فرض نمازیں تو معراج کے موقع پر عطاء کی گئیں ،مگر سنن و نوافل اور واجبات کب اور کیسے لازم ہوئے۔ ان کی تحقیق مطلوب ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سنن و نوافل اور واجبات کی مشروعیت نبی اکرم ﷺ کے قول و عمل سے ثابت ہے ۔آپﷺ نے ان کی تلقین بھی فرمائی اور خود بھی ان پر کیا ۔باقی کب مشروع ہوئے ان کی تفصیل نہ مل سکی۔

لما فی الترغیب والترھیب:(1/223،رشیدیة)
عن عائشة رضی اللہ عنھا عن النبیﷺ قال “رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیھا
وفیہ ایضا:(1/224، رشیدیة)
عن ام حبیبة رضی اللہ عنھا قالت: سمعت رسول اللہﷺ یقول من یحافظ علی أربع رکعات قبل الظھر ،واربع بعدھا حرمہ اللہ علی النار
وفیہ ایضا: (1/226، رشیدیة)
عن ابن عمر رضی اللہ عنھما عن النبی ﷺ قال:رحم اللہ امرأ صلی قبل العصر اربعا
و فیہ ایضا :(1/227، رشیدیة)
عن ابی ھریرة رضی اللہ عنھ قال:قال رسول اللہ ﷺ:من صلی بعد المغرب ست رکعات لم یتکلم فیما بینھن بسوء عدلن بعبادة ثنتی عشرة سنة
و فیہ ایضا:(1/228، رشیدیة)
و فیہ ایضا:(1/229، رشیدیة)
و فیہ ایضا:(2/664، بیروت)
وکذافی اعلاء السنن:(7/4،ادارة القرآن)
وکذا فی السنن الکبری للبیہقی:(2/659،بیروت)
وکذافی الترغیب والترھیب:(1/222، رشیدیة)
وکذافی السنن الدارقطنی:(2/17،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/03/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:120

سدرۃ المنتھٰی“ کی کیفیت کیا ہے ؟ (2)اور اس مقام سے آگے حضورﷺ بھی گئے ہیں یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سدرۃ المنتھٰی“ کی کیفیت ایک حدیث میں یوں بیان کی گئی ہے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اللہ کے اس فرمان ”عند سدرة المنتھٰی“کے بارے میں مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”مجھے سدرة المنتھٰی لےجایا گیا جو ساتویں آسمان میں ہے “ اس کے پھل ہجر قبیلے کے مٹکوں کی طرح ہیں ، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح ہیں اس کی جڑ سے دو ظاھری نہریں اور دو باطنی نہریں نکلتی ہیں ، آپﷺ نے فرمایا ،میں نے کہا اے جبرئیل: یہ کیا ہیں ؟ جبرئیل نے کہا باطنی نہریں تو جنت میں ہیں، ظاھری نیل اور فرات ہیں۔(2)اس کے بارے میں علماء کے دونوں طرح کے اقوال ملتے ہیں : ایک یہ کہ حضورﷺ ”سدرۃ المنتھٰی“ سے آگے تشریف لے گئے ،دوسرا یہ کہ حضورﷺصرف ”سدرۃ المنتھٰی“ تک تشریف لے گئے آگے نہیں گئے

