قبر پر ٹہنی گاڑنے کے مستحب اور بدعت ہونے میں کونسا قول راجح ہے؟ کیا قبر پر ٹہنی گاڑدینی چاہئے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

قبر پر ٹہنی گاڑنے کا جواز اگرچہ احادیث سے ملتا ہے، اور وہ یہ کہ پوری حیاتِ طیبہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مرتبہ دو صحابہ کی قبر پر ٹہنی گاڑی تھی، مگر آج کل جس طرح اس کا اہتمام اور رواج ہوچکا ہے وہ یقیناً غیرشرعی ہے، اس لئے اس سے بچنا چاہئے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/34الی 35،ط: قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:مر النبی صلی اللہ علیہ و سلم بحائط من حیطان المدینۃ اومکۃ فسمع صوت انسانین یعذبان فی قبورھما فقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم یعذبان و مایعذبان فی کبیر ثم قال:بلیٰ کان احدھما لایستتر من بولہ و کان الآخر یمشی بالنمیمۃ، ثم دعا بجریدۃ فکسرھا کسرتین فوضع علی کل قبر منھما کسرۃ فقیل لہ:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم! لم فعلت ھذا؟ قال:لعلہ ان یخفف عنھما مالم تیبسا
وفی الصحیح لمسلم:(1/141،ط: قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما قال:مر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم علی قبرین فقال اما انھما لیعذبان و مایعذبان فی کبیر اما احدھما فکان یمشی بالنمیمۃ و اما الآخر فکان لایستتر من بولہ، قال فدعا بعسیب رطب فشقہ باثنین ثم غرس علی ھذا واحدا و علی ھذا واحداثم قال:لعلہ ان یخفف عنھما مالم ییبسا
وکذافی بذل المجھود:(1-2/71-72،ط: قدیمی)
وکذافی المرقاہ شرح المشکوہ:(2/58،ط: مکتبہ التجاریہ)
وکذافی شرح الطیبی:(2/43،ط: دارالکتب العلمیہ)
وکذافی عون المعبود:(1/26،ط: قدیمی)
وکذافی معالم السنن:(1/44،ط: مکتبہ المعارف)
وکذافی عمدہ القاری:(3-4/117،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی عمدہ القاری:(3-4/121،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی فتح الباری:(1/425،ط: قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/09/1442/2021/04/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:148

ہمارے گاؤں 66/6.کا زیادہ تر رقبہ قادیانیوں کا ہے، وہ لاہور میں رہتے ہیں، اور گاؤں میں ایک دین دار مسلمان آدمی ان کا رقبہ ٹھیکے پر لےکر خود بھی کاشت کرتا ہے اور باقی لوگ بھی اسی آدمی کو ٹھیکہ دےکر زمین کاشت کرتے ہیں، حتی کہ امام مسجد بھی یہی زمین کاشت کرتا ہے، اور یہ مذکورہ شخص ٹھیکے کی رقم ان قادیانیوں تک پہنچادیتا ہے۔ آیا اس شخص سے معاملہ کرکے زمین ٹھیکے پر لےکر کاشت کرنے کی شرعاً گنجائش ہے یا نہیں؟ نیز قادیانی، مسلمان دین دار شخص کو رقم بھی دیتے ہیں کہ وہ یہ رقم یا اس کی کوئی چیز خریدکر غرباء میں تقسیم کردے، تقسیم مسلمان ہی کرتے ہیں، البتہ لوگوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں قادیانیوں کی طرف سے آئی ہیں، ایسی چیزیں لینے اور ان کو تقسیم کرنے کا کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

