب و الحشیش و القصب و السعف لان الارض لا تنمو بزراعۃ ھذہ الاصناف بل تفسد بھا نعم لو قطعھا و باعھا و استفاد منھا و جبت الزکاۃ فی قیمتھا ان بلغت النصاب
وکذافی التاتارخانیة:(3/274،فاروقیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/278،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1884،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/319،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/366،الطارق)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/307،قدیمی)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/247،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:160

ایک مسلمان شخص کے پاس تبلیغی جماعت والے گئے اور پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ اس نے جوابا کہا ”ہری رام سنگھ“ حالانکہ اس کا اصل نام ”سلطان“ تھا۔پھر جماعت والے ایک ساتھی نے دعوت دینا شروع کی اور کہا” ہم سب نے کلمہ پڑھا ہے لاالہ الا اللہ محمد الرسول اللہ“ اس شخص نے آگے سے کہا ”میں نے نہیں پڑھا“یا ”میں نہیں پڑھتا“ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ شخص دائرہ اسلام سے نکل گیا ہے؟ بعض علماء نے تو فرمایا ہے کہ تجدید ایمان و نکاح کرے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کوئی شخص مذکورہ قسم کے کلمات دل سے کفر کا اعتقاد و التزام کرتے ہوئے کہے تو وہ دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے اور اس کے لیے تجدیدایمان و نکاح لازمی ہوتا ہے، جبکہ صورت مسئولہ میں ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص نے یہ کلمات تبلیغی جماعت والوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے کہے ہیں، دل سے کفر کا ارادہ نہ تھا، لہذا یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا ۔
تاہم اس کا یہ عمل انتہائی سخت گناہ کا موجب ہے۔ ایسا گناہ بسا اوقات کفر تک پہنچانے کا سبب بن جاتا ہے، لہذا کثرت سے توبہ و استغفار کرنا چاہیےاور کلمات چونکہ انتہائی سنگین ہیں اس لیے احتیاطا تجدید ایمان و نکاح کرلینا چاہیے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(2/274،رشیدیة)
إذا قال لآخر قل لا إله إلا الله، فقال: لا أقول فقال بعض المشايخ هو كفر، وقال بعضهم: إن عنى به لا أقول بأمرك لا يكفر
وفیہ ایضاً:(2/283،رشیدیة)
ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط …إذا كان في المسألة وجوه توجب الكفر، ووجه واحد يمنع، فعلى المفتي أن يميل إلى ذلك الوجه
وفی المحیط البرھانی:(7/417،بیروت)
اذا قال لآخر قل لا إلہ الا اللہ فقال لا أقول فقال بعض المشائخ رحمھم اللہ تعالی ھو کفر و قال بعضھم ان عنی بہ أنی لا اقول بأمرک لا یکفر و قال بعضھم لا یکفر مطلقا اذ الفرض و المطلوب ذکر کلمۃ الاخلاص مطلقا
وکذافی التاتارخانیة:(7/281،فاروقیة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/382،رشیدیة)
وکذافی مجمع الأنھر:(2/509،المنار)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(419،مکتبة الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:153

ایک شخص نے اپنے کھیت کے کناروں پر سنبل کے 50 درخت لگائے تھے۔ 8 سال میں وہ کافی بڑے ہوچکے ہیں ۔ اب وہ انہیں بیچنا چاہتا ہے تو کیا ان درختوں پر عشر آئے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں عشر واجب ہے۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(3/315،رشیدیہ)
یجب) العشر…. (إلا فيما) لا يقصد به استغلال الأرض (نحو حطب وقصب) فارسي (وحشيش) وتبن وسعف وصمغ وقطران وخطمي وأشنان وشجر قطن وباذنجان وبزر بطيخ وقثاء وأدوية كحلبة وشونيز حتى لو أشغل أرضه بها يجب العشر
وفی الجوھرة النیرة:(1/307،قدیمی)
وأما إذا قصد بالشجر الاستغلال كشجر السرح فإنه يجب فيه العشر وأما القصب فهو ثلاثة أنواع قصب السكر وقصب الذريرة والقصب الفارسي فقصب السكر وقصب الذريرة فيهما العشر والذريرة هو قصب السنبل
وفی الفتاوی الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
فلا عشر في الحطب والحشيش والقصب والطرفاء والسعف؛ لأن الأراضي لا تستنمي بهذه الأشياء بل تفسدها حتى لو استنمت بقوائم الخلاف والحشيش والقصب وغصون النخل أو فيها دلب أو صنوبر ونحوها، وكان يقطعه ويبيعه يجب فيه العشر
وکذافی الشامیة:(3/315،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/522،حقانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/178،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/319،المنار)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/275،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/415،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/278،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:187