کہ ہم نے ایک بیو پاری کو 1760 کے حساب سے چاول فروخت کئے وہ چاول لے گیا اور کچھ پیسے اس نے ادا کر دیئےہیں ، جبکہ کچھ ا سکی طرف باقی ہیں ۔اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے 4 تاریخ تک مہلت دےدیں اور موجود ہ ریٹ کے قریب قریب کا ریٹ تقریبا 1230 روپے کے حساب سے میں آپ کو ادائیگی کر دوں گا ۔ کیا اب نئی قیمت کے حساب سے وصولی کرنا درست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں یہ شخص پرانی قیمت لینے کا پابند ہے ، اس کے لئے نئی قیمت لینا جائز نہیں ۔

لما فی فقہ البیوع:(1/545،معارف القرآن)
وان زیادة الثمن من أجل الأجل ،وان کان جائزا عند بدایة العقد ،ولٰکن لاتجوز الزیادة عند التخلف فی الأداء ، فانہ ربا فی معنی”ا تقضی أم تربی
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3462، رشیدیة)
والواقع يختلف البیع لأجل أو بالتقسیط عن الربا، وإن وجد تشابہ بینہما فی كون سعر الأجل أو التقسیط فی مقابل الأجل، ووجہ الفرق أن اللہ أحل البیع لحاجۃ، وحرَّم الربا بسبب كون الزیادۃ متمحضۃللأجل.
وکذافی مؤطا الامام مالک :(606،قدیمی )
وکذا فی بدائع الصنائع:(6/518،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(3/117،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(12/109 ،دار المعرفة)
وکذا فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/15،معارف القرآن)
وکذا فی الھدایة:(3/250، رشیدیة)
وکذا فی الأ شباہ والنظائر فی الفقہ الحنفی:( 257، قدیمی)
وکذا فی السنن الکبرٰی للبیہقی:(5/573،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:74

جنبی شخص آیتِ سجدہ سنے یا پڑھے تو اس پر سجدۂ تلاوت لازم ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آیتِ سجدہ سننے یا پڑھنےسے جنبی شخص پرسجدۂ تلاوت واجب ہوگا،غسل کے بعد کرلے۔

وکذا فی بدائع الصنائع:(1/440،439،رشیدیة)
وأما بيان من تجب عليه فكل من كان أهلا لوجوب الصلاة عليه إما أداء أو قضاء فهو من أهل وجوب السجدة عليه ومن لا فلا؛ لأن السجدة جزء من أجزاء الصلاة فيشترط لوجوبها أهلية وجوب الصلاة من الإسلام، والعقل، والبلوغ، والطهارة من الحيض والنفاس حتى لا تجب على الكافر والصبي والمجنون والحائض والنفساء قرءوا أو سمعوا؛ لأن هؤلاء ليسوا من أهل وجوب الصلاة عليهم وتجب على المحدث والجنب؛ لأنهما من أهل وجوب الصلاة عليهما
وکذا فی البحرالرائق:(2/211،رشیدیة)
وأما بيان من تجب عليه فكل من كان أهلا لوجوب الصلاة عليه إما أداء أو قضاء فهو من أهل وجوب السجدة عليه، ومن لا فلا؛ لأن السجدة جزء من أجزاء الصلاة فيشترط لوجوبها أهلية وجوب الصلاة من الإسلام والعقل والبلوغ والطهارة من الحيض والنفاس حتى لا تجب على كافر وصبي ومجنون وحائض ونفساء قرءوا أو سمعوا، وتجب على المحدث والجنب،
وکذا فی المبسوط:(2/3،4 ،دار المعرفة)
وکذافی الشامیة:(2/170،سعید)
وکذافی الدرالمنتقی :(1/232،المنار)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1130، رشیدیة)
وکذا فی النھر الفائق:(8/6189،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(24/214،علوم اسلامیة)
وکذا فی الخانیة:(1/156،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/365،دار احیاء)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/61،دارالمعرفة)
وکذافی الھندیة:(1/132،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(2/446،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/6/1442/2021/1/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:185

جن جانوروں کا جھوٹا مکروہ ہے ،اس میں مکروہ ہونے کا کیا مطلب ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں جھوٹا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو بلا عذر استعمال کرنا مکروہ ِ تنزیہی ہے ، اگر اس کا کوئی بدل نہ ہو تو استعمال کرنے میں کوئی کراہت نہیں ، اور یہ پاک ہے ، بدن اور کپڑے وغیرہ کو لگ جائے تو ناپاک نہیں ہوتے۔

