احمد ھارون کا مقروض ہے،ھارون نے سعد کو مدرسہ کے تعاون کی اپیل کی ،احمدنے سعد کوپیسے دیئےتھے ،کہ ھارون کو دے دینا (قرض چکا دینا)چنانچہ اس نے ھارون کو پیسے دے دیئے ،سعد اپنے گمان کے مطابق احمد کا قرض چکا رہا ہے ،جبکہ ھارون اس رقم کو چندہ سمجھ کر وصول کررہا ہے،اور اس رقم کو مدرسہ کےامور میں خرچ کردیتا ہے پھر کچھ عرصہ بعد ھارون احمد کو فون کرتا ہے کہ میرا قرض تو ادا کردو ،اس نے جواب میں کہا کیا آپ کو سعد نے قرضہ ادا نہیں کیا ؟میں نے اس کو آپ کے پیسے دے دیئے تھے ،دریافت طلب امر یہ ہے کہ جو پیسے مدرسہ میں خرچ ہوگئے وہ قرض تھا یا چندہ،اگر چندہ تھا تو قرض کس سے وصول کریں؟اگر قرض تھا تو مدرسہ سے کیسے وصول کریں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شریعت مطہرہ میں کسی کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں یہ خرچ کی ہوئی رقم چندہ نہیں بلکہ قرض شمار ہوگا اور یہ شخص مدرسہ کی موجود رقم سے اپنے خرچ کئے ہوئے پیسے لےلے ۔

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1442/2021/3/18
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:73

میرا ایک بہنوئی ہے ہم نے اس کے ساتھ بدل پر شادی کی ہے،ہم نے اس کی بہن کو کچھ بھی نہیں کہا ،میرا بہنوئی روزانہ میری بہن کو کہتا رہا کہ”تو اپنے باپ کے گھر چلی جا ،جا تومجھ سے آزاد ہے “ایک دن اس نے اپنی بیوی(میری بہن )سے کہا کہ بچہ بیمار ہے اسے ہسپتال لے چلیں ،اس نے کہا چلو ،جب میاں بیوی بازار پہنچے تو میرے بہنوئی نے میری ہمشیرہ سے ایک جگہ کہا کہ بچے کو رکشے والے کے ذریعے گھر بھجوادیتے ہیں ، میں تمہیں تمہارے باپ کے گھر چھوڑ آتا ہوں ،بیوی نے کہا کہ پاگل نہ بن، بچوں کا کیا بنے گا اپنے گھر چلتے ہیں ،ہر چند اصرار مگر خاوند نہ مانا،اور مجھے فون کیا کہ ”ڈیرہ غازیخان“کی گاڑی کہاں سے آتی ہےتو میں نے کہا خیر تو ہے،اس نے کہا ہم نے آنا ہے ،میں نے پوچھا کہ کون کون آرہے ہو،اس نے جواب میں کہا ”میں اور تمہاری مصیبت(بہن)“ وہ گاڑی پر سوار ہوئے تو راستےمیں میرے بہنوئی نے میری ہمشیرہ سے کہا کہ”تومجھ سے آزاد ہے“وقفے وقفے کے بعد یہ الفاظ دہراتا رہا اور ایک بار یہ کہا کہ تیری میرے پاس اب صرف ایک طلاق باقی ہے،وہ میں تمہیں تمہارے والدین کے سامنے دے دوں گا،راستے میں یہ بھی کہا کہ اگر تو دوسرا نکاح کرنا چاہے تو تجھے اجازت ہے ،چاہے بھیک مانگ،چاہے والدین کے گھر رہ تیری مرضی ،جب میرا بہنوئی اور میری بہن دونوں گھر پہنچے، تو بہنوئی نے ہمارے سامنے کہا کہ”یہ مجھ سے آزاد ہے “جب عذر کا مطالبہ کیاگیا تو کہنے لگا ،کہ یہ اپنے بچوں کی رینٹ صاف نہیں کرسکتی،کپڑے نہیں دھو سکتی،دوران صفائی اسٹیل کی پلیٹ میں راکھ اٹھاتی ہے ،اس طرح کے عذر بیان کرتا رہا ،اس واقعہ کو چار ماہ ہوگئے،دریافت طلب امر یہ ہے اس کی بیوی کو کتنی طلاقیں ہوئیں؟اس معاملہ کے بارے میں اس کا والد بات کرنے آتا ہے ،میرے والد نے کہا کہ میں شریعت کا حکم معلوم کر کے فیصلہ کروں گا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے ،لہٰذا باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔

وکذافی الھندیة:(1/374،377،رشیدیة)
الفصل الخامس فی الكنایات فی الطلاق
الفصل الخامس فی الكنایات) لا یقع بہا الطلاق إلا بالنیۃأو بدلالۃ حال كذا فی الجوھرۃ النیرۃ. ثم الكنایات ثلاثۃ أقسام (مایصلح جوابا لا غیر) أمرك بیدک، اختاري، اعتدي (وما یصلح جوابا وردا لا غیر) اخرجی اذھبی اعزبی قومی تقنعی استتري تخمري (وما یصلح جوابا وشتما)خلیۃبریۃ بتۃ بتلۃ بائن حرام…وبابتغی الأزواج تقع واحدۃ بائنۃ إن نواھا أو اثنتین وثلاث إن نواھاكذا فی شرح الوقایۃ..ولا یلحق البائن البائن
وکذا فی البحر الرائق:(3/526،رشیدیة)
لوقال فی مذاکرۃ الطلاق فارقتک وباینتک اوبنت منک…او انت حرۃ او انت اعلم بشأنک فقالت اخترت نفسی یقع الطلاق
وکذا فی الھدایة:(2/352، رشیدیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/296،297،سعید)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/300،308،سعید)
وکذا فی کنزالدقائق:(121،120،حقانیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/430،436،دار احیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/167،170،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(4/471،523، فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:8

عبداللہ کا انتقال ہو گیا ہے اس نے تین بیٹے،تین بیٹیاں،ایک بیوی،3بھائی،چار علی بھائی ،پانچ بہنیں،چھوڑے، ترکہ:2ایکڑ زمین، دو دکانیں چھ مرلے کی، اور 5ہزارہے ورثاء میں میراث کی تقسیم کیسے ہو گی ؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی، وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہو گا۔3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
کل ترکہ کے72 برابرحصے بناکران میں سے 9حصے(%12.5)بیوی کو،7حصے(%9.72)ہر بیٹی کو، اور 14حصے (٪19.44)ہر بیٹے کو دے دیے جائیں۔سوال میں مذکور 5000 میں سےبیوی کو 625روپے،ہر بیٹی کو 486.11روپےاور ہر بیٹے کو 972.22 روپے ملیں گے۔
اور 2ایکڑزمین (16کنال) بنتی ہے اس میں سےبیوی کو 2 کنال،ہر بیٹے کو 3.11کنال اور ہر بیٹی کو 1.55کنال دی جائے گی۔سوال میں مذکور چھ مرلے کی دکانوں کا رقبہ (1620) اسکوائر فٹ ہے اس میں سے بیوی کو 202.5اسکوائر فٹ،ہر بیٹی کو 157.5،اور ہر بیٹے کو 315 اسکوائر فٹ ملیں گے ۔
نوٹ: فی مرلہ 270،اسکوائر فٹ کا شمار کیا گیا ہے۔

 

لما فی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10 /7773،7775،رشیدیہ)
التعصيب بالغير: مع الابن الذكر، فيأخذ الذكر ضعف الأنثى، سواء تعددت البنات أو تعدد الأبناء
وفیہ ایضا:(10/7773،7775،رشیدیہ)
أحوال الزوجة: الثمن:…. مع الفرع الوارث – الولد وولد الابن وإن سفل، سواء أكان منها أم من غيرها
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/31،32،علومِ اسلامیة)
حالات الزوجات….ان یکون فرضھا الثمن وذٰلک اذا کان للزوج فرع وارث منھا او من غیرھا …احول البنات…ان یکون معھن ابن صلبی أو ابناء ففی ھٰذہ الحالة یکون الجمیع عصبة للذکر مثل حظ الانثیین
وکذا فی الھندیہ:(6/450،451،رشیدیہ) وکذافی کنزالدقائق:(10/7773،حقانیہ)
وکذا فی المبسوط:(29/138،148،داراحیاء) وکذافی التنویرمع الدر:(6/775،769 سعید)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:37

چار آدمی کھیتوں میں اکھٹے جماعت سے نماز پڑھتے ہیں ،جبکہ وہاں اذان کی آواز نہیں آتی تو کیا اذان دینا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اذان دینا افضل ہے نہ دیں تو کوئی حرج نہیں ۔