لما فی تفسیر المظھری:(6/456،رشیدیة)
ثم رفعت الى سدرة المنتهى فاذا نبقها مثل قلال هجروا ذا ورقها مثل أذان القيلة قال هذه سدرة المنتهى فاذا اربعة انهار نهران باطنان ونهران ظاهران قلت ما هذا يا جبرئيل قال اما الباطنان فنهران فى الجنة واما الظاهران فالنيل والفرات ثم رفع بي الى البيت المعمور
وکذا فی تفسیر ابی السعود:(6/165، الوحیدیة)
عِندَ سِدْرَةِ المنتهى} هي شجرةُ نبْقٍ في السماءِ السابعةِ عن يمينِ العرشِ ثمرُها كقِلال هَجَرَ وورقُها كآذانِ الفيولِ تنبعُ من أصلِها الأنهارُ التي ذكرَهَا الله تعالَى في كتابِه يسير الراكب في ظلها سبعين عما لا يقطعُها
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(1/179،قدیمی)
عن أنس، في قوله عز وجل {عند سدرة المنتهى} [النجم: 14] ، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” رفعت لي سدرة منتهاها في السماء السابعة، نبقها مثل قلال هجر، ورقها مثل آذان الفيل، يخرج من ساقها نهران ظاهران، ونهران باطنان، قال: قلت: يا جبريل ما هذان؟ قال: أما الباطنان ففي الجنة، وأما الظاهران فالنيل والفرات هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السياقة. وله شاهد غريب من حديث شعبة، عن قتادة، عن أنس صحيح الإسناد ولم يخرجاه
وکذا فی الخصائص الکبرٰی للسیوطی:(1/318،التوفیقیة)
فعرجا بہ الی السمٰوٰت سماء ،سماء فلقی الانبیاء وانتھی الی سدرۃ المنتھٰی،ورای الجنۃ والنار ،قال رسول اللہ ﷺ ولما انتھیت السماء السابعۃ لم اسمع الا صریف الاقلام الخ
وکذافی التفسیر الکبیر للرازی:(10/244،علومِ اسلامیة)
وکذا فی تفسیر البحر المحیط:(8/157 ،دار الکتب)
وکذا فی تفسیر البغوی:(4/248،دارالمعرفة)
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التأویل:(7/65، دار الکتب)
وکذا فی روح المعانی:(27/50،داراحیاء)
وکذا فی الکتاب المصنف:(7/54،دارالکتب)
وکذا فی فتح الباری لابن حجر:(10/87،قدیمی)
وکذا فی صحیح البخاری:(1/116،رحمانیة)
وکذا فی الصحیح لمسلم:(1/122،رحمانیة)
وکذا فی فتح الباری :(7/274،275، قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:64

کوئی بندہ سجدہ میں جان بوجھ کر دونوں پاؤں اٹھا لے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر سجدہ میں تھوڑی دیر پاؤں رکھ کر پھر اٹھا لئے تو اس سے اگرچہ نماز ہوجائے گی لیکن بلاعذر اس طرح کرنے سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔

لمافی الھندیة:(1/70،رشیدیة)
ولو سجد ولم يضع قدميه على الأرض لا يجوز ولو وضع إحداهما جاز مع الكراهة إن كان بغير عذر. كذا في شرح منية المصلي لابن أمير الحاج ووضع القدم بوضع أصابعه وإن وضع أصبعا واحدة
وکذا فی العنایة:(1/311،رشیدیة)
فإذا سجد ورفع أصابع رجليه عن الأرض لا يجوز، كذا ذكره الكرخي والجصاص، ولو وضع إحداهما جاز. قال قاضي خان: ويكره. وذكر الإمام التمرتاشي أن اليدين والقدمين سواء في عدم الفرضية، وهو الذي يدل عليه كلام شيخ الإسلام في مبسوطه وهو الحق
وکذا فی البحرالرائق:(1/559،555،رشیدیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(24/206 ،علوم اسلامیة)
وکذافی الشامیة:(1/447،سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/83،فاروقیة)
وکذا فی الفتاوٰی البزازیة:(4/26،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(1/311،رشیدیة)
وکذا فی الدرالمنتقٰی:(1/131،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:8