وکذا فی بدائع الصنائع:(1/204،رشیدیة)
واما السئور المکروہ….احب الی ان یتوضأبغیرہ ولم یذکر الکراھة
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/282، رشیدیة)
سؤر طاهر مكروه تنزيهاً استعماله مع وجود غيره: وهو سؤر الهرة، والدجاجة المخلاة ، والإبل والبقر الجلالة (أي التي تأكل النجاسة إذا جهل حالها)، وسباع الطير كالصقر والنسر والشاهين والحدأة والغراب، وسواكن البيوت كالحية والفأرة، ما لم تر النجاسة في فمها، لأنها تلازم التطواف في المنازل، أو للضرورة، وعدم إمكان الاحتراز منها، ولأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يصغي (يميل) للهرة الإناء، فتشرب منه، ثم يتوضأ به
وکذافی التنویر مع الدر:(1/223،224،سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/284،دار احیاء)
وکذافی الھندیة:(1/24،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(1/48 ،دار المعرفة)
وکذا فی مجع الانھر:(1/56،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(1/94،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(1/229،رشیدیة)
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب:(1/51،قدیمی)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/34،حقانیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(30،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:169

جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنا مستحب ہے اور اس کی خلاف ورزی مکروہ ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2772، رشیدیة)
توجه الذابح والذبيحة نحو القبلة؛ لأن القبلة جهة معظمة وهي أشرف الجهات، والتذكية عبادة، وكان الصحابة إذا ذبحوا استقبلوا القبلة، ولأن النبي صلّى الله عليه وسلم لما ضحى، وجه أضحيته إلى القبلة، وقال: {وجهت وجهي..} [الأنعام:79/6] الآيتين (1) . فإن لم يستقبل ساهياً أو لعذر، أكلت
وکذا فی المبسوط:(12/3،دار المعرفة)
وكذلك إن ذبحها متوجهة لغير القبلة حلت، ولكن يكره ذلك) ؛ لأن السنة في الذبح استقبال القبلة هكذا روى ابن عمر رضي الله عنهما أن «النبي صلى الله عليه وسلم استقبل بأضحيته القبلة لما أراد ذبحها
وکذافی الھندیة:(5/288،رشیدیة)
واذا ذبحھابغيرتوجه القبلة حلت، ولكن يكره
وکذا فی البحرالرائق:(8/311،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(17/397،فاروقیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/189،رشیدیة)
وکذا فی الولوالجیة:(3/71،الحرمین شریفین)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/449،دار احیاء)
وکذا فی مجمع الانھر:(4/159،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:5

ایک مستری دس ہزار10000 کے کام کا ٹھیکہ لے کر دوسرے مستری کو سات ہزار7000جبکہ تین ہزار3000خود رکھتا ہے،تین ہزار ٹھیکیدار کے لئے رکھنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے بشرطیکہ مالک کو پتہ ہو ورنہ نہیں۔

لمافی الھدایة:(3/294،رشیدیة)
قال:وإذا شرط على الصانع أن يعمل بنفسه ليس له أن يستعمل غيره لأن المعقود عليه العمل في محل بعينه فيستحق عينه كالمنفعة في محل بعينه “وإن أطلق له العمل فله أن يستأجر من يعمله لأن المستحق عمل في ذمته، ويمكن إيفاؤه بنفسه وبالاستعانة بغيره بمنزلة إيفاء الدين
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/11،رشیدیة)
بأن یقول:اعمل بنفسک او بیدک)….والذی فی الخلاصة أن یقول اعمل بنفسک او بیدک ولاتفعل بید غیرک…. (لایستعمل غیرہ) ولو غلامہ…. وان قال استأجرتک لتخیط او تقصر بنفسک فدفع الی غلامہ او تلمیذہ لایجب الاجر(کان لہ ان یستأجر غیرہ)لان الواجب عمل فی ذمتہ فیمن وفاؤہ بغیرہ بمنزلة ایفاءالدین
وکذا فی البنایة :(9/296،رشیدیة)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(2/39،قیدیمی)
وکذا فی تبیین الحقائق:(5/112،امدادیة)
وکذا فی البحرالرائق:(7/516،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/595،قدیمی)
وکذا فی العنایة:(10/78، رشیدیة)
وکذافی کنزالدقائق:( 359،حقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:42