لما فی الفتاوى الهندية:(1/54،رشیدیة)
وإن صلوا بجماعة في المفازة وتركوا الأذان لا يكره وإن تركوا الإقامة يكره. كذا في فتاوى قاضي خان
وکذا فی الفتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیة:(1/78، رشیدیة)
وإن صلوا الجماعة في المفازة ان تركوا الأذان لا يكره وإن تركوا الإقامة يكره
وکذافی الشامیة:(1/395،سعید)
وکذا فی النھر الفائق:(1/180،قدیمی)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/48، رشیدیة)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/94،امدادیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/378،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیة:(1/72،الحرمین شریفین)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/152،139،رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1442/2021/2/23
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:124

بشیر کی وفات ہوئی ہے،جسکی 6 بیٹیاں اور7 بیٹے ہیں ایک زوجہ اورایک بھائی اور دوبہنیں ہیں ترکہ میں6 کنال زمین ہے، جبکہ9مرلے کا ایک رہائشی پلاٹ ہے،شرعی طریقہ سے میراث کی تقسیم سے مطلع فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحوم نے بوقت انتقا اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا، چاندی،زیور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے مکان،دکان، فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہویہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے۔
1

۔سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پرہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
2

۔اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سےوہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے،واضح رہے اگر مرحو م نےاپنی بیوی کامہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہی کیا تھاتو وہ بھی قرض شمار ہو گا،
3

۔اس کے بعد اگر میت نے غیر وارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔
4

۔ان تمام حقوق کیادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، خواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ ہو اس کو درج ذیل تفصیل کے مظابق تقسیم کیا جائے گا۔
بقیہ ترکہ کے160 برابر حصے کیے جائیں گے، ان میں سے20 حصے(٪5․12)بیوی کو،14حصے(٪75․8)ہر بیٹے کو،7حصے(375․4)ہر بیٹی کودے دیئے جائیں۔بھائی اور بہنیں محروم ہوں گی۔زرعی زمین 6کنال میں سے بیوی کو15 مرلے،ہر بیٹے کو5․10مرلے،ہر بیٹی کو25․5مرلے رہائشی پلاٹ کے 9 مرلےمیں سے بیوی کو75․303فٹ،ہر بیٹے کو625․212فٹ،ہر بیٹی کو312․106فٹ ملیں گے۔

نوٹ:رہائشی زمین کا مرلہ 270 مربع فٹ شمار کیا گیا ہے۔

لما فی السراجی:(1/7،شرکت علمیہ)
اما للزوجات فحالتان الربع ۔۔۔ عند عدم الولد وولد الابن وان سفل والثمن مع الولد اوولد لابن وان سفل
وفی السراجی:(1/7، شرکت علمیہ)
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وہو یعصبہن
وفی الہندیہ:(6/448،رشیدیہ)
واذا اختلظ البنون والبنات عصب البنون البنات فیکون للابن مثل حظ الانثییین کذا فی تبیین
وکذافی المحیط البرہانی:(23/288،تراث العربی)
وکذافی الدرالمختار:(10/544،دارالمعرفہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(10/263،فاروقیہ)
وکذافی ردالمختار:(6/77،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/2021/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :121

ایک شخص وصیت کرے کہ کہ میرے مرنے کے بعد میری آنکھیں فلاں شخص کودے دی جائیں اوراسی طرح دیگر اعضاء کی بھی وصیت کردےتو اس وصیت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہر انسان کے پاس اس کے تمام اعضاء امانت ہیں ان کے مالک اللہ تعالی ہیں، لہٰذا کسی بھی انسانی عضو کی کسی دوسرےشخص کے لئے وصیت کرنا درست نہیں ہے۔

لما فی الدرالمختار:(19/356،رشیدیہ)
کون الموصی بہ قابلا للتملیک بعد موت الموصی بعقد من العقودمالااونفعا موجوداللحال اومعدوما
وفی الانتفاع باجزاء الآدمی لم یجز قیل للنجاسۃ
وفی الہندیہ:(5/354،رشیدیہ)
وفی الانتفاع باجزاء الآدمی لم یجز قیل للنجاسۃ قیل للکرامۃ ہو الصحیح قال ابو حنیفۃ رحمہ اللہ ولا ینتفع بجلدہ ولا غیرہا الا الشعر للاساکفۃ وقال ابو یوسف رحمہ اللہ یکرہ الانتفاع ایضا با لشعر وقول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ اظہر
وکذافی البحرالرائق:(6/133،رشیدیہ)
وکذافی الکفایہ فی فتح القدیر:(6/90،رشیدیہ)
وکذافی الہدایہ:(3/58،رشیدیہ)
وکذافی النہر الفائق:(3/428،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:123

