ووٹ دینا کیسا ہے؟ اگر کوئی ووٹ دینے کو ناجائز سمجھے کیا وہ گناہگار ہوگا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں:
“ووٹ کی مختلف حیثیتیں ہیں، اس کی حیثیت شہادت اور گواہی کی ہے کہ ووٹر جس امیدوار کو ووٹ دےرہا ہے اس کو ملک و قوم کا خیرخواہ سمجھتا ہے۔ اس کی حیثیت مشورہ کی ہے کہ ووٹر حکومتی نظم و نسق کے سلسلہ میں یہ مشورہ دیتا ہے کہ فلاں آدمی زیادہ بہتر اور قابل ہے۔ اس کی حیثیت سفارش کی ہے کہ ووٹر اپنے امیدوار کے لئے ایک اہم عہدہ اور ذمہ داری کی سفارش کرتا ہے۔ اور اس کی حیثیت وکیل نامزد کرنے کی ہے کہ ووٹ دینے والا سیاسی مسائل میں امیدوار کو اپنا نمائندہ نامزد کرتا ہے”۔
(“جدید فقہی مسائل” بتغیر: 1/302 تا 303)
اس لئے ناصرف یہ کہ ووٹ دینا چاہئے بلکہ اچھی طرح تحقیق کے بعد پوری ایمانداری سے دینا چاہئے۔
ووٹ دینے کو ناجائز سمجھنا ٹھیک نہیں۔ جس طرح کسی معاملے میں گواہی دینے کو ناجائز سمجھنا برا ہے اسی طرح ووٹ دینے کو ناجائز سمجھنا بھی نامناسب ہے۔

لما فی القرآن الکریم: (سورہ النساء: الآیہ:85)
من یشفع شفاعۃ حسنۃ یکن لہ نصیب منھا ومن یشفع شفاعۃ سیئۃ یکن لہ کفل منھا و کان اللہ علی کل شیئ مقیتا
و فی القرآن الکریم: (سورہ البقرہ: الآیہ: 282)
ولایاب الشھداء اذا مادعوا
و فی تفسیر القرطبی: (3/398، ط: داراحیاء التراث العربی)
قولہ تعالیٰ: ولایاب الشھداء اذا مادعوا… فالمسلمون مندوبون إلى معونة إخوانهم، فإذا كانت الفسحة لكثرة الشهود والأمن من تعطيل الحق فالمدعو مندوب، وله أن يتخلف لأدنى عذر، وإن تخلف لغير عذر فلا إثم عليه ولا ثواب له. وإذا كانت الضرورة وخيف تعطل الحق أدنى خوف قوي الندب وقرب من الوجوب، وإذا علم أن الحق يذهب ويتلف بتأخر الشاهد عن الشهادة فواجب عليه القيام بها
و کذا فی التفسیر المنیر (2/122، ط: امیرحمزہ کتب خانہ)
و کذا فی التفسیر المنیر (2/131، ط: امیر حمزہ کتب خانہ)
و کذا فی الصحیح لمسلم (2/77، ط: مکتبہ الحسن)
و کذا فی التفسیر المنیر (2/469، ط: امیرحمزہ کتب خانہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (26/253 الی 254، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (26/217، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ الحج: الآیہ: 30)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/07/1442/ 2021/02/24
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:100

اگر میاں بیوی مذاق میں ایک دوسرے کو بہن بھائی کہہ دیں تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

