دف کے ساتھ اناشید(عربی نعت ونظم وغیرہ)پڑھنااور ان کا سننا کیسا ہے ؟اور رمضان میں افطاری وغیرہ کے وقت جو بجایا جاتا ہے اسکا کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کسی صحیح غرض مثلا اعلانِ نکاح وافطاروسحروغیرہ کے لیےسادہ طریقے سےدف اور طبل کا استعمال کیا جائے تو وہ جائز ہے،لیکن دف بجانے میں ایسی صورت حال نہ پیدا کی جائے کہ دیکھنے والےاسے موسیقی کی محفل سمجھیں یا پھر مردوزن کا مخلوط اجتماع ہو جائے لھٰذا ایسی صورت کی شریعت میں قطعا اجازت نہیں۔

لما فی رد المحتار:(6/55،سعید)
واذا کان الطبل لغیر اللھوفلاباس بہ کطبل الغزاۃ والعرس لما فی الاجناس ولا باس ان یکون لیلۃالعرس دف یضرب بہ لیعلن بہ النکاح وفی الولوالجیہ وان کان للغزو او القافلۃ یجوز اتقانی ملخصا (قولہ یباح) کذا فی المحیط
وفی الہندیہ:(5/،253،رشیدیہ)
وسئل ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ عن الدف اتکرہہ فی غیرالعرس بان تضرب المراۃ فی غیر فسق للصبی قال لا اکرہہ واماالذی یجیئ منہ اللعب الفاحش للغناءفانی اکرہہ کذافی محیط السرخسی
وفی المحیط البرہانی،(8/76بیروت)
الاتری انہ لا باس بضرب الدف فی الاعراس والولیمۃ، وان کان ذالک نوع لہو،وانما لم یکن بہ باس لان فیہ اظہار النکاح واعلانہ وبہ امرنا صاحب الشریعۃ حیث قال : اعلنواالنکاح ولو بالدف
ایضاً
وحدیث البراءبن مالک رضی اللہ عنہ محمول علی انہ کان ینشد الشعر المباح یعنی بہ الشعرالذی کان فیہ الوعظ والحکمۃ
وکذا فی الھندیہ:(1/351-352،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/347،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:11

اگرعورت کو حیض اسکی عادت کےمطابق ختم ہوا ہو تو عورت کے غسل کرنے سے پہلے اس سے جماع کر سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دس دن سے کم پر حیض بند ہونے کی صورت میں دو شرطوں میں سے کسی ایک شرط کے پائے جانے کے بغیرجماع جائز نہیں، وہ دو شرطیں یہ ہیں:1)عورت غسل کر لے:2)یا ایک نماز کا وقت گزر جائے۔

لما فی الھندیہ:(1/39،رشیدیہ)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃ ایام لم یجزوطیہا حتی تغسل او یمضی علیہا اخر وقت الصلٰوۃ الذی یسع الاغتسال والتحریمۃ لان الصلوۃانما تجب علیہا اذا وجدت من آخر الوقت ہذالقدر
وفی القدوری:(1/14،الخلیل)
واذاانقطع دم الحیض لاقل من عشرۃ ایام لم یجزوطیہا حتی تغسل او یمضی علیہا اخر وقت صلٰوۃ کاملۃ
و فی الموسوعہ الفقہیہ :(18/325،علوم اسلامیہ)
واذاانقطع دمہا قبل اکثرمدۃ الحیض او لتمام العادۃ فی المعتاد بان لم ینقض عن العادۃ فانہ لا یجوز وطیہا حتی تغتسل او تییمم او ان تصیر الصلاۃ دینا فی ذمتہا
وکذافی الہدایہ:(1/64،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/173، رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/352، رشیدیہ)
وکذا فی النہرالفائق:(1/135،قدیمی)
وکذا فی شرح الوقایہ:(1/132،امدادیہ)
وکذافی کنزالدقائق:(1/14،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:38

سنن ابی داؤد میں حج کے متعلق ایک روایت” من اراد الحج فلیتعجل“ کے الفاظ سے مذکور ہے ،جبکہ چالیس اسباق میں یہ الفاظ” من اراد الحج فلیعجل“لکھے گئے ہیں۔سوال یہ ہے کیا فلیعجل کے لفظ سے یہ روایت صحاح ستہ یا حدیث کی کسی اور مستند اوربنیادی کتاب میں مذکور ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فلیعجل“کے لفظ کے ساتھ مشکوۃ المصابیح ،عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری اورفیض الباری میں آئی ہےاور سنن دارمی میں فلیسعجل“ کے لفظ سے مذکور ہے۔

