میت کے بیٹوں کی موجودگی میں یتیم پوتے کو میراث دینا کسی دوسرے امام مثلاً امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ وغیرہ کے نزدیک جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کو میراث دینا کسی امام کے نزدیک بھی جائز نہیں۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ: (3/43، ط: علوم اسلامیہ)
و اذا تعددت العصبات و تعددت جھاتھم فانہ یقدم من کان من جھۃ البنوۃ کما سبق فاذا تعددوا و کانوا من جھۃ واحدۃ قدم اقربھم درجۃ فیقدم الابن علی ابن الابن
و فی بدایہ المجتھد و نھایہ المقتصد: (730، ط: قدیمی)
و اجمعوا علی ان الاخوۃ الشقائق و الاخوۃ للاب یحجبون الاعمام․․․و الابناء یحجبون بنیھم و الآباء اجدادھم
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (3/47، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی موطا للامام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ (526، رحمانیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (10/7799، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (10/7811-7815، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/07/1442/ 2021/03/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:38

ایک شخص نے ٹی وی والی خراب ایل سی ڈی چار ہزار روپے میں بیچی، یہ فرمائیں کہ اس رقم کا استعمال جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

چونکہ ایسی ایل سی ڈی جائز مقاصد میں بھی استعمال ہوتی ہے، جیسے سیکورٹی کیمروں کی مانیٹرنگ وغیرہ، لہذا اس کی بیع و شراء جائز ہے، اور حاصل شدہ قیمت کا استعمال بھی درست ہے۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ: (38/180، ط: علوم اسلامیہ)
و یصح عند ابی حنیفۃ بیع المعازف لانھا اموال متقومۃ، لصلاحیتھا للانتفاع بھا لغیر اللھو
و فی الھدایہ: (4/470، ط: رشیدیہ)
و لاباس ببیع العصیر ممن یعلم انہ یتخذہ خمراً، لان المعصیۃ لاتقام بعینہ
و کذا فی الشامیہ: (9/645، ط: رشیدیہ)
و کذا فی النھر الفائق: (3/268، ط: قدیمی)
و کذا فی البحر الرائق: 5/240، ط: رشیدیہ)
و کذا فی اللباب فی شرح الکتاب: (1-3/221، ط: قدیمی)
و کذا فی الھدایہ: 2/587، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الھندیہ: (3/116، ط: رشدیہ)
و کذا فی تبیین الحقائق: (3/297، ط: امدادیہ)
و کذا فی ھامش شرح الوقایہ: 2/385، ط: امدادیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1442/ 2020/12/30
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:110

اجمل درانی صاحب کا انتقال ہوا، ورثہ میں ایک بیوی، چار بیٹیاں، تین بھائی اور ایک نانی چھوڑی ہے۔ ترکہ میں 20 ایکڑ زمین چھوڑی ہے۔ شریعت کی روشنی میں موصوف کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ (سونا، چاندی، زیور، کپڑے وغیرہ) اور غیرمنقولہ (دکان، مکان وغیرہ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا، اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں، جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے: (1) سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا انتظام کردیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔ (2) اگر میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے ادا کیاجائے گا، خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجاے، واضح رہے کہ اگر مرحوم نے کسی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا۔ (3) اس کے بعد اگر میت نے کسی غیروارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائیگی۔
ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد کل جائیدادِ منقولہ و غیرمنقولہ کے 72برابر حصے کیے جائیں گے، جن میں سے9 حصے (٪12.5) بیوی کو، 12حصے (٪16.666) ہر بیٹی کو،1 حصہ (٪1.388)ہر بھائی کو اور12 حصے (٪16.666) نانی صاحبہ کو ملیں گے۔
اور زمین میں سے 20 کنال بیوی کو، 26.666 کنال ہر بیٹی کو، 2.222 کنال ہر بھائی کو اور 26.666 کنال نانی صاحبہ کو ملیں گے۔

 