میاں بیوی کا ایک دوسرے کو بہن، بھائی کہنا مکروہ ہے، ایسے جملوں سے بچنا چاہئے۔

لمافی سنن ابی داود: (1/319، ط: رحمانیہ)
عن ابی تمیمۃ الھجیمی ان رجلا قال لامراتہ: یااخیۃ! فقال رسول اللہ: اختک ھی؟ فکرہ ذالک و نھی عنہ
و فی البحر الرائق: (4/165 الی ا166، ط: رشیدیہ)
و قید بالتشبیہ لانہ لو خلاعنہ بان قال: انت امی لایکون مظاھراً لکنہ مکروہ لقربہ و قیاسا علی قولہ یااخیۃ المنھی عنہ فی حدیث ابی داود المصرح بالکراھۃ …و مثلہ قولہ یابنتی یااختی و نحوہ
و فی ردالمحتار: (3/470، ط: ایج ایم سعید)
“فقد صرحوا بان قولہ لزوجتہ یااخیۃ مکروہ”.
و کذا فی عون المعبود (6/146، ط: قدیمی)
و کذا فی معالم السنن للخطابی (2/91، ط: مکتبہ المعارف ریاض)
و کذا فی بذل المجھود (1/196، ط: قدیمی)
و کذا فی الدر المختار (3/470، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی الدر المنتقی فی شرح الملتقی (3/118، ط: مکتبہ المنار)
و کذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید( 2/223، ط: مکتبہ الطارق)
و کذا فی النھر الفائق (2/453، ط: قدیمی)
و کذا فی فتح القدیر (4/225 الی 226، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/06/1442/ 2021/02/02
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:79

ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا “میں تینوں طلاق دے دتی اے، میں تینوں نہیں رکھنا، نہیں رکھنا، نہیں رکھنا” اس شخص کی بیوی کو کتنی طلاقیں ہوئیں؟ اور دوبارہ اکٹھے رہنے کی کیا صورت ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

“میں تینوں طلاق دے دتی اے” ان الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوتی ہے، اور “میں تینوں نہیں رکھنا، نہیں رکھنا، نہیں رکھنا” ہماری ناقص رائے کے مطابق سابقہ طلاق کی تاکید اور پختگی کے لئے ہے۔ اس لئے اس سے پچھلی طلاق بائنہ ہوجائے گی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں ایک طلاقِ بائنہ ہوئی ہے۔
عدت گزرنے پر نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کیا جاسکتا ہے۔

لما فی المختصر للقدوری: (173، ط: مکتبہ الخلیل)
وإذا وصف الطلاق بضرب من الزيادة والشدة كان بائنا مثل أن يقول: أنت طالق بائن أو طالق أشد الطلاق أو أفحش الطلاق أو طلاق الشيطان والبدعة وكالجبل وملأ البيت
و فی التنویر: (4/485-487، ط: رشیدیہ)
و یقع بأنت طالق بائن أو البتۃ …أو افحش الطلاق أو طلاق الشیطان أو البدعۃ أو أشر الطلاق او کالجبل او کألف او ملأ البیت أو تطلیقۃ شدیدۃ أو طویلۃ أو عریضۃ أو أسوأہ أو أشدہ أو أخبثہ …أو أکبرہ أو أعرضہ أو أطولہ أو أغلظہ أو أعظمہ واحدۃ بائنۃ …ان لم ینو ثلاثا
و کذا فی تقریرات الرافعی علی ھامش الشامیہ (4/509، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الشامیہ (4/447، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (3/174، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (3/176، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الھدایہ (2/349، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی (4/411، ط: داراحیاء التراث العربی)
و کذا فی فتح القدیر (4/46، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر مع الدر (4/528، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/07/1442/ 2021/03/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:39

ٹی وی یا موبائل پر لائیو کرکٹ میچ اور دیگر پروگرام دیکھنا کیسا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

ٹی وی یا موبائل پر بوقتِ ضرورت ایسے پروگرام دیکھنے کی گنجائش ہے جو ناجائز مناظر اور موضوعات سے پاک ہوں، لیکن کرکٹ میچ دیکھنا درج ذیل مفاسد کی وجہ سے ناجائز ہے: (1)میچ دیکھنے والے کو دینی اور دنیوی کسی قسم کا فائدہ نہیں ہوتا۔ (2)وقت اور پیسہ کے ضائع ہونے کے ساتھ ساتھ دیکھنے والا ایسے مناظر دیکھ بیٹھتا ہے جنہیں دیکھنا حرام ہے۔ (3)دورانِ میچ، میچ دیکھنے والے آپس میں ناجائز شرطیں لگاتے ہیں۔ (4)میچ دیکھنے کے شوقین یا تو نمازیں چھوڑدیتے ہیں، یا غفلت و بےتوجہی کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