لما فی : مشکوۃ المصابیح (1/225،رحمانیہ)
من اراد الحج فلیعجل رواہ ابو داؤد والدارمی
وفی فیض الباری:(3/174،الرشید)
من اراد الحج فلیعجل
وفی سنن ابی داؤد:(1/254،رحمانیہ)
من اراد الحج فلیتعجل
وفی شرح مسند ابی حنیفہ:(1/297،شاملہ)
من اراد الحج فلیعجل
وکذافی عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری:(8/127،بیروت)
وکذافی مرقاہ المصابیح:(5/397،المکتبہ التجاریہ)
وکذافی سنن دارمی :(2/45،قدیمی)
وکذافی فتاوی السبکی:(1/263،شاملہ)
وکذافی حاشیہ مسند ی علی سنن ابن ماجہ:(2/207،شاملہ)
وکذافی مرعاہ المفاتیح:(8/289،شاملہ)
وکذافی ذخیرۃالعقبی فی شرح المجتبی:(23/271،شاملہ)
وکذافی مجموع فیہ مصنفات ابی جعفر ابن البختری:(1/223،شاملہ)
وکذا فی الاربعون حدیثا للاجری:(1/64،شاملہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/7/1442/2021/3/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:35

کوئی شخص ساری رات نہ سوئے اور تہجد پڑھے تو درست ہے ؟کیا تہجد کے لئے سونا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

افضل تو یہ ہے سو کر اٹھنے کے بعد رات کےآخری تہائی حصے میں پڑھی جائے ،تاہم تہجد کے لئے پہلے سونا ضروری نہی ہے بغیر سوئے تہجد پڑھ لینے سے بھی ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔

لما فی التنویر مع الدر:(2/24،سعید)
وروی الطبرانی مرفوعا لا بد من صلاۃ بلیل ولو حلب شاۃ وما کان بعد صلاۃ العشاء فہو من اللیل وہذا یفید ان ہذہ السنۃتحصل بالتنفل بعد صلٰوۃ العشاء قبل النوم ولو جعلہ اثلاثا فالاوسط افضل ولو انصافا فالاخیر افضل۔۔۔فالثلث الاوسط افضل من طرفیہ لان الغفلۃ فیہ اتم والعبادۃ فیہ اثقل ۔۔۔وللحدیث الصحیح ینزل ربنا الی سماء الدنیا فی کل لیلۃ حین یبقی ثلث اللیل الاخیر فیقول من یدعونی فاستجیب لہ الی آخر
وکذافی فیض الباری لعلامہ محمد انور شاہ الکشمیری :(2/549،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(7/58، ادارہ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافیاعلاء السنن:(7/57،59،ادارہ القرآن والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی الصحیح لمسلم:(1/308،309،311رحمانیہ)
وکذافی بحر الرائق:(2/92،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(1/671،رشیدیہ)
وکذافی الصحیح البخاری:(1/136،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق غفر لہ ما اجرم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/19
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:108

ایک شخص نے کسی عورت کو شہوت سے بوسہ دیا، یا اس سے زنا کیا،تو اب اس عورت کی بیٹی سے نکاح کرنادرست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس عورت کو شہوت کے ساتھ بوسہ دیا یا زنا کیا،اس کی بیٹی سے نکاح حرام ہے۔

لما فی الھندیہ: (1/274،رشیدیہ)
فمن زنی بامراۃ حرمت علیہ امہا وان علت وابنتہا وان سفلت
وفی المبسوط:(5/141،دارالمعرفہ)
واذا جامع الرجل المراۃاو لمسہا بشہوۃ او نظر الی فرجہا بشہوۃ لم تحل لابنہ ولا لابیہ من الرضاعۃ
وکذافی اوجزالمسالک الی موطا مالک:(9/414،بیروت)
وکذا فی مرقاۃالمفاتیح:(6/340،التجاریہ)
وکذافی الفتاوی الولواجیہ:(1/357،الحرمین شریفین)
وکذا فی التعلیق الصبیح علی مشکوۃالمصابیح:(4/48،رشیدیہ)
وکذا فی جامع الترمذی:(1/133،فاروقی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:122