ایک شخص چھوٹا پیشاب کرکے ٹشوپیپراستعمال کرتا ہے،پھر پانی سے استنجاء کئے بغیر وضوء کرکے نماز ادا کرلیتا ہے،تو اس شخص کا یہ عمل درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر نجاست نے محلِ نجاست سے تجاوز نہیں کیا تو صرف ٹشو سے استنجاء کرکے وضوء اور نماز درست ہوگی،اگرچہ بہتر یہ ہے کہ پانی سے استنجاء کیا جائے ،اگر نجاست اپنے محل سے تجاوز کر کے ایک درھم (ہتھیلی کی مقدار)کی مقدار پھیل گئی پھر پانی سے استنجاء کرنا ضروری ہے ،ٹشو سے استنجاء کافی نہ ہوگا۔

لمافی الھندیة:(1/48،رشیدیة)
ثم الاستنجاءبالاحجارانما یجوز اذااقتصرت النجاسۃ علی موضع الحدث فانما اذا تعدت موضعہا بان جاوزت الشرج اجمعوا علی ان ما جاوز موضع الشرج من النجاسۃ اذا کانت اکثر من قدرالدرھم یفترض غسلہا بالماء ولایکفیہا الازالۃ بالاحجاروکذٰلک اذااصاب طرف الاحلیل من البول اکثر من قدرالدرھم یجب غسلہ وان کان ما جاوز موضع الشرج اقل من قدر الدرھم أوقدرالدرھم الا أنہ اذا ضم الیہ موضع الشرج کان اکثر من قدرالدرھم فازالہا بالحجر ولم یغسلہابالماء یجوز عند أبی حنیفۃ وابی یوسف رحمہما اللہ تعالیٰ ولایکرہ
وکذا فی المبسوط:(1/60،دار المعرفة)
والاستنجاء بالحجر لایزیل النجاسۃ۔۔۔۔دلیل علی ان القلیل من النجاسۃ عفو،ولھٰذا قدرنا بالدرھم علی سبیل الکنایۃ عن موضع خروج الحدث ھٰکذا قال النخعی رحمۃ اللہ علیہ واستقبحوا ذکر المقاعد فی مجالسھم فکنواعنہ بالدرھم ،وکان النخعی یقول اذا بلغ مقدار الدرھم منع جواز الصلاۃ وکان الشعبی یقول لایمنع حتی یکون أکثر من قدرالدرھم واخذنا بھٰذا
وکذافی الشامیة:(1/338،سعید)
وکذا فی فتاوی النوازل:(41،الحقانیة)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/90، الحقانیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/109، رشیدیة)
وکذا فی التجرید:(1/156،157، محمودیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/170،دار احیاء)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/348، رشیدیة)
وکذا فی حاشیة فتاوی السراجیہ:(42،دارالعلوم زکریا)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(1/211،212،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/8/1442/2021/4/19
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:150

ایک آدمی نے طلاق نامے پر تین طلاقیں تحریر کیں (میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں) طلاق نامہ ابھی بیوی کو نہیں دیا تھا کہ لوگوں نے سمجھایا تو اس نے وہ طلاق نامہ بیوی کو نہیں دیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس کے لکھتے ہی تین طلاقیں واقع ہوگئیں ،اگر چہ تحریر عورت کے پاس نہ پہنچی ہو۔

لما فی الھندیة :(1/378،رشیدیة)
ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی المبسوط:(6/143،بیروت)
فان کان کتب امرأتہ طالق فھی طالق سواء بعث الکتابة الیھا أو لم یبعث
وکذا فی الشامیة:(3/246،سعید)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/174، رشیدیة)
وکذافی الفتاوی قاضیخان:(1/471، رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(4/528،فاروقیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6902، رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(2/111، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:192