لما فی تکملہ فتح الملھم: (4/164، ط: مکتبہ دار العلوم کراتشی)
اما التلفزیون و الفدیو فلاشک فی حرمۃ استعمالھما بالنظر الی مایشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ …و لکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون و الفدیو خالیاً من ھذہ المنکرات باسرھا، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویراً؟ فان لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ فیہ وقفۃ.و ذالک لان الصور المحرمۃ ماکانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیئ …اما الصورۃ التی لیست لھا ثبات و استقرار و لیست منقوشۃ علی شیئ بصفۃ دائمۃ، فانھا بالظل اشبہ منھا بالصورۃ.و یبدو ان صورۃ التلفزیون و الفدیو لاتستقر علی شیئ
و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: (1/659، ط: رشیدیہ)
فقال الحنفیۃ: تارک الصلوۃ تکاسلا فاسق یحبس و یضرب –علی المذھب- ضربا شدیدا حتی یسیل منہ الدم حتی یصلی او یموت فی السجن
و فی الموسوعہ الفقھیہ: (35/337، ط: علوم اسلامیہ)
اللھو فی اللغۃ: “کل باطل الھی عن الخیر و عمایعنی” …الاصل فی ھذہ المسئلۃ ھو قول النبی صلی اللہ علیہ و سلم: “کل شیئ یلھو بہ ابن آدم فھو باطل الا ثلاثا: رمیہ عن قوسہ، و تادیبہ فرسہ، و ملاعبتہ اھلہ”. و ذالک لانہ افاد ان کل مایتلھی بہ الانسان ممالایفید فی العاجل و الآجل فائدۃ دینیۃ فھو باطل، و الاعتراض فیہ متعین
و کذا فی الشامیہ (6/348، ط: ایچ ایم سعید)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ المائدہ: ع:13، الآیہ: 104)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ الماعون: الآیہ: 4الی5)
و کذا فی القرآن الکریم (سورہ النور: ع: 3، الآیہ: 30الی31)
و کذا فی الھندیہ (5/352، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (40/341، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (39/407، ط: علوم اسلامیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
03/06/1442/ 2021/01/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:174

اگر امام کسی مقتدی کے انتظار میں قیام و رکوع لمباکردے تو کیسا ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر آنے والے مقتدی کو امام نہ پہچان سکے کہ کون ہے تو اتنی دیر قیام و رکوع لمباکرنے کی گنجائش ہے جس سے پیچھے کھڑے مقتدی اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں، لیکن اگر امام آنے والے کو پہچان لے تو قیام و رکوع لمباکرنا مکروہ ہے۔

لما فی الفتاوی الولوالجیہ (1/108، مکتبہ الحرمین الشریفین)
و الامام فی الرکوع اذا سمع شخصا جائیا و طول الرکوع لیدرک الجائی الصلوۃ، فاذا کان الامام عرف الجائی یکرہ، لان ذالک یشبہ المیل الیہ، و ان لم یعرفہ فلاباس بذالک مقدار تسبیحۃ او تسبیحتین قدر مالایثقل علی القوم، لان فی ذالک اعانۃ علی الطاعات الامام اذا طول القرائۃ فی الرکعۃ الاولی لکی یدرک الثانی الرکعۃ فان کان التطویل تطویلا یشق علی الناس فینبغی ان الیثقل، لانہ یصیر سببا لتقلیل الجماعۃ
و فی الدر مع الرد (1/494 الی 495، ط: ایج ایم سعید)
و کرہ تحریما إطالة ركوع أو قراءة لإدراك الجائي: أي إن عرفه وإلا فلا بأس به قوله وإلا فلا بأسأي وإن لم يعرفه فلا بأس به لأنه إعانة على الطاعة، لكن يطول مقدار ما لا يثقل على القوم… ولفظة لا بأس تقيد في الغالب أن تركه أفضل… فالحاصل أن التأخير القليل لإعانة أهل الخير غير مكروه
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (6/213، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (2/1208، ط: رشیدیہ)
و کذا فی البحر الرائق (1/597، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الھندیہ (1/78، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التاتارخانیہ (2/73، ط: فاروقیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی (2/49، ط: داراحیاء التراث العربی)
و کذا فی الھدایہ (1/108، ط: رشیدیہ)
و کذا فی مجمع الانھر (1/145، ط: المنار)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/07/1442/ 2021/02/24
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:97