لڑکے اور لڑکی نے ایک ایسی عورت کا دودھ پیا ہے جو لڑکے کی دادی اور لڑکی کی نانی ہے،اب لڑکے کا اس لڑکی کی بہن سے نکاح ہوسکتا ہےیانہیں؟مطلب یہ ہے کہ رضاعی بہن کی بہن سے نکاح ہوسکتا ہےیانہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رضاعی بہن کی حقیقی بہن سے اگرچہ نکاح ہوسکتا ہے،لیکن صورتِ مسؤلہ میں یہ لڑکی اس لڑکے کی رضاعی بھانجی بھی لگتی ہے اور رضاعی بھانجی سے نکاح نہیں ہوسکتا۔

لما فی الفتاوٰی قاضیخان:(1/416،رشیدیة)
فکذا اذا اثبت بالرضاع تتعدٰی الی اصول المرضعة وفروعھا واخوتھا واخواتھا وھٰذہ الحرمۃ کما تثبت فی جانب الام تثبت فی جانب الاب
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/400،رشیدیة)
وکذا یجوز للرجل أن یتزوج أخت أختہ من الرضاع وھٰذاظاھر
وکذافی الھندیة:(1/343،رشیدیة)
“یحرم علی الرضیع أبواہ من الرضاع واصولھما وفروعھما من النسب والرضاع جمیعا…. اخوة الرضیع واخواتہ
وکذا فی المبسوط:(30/301،دار المعرفة)
واذا کان یجوز للرجل ان یتزوج اخت اخیہ من النسب فکذٰلک أخت أختہ من الرضاع
وکذا فی المتلتقٰی مع مجمع الانھر:(1/554،المنار)
وکذا فی المبسوط:(30/294،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(4/362،فاروقیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/396،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(1/343،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/6633،فاروقیة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(2/12،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:170

شوہراگر بیوی کو رخصتی سے پہلےطلاق دےدیتا ہےتو مہر اور عدت کا کیا حکم ہے(2)اور رخصتی سے پہلےکتنی طلاقوں کے بعد عورت دوسرا نکاح کر سکتی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رخصتی سے پہلے طلاق دینے سے آدھا مہر دینا ہوگا ،اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تو متعہ (تین کپڑے) دینے ہوں گے(2)رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے پہلےطلاق ہوجانے پر عورت دوسرا نکاح فورا کر سکتی ہے اس پر عدت نہیں ہوتی۔

وکذافی التنویر مع الدر:(3/104،سعید)
ویجب نصفہ بطلاق قبل وطیء أ و خلوة
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/155،دار احیاء)
“وللمطلقة قبل الدخول بها نصف المفروض لقوله تعالى: {فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ}
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/302،رشیدیة)
وشرط وجوبها الدخول أو ما يجري مجرى الدخول، وهو الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح دون الفاسد، فلا يجب بدون الدخول، والخلوة الصحيحة لقوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها
وکذافی الھندیة:(1/526،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(6/30،63 ،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(4/220،،فاروقیة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(5/526،،فاروقیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/504،سعید)
وکذا فی الفتاوٰی قاضیخان:(1/377،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1442/2020/12/22
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:83

راکھ کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے ۔

لما فی الموسوعة:(23/123،علومِ اسلامیة)
وعلى ذلك فالرماد الطاھر مال متقوم یصح بیعہ وشراؤہ عند الفقھاء، لأنہ مما یباح الانتفاع بہ شرعا
وکذا فی التاتارخانیة:(8/338،فاروقیة)
والصحیح أنہ یجوز بیع کل شئ ینتفع بہ
وکذافی الفقہ الاسلا می وادلتہ:(5/3320،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(3/3،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(12/123 ،دار المعرفة)
وکذا فی مجع الانھر:(3/5،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(3/336،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(5/433،رشیدیة)
وکذا فی رد المحتار:(4/505،سعید)
وکذا فی البحوث (1/87،المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:10

دیت یا صلح میں لی ہوئی رقم ورثاء میں میراث کے ضابطے سے تقسیم ہوگی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دیت کی رقم بھی اصولِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگی۔