ایک آدمی کے داماد نے کچھ سال پہلے اس کی بیٹی کو زبانی طور پر تین طلاقیں دےدی تھیں ،پھر غیر مقلدین سے فتویٰ لے کر رجوع کر لیا تھا ،پھر وہ اکٹھے رہنے لگے، اب اس واقعہ کے بعد پھر معاملات خراب ہوگئےتو اس بار اس نے عدالت سے اسٹام پر تینوں طلاقوں کو تحریر کرادیا ، جس کی تفصیل ساتھ لف ہے ،اب وہ داماد دوبارہ رجوع کا کہہ رہا ہے ، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ آیا اب دوبارہ اس طلاق نامے سے رجوع کر سکتا ہے ؟یا اس کی کیا صورت ہوگی ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ اگر واقعہ کے مطابق ہے تو جب پہلی دفعہ اس کے داماد نے اس کی بیٹی کو تین طلاقیں دی تھیں ، اسی وقت سے وہ اپنے شوہر پر حرام ہو گئی تھی،اس کے بعد ان دونوں کا اکٹھے رہنا حرام اور سخت گناہ ہے،لہٰذا سابقہ گناہ پر توبہ وا ستغفار کریں۔
واضح رہے کہ احادیثِ صحیحہ کی روشنی میں ایک ہی مجلس کی تین طلاقیں تین ہی واقع ہوتی ہیں ،اس پر متعدد مرفوع احادیث موجود ہیں

(1)

چنانچہ صحاح ستہ میں سے ”ابوداؤد شریف“ میں حضرت عویمر عجلانی کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دی تھیں تو حضورﷺ نے اس کو نافذ فرمایا

“عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم” (سنن ابی داؤد:2/140،دار الکتب)

ترجمہ: حضرت سھل بن سعد سے اس خبر (حضرت عویمر عجلانی کے واقعہ لعان) کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عویمر عجلانی نے حضورﷺ کے سامنے تین طلاقیں دی تھیں تو حضورﷺ نے اس کو نافذ فرمایا ۔

(2)

”سنن دارِ قطنی “ میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی نے اپنی بیوی کو فرمادیا تھا ”اذھبی فانت طالق“(جا تجھے تین طلاق) عدت گزرنے کے بعد آپ نے اپنی مطلقہ کو کچھ ہدیہ بھیجا اس خاتون نے کہا ”متاع قلیل من حبیب مفارق“(آپ سے جدائی کے بدلے میں یہ بہت تھوڑا ہے) اور وہ چیز قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔جب یہ بات حضرت حسن کو معلوم ہوئی آپ رونے لگےاور فرمایا

: لولا أني سمعت جدي أو حدثني أبي أنه سمع جدي يقول: «أيما رجل طلق امرأته ثلاثا مبهمة أو ثلاثا عند الإقراء لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره» لراجعتها” (سنن الدارقطني (4/ 20،دار الکتب)

ترجمہ: اگر میں نے اپنے نانا(حضورﷺ) سے یہ بات نہ سنی ہوتی کہ”جس شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہی دفعہ تین طلاقین دے دی ہوں یا تین طہروں میں تین طلاقین دے دی ہوں تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے“تو میں اس سے رجوع کر لیتا۔

(3)

حضرت عبداللہ بن عمر نے حالتِ حیض میں اپنی کو طلاق دے دی ، حضورﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نےرجوع کا حکم دیا اس موقع پر حضرت عبداللہ بن عمر نے دریافت کیا۔

یا رسول اللہ :افرأیت لو انی طلقتہا ثلاثا کان یحل لی ان اراجعہا ؟ قال: تبین منک وتکون معصیة
(السنن الکبری للبیہقی:7/546،دارالکتب)

ترجمہ:اے اللہ کے رسولﷺ آپ کیا فرماتے ہیں کہ اگر میں تین طلاقین دے دیتا تو میرے لئے رجوع حلال تھا ؟ حضورﷺ نے فرمایا :نہیں وہ تجھ سے جدا ہو جاتی اور گناہ بھی ہوتا ۔

(4)

أن حفص بن المغيرة طلق امرأته فاطمة بنت قيس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث تطليقات في كلمة واحدة فأبانها منه النبي صلى الله عليه وسلم (سنن الدار قطنی:4/10،دارالکتب)

ترجمہ:حضرت حفص بن مغیرہ نے حضورﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک کلمہ سے تین طلاقیں دیں ،تو آپﷺ نے ان کی بیوی کو ان سے جدا کردیا۔

(5)

بیہقی“ اور ”مصنف بن ابی شیبہ“میں حضرت علی کا فیصلہ موجود ہے

جاء رجل الی علی فقال طلقت امرأتی الفا قال ثلاث تحرمہا علیک واقسم سائرہا بین نسائک
(السنن الکبری للبیہقی:7/548،دارالکتب، مصنف ابن ابی شیبہ:4/63، دارالکتب)

ترجمہ: ایک آدمی حضرت علی کے پاس آکر کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دی ہیں ،آپ نے فرمایا تین طلاق سےتیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی اور باقی طلاقیں اپنی عورتوں میں تقسیم کردے۔