قادیانی زندیق ہیں، ان کی زمینیں وغیرہ ٹھیکے پر لینا بلکہ ان سے کسی بھی قسم کے کاروباری تعلقات رکھنا جائز نہیں۔
اس سلسلے کے کچھ اکابر کے فتاوی ملاحظہ فرمائیں
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“قادیانی زندیق ہیں، جن کا حکم عام مرتد سے بھی زیادہ سخت ہے۔ مرتد اور اس کا بیٹا اپنے مال کے مالک نہیں، لہذا ان کی بیع وشراء، اجارہ و استجارہ، ہبہ کا لین دین وغیرہ کوئی تصرف بھی صحیح نہیں”۔
(“احسن الفتاوی”: 1/46، ط: ایچ ایم سعید)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں
“اس وقت چونکہ قادیانی کافر محارب اور زندیق ہیں، اور اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت نہیں سمجھتے، بلکہ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ اس لئے ان کے ساتھ تجارت کرنا، خریدو فروخت کرنا، ناجائز اور حرام ہے۔ کیونکہ قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ لوگوں کو قادیانی بنانے میں خرچ کرتے ہیں، گویا اس صورت میں مسلمان بھی سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے میں ان کی مدد کررہے ہیں، لہذا کسی بھی حیثیت سے ان کے ساتھ معاملات ہرگز جائز نہیں”۔
(“آپ کے مسائل اور ان کا حل”: 2/115، ط: مکتبہ لدھیانوی)
چونکہ قادیانیوں کا سادہ لوح غریب لوگوں کی امداد کرنا دراصل اپنے مذموم مقاصد کے لئے ہوتا ہے، اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی فکر کریں۔
صاحبِ حیثیت مسلمانوں کو غریب اور دکھی انسانیت کی خدمت کی فکر کرنی چاہئے۔

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/07/1442/ 2021/02/24
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:93

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کچھ فضائل بیان فرمادیجئے۔

الجواب باسم ملھم الصواب

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کچھ فضائل و مناقب درج ذیل ہیں
حضرت محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے پوچھا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل اور بہتر کون ہے؟“ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا (حضرت)”ابوبکر“ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔
حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ”سریہ ذات السلاسل“ میں امیر بناکر بھیجا، واپس آکر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا: ”لوگوں میں سے سب سے زیادہ آپ کو کون محبوب ہے؟“ فرمایا: ”عائشہ“ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میں نے عرض کیا ”مردوں میں سے؟“ ارشاد ہوا ”عائشہ کا باپ۔“(حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم پہ جس نے بھی احسان کیا ہم نے اس کا بدلہ چکادیا ہے، البتہ ابوبکر کے احسانات باقی ہیں، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت ان کا بدلہ عطاء فرمائیں گے۔“ اور فرمایا: ”جتنا نفع مجھے ابوبکر کے مال نے دیا ہے اتنا نفع کسی کے مال نے نہیں دیا“۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا“ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے، اہلِ مجلس کو سلام کیا اور بیٹھ گئے۔
حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ابوبکر! تم غارِ ثور میں میرے ساتھ تھے، حوض (کوثر) پر میرے ساتھ ہووگے۔

لما فی صحیح البخاری: (1/518، ط: قدیمی)
عن محمد بن الحنفیۃ قال: قلت لابی “ای الناس خیر بعد النبی صلی اللہ علیہ و سلم؟” قال: “ابوبکر
و فی الصحیح لمسلم: (2/273، ط: قدیمی)
عن ابی عثمان قال اخبرنی عمرو بن العاص ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بعثہ علیٰ جیش ذات السلاسل فاتیتہ فقلت: “ای الناس احب الیک؟” قال: “عائشہ” قلت: “من الرجال؟قال: ابوھا
و فی جامع الترمذی: (2/685، ط: رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال: “قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: “مالاحد عندنا ید الا و قد کافیناہ ماخلا ابوبکر فان لہ عندنا یدا یکافیہ اللہ بھا یوم القیٰمۃ و مانفعنی مال احد قط ما نفعنی مال ابی بکر
و فی المستدرک للحاکم: (3/288، ط: قدیمی)
عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: “کنا عند النبی صلی اللہ علیہ و سلم فقال النبی صلی اللہ علیہ و سلم: “یطلع علیکم رجل من اھل الجنۃ” فاطلع ابوبکر فسلم ثم جلس
و کذا فی صحیح البخاری (1/517، ط: قدیمی)
و کذا فی مشکوہ المصابیح (2/563، ط: رحمانیہ)
و کذا فی مصنف ابن ابی شیبہ (6/353 الی 355، ط: دار الکتب العلمیہ)
و کذا فی المعجم الاوسط (4/273، ط: المعارف)
و کذا فی کنز العمال (13/5، ط: رحمانیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/06/1442/ 2021/01/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:175