لما فی المحیط البرھانی:(23/281،دار احیاء)
والدیة تورث بلاخلاف
وکذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التأویل للأمام النسفی:(2/650،651،دارالکتب)
ودیة مسلمة الی اھلہ) مؤداة الی ورثتہ یقتسمونھا کما یقتسمون المیراث لا فرق بینھما وبین سائر الترکة فی کل شئ فیقضیٰ منہا الدین وتنفذ الوصیة
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7726، رشیدیة)
وکذافی الشامیة:(6/759،سعید)
وکذا فی تفسیر البغوی:(1/462 ،دار المعرفة)
وکذا فی نظم الدرر فی تناسب الآیات والسور:(2/297،دارالباز)
وکذا فی البحر الرائق:(9/364،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(20/214،فاروقیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/19،علومِ اسلامیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/365، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:73

زاہدہ کا انتقال ہوا اس نے ورثاء میں شوہر (صادق) ،بیٹی (ساجدہ)اور ماں (عابدہ )چھوڑیں ۔زاہدہ کا ترکہ 2ایکڑزمین اور نقدی3لاکھ ہے ۔ابھی ترکہ تقسیم نہ ہوا تھا کہ اس کے شوہر (صادق) کا انتقال ہوگیا جس کے ورثاء میں تین بیٹیاں (حامدہ ، ذاکرہ،خاشعہ )اورساس (عابدہ ) ہیں ۔ اب ان میں میراث کی تقسیم کیسے ہوگی ؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحومہ کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ 3)اس کے بعد مرحومہ نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
مرحومہ زاہدہ کے ترکہ کے 48 برابر حصے کرکے ، ساجدہ کو 27 حصے(٪56.25)،عابدہ کو9حصے (٪18.75)،حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 4حصے (٪8.333) دیے جائیں گے ۔
سوال میں مذکور زمین میں سے ساجدہ کو 9کنال، عابدہ کو3کنال ، حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 1.33کنال دی جائیں گی۔نقدی میں سے ساجدہ کو168750روپے، عابدہ کو56250روپے، حامدہ، ذاکرہ اورخاشعہ میں سے ہر ایک کو 25000روپے دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن الکریم:(النساء:11،12)
فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی الھندیة :(6/448، رشیدیة)
وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان
وفیہ ایضا:(6/450،رشیدیہ)
وأما الربع ففرض صنفين فرض الزوج إذا كان للميت ولد أو ولد ابن
وفیہ ایضا:(6/451،رشیدیہ)
وأما السدس ففرض سبعة أصناف: فرض الأب إذا كان للميت ولد أو ولد ابن، وفرض الجد كذلك عند عدم الأب، وفرض الأم إذا كان للميت ولد أو ولد ابن أو اثنان من الإخوة والأخوات
وکذا فی المبسوط:(29/139،144،148دارالمعرفہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/288،292،302داراحیاء)
وکذافی التاتارخانیة:(20/230،224،262فاروقیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7769،7774،7787رشیدیة)
وفی تنویرالابصار مع شرحہ:(6/772،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:146

ہماری پینتیس دن کی تشکیل خیر پور میرس میں ہوئی،اس میں مورہ ایک بستی ہے،اس بستی میں چھوٹی چھوٹی آبادیاں ہیں ،ہر آبادی میں ایک مسجد میں کام کرنا ہے،ہر دو آبادیوں کے درمیان کچھ کھیتوں کا فاصلہ ہے اور اذان کی آواز بھی آتی ہے،کیا اب ہم نماز میں قصر کریں گے یا مکمل پڑھیں گے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسؤلہ میں اگر یہ آبادیاں اس بستی کا حصہ ہیں ،محض پہچان کے لئے نام الگ الگ ہیں تو اس بستی اور اس کے ملحقہ آبادیوں میں پوری نماز پڑھیں گے،اگر یہ آبادیاںاپنا مستقل وجود رکھتی ہیں اور نام بھی الگ الگ ہیں ، اس بستی کا حصہ نہیں ہیں توپھر قصر کریں گے ۔