لما فی السراجی فی المیراث:(18، ط: البشریٰ)
اما للزوجات فحالتان: الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد و ولد الابن و ان سفل، و الثمن مع الولد او ولد الابن و ان سفل
و فی السراجی فی المیراث: (19، ط: البشریٰ)
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، و الثلثان للاثنتین فصاعدۃ، و مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین و ھو یعصبھن
و فی السراجی فی المیراث: (36، ط: البشریٰ)
اما العصبۃ بنفسہ: فکل ذکر لاتدخل فی نسبتہ الی المیت انثی، و ھم اربعۃ اصنفاف: جزء المیت، و اصلہ، و جزء ابیہ، و
جزء جدہ، الاقرب فالاقرب، یرجحون بقرب الدرجۃ، اعنی اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم و ان سفلوا، ثم اصلہ ای الاب ثم الجد ای اب الاب و ان علا، ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ ثم بنوھم و ان سفلوا …الخ
و فی السراجی فی المیراث: (30، ط: البشریٰ)
و للجدۃ السدس، لام کانت او لاب واحدۃ کانت او اکثر . . .الخ
و کذا فی المختصر للقدوری: (290، ط: مکتبہ الخلیل)
و کذا فی المختصر للقدوری: (291، ط: مکتبہ الخلیل)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/288، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/298، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی کنز الدقائق: (498، ط: حقانیہ)
و کذا فی کنز الدقائق: (500، ط: حقانیہ)

 

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:100

انٹرنیٹ پرویب سائٹ او جی ای ،ویڈیوز/وائے زیڈ ویڈ،وغیرہ ہیں،ان پر جا کر اکاؤنٹ بنواؤ وہ آپ کو ویڈیوز بھیجیں گے،جو مختلف کمپنیوں کے اشتہارات کے طورپر ہوتی ہیں،جن کو دیکھنے کے بعد آپ کے اکاؤنٹ میں پیسے بھیجیں گے،ویڈیوزدیکھنے کے درمیان آپ موبائل پر کوئی دوسرا کام نہیں کرسکتے،ویڈیوز میں بعض دفعہ تشہیر کرنے والی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں،اورویب سائٹ والوں کا موقف یہ ہے کہ رقم ان کمپنیوں سے ہی ملتی ہے جن کے اشتہارات ہوتے ہیں،کیا یہ درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگران ویڈیوزمیں ناجائزامور( مثلا:نامحرم کی تصویر،ناجائزکاروبارمثلا:سودیاشراب وغیرہ کی تشہیراور میوزک وغیرہ)نہ ہوں اورویب سائٹ سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی اور کسی قسم کی دھوکہ دہی نہ ہوتو یہ پیسے لیناجائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔

وکذافی الھندیة:(4/449،رشیدیة)
ولاتجوزالاجارۃ علی شئ من الغناء والنوح والمزامیروالطبل وشئ من اللھو
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/39،رشیدیة)
وعلی ھٰذایخرج الاستیجارعلیالمعاصی انہ لایصح لانہ استیجار علی منفعۃ غیر مقدورۃ الاستیفاء شرعاکاستیجارالانسان للعب واللھووکاستیجارالمغنیۃ والنائحۃ للغناء والنوح
وکذا فی الھدایة:(3/301،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(8/36،رشیدیة)
وکذا فی سنن الدارمی:(2/323،قدیمی)
وکذا فی المبسوط:(6/143 ،دار المعرفة)
وکذا فی سنن ابن ماجة:(278، رحمانیة)
وکذا فی الصحیح لسلم:(1/95،رحمانیة)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیة)
وکذا فی جامع الترمذی:(1/157،فاروقیة)
وکذا فی خلاصةالفتاوی:(3/116،رشیدیة)
وکذافی تنویرالابصارمع شرحہ:(6/55،سعید)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/346،دار احیاء)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3817،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(15/132،فاروقیة)
وکذا فی تکملةفتح الملھم لشیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی دامت برکاتھم العالیة:(4/164،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/ 7/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:81

ایک آدمی گاؤں سے پرانے برتن خرید کر ساتھ کچھ پیسے لیتا ہے اور نئے برتن دیتا ہے ، کیا یہ معاملہ درست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر دونوں طرف کے برتن الگ جنس کے ہوںمثلاً پرانے برتن سلور کے ہوں اور نئے برتن پیتل یا لوہے کے ہوں تو بہر صورت خریدو فروخت جائز ہوگی اور اگر ایک جنس کے ہوں تو پھر دیکھا جائے گا کہ یہ برتن اس علاقے میں گنتی کے حساب سے ملتے ہیں تو پھر جائز ہے اور اگر تول کر فروخت ہوتے ہیں تو پھر یہ ناجائز ہوگا ۔