اگر ایک آدمی فسق و فجور کی وجہ سے قید ہوا، تو کیا اس کے لئے جائز ہے کہ دوسرے مجرموں کی نماز میں امامت کرے؟ اور اگر اس کے پیچھے پولیس والے نماز پڑھیں تو کیا ان کی نماز درست ہوگی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مجبوری میں فاسق و فاجر کے پیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے لیکن مکروہ و ناپسندیدہ ہے۔
جیل انتظامیہ کو کسی نیک امام کا انتظام کرنا چاہئے۔

لما فی بدائع الصنائع: (1/386، ط: رشیدیہ)
و اما بیان من یصلح للامامۃ فی الجملۃ فھو کل عاقل مسلم حتی تجوز امامۃ العبد و الاعرابی و الاعمیٰ و ولد الزنا و الفاسق … لان جواز الصلوۃ متعلق باداء الارکان و ھولاء قادرون علیھا، الا ان غیرھم اولیٰ لان مبنی الامامۃ علی الفضیلۃ … و لان الناس لایرغبون فی الصلوۃ خلف ھولاء، فتؤدی امامتھم الی تقلیل الجماعۃ، و ذالک مکروہ
و فی المحیط البرھانی: (2/178، ط: دار احیاء التراث العربی)
اما الفاسق: فتجوز الصلوۃ خلفہ لقولہ علیہ الصلوۃ و السلام: “صلوا خلف کل بر و فاجر” … و لکن مع ھذا یکرہ تقدیمہ لما فیہ من تقلیل الجماعۃ، قلما یرغب الناس فی الاقتداء بالفاسق
و کذفی الھدایہ: (1/110، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المختصر للقدوری: (29، ط: الخلیل)
و کذا فی غنیہ المتملی: (513 الی 514، ط: رشیدیہ)
و کذا فی اللباب فی شرح الکتاب: (1/90، ط: قدیمی)
و کذا فی البحر الرائق: (1/610، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (6/211، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الھندیہ: (1/84، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر مع الدر: (1/559 الی 560، ط: ایچ ایم سعید)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:131

اس عورت کے بارے میں کہ جسے تین طہروں میں تین طلاقیں دی گئیں ہوں، اس کی عدت کب سے کب تک شمار ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اس عورت کی عدت پہلی طلاق کے بعد سے تین حیض گزرنے تک ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع: (3 /142، رشیدیہ)
اذا وقع علیھا ثلاث تطلیقات فی ثلاثۃ اطھار فقد مضیٰ من عدتھا حیضتان،… فاذا حاضت حیضۃ اخریٰ فقد مضیٰ عدتھا
وفی الھندیہ: (1 /532 ، رشیدیہ)
رجل قال: لامراتہ. . . کلما حضت و طھرت فانت طالق، فحاضت ثلاث حیض کانت العدۃ من وقت الطلاق الاول
وکذافی البحر الرائق: (3/420، رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی: (2/119، رشیدیہ)
وکذا فی ملتقی الابحر و مجمع الانھر: (2/149-150، مکتبہ المنار)
و کذا فی المبسوط للسرخسی: (6/4، دار المعرفہ بیروت)
و کذا فی سنن النسائی: (2/99، رحمانیہ)
و کذا فی سنن ابن ماجہ: (145، قدیمی)
و کذا فی المعجم الکبیر للطبرانی: (4/605، دار الکتب العلمیہ بیروت)
و کذا فی المصنف لابن ابی شیبہ: (4/60، دار الکتب العلمیہ بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد زکریا عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/ 2020/12/01
جلدنمبر:22 فتوی نمبر:48