بائنہ یا مغلظہ طلاق یافتہ عورت دورانِ عدت شوہر کے گھرالگ کمرے میں سوئے یا ایک ہی کمرے میں سوسکتی ہے؟ اگر دوسرا کمرہ نہ ہو تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں مطلقہ الگ کمرے میں سوئے۔
اگر گھر میں ایک ہی کمرہ ہو تو اس میں پردہ لٹکاکر مطلقہ کے لئے جگہ الگ کرلی جائے۔ لیکن اگر خاوند کی طرف سے اندیشہ ہو کہ وہ پردہ کی پرواہ نہیں کرے گا تو کسی ایسی عورت کا انتظام کرلینا بہتر ہے جو خاوند کو مطلقہ سے دور رکھ سکے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو خاوند پر لازم ہے کہ وہ عدت کا دورانیہ گھر سے باہر گزارے۔ اور اگر وہ اس پر آمادہ نہ ہو تو مطلقہ اپنی عدت کسی اور جگہ گزارے۔

لما فی المحیط البرھانی: (5/237، ط: دار احیاء التراث العربی)
وإذا طلقها ثلاثاً أو واحدة بائنة، وليس له إلا بيت واحد، فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجاباً حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، وإنما اكتفى بالحائل؛ لأن الزوج معترف بالحرمة، فإن كان الزوج فاسقاً يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلاً آخر احترازاً عن المعصية، وإن خرج الزوج وتركها فهو أولى
و فی الھندیہ: (1/535، ط: رشیدیہ)
وإذا طلقها ثلاثاً أو واحدة بائنة، وليس له إلا بيت واحد، فينبغي له أن يجعل بينه وبينها حجاباً حتى لا تقع الخلوة بينه وبين الأجنبية، وإنما اكتفى بالحائل؛ لأن الزوج معترف بالحرمة، فإن كان الزوج فاسقاً يخاف عليها منه فإنها تخرج وتسكن منزلاً آخر احترازاً عن المعصية، وإن خرج الزوج وتركها فهو أولى
و کذا فی المبسوط للسرخسی (5-6/36، ط: دار المعرفہ)
و کذا فی التنویر مع الدر (3/537، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی شرح الوقایہ (2/153، ط: امدادیہ)
و کذا فی ملتقی الابحر (2/155 الی 156، ط: المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/156، ط: المنار)
و کذا فی الدر المنتقی (2/155 الی 156، ط: المنار)
و کذا فی البنایہ للعینی (5/449، ط: رشیدیہ)
و کذا فی شرح العینی علی کنز الدقائق (1/302، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
06/07/1442/2021/02/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:94

مطلقہ بائنہ یا مغلظہ عدت کہاں گزارے؟ شوہر کے گھر یا کسی اور جگہ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں مطلقہ اپنی عدت شوہر کے گھر پوری کرےگی، جہاں طلاق سے پہلے رہاکرتی تھی۔ لیکن اگر کسی وجہ سے وہاں رہنا ممکن نہ ہو تو پھر وہاں عدت گزارے جہاں آسانی سے رہائش کا بندوبست ہوسکے۔

لما فی الھدایہ: (2/407، ط: رشیدیہ)
و علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقۃ و الموت
و فی بدائع الصنائع: (3/325، ط: رشیدیہ)
و منزلھا الذی تؤمر بالسکون فیہ للاعتداد و ھو الموضع الذی کانت تسکنہ قبل مفارقۃ زوجھا و قبل موتہ
و کذا فی شرح الوقایہ (2/153، ط: امدادیہ)
و کذا فی الفتاوی الولوالجیہ (2/85 الی 86، ط: مکتبہ الحرمین الشریفین)
و کذا فی کنز الدقائق (148، ط: حقانیہ)
و کذا فی البحرالرائق (4/259، ط: رشیدیہ)
و کذا فی ملتقی الابحر (2/154، ط: المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/155، ط: المنار)
و کذا فی التنویر مع الدر (3/536، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی المختصر للقدوری (188، ط: مکتبہ الخلیل)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
06/07/1442/ 2021/02/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:95