لما فی الھندیة:(3/221،رشیدیہ)
وفی التجرید الاوانی المتخذۃ من الصفر والحدید تصیر عادۃ عددیۃ بالتعامل یجوز بیع بعضھا ببعض کیفما کان کذا فی التاتارخانیۃ ، لو تعارفوا بیع ھذہ الاوانی بالوزن لابالعدد لایجوز بیعھا بجنسھا الا متساویا
وفی البدائع الصنائع:(4/404،رشیدیہ)
واما بیع الاوانی الصفریۃ واحد باثنین کبیع قمقمۃبقمقمتین ونحو ذالک ، فان کان یباع عددا یجوز ، لان العدد فی العددیات لیس من اوصاف علۃ الربا، وان کان یباع وزنا لایجوز لانہ بیع مال الربابجنسہ مجازفۃ
وکذافی الشامیة:(5/258،سعید)
وکذافی المبسوط:(14/56،بیروت)
وکذافی البحرالرائق:(6/323،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(3/531،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(10/478،بیروت)
وکذافی فتح القدیر:(7/129،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
عبد القدوس بن خیر الرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلدنمبر:23 فتوی نمبر:197

ستر چھپائے بغیر نہانے والے کی گواہی معتبر نہیں ہے“کیا اس بات کی کوئی حقیقت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلے زمانے میں لوگ”حمام“میں نہاتے تھے ،اس میں پردے کا انتظا م نہیں ہوتاتھا،بغیر چادر لوگوں کے سامنے ستر ظاہر ہوتاتھا،اس طرح نہانے والے کی گوہی یقینا معتبر نہ تھی،لیکن آج کل غسل خانے میں مکمل پردے انتظا م ہوتا ہے ،،لہٰذا بغیر چادربھی نہانا جائز ہے،اس سے گواہی غیر معتبر نہیں ہوتی ۔

وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(106،قدیمی)
وآداب الاغتسال هي”مثل آداب الوضوءوقدبیناھا إلا أنہ لا یستقبل القبلۃ حال اغتسالہ لأنہ یکون غالبا مع كشف العورۃ فإن كان مستورا فلا بأس بہ ویستحب أن لا یتکلم بكلام معہ ولو دعاء لأنہ فی مصب الأقذار ویکرہ مع كشف العورۃ ویستحب أن یغتسل بمكان لا یراہأحد لایحل لہ النظر لعورتہ لاحتمال ظھورھافی حال الغسل أو لبس الثیاب لقولہ صلى اللہ علیہ وسلم:”إن اللہ تعالى حیی ستیر یحب الحیاء والستر فإذا اغتسل أحدكم فلیستتر” رواه أبو داود وقال العلامۃاحمدبن محمد بن اسمٰعیل الطحاوی
قولہ:”ویکرہ مع كشف العورۃ” ولو فی مكان لا یراہ فیہ احد۔۔۔وقیل یجوز أن یتجردللغسل وحدہ اعلم أنہ ذكر فی القنیۃ اختلافا فی جواز الكشف فی الخلوۃ فقال: تجرد فی بیت الحمام الصغیر لقصر إزارہ أو حلق عانتہ یأثم وقیل یجوز فی المدۃ الیسیرۃ وقیل لا بأس بہ
وکذا فی غنیة المتملی فی شرح منیة المصلی:(51، رشیدیة)
وان لا یستقبل القبلۃ وقت الغسل ان کانت عورتہ مکشوفۃ وان کان مستورۃ فلا بأس بہ۔۔۔۔وان یغتسل فی موضع لایراہ احد لاحتمال بدو العورۃ حال الاغتسال۔۔۔۔ان النبیﷺقال ان اللہ حی ستیر یحب الحیاء والسترفاذااغتسل احدکم فلیستتر۔۔۔بل ذکر فی جوازکشف العورۃ فی الخلوۃ فی القنیۃ اختلافافقال تجرد فی بیت الحمام الصغیرلعصر ازارہ اولحلق العانۃ یأثم وقیل یجوز فی المدۃ الیسیرۃ وقیل لا بأس بہ وقیل یجوز أن یتجرد للغسل
وکذافی التنویر مع الدر:(1/156سعید)
وکذا فی البحر الرائق:(1/97،رشیدیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/284،دار احیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/404، رشیدیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/108،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/7/1442/2021/3/18
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:71

موجودہ زمانے میں کسی باطل یا دائرۂ اسلام سے خارج فرقے کے ساتھ مباہلہ کیا جاسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عصرِحاضر میں مباہلہ سے متعلق حضرت اقدس مولانا مفتی رشید احمد صاحب نوراللہ مرقدہ نے ”احسن الفتاوی “میں بہت ہی راہنما تحریر رقم فرمائی ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں

”اگر مباہلہ کی مشروعیت کسی دلیل سے ثابت بھی ہو جائے تو بھی اس زمانے میں مفاسد ذیل کی وجہ سے جائز نہیں ۔(1)بیان القرآن میں مباہلہ کا فائدہ ”قطع نزاع لسانی “لکھا ہے ،اس زمانے میں عوام وخواص مباہلہ کی اس حقیقت سے بالکل بے خبر ہیں۔(2) ان کو اگر سمجھا بھی دیا جائے کہ مباہلہ کی حقیقت صرف ”قطع نزاع لسانی “ہے ،تو بھی اس سے نزاع ختم ہونے کی بجائے اور زیادہ بڑھتا ہے ،جانبین ایک دوسرے پر طرح طرح کے الزامات لگا کر بے شمار نئے نزاعات کھڑے کردیتے ہیں۔(3) ہر فریق دوسرے کی ہر آفت ومصیبت کو مباہلہ کا نتیجہ قرار دینے لگتے ہیں ۔(4) اہلِ حق پر قدرۃکوئی ابتلاء آگیا تو عوام کی گمراہی کا باعث ہوگا ۔(5) اس زمانے میں عوام وخواص کا عقیدہ راسخہ یہ ہے کہ مباہلہ پر نتیجہ متعینہ کا ترتب لازمی ہے،اس کو اللہ تعالٰی کا قطعی فیصلہ سمجھتے ہیں ،حالانکہ یہ خیال بالکل بے دلیل اور سراسر غلط ہے،حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زوجین میں لعان ہوا مگر سوائے تفریق کے کسی پر کوئی آفت نہ آئی ۔
اس حقیقت کے مطابق اگر اس دور میں مباہلہ کے بعد فریقین میں کسی پربھی کوئی آفت نہ آئی تو لوگوں کو بزعم خویش اللہ تعالٰی کے قطعی فیصلہ میں تردد ہوگاجو کفر ہے۔(6)نصوصِ شرعیہ وعلمائے اسلام کے مقابلہ میں جاہل وگمراہ پیر مباہلہ کی دہائی دے کر عوام میں اپنا مقام پیدا کرنا چاہتے ہیں لہذا ان کی طرف سے دعوت مباہلہ کو قبول کرلینا ہی ان کی کامیابی ہے۔(7)اگر ہر جاہل پیر کی دعوت مباہلہ کو علمائے اسلام قبول کرکے اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے لگیں اور اللہ تعالٰی ان سے اپنے دین کی جو اہم خدمات جلیلہ لےرہے ہیں ان میں نقص و خلل ڈالنے لگیں تو یہی شیطان اور اس کے اولیاء کی بہت بڑی کامیابی ہے۔حضرت ابن مسعود وابن عباس رضی اللہ عنھم سے مخالف کو دعوتِ مباہلہ دینا منقول ہے۔

قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالیٰ :”فان قلت :ھل یشرع الدعاء باللعن علی الکاذب المعین؟قلت:فی غایۃ البیان من العدۃ وعن ابن مسعود رضی اللہ عنہ: انہ قال :من شاء باہلتہ ان سورۃ النساء القصری نزلت بعد التی فی سورۃ البقرۃ ای من شاء المباہلۃ ای الملاعنۃ باھلتہ ،وکانوا یقولون اذا اختلفوا فی شئ بہلۃ اللہ علی الکاذب منا قالوا ھی مشروعۃ فی زماننا ایضا ” (البحرالرائق:4/196،رشیدیہ)
وکذا نقل عنہ العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ (ردالمحتار:2/589)
وقال العلامۃ الالوسی رحمہ اللہ تعالیٰ : ومن ذھب الی جواز المباہلۃ الیوم علی طرز ما صنع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استدل بما اخرجہ عبید ابن حمید عن قیس بن سعد ان ابن عباس رضی اللہ عنہما کان بینہ وبین آخر شئ فدعاہ الی المباہلۃ وقرأ الآ یۃ ورفع یدیہ فاستقبل الرکن. (تفسیر روح المعانی:3/168)