یہ بتائیں کہ طوافِ قدوم، طوافِ صدر اور طوافِ زیارت کسے کہتے ہیں اور ان میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

“قدوم” کا معنی ہے آنا، یعنی مکہ مکرمہ آنے اور پہنچنے کا طواف، یہ طواف سنت ہے اور صرف اس آفاقی کے لئے ہے جو حجِ افراد یا حجِ قران کی نیت سے مکہ مکرمہ آیا ہے۔
طوافِ قدوم کا وقت مکہ مکرمہ پہنچنے سے لے کر وقوفِ عرفات سے پہلے تک ہے۔
طوافِ زیارت حج کا رکن اور فرض ہے، اس طواف کے بغیر حج ادا نہیں ہوتا۔
طوافِ زیارت کا وقت دسویں ذوالحجہ کی صبح صادق سے بارہویں ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک ہے۔
طوافِ صدر: یہ طواف مکہ مکرمہ سے واپسی کے وقت کیا جاتا ہے، یہ طواف صرف آفاقیوں پر ہے۔
(“احکام الحجاج” بتغیر یسیر)

لما فی التنویر و الدر مع الرد: (2/494، ط: ایچ ایم سعید)
وطاف بالبیت طواف القدوم و یسن ھذا الطواف للآفاقی … ثم ان کان المحرم مفردا بالحج وقع طوافہ ھذا للقدوم … و علی القارن ان یطوف طوافا آخر للقدوم ای استحبابا بعد فراغہ عن سعی العمرۃ … و اول وقتہ حین دخولہ مکۃ و آخرہ من وقوفہ بعرفۃ
و فی ارشاد الساری: (156 الی 158، ط: فاروقیہ)
“طواف القدوم … و ھو سنۃ … للآفاقی … المفرد بالحج و القارن … و اول وقتہ … حین دخولہ مکۃ … و آخرہ وقوفہ بعرفۃ.
طواف الزیارۃ … و ھو رکن لایتم الحج الا بہ … و اول وقتہ … طلوع الفجر من یوم النحر و لاآخر لہ فی حق الجواز الا ان الواجب فعلہ فی ایام النحر.
طوف الصدر: و ھو … واجب ای علی الآفاقی … و اول وقتہ بعد طواف الزیارۃ … و لا آخر لہ”.
و فی الموسوعہ الفقھیہ: (17/150 الی 152، ط: علوم اسلامیہ)
طواف الوداع یسمی طواف الصدر، و طواف آخر العھد، و ذھب جمھور الفقھاء من الحنفیۃ … الی ان طواف الوداع واجب.
شروط وجوبہ ان یکون الحاج من اھل الآفاق عند الحنفیۃ … الخ.
و وقت طواف الوداع عند الحنفیۃ یمتد عقب طواف الزیارۃ لو تاخر سفرہ
و کذا فی غنیہ الناسک فی بغیہ المناسک: (108، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
و کذا فی غنیہ الناسک فی بغیہ المناسک: (176، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
و کذا فی غنیہ الناسک فی بغیہ المناسک: (190، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ: 17/150 الی 152، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ: 17/162 الی 165، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ: (1/551 الی 552، ط: الحقانیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (3/2203 الی 2207، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفر لہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:128

قرآنِ کریم کی تلاوت کے آخر میں جو “صدق اللہ العظیم” کہا جاتا ہے اس کی کیا حیثیت ہے؟ اور تلاوت کے کچھ آداب بھی بتلادیجیے۔