افواج پاکستان کے لوگ، اپنی مشقوں کے لئے صحراوں جنگلوںمیں جاتے ہیں،اگر وہاں پندرہ دن سے زیادہ قیام ہو تو نماز پوری پڑھی جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعی مسافت طے کرنے کے بعدصحراوں جنگلوں اور دریاوں میں 15 راتوں سے زائد قیام کر بھی لیں تو ان جگہوں میں اقامت کی نیت معتبر نہیں ہے،اور نماز قصر ہی پڑھی جائے گی،البتہ جوایسی جگہوںمیں مستقل رہتے ہوں ان کا حکم الگ ہے۔

لما فی خلاصہ الفتاوی:(1/199،رشیدیہ)
ثم نیۃ الاقامۃ لا تصح الا فی موضع الاقامۃ ممن یتمکن من الاقامۃ وموضع الاقامۃ العمران والبیوت المتخذۃ من الحجر والمدر والخشب لاالخیام والاخبیۃ والوبر والغزاۃ
وفی کتاب الفقہ:(1/407،الحقانیہ)
فلو نوی الاقامۃ فی صحراء لیس فیہا سکاناو فی جزیرۃ او فی بحر فانہ یجب علیہ القصر
وکذا فی شرح العینی:(1/95،ادارت القران والعلوم الاسلامیہ)
وکذافی الہدایہ مع فی فتح القدیر:(2/11،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/497،فاروقیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(1/78،زمزم)
وکذا فی غنیہ المصلی:(1/540،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ غفراللہ ما اجرم
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:36

کرونا کی وبا کے دوران بعض لوگوں نے ماہ رمضان گھر میں اعتکاف کیا ہے،کچھ لوگ ایسا کرنے کی دعوت بھی دیتے رہے،شرعی حکم سے آشنائی فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیا

مردحضرات کے اعتکاف کے لئے مسجد شرط ہے،گھر میں اعتکاف کرنے کی دعوت دیناخلاف شرع ہے ،جس سے بچنا واجب ہے،جو ہوا اس پر اللہ سے معافی مانگی جائے ۔

لما فی القرآن العزیز:(المائدہ/6)
ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان
وفی الہدایہ:(1/211،رشیدیہ)
الاعتکاف لا یصح الا فی مسجد جماعۃلقول حذیفۃرضی اللہ عنہ لا اعتکاف الا فی مسجد
وفی المبسوط:(3/119،دارالمعرفہ)
ابو حنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ یقول رکن الاعتکاف ہو المقام فی المسجد والخروج ضدہ فیکون مفوتا رکن العبادۃ
وکذافی ہامش علی الصحیح لمسلم:(1/371،قدیمی)
وکذا فی ہامش علی جامع الترمذی: (1/98،فاروقی)
وکذافی ہامش علی صحیح البخاری :(1/363،رحمانیہ)
وکذافی فتح الباری شرح صحیح البخاری (4/342،قدیمی)
وکذافی جوہرہ النیرہ: (1/352،قدیمی)
وکذافی شرح الوقایہ: (1/321،امدادیہ)
وکذافی الہندیہ: ( 1/211،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد اسامہ شفیق
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:178

ایک لڑکی جس کی عمر 29 سال ہے، صوم و صلوۃ کی پابند اور با پردہ ہے، اس نے آج کل کے حالات اور اپنے خاندان میں شادیوں کے بعد کے معاملات دیکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ شادی نہیں کرے گی ۔ بقول اس کے اس کی ساری ضروریات بھی پوری ہورہی ہیں(وہ اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہے) اور اپنے اوپر کسی گناہ میں نہ پڑنے کا بھی یقین ہے، جبکہ اس کے والدین اسے مجبور کررہے ہیں کہ تمہارے لیے بغیر شادی کے رہنا جائز ہی نہیں،تمہیں ضرور شادی کرنا پڑے گی تو کیا اس کے والدین کا اسے شادی پر مجبور کرنا جائز ہے؟ کیا وہ بغیر شادی کے بقیہ پوری زندگی گزار سکتی ہےاگرچہ اسے اپنے اوپر اطمینان اور گناہ میں مبتلا نہ ہونے کا یقین ہو؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح ایک عظیم عبادت ہے ۔آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر انبیاء علیہم السلام کی مبارک سنت ہے،چنانچہ مشکوۃ شریف میں ہے

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” أَرْبَعٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَيُرْوَى الْخِتَانُ وَالتَّعَطُّرُ وَالسِّوَاكُ وَالنِّكَاح. (مشکوۃ المصابیح 1/45،رحمانیہ)