دعا مانگنے میں آپ ﷺکا یا کسی ولی کا واسطہ دے سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے۔

لما فی ردالمحتار:(9/655،رشیدیہ)
وقال السبکی:یحسن التوسل بالنبی الی ربہ، ولم ینکر احد من السلف ولاالخلف، الا ابن تیمیۃ فابتدع مالم یقلہ عالم قبلہ۔۔۔ونازع العلامۃ ابن امیر حاج فی دعوی الخصوصیۃ
وفی جامع الترمذی:(6/650،رحمانیہ)
وعن البراء بن عازب ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لہ الا اعلمک کلمات تقولہا اذاویت الی فراشک فان مت من لیلتک مت علی الفطرۃ وان اصبحت اصبحت خیرا تقول اللہم اسلمت نفسی الیک ووجہت وجہی الیک وفوضت امری الیک رغبۃ ورہبۃوالجئت ظہری الیک لا منجئ ولا منجئ الا الیک امنت بکتابک الذی انزلت وبنبیک الذی ارسلت قال فطعن بیدہ فی صدری ثم قال ونبیک الذی ارسلت ہٰذا حدیث حسن صحیح ٰ
وفی جامع الترمذی:(6/675،رحمانیہ)
اللہم انی اسئلک واتوجہ الیک بنبیک محمدبنبییک محمد نبی الرحمۃ، انی توجہت بک الی ربی فی حاجتی ہذہ لتقضٰی لی اللہم فشفعہ فی
وفی تحفہ الاحوذی:(10/35،قدیمی)
وقال الشوکانی فی تحفۃ الذاکرین وفی الحدیث دلیل علی جواز التوسل برسول اللہ الی اللہ عزوجل مع اعتقادان الفاعل ہواللہ سبحانہ وتعالی وانہ المعطی المانع ما شاءکان ومالم یشاء لم یکن
وفیہ ایضا
وقال فیہا فی شرح قول صاحب العمرۃویتوسل الی اللہ بانبیائہ،والصالحین ما لفظہ ومن التوسل بالانبیاء۔۔۔ثم قال واما التوسل بالصالحین فمنہ ما ثبت فی الصحیح ان الصحابۃ استسقوا بالعباس رضی اللہ عنہ اللہم انا نتوسل الیک بعم نبیینا
وکذافی جامع سنن ابی داؤد:(2/355،رحمانیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/52،سعید)
وکذا فی سنن ابی داود:(2/355،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:84

عرض یہ ہے کہ زید کی دُکان کے سامنے بکر کا روٹیوں والا ہوٹل ہے اب زید بھی اپنی دکان پر روٹیوں والا ہوٹل شروع کرنا چاہتا ہے مگر بکر یہ کہتا ہے کہ تم ہوٹل بناؤ گے تو مُجھے نُقصان ہو گا تم ہوٹل نہ بناؤ تو میں تمہیں ماہانہ 5000 روپے دیتا رہوں گا،اب زید کے لیے بکر سے ہوٹل نہ بنانے کی شرط پر 5000 روپے لینا جائز ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ مسئلہ میں زید کا بکر سے 5000روپے لینا رشوت ہے، جس سے بچنا ضروری ہے۔

لما فی اعلاء السنن:(15/62،علومُ الاسلامیہ)
وقال ابن حزم فی المحلی ولا تحل الرشوۃ وہی ما اعطاہ المرء لیحکم لہ بباطل او لیولی ولایۃ او لیظلم لہ انسان فہٰذا یاثم بہ المعطی والآخذ
وفی کنزالعمال:(6/45،رحمانیہ)
الراشی والمُرتشی فی النار
وفی مجمع الزوائد:(4/257،دارُالعلمیہ)
الراشی والمُرتشی فی النار
وکذافی القرآن:(النساء/29)
وکذا فی الموسوعہ الفقہیہ:(22/219،اسلامیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(5/362،سعید)
وکذا فی اعلاء السنن:(15/64،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(4/257، دارُالعلمیہ)
وکذافی کنزالعمال:(6/45، رحمانیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ اسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/3/2/2021
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:85