الجواب باسم ملھم الصواب
قرآنِ کریم کی تلاوت کے آخر میں “صدق اللہ العظیم” کہنا مستحب ہے۔
اور تلاوت کے چند آداب یہ ہیں:( 1)تلاوت سے پہلے مسواک کر لی جائے۔( 2)صاف ستھرا لباس پہن لیاجائے۔( 3)اگر ہوسکے تو قبلہ کی طرف منہ کرلیا جائے۔(4)اگر دورانِ تلاوت منہ میں بلغم آجائے تو بلغم تھوک کر کلی کرلی جائے۔( 5)دورانِ تلاوت اگر جمائی آجائے تو بہتر ہے کہ جمائی کے ختم ہونے تک تلاوت روک دی جائے۔( 6)ٹھہر ٹھہر کر اور الفاظ کو اچھی طرح واضح کرکے تلاوت کی جائے۔( 7)خوبصورت آواز میں تلاوت کرنے کی کوشش کی جائے۔( 8)تلاوت کرنے والے کو چاہیے کہ دورانِ تلاوت روئے بھی، اگر رونا نہ آئے تو رونے کی شکل ہی بنالے۔

لما فی تفسیر القرطبی: (1/27-28، دار احیاء التراث العربی)
ومن حرمتہ ان یستاک و یتخلل فیطیب فاہ. . . و من حرمتہ ان یتلبس . . . کان ابوالعالیۃ اذا قرا اعتم و لبس و ارتدی . . . ومن حرمته أن يستقبل القبلة لقراءته. . .و من حرمتہ ان یتمضض کلما تنخع . . . و من حرمتہ اذا تثائب ان یمسک عن القرائۃ . . . و من حرمتہ ان یقراہ علی تودۃ و ترسیل و ترتیل . . . و من حرمتہ اذا انتھت قرائتہ ان یصدق ربہ، و یشھد بالبلاغ لرسولہ صلی اللہ علیہ و سلم، و یشھد علی ذالک انہ حق، فیقول: صدقت ربنا، و بلغت رسلک، و نحن علی ذالک من الشاھدین، اللھم اجعلنا من شھداء الحق، القائمین بالقسط، ثم یدعو بدعوات
وفی احیاء علوم الدین: (1/277 ، دار احیاء التراث العربی)
الترتیل: ھو المستحب . . . نعتت ام سلمۃ رضی اللہ تعالیٰ عنھا قرائۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فاذا ھی تنعت قرائۃ مفسرۃ حرفا حرفا . . . البکاء مستحب مع القرائۃ، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: “اتلوا القرآن، و ابکوا فان لم تبکوا فتباکوا
وفی احیاء علوم الدین: (1/278 ، دار احیاء التراث العربی)
و لیقل عند فراغہ من القرائۃ: صدق اللہ تعالیٰ و بلغ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، اللھم انفعنا بہ و بارک لنا فیہ الحمد للہ رب العالمین و استغفر اللہ الحی القیوم
و فی شعب الایمان: (2/363، دار الکتب العلمیہ)
عن عبدالرحمن بن السائب قال: قدم علینا سعد بن مالک بعد ماکف بصرہ، فاتیتہ مسلما فانتسبنی فانتسبت فقال: مرحباً بابن اخی بلغنی انک حسن الصوت بالقرآن سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یقول: ان ھذا القرآن نزل بحزن و کآبۃ، فاذا قراتموہ فابکوا فان لم تبکوا فتباکوا و تغنوا بہ فمن لم یتغن بہ فلیس منا
و فی کنز العمال: (1-2/152،رحمانیہ)
کان اذا ختم القرآن حمد اللہ بمحامد . . . ثم یقول: الحمد للہ رب العالمین . . . صدق اللہ و بلغت رسلہ و انا علی ذالکم من الشاھدین . . .الخ
و کذا فی احیاء علوم الدین: (1/279، دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی الفقہ السلامی و ادلتہ: (2/1101، رشیدیہ)
و کذا فی الفقہ السلامی و ادلتہ: (2/1100، رشیدیہ)
و کذا فی شعب الایمان: (2/367، دار الکتب العلمیہ )
و کذا فی شعب الایمان: (2/372، دار الکتب العلمیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد زکریا عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:98

اگر بیوی صاحبِ نصاب ہو تو کیا شوہر کی ذمہ داری ہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے رقم مہیا کرے؟