اگر یہ روایات باسناد صحیحہ ثابت ہوجائیں تو ان حضرات کا یہ عمل غرض قطع نزاع لسانی پر محمول ہوگا جو اس زمانے میں مفقود ہے۔
علاوہ ازیں ان کے زمانے میں وہ دوسرےمفاسد بھی نہیں تھے جن کی تفصیل اوپر لکھی گئی ہے ،لہٰذا اب مباہلہ جائز نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/8/1442/2021/4/19
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:126

کیا یہ الفاظ” موتوا قبل ان تموتوا وحاسبواقبل ان تحاسبوا”کسی حدیث سے ثابت ہیں یا کسی کا مقولہ ہیں؟اور اگر انہیں الفاظ کے ساتھ ثابت ہیں تو کیا یہ دونوں جملے اکٹھے ہیں یا دو جملوں کو مختلف جگہوں سے لے کر ملایا گیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

” موتوا قبل ان تموتوا وحاسبواقبل ان تحاسبوا”یہ مکمل الفاظ توکسی حدیث سے ثابت نہیں ،”موتوا قبل ان تموتوا”یہ صوفیاء کے ہاں بولے جانے والا جملہ ہے،اس جملے کا دوسرا حصہ “وحاسبواقبل انفسکم ان تحاسبوا”یہ حضرت عمررضی اللہ عنہ سے ثابت ہے

لمافی الموضوعات الکبری:(246،قدیمی)
موتوا قبل ان تموتوا”قلت :العسقلانی: انہ غیر ثابت قلت:ھو من کلام الصوفیۃ،والمعنی”موتوا قبل ان تموتوا”اضطرارا،المراد بالموت الاختیاری ترک الشھوات واللھوات ،ومایترتب علیہا من الزلات والغفلات
وکذا فی کشف الخفاء ومزیل الالباس(2/291،الغزالی)
موتوا قبل ان تموتوا”قال الحافظ ابن حجر :ھو غیر ثابت وقال القاری:ھو من کلام الصوفیۃ،والمعنی”موتوا ” اختیارا بترک الشھوات قبل ان اضطرارا بالموت الحقیقی
وکذا فی مصنف ابن ابی شیبہ:(7/515،بیروت)
وكيع، عن، جعفر بن برقان، عن، رجل، لم يكن يسميه عن عمر بن الخطاب، أنه قال في خطبته: «حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا وزنوا أنفسكم قبل أن توزنوا وتزينوا للعرض الأكبر , يوم تعرضون لا تخفى منكم خافية
وکذا فی مرقاةالمفاتیح:(9/142،التجاریہ)
وکذا فی حلیةالاولیاء وطبقات الصفہاء:(1/52،بیروت)
وکذا فی تحفة الاحوذی شرح جامع الترمذی:(7/43،قدیمی)
وکذافی مقاصد الحسنة لشیخ عبدالرحمٰن السخاوی:(443،النوریة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/2021/3/8
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:193

عام آدمی کے لئے مکہ مکرمہ میں موجود پودوں اور درختوں کو کاٹنا یا اکھاڑنا یا ان کی درستگی کےلئے کانٹ چھانٹ کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس مسئلہ کے بارے میں ”حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم العالیہ“ درسِ ترمذی میں فرماتے ہیں کہ”مکہ کی نباتات تین قسم کی ہیں ، ایک وہ جو کسی شخص نے اپنی محنت سے اگائی ہوں ، ان کو کاٹنا یا اکھاڑنا بالاتفاق جائز ہے ،دوسری قسم وہ کہ ان کو کسی نے اگایا تو نہیں لیکن انہی نباتات کی جنس سے ہوں جنہیں لوگ عام طور سے اگاتے ہیں ، اس دوسری قسم کی نباتات کو کو کاٹنا یا اکھاڑنا بالاتفاق جائز ہے ، تیسری قسم خود رو گھاس وغیرہ اس میں سے صرف اِذخر کو کاٹنا یااکھاڑنا جائز ہے نیز خود رو پودوں میں سے اگر کوئی پودا مرجھا گیا ہو ،یا جل گیا ہو یا ٹوٹ گیا ہو تو اس کو کاٹنا بھی جائز ہے“۔