ترجمہ:”حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:چار چیزیں رسولوں کی سنت میں سے ہیں 1ـ حیاء کرنا (ایک روایت کے مطابق ختنہ کرنا) 2ـ عطر لگانا 3ـ مسواک کرنا 4ـ نکاح کرنا“
نکاح صرف حلال طریقہ پر انقضاء شہوت کا ذریعہ ہی نہیں ، بلکہ توالد و تناسل ، نوع انسانی کی بقاء، نسب کی حفاظت، خوشگوار معاشرے کے قیام اور عفت و پاکدامنی کا ذریعہ ہے اور دیگر کثیر شرعی و طبی حکمتوں پر مشتمل اہم عبادت ہے ، چنانچہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
”یہ امر مفیدِ صحت، اطمینان بخش، راحت رساں، سرور افزا، کفایت آمیز، ترقیِ زندگی دارین کا سبب ہے۔ اخلاقی، مذہبی نگاہ سے اس امر پر غور کروگے تو اس کو سراسر فائدوں سے معمور پاؤگے۔ تمدن کے لیے اس سے بہتر کوئی صورت نہیں، حب الوطن کی بھی جڑ ہے اور ملک و قوم کے لیے اعلیٰ ترین خدمات میں سے ہے۔ بیماریوں سے بچانے اور صدہا امراض سے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک حکمی نسخہ ہے۔“ (احکام اسلام عقل کی نظر میں :135،رحمانیہ)
نکاح کے ساتھ کئی دینی و دنیاوی مصلحتیں وابستہ ہیں اسی لیے قرآن و احادیث میں اہل ایمان کو نکاح کرنے کی صرف ترغیب ہی نہیں بلکہ واضح حکم ارشاد فرمایا گیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ” ( النساء: 3)

ترجمہ:” عورتوں میں سے کسی سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند آئیں“ (آسان ترجمہ قرآن : 184، معارف القرآن)
اسی طرح حدیث مبارکہ ہے

يا معشر الشباب، عليكم بالباءة، فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج.“(جامع الترمذی:1/333،رحمانیہ)

ترجمہ: ”اے جوانوں کے گروہ ! تمہارے لیے نکاح ضروری ہے کیونکہ نکاح کرنا نظر کو بہت جھکاتا ہے اور شرمگاہ کو بہت محفوظ رکھتا ہے۔“
آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں نکاح کا حکم ارشاد فرمایا وہیں بلاوجہ نکاح ترک کرنے والوں سے اظہار بیزاری بھی فرمایااور اس پر سختی سے نکیر فرمائی، چنانچہ حدیث مبارکہ ہے

واللہ انی لاخشاکم للہ و اتقاکم لہ لکنی أصوم و أفطر و أصلی و ارقد و أتزوج النساء فمن رغب عن سنتی فلیس منی. ( مشکوۃ المصابیح:1/28،رحمانیہ)

ترجمہ:”اللہ کی قسم میں تم سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور تم سے زیادہ تقوی اختیار کرتا ہوں مگر اس کے باوجود روزہ بھی رکھتا ہوں ، افطار بھی کرتا ہوں ،نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ۔ جو شخص میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں

اسی طرح حدیث مبارکہ ہے

عن سعد بن ابی وقاص قال ردَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی عثمان بن مظعون التبتل
( مشکوۃ المصابیح: 2/275، رحمانیہ)

ترجمہ:” حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو نکاح ترک کرنے سے منع فرما دیا۔

ان نصوص سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کرنا شرعا مطلوب ہے اور بلاوجہ ترک نکاح شرعا مذموم ہے، لہذا بلاوجہ ساری زندگی بلانکاح گزارنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
مزید یہ کہ گناہ میں مبتلا نہ ہونے سے متعلق اپنے نفس پر اعتماد کرنا درحقیقت شیطانی دھوکہ ہے۔ انسان کو کبھی بھی اپنے نفس سے مطمئن نہ ہونا چاہیے، بلکہ ہر لمحہ گناہوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کرنا چاہییں، چنانچہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ فرمان مذکور ہےَ

 

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي  [يوسف: 53]