الجواب باسم ملھم الصوب

بیوی کی زکوۃ کی ادائیگی کے لئے رقم کا انتظام کرنا خاوند کی ذمہ داری تو نہیں، لیکن اگر بیوی کے پاس رقم نہ ہو اور خاوند اپنی خوشی سے رقم مہیا کردے تو اسے ان شاء اللہ ثواب ملے گا۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(23/232،ط: علوم اسلامیہ)
اتفق الفقھاء علی ان البالغ العاقل المسلم الحر العالم بکون الزکوۃ فریضۃ، رجلا کان او امراۃ تجب فی مالہ الزکوۃ اذا بلغ نصابا، و کان متمکنا من اداء الزکوۃ، و تمت الشروط فی المال
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(3/1796،ط: قدیمی)
للزکوۃ شروط وجوب و شروط صحۃ، فتجب بالاتفاق علی الحر المسلم البالغ العاقل اذا ملک نصاباً ملکاً تاماً، و حال علیہ الحول
وکذافی المختصر للقدوری:(43،ط: مکبتة الخلیل)
وکذافی الھدایة:(1/167،ط: رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/355،ط: مکتبة الطارق)
وکذافی مجمع الانھر:(1/285-286،ط: مکتبة المنار)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(1/136،ط: قدیمی)
وکذافی الھندیة:(1/171-172،ط: رشیدیہ)
وکذافی کنز الدقائق:(56،ط: مکتبہ حقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/353-355،ط: رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:164

باغات میں درختوں پرجو شہد لگا ہوتا ہے، اگر وہ اتار لیاجائے تو اس پر عشر ہوگا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسئولہ میں شہد پر عشر لازم ہوگا۔

لما فی الھدایہ: (1/ 184، رشیدیہ)
و فی العسل العشر . . .و لنا قولہ علیہ السلام: “فی العسل العشر
و فی الھندیہ:(1/ 186، رشیدیہ)
و یجب العشر فی العسل
وکذا فی سنن ابی داود: (1/237 ،رحمانیہ)
وکذا فی التنویر مع الدر: (2/325، ایچ ایم سعید)
وکذا فی التاتارخانیہ: ( 3/276، فاروقیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع: (2/184، رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی: (3-4/15، دار المعرفہ)
وکذا فی البحر الرائق: ( 2/414، رشیدیہ)
وکذا فی الاصل للشیبانی: ( 2/116-117، عالم الکتب)
وکذا فی المختصر للامام القدوری: (214،البشریٰ)

و اللہ اعلم بالصواب
محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/ 2020/12/01
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:47

اگر کوئی شخص جمعرات کو مغرب کے بعد سورۂ کہف پڑھ لے تو کیا جمعہ کے دن پڑھنے کی فضیلت حاصل ہوجائے گی یا جمعہ کے دن پڑھنا ہی ضروری ہے؟ اور کیا جمعہ کے دن کسی بھی وقت (مغرب سے پہلے پہلے) پڑھی جاسکتی ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

جمعرات کو مغرب کے بعد سے جمعہ کے دن مغرب سے پہلے پہلے کسی بھی وقت سورۂ کہف پڑھنے سے مسنون فضیلت حاصل ہوجائے گی۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ: (40-190، م: مکتبہ علومِ اسلامیہ)
ان اللیالی کلھا تابعۃ للایام المستقبلۃ، لا للایام الماضیۃ الا فی الحج فانھا فی حکم الایام الماضیۃ
وکذا فی التفسیر المنیر: (8-216، ط: امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذا فی سنن الدارمی: (2-546، ط: قدیمی)
وکذا فی تفسیر قرطبی: (10-346، ط: دار احیاء التراث العربی)
وکذا فی المرقاۃ شرح المشکوۃ: (4-678، ط: المکتبہ التجاریہ)
وکذا فی احیاء علوم الدین: (1-187، ط: دار المعرفہ)
وکذا فی الترغیب و الترہیب: (1-297، ط: رشیدیہ)
وکذا فی کنز العمال: (1-287، ط: رحمانیہ)
وکذا فی المستدرک للحاکم: (2-477، ط: قدیمی)
وکذا فی فیض القدیر للمناوی: (6-258، ط: دار الکتب العلمیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:102