لما فی الفتاوی قاضیخان:(1/165،رشیدیة)
وھل یعتبر مجاوزۃ الفناء ان کان بین المصر وبین فنائہ اقل من قدر غلوۃ ولم یکن بینہمامزارعۃ یعتبر مجاوزۃ الفناء ایضا وان کان بینہما مزارعۃ او کانت المسافۃ بین المصر وفنائہ قدر غلوۃ یعتبر مجاوزۃ عمران المصر ولایعتبر فی مجاوزۃ الفناء وکذٰلک اذا کان ھٰذاالانفصال بین قریتین أو بین قریۃ ومصر وان کانت القریٰ متصلۃ بربض المصر فالمعتبر مجاوزۃ القریٰ ھو الصحیح وان کانت القریۃ متصلۃ بفناء المصر لا بربض المصر یعتبر مجاوزۃ الفناء ولایعتبر مجاوزۃ القریۃ
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/270،رشیدیة)
وأما) اتحاد المكان: فالشرط نية مدة الإقامة في مكان واحد؛ لأن الإقامة قرار والانتقال يضاده ولا بد من الانتقال في مكانين وإذا عرف هذا فنقول: إذا نوى المسافر الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان مصرا واحدا أو قرية واحدة صار مقيما؛ لأنهما متحدان حكما، ألا يرى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر فقد وجد الشرط وهو نية كمال مدة الإقامة في مكان واحد فصار مقيما وإن كانا مصرين نحو مكة ومنى أو الكوفة والحيرة أو قريتين، أو أحدهما مصر والآخر قرية لا يصير مقيما؛ لأنهما مكانان متباينان حقيقة وحكما،
وکذافی الھندیة:(1/139،140،رشیدیة)
وکذا فی المبسوط:(1/237،236 ،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(2/494،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/391،دار احیاء)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/212،امدادیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/121،سعید)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1350،رشیدیة)
وکذا فی اللباب فی شرح الکتاب:(1/111،قدیمی کراچی)
وکذا فی البحر الرائق:(2/226،رشیدیة)
وکذا فی فتح القدیر:(2/33،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/5/1442/2021/1/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:137

حضرت عیسی علیہ السلام کےنام کےساتھ” یسوع“ یا ”یسوع مسیح“ لکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یسوع عیسائیوں کے ہاں حضرت عیسی علیہ السلام کانام جو خدا تعالیٰ کےمشہور پیغمبر ہیں(القاموس الوحید:1493،ادارہ اسلامیات)یسوع :مسیحا ۔حضرت عیسی علیہ السلام۔(فیروزاللغات:1533)یہ عیسائیوں کے ہاں حضرت عیسی علیہ السلام کاہی نام ہے،اہلِ اسلام کے ہاں اس لفظ کاحضرت عیسی علیہ السلام کے لئے استعمال کرنا کتب میں تلاش و جستجو کے باوجود نہیں ملا ،لہٰذا اجتناب کرنا چاہیے

لمافی فیض الباری علی الصحیح للبخاری:(5/10،رشیدیة)
وکعیسی علیہ الصلاۃ والسلام حیث کان اسمہ بینھم یسوع أوأیشوع،فغیرہ الی عیسی علیہ الصلاۃ والسلام
و کذافی نظم الدرر:(2/83،دارالباز)
وکذافیہ ایضا:(1/185،دار الباز)
وکذا فی القرآن الکریم:( النساء:157)
وکذافی صفوة التفاسیر:(1/202، دار احیاء)
وکذا فی فیض القدیر:(1/64،دارالکتب)
وکذا فی البدایة والنھایة:(2/80،دارالکتب)
وکذا فی تاریخ ابن خلدون:(2/150،دار احیاء)
وکذا فی تفسیرالبحرالمحیط:(2/482،دارالکتب)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/7/1442/2021/3/22
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:100