ترجمہ: ”اور میں یہ دعوی نہیں کرتا کہ میرا نفس بالکل پاک صاف ہے ، واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے ، ہاں میرا رب رحم فرما دے تو بات اور ہے۔“ (آسان ترجمہ قرآن:514،معارف القرآن)
لہذا اپنے نفس پر مطمئن ہونے کی بجائے نکاح جیسے محفوظ حصار میں آجانا ہی عقلمندی ہے۔
باقی یہ عذر پیش کرنا کہ موجودہ دور کی شادی بیاہ تقریبات کے حالات درست نہیں، منکرات و خرافات کی بھرمار ہے، شادی کے بعد زوجین کے درمیان ناخوشگواریوں کے واقعات بکثرت پیش آرہے ہیں تو یہ چیز عذر نہیں بن سکتی۔ دین دار متبع سنت لوگوں کی اگرچہ قلت ہے ،مگر ایسے لوگ بالکل معدوم تو نہیں۔ رجوع الی اللہ اور مستقل تلاش و جستجو سے ایسا رشتہ یقینا میسر آسکتا ہے جس کے ساتھ ازدواجی رشتہ قائم کرنے میں کسی قسم کے منکرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایسی بےشمار مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں کہ متبع سنت خاندانوں نےشریعت کی حدود و قیود کی مکمل رعایت رکھتے ہوئے نکاح کی تقریبات کا انعقاد کیا ، کسی قسم کی خرافات وبےپردگی کا وقوع نہ ہوا اور شادی کے بعد زوجین خوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، لہذا محض اس چیز کو عذر بنا کر دور فتن میں نکاح جیسی پرحکمت عبادت سے پہلوتہی کرنا اور اس حفاظتی حصار سے محروم رہنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رشتہ دیکھتے وقت لڑکے کی دین داری کو مدنظررکھا جائے اور نکاح کی تقریب کو ہر طرح کے منکرات و فواحش سے محفوظ رکھا جائے۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/32،الطارق)
و حضَّ صلی اللہ علیہ وسلم و حثَّ علی الزواج فقال یخاطب الشباب الذین بلغوا سن الزواج: یا معشر الشباب! من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج…. و ردَّ صلی اللہ علیہ وسلم علی الصحابۃ الذین أرادوا التبتل و ترک الزواج لیتفرغوا للعبادۃ فقد روی عن سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ انہ قال: ردَّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی عثمان بن مظعون التبتل ….التبتل ھو الانقطاع عن النساء و ترک النکاح
وفیہ ایضاً:(2/36،الطارق)
و کان السلف الصالح یکرھون ترک الزواج و یحضون غیر المتزوج علی الزواج ….قال عمر لابی الزوائد: ما یمنعک من النکاح إلاّ عجز أو فجور
وفی فتح الملھم:(6/316،318،دارالعلوم کراتشی)
اعلم أن النکاح ھو أعظم أرکان الحکمۃ المنزلیۃ و أساس الحیاۃ الاجتماعیۃ و ھو معین علی الدین و مھین للشیطان و حصن دون عدو اللہ حصین و سبب للتکثیر الذی بہ مباھاۃ سید المرسلین لسائر النبیین فما أحراہ بأن یتحری أسبابہ و تحفظ سننہ و آدابہ ….الفائدۃ الثانیۃ التحصن عن الشیطان و کسر التوقان و دفع غوائل الشھوۃ و غص البصر و حفظ الفرج….. فالنکاح بسبب دفع غائلۃ الشھوۃ مھم فی الدین لکل من لا یؤتی عن عجز و عنۃ…. و ان کان ملجما بلجام التقوی فغایتہ أن یکف الجوارح عن إجابۃ الشھوۃ فیغض البصر و یحفظ الفرج فأما حفظ القلب عن الوساوس و الفکر فلا یدخل تحت اختیارہ بل لا تزال النفس تجاذبہ و تحدثہ بأمور الوقاع و لا یفتر عنہ الشیطان الموسوس الیہ فی أکثر الاوقات

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:98

 

ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو آگ میں ڈالا گیا تھا تو آگ نے ان کو نہیں جلایا تھا،یہ واقعہ کیا ہے؟ ان صحابی رضی اللہ عنہ کا نام کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

وہ عظیم صحابی رضی اللہ عنہ جنہیں آگ میں ڈالا گیا تھا ،مگر وہ آگ کے اثر سے بحکم الٰہی محفوظ رہے وہ حضرت ذؤیب بن کلیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ ان سے متعلق کتب میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت أسود عنسی نے آپ رضی اللہ عنہ کو رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان لانے کی وجہ سے بطور سزا آگ میں ڈال دیا تھا ، مگر آپ رضی اللہ عنہ بحکم الٰہی آگ کی تپش سے محفوظ رہے۔ اس واقعہ کا ذکر جناب نبی کریم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے:تمام تعریفیں اس اللہ کےلیے جس نے اس امت میں ابراہیم علیہ السلام جیسے لوگ پیدا فرمادیے۔
یہ واقعہ سندی اعتبار سے قدرے ضعیف ہے ،کیونکہ اس کی اسناد میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس پر اکثر محدثین نے جرح فرمائی ہے۔
البتہ ایک تابعی حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ سے متعلق بھی اس طرح کا واقعہ بہت سی کتب میں منقول ہے اور سندی حیثیت سے بھی قابل اعتبار ہے۔