(6)

ایک مجلس کی تین طلاق کے بارے میں حضرت عمران بن حصین کا فیصلہ ملاحظہ ہو

سئل عمران بن حصین عن رجل طلق امرأتہ ثلاثا فی مجلس قال اثم بربہ وحرمت علیہ امرأتہ(مصنف بن ابی شیبہ:4/62،دارالکتب)

ترجمہ: حضرت عمران بن حصین سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دیں ،فرمایا اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی۔

آیت”الطلاق مرتٰن” سے استدلال اس لئے درست نہیں کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رجوع کا حق دو طلاق تک ہے تیسری کے بعد رجوع کا کوئی اختیار نہیں اور قرآنِ کریم میں ایک یا ایک جملہ کی کوئی قیدوغیرہ نہیں ، لہٰذا جو آدمی بھی دو سے زیادہ یعنی تین طلاقیں دے اس آیت کی رو سے اس کے لئے رجوع کا کوئی اختیار نہیں،جب تک یہ عورت آگے دوسرا نکاح نہ کر لے، جیسا کہ اگلی آیت میں اس کا ذکر ہے ،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ” (البقرہ:30)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/6/1442/2021/2/1
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:10

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ”تیرے سامنے یہ تین راستے ہیں چلی جا جہاں تجھے کوئی پسند آجائے اس سے نکاح کرلینا ورنہ ادھر ہی واپس آجانا “اس سے کوئی طلاق تو نہیں ہوئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اگر طلاق کی نیت کی ہو تو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ،ورنہ کچھ بھی نہیں ہوا۔

لمافی الھندیة:(1/376،رشیدیة)
رجل قال لامرأتہ:اربعۃ طرق علیک مفتوحۃ لا تقع بھٰذا شئ وان نوی الااذا قال خذی ای طریق شئت وقال نویت الطلاق ولوقال مانویت صدق،ولو قال لھا”اذھبی ای طریق شئت لا یقع بدون النیۃ وان کان فی حال مذاکرۃ الطلاق
وکذا فی الفتاوی قاضیخان:(1/468، رشیدیة)
ولو قال لہا:اربعۃ طرق علیک مفتوحۃ و نوی الطلاق لا یقع ان یقول اربعۃ طرق علیک مفتوحۃ فخذی فی ای طریق شئت فحینئذ یقع الطلاق اذانوی ولوقال”چھارراہ برتوکشادہ است”لایقع الطلاق مالم ینو
وکذافی الشامیة:(3/314،سعید)
وکذا فی المبسوط:(6/78 ،دار المعرفة)
وکذا فی البحرالرائق:(3/526،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/430،دار احیاء)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(2/98،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(4/461،462،463،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1442/2021/3/18
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:72

تغییر فی خلق اللہ” کی حدود کیا ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اللہ تعالی نے جسم انسانی کی جس طرز پر تخلیق فرمائی ہے ،اس میں انسانوں کی جانب سے کی جانے والی تبدیلیاں اگر خلافِ شریعت امور کے ارتکاب کے ذریعہ ہوں ، مثلا: مردوں کا داڑھی منڈوانا ،یا کتروانا ،سر کے بال فیشنی طرز پر کٹوانا ،عورتوں کا سر کے بال کٹوانا، یا کتروانا ، یا ابروؤں کو بلا ضرورت باریک کرنا یا کٹوانا ،کسی دوسرے انسان کو اپنا گردہ دینا ،یا دیگر اعضاء دینے کی وصیت کرنا ،زیادہ بچوں سے بچنے کے لئے نس بندی کروانا ،دشمنی یا سزا کے طور پر کسی کی ناک وغیرہ کاٹنا، یا کسی کے نام پر ناک ،کان چھدوانا ،یا کسی کے نام کی چوٹی رکھنا وغیرہ یہ سب صورتیں”تغییر فی خلق اللہ”میں شامل ہیں۔

لما فی القرآن الکریم:( النساء:119)
{وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا
وکذا فی صحیح البخاری:(2/878،رحمانیة)
عن علقمة، قال عبد الله:«لعن الله الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن،المغيرات خلق الله تعالى»مالي لا ألعن من لعن النبي صلى الله عليه وسلم،وهو في كتاب الله:”وما آتاكم الرسول فخذوه “[الحشر: 7]

 

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/7/1442/2021/2/25
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:195