لما فی صحیح البخاری:(1/300،301،رحمانیة)
عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة: «إن هذا البلد حرمه الله لا يعضد شوكه، ولا ينفر صيده، ولا يلتقط لقطته إلا من عرفها»
وکذا فی شرح الطیبی:(5/407،دارالکتب)
ولا بأس بقطع الحشیش والشجر الیابسین کالصید المیت بعدہ
وکذافی التنویر مع الدر:(1/566،567،سعید)
قوله وقطع حشيشه وشجره)حال كونه (غير مملوك) يعني النابت بنفسه سواء كان مملوكا أو لا؛ حتى قالوا لو نبت في ملكه أم غيلان فقطعها إنسان فعليه قيمة لمالكها وأخرى لحق الشرع بناء على قولهما المفتى به من تملك أرض الحرم (ولا منبت) أي ليس من جنس ما ينبته الناس فلو من جنسه فلا شيء عليه كمقلوع وورق لم يضر بالشجر، ولذا حل قطع الشجر المثمر “وقال ابن عابدین فی شرحہ :اعلم أن النابت في الحرم إما جاف أو منكسر أو إذخر أو غيرها، والثلاثة الأول مستثناة من الضمان كما يأتي. وغيرها إما أن يكون أنبته الناس أو لا، والأول لا شيء فيه، سواء كان من جنس ما ينبته الناس كالزرع أو لا كأم غيلان.والثاني إن كان من جنس ما ينبتونه فكذلك وإلا ففيه الجزاء، فما فيه الجزاء هو النابت بنفسه وليس مما يستنبت، ومنكسرا ولا جافا ولا إذخرا
وکذافی الھندیة:(1/252،رشیدیة)
واعلم أن شجر الحرم أنواع أربعة) ثلاثة منها يحل قطعها والانتفاع بها من غير جزاء وهي كل شجر أنبته الناس وهو من جنس ما ينبته الناس وكل شجر أنبته الناس وهو ليس من جنس ما ينبته الناس وكل شجر ينبت بنفسه وهو من جنس ما ينبته الناس وواحد منها لا يحل قطعه ولا الانتفاع به فإذا قطعه رجل فعليه الجزاء وهو كل شجر نبت بنفسه وهو ليس من جنس ما ينبته الناس ويستوي في هذا الواحد أن يكون مملوكا لإنسان أو لم يكن حتى قالوا في رجل نبت في ملكه أم غيلان فقطعها إنسان: فعليه قيمتها لمالكها وعليه قيمة أخرى لحق الشرع،
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(5/597، التجاریة)
وکذا فی معا رف السنن:(6/5،6،سعید)
وکذا فی المبسوط:(4/103،104 ،دار المعرفة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتارخانیة:(3/598،فاروقیة)
وکذا فی العنایة:(3/93،94،رشیدیة)
وکذا فی البحر الرائق:(3/76،رشیدیة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/450،451،دار احیاء)
وکذا فی الھدایة:(1/267،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلدنمبر:23 فتوی نمبر:65

مسجد کے ساتھ ایک گھر ہے ،وہاں تک امام کی قرأت کی آواز پہنچتی ہے ،کیا عورت گھر میں اس امام کی اقتداء کرکے نماز پڑھ سکتی ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر گھر اور مسجد کی نماز والی جگہ کے درمیان دو صفوں سے زیادہ فاصلہ نہ ہو اور یہ عورت اس امام سے آگے بھی نہ بڑھے اور اسکو امام کے رکوع اور سجود کا علم ہو تا رہے تو اقتداء جائز ہے ورنہ نہیں۔

وکذافی الھندیة:(1/88،رشیدیة)
ويجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإن كان طريق عام ولكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد. كذا في التتارخانية ناقلا عن الحجة
وکذافی التنویر مع الدر:(1/586،سعید)
والحائل لا يمنع) الاقتداء (إن لم يشتبه حال إمامه) بسماع أو رؤية …..ذكر السرخسي إذا لم يكن على الحائط العريض باب ولا ثقب؛ ففي رواية يمنع لاشتباه حال الإمام، وفي رواية لا يمنع وعليه عمل الناس بمكة، فإن الإمام يقف في مقام إبراهيم، وبعض الناس وراء الكعبة من الجانب الآخر وبينهم وبين الإمام الكعبة ولم يمنعهم أحد من ذلك
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/362،رشیدیة)
وکذا فی الفتاوٰی التاتار خانیة:(2/262، فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/191،دار احیاء)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/150 ، رشیدیة)
وکذا فی مجع الانھر:(1/170،المنار)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(6/24،علومِ اسلامیة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1248، رشیدیة)
وکذا فی منحة الخالق علی البحر الرائق:(1/602، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالقدوس بن خیرالرحمٰن
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/5/1442/2020/12/22
جلد نمبر : 22 فتوی نمبر :85