نماز کے دوران ستر کی کتنی مقدار کھل جائے تو نماز نہیں ہوتی؟ جس شخص کی پینٹ بحالت سجدہ سرک جاتی ہے اور ستر نظر آنے لگتا ہے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز میں ستر والے اعضاء میں سے کسی عضو کا چو تھائی حصہ ایک رکن کے بقدر کھلا رہے تو نماز فاسد ہو جاتی ہے ،(2) اگر کمر کی جانب سے اس طرح پینٹ سرکے کہ ناف کی سیدھ اور کولہے کے درمیان بدن کا چوتھائی حصہ ایک رکن کے بقدر کھل جائے تو نماز نہ ہو گی۔

لما فی المختصر الحنفی :(1/100،البشریٰ)
العضو الذی یجب سترہ فی الصلٰوۃ ان انکشف ربعہ قدد ما یمکن ان یقال فیہ ثلاث مرات سبحان اللہ تفسد الصلاۃ وان لم ینکشف ہذا القدر بان سترہ فو را بعد ما انکشف لا تفسد
وفی: الہندیہ(1/58،رشیدیہ)
والاصح ان التقدر فی العورۃ الغلیظۃ والخفیفۃ بالربع ہکذا۔۔ انکشاف ما دون الربع معفوا ذا کان فی عضو واحد، وان کان فی عضوین او اکثر وجمع ابلغ ربع ادنی عضو منہا یمنع جواز
الصلوٰۃوکذافی الہندیہ:(1/59،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار:(1/409،سعید)
وکذافی المنیہ المصلی:(1/75،مجیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/742،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ :(1/168،الحقانیہ)
وکذافی المبسوط:(1/197،دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/9/1442/2021/4/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:135

فیض محمد نےوراثت میں 2ایکڑ اراضی چھوڑی ہے جس کے 2 بیٹے تین بیٹیاں ہیں،ان میں سے ایک طاہرہ وفات پا چکی ہے جس کی 2بیٹیاں تین بیٹے ہیں،ایک شوہر ہے۔شرعی طریقے سے تقسیم میراث سے آگہی فرمادیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

مرحوم نے بوقت انتقا اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ (سونا، چاندی،زیور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے مکان،دکان، فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو نیز مرحوم کا قرض یا ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمہ ہویہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا،اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے۔1۔سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پرہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2۔اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سےوہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے،واضح رہے اگر مرحو م نےاپنی بیوی کامہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہی کیا تھاتو وہ بھی قرض شمار ہو گا،3۔اس کے بعد اگر میت نے غیر وارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔4۔ان تمام حقوق کیادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، خواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ ہو اس کو درج ذیل تفصیل کے مظابق تقسیم کیا جائے گا۔
مرحوم فیض محمد کےبقیہ ترکہ کے224 برابر حصےکیےجائیں گے،احمداورجمیل میں سے ہر ایک کو64 حصے(٪57․28)شفیقہ اورجمیلہ میں سےہر کو 32،حصے (٪29․14)جعفر کو،8حصے(٪57․3) وقاص ،اویس ہمزہ میں سےہر کو 6حصے(٪68ڙ2)اور راحلہ انیلہ میں سے ہر ایک کو 3حصے(٪33ڙ1) دیئے جائیں۔ زرعی زمین میں سے احمد اور جمیل میں سے ہر ایک کو 43ڙ91 مرلے، شفیقہ اور جمیلہ میں سے ہر کو71ڙ45 مرلےجعفر کو42ڙ11 مرلے،وقاص اویس ہمزہ میں سےہر ایک کو 57ڙ8مرلے ،انیلہ ،راحلہ میں سے ہر ایک کو29ڙ4 مرلے ملیں گے، جبکہ مرحومہ طاہرہ کے 2 بھائیو ں اور 2بہنوں کو مرحومہ کے ترکہ میں سے شرعا کوئی حصہ نہیں ملے گا ۔

لما فی السراجی:(1/7، شرکت علمیہ)
ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وہو یعصبہن
وفی الہندیہ:(6/448،رشیدیہ)
واذا اختلظ البنون والبنات عصب البنون البنات فیکون للابن مثل حظ الانثییین کذا فی تبیین
وفی تنویر الابصار مع شرحہ:( 10/550،رشیدیہ)
وکذافی السراجی:(1 /14،شرکت علمیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(10/263،فاروقیہ)
وکذاالقرآن:(النساء /12،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمداسامہ شفیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:122