لما فی الاصابة فی تمییز الصحابة:(1/561،وحیدیہ)
روى ابن وهب عن ابن لهيعة أن الأسود العنسيّ لما ادّعى النبوّة وغلب على صنعاء أخذ ذؤيب بن كليب فألقاه في النار لتصديقه النبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم فلم تضرّه النار، فذكر ذلك النبيّ صلى اللَّه عليه وآله وسلم لأصحابه، فقال عمر: الحمد للَّه الّذي جعل في أمتنا مثل إبراهيم الخليل
وفی الخصائص الکبری:(2/137،التوفیقیہ)
أخرج ابْن وهب عَن ابْن لَهِيعَة أَن الْأسود الْعَنسِي لما ادّعى النُّبُوَّة وَغلب على صنعاء أَخذ ذُؤَيْب بن كُلَيْب فَأَلْقَاهُ فِي النَّار لتصديقه بِالنَّبِيِّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَلم تضره النَّار فَذكر ذَلِك النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لأَصْحَابه فَقَالَ عمر الْحَمد لله الَّذِي جعل فِي أمتنَا مثل إِبْرَاهِيم الْخَلِيل
وفی حلیة الأولیاء:(2/128،بیروت)
عن شرحبيل الخولاني قال: بينا الأسود بن قيس بن ذي الحمار العنسي باليمن فأرسل إلى أبي مسلم فقال له: أتشهد أن محمدا صلى الله عليه وسلم رسول الله؟ قال: نعم قال: فتشهد أني رسول الله؟ قال:ما أسمع قال: فأمر بنار عظيمة فأججت وطرح فيها أبو مسلم فلم تضره
وفی سبل الھدی والرشاد:(10/266،نعمانیہ)
وروى ابن عساكر من طريق إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم الخولاني أن الأسود تنبأ فبعث إلى أبي مسلم الخولاني، فأتاه فقال: أتشهد أني رسول الله؟ قال: ما أسمع، قال: تشهد محمدا رسول الله؟ قال: نعم، فأتى بنار عظيمة، ثم ألقى أبا مسلم فيها فلم تضره، فقيل للأسود: إن لم تنف هذا عنك فسد عليك من اتبعك، فأمره بالرحيل، فقدم المدينة وقد قبض النبي صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر فقال أبو بكر: الحمد لله الذي ألبثني حتى أراني في أمة محمد صلى الله عليه وسلم من صنع به كما صنع بإبراهيم خليل الرحمن
وکذافی الاستیعاب للقرطبی:(2/47،بیروت)
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(10/266،نعمانیہ)
وکذافی اسد الغابة فی معرفة الصحابة:(1/371،الوحیدیہ)
وکذافی تھذیب التھذیب:(3/622،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:3

نوم العالم خیر من عبادۃ الجاھل“ کیا یہ حدیث ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ الفاظ کے ساتھ یہ روایت تلاش و جستجو کے باوجود کتب احادیث میں نہ مل سکی، البتہ اسی مضمون کی ایک اور روایت ملتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں

عن سلمان أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل (حلیۃ الاولیاء: 4/385،دارالکتب العلمیہ)

ترجمہ: ”علم کی حالت میں سونا جہالت کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے“
اس روایت کو محدثین نے ضعیف کہا ہے۔

لما فی کنز العمال:(10/61،رحمانیہ)
” نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل.”
وفی حلیة الأولیاء:(4/385،دارالکتب العلمیة)
“عن أبی البختری عن سلمان أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال نوم علی علم خیر من صلوۃ علی جھل.”
وکذافی کشف الخفاء:(2/329،الغزالی)
وکذافی الموضوعات الکبری:(255،قدیمی)
وکذافی مسند الفردوس للدیلمی:(4/247،بیروت)
وکذافی فیض القدیر:(6/378،دارالکتب العلمیة)
وکذافی الطبقات الکبری:(3/506،عمریة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:154