بائنہ یا مغلظہ طلاق یافتہ عورت دورانِ عدت شوہر سے پردہ کرے گی یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسئولہ میں مطلقہ اپنے خاوند سے پردہ کرے گی۔

لما فی التنویر مع الدر: (3/537- 538، ط: ایج ایم سعید)
و لابد من سترۃ بینھما فی البائن لئلا یختلی بالاجنبیۃ، و مفادہ ان الحائل یمنع الخلوۃ المحرمۃ …و حسن ان یجعل القاضی بینھما امراۃ ثقۃ …قادرۃ علی الحیلولۃ بینھما.و فی المجتبی الافضل الحیلولۃ بسترو لو فاسقاًفبامراۃ
و فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر: (2/231، ط: رشیدیہ)
قولہ: و لابد من سترۃ بینھما فی البائن …قولہ: و فی المجتبی الافضل الحیلولۃ بستر ای لو عدلا …و ھذا مقابل قول المصنف “و لابد من سترۃ بینھما فی البائن” و الظاھر الاول لظھور وجھہ
و کذا فی البحر الرائق (4/261، ط: رشیدیہ)
و کذا فی ردالمحتار (3/538، ط: ایج ایم سعید)
و کذا فی ملتقی الابحر( 2/156- 157، ط: مکتبہ المنار)
و کذا فی مجمع الانھر (2/156، ط: مکتبہ المنار)
و کذا فی الدر المنتقی (2/155- 156، ط: مکتبہ المنار)
و کذا فی المحیط البرھانی (5/237، ط: داراحیاء التراث العربی)
و کذا فی الھندیہ (1/535، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط للسرخسی (5-6/36، ط: دارالمعرفہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/07/1442/ 2021/03/03
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:108

جمعہ کا خطبہ سننا واجب ہے، جب لاؤڈ سپیکر میں پڑھاجائے تو جو لوگ باہر ہیں ان پر سننا بھی واجب ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

لاؤڈسپیکر پر دیے جانے والے خطبہ کی آواز جہاں تک جائے گی وہاں تک موجود جن لوگوں پر جمعہ واجب ہے، ان پر جمعہ کی جگہ آکر خطبہ سننا واجب ہوگا۔

لما فی التنویر و الدر :(2/159،ط: ایچ ایم سعید)
و کل ماحرم فی الصلوۃ حرم فیھا ای فی الخطبۃ. . . ، و غیرھا فیحرم اکل و شرب و کلام و لوتسبیحا او رد سلام او امرا بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع و یسکت بلافرق بین قریب و بعید فی الاصح
وفی بدائع الصنائع:(1/593،ط: رشیدیہ)
و کذا کل ماشغل عن سماع الخطبۃ من التسبیح و التحلیل و الکتابۃ و نحوھا، بل یجب علیہ ان یستمع و یسکت، و اصلہ قولہ تعالیٰ: “و اذا قرئ القرآن فاسمتعوا لہ و انصتو” قیل نزلت الآیۃ فی شان الخطبۃ
وکذافی الھندیة:(1/147،ط: رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضی خان:(1/182،ط: رشیدیہ)
وکذافی البرجندی:(1/171،ط: حقانیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(2/28،ط: دارالفکر)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/460،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1316،ط: رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/272،ط: رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق علی البحر الرائق:(2/272،ط: رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلدنمبر:24 فتوی نمبر:165

سور المومن شفاء.” حدیث ہے یا نہیں؟

الجواب باسم ملھم الصواب

خاص ان الفاظ کے ساتھ حدیث ثابت نہیں ہے۔

لما فی کشف الخفاء و مزیل الالباس: (1/458، ط: الغزالی)
سؤر المؤمن شفاء” قال النجم: لیس بحدیث
و فی الموضوعات الکبریٰ: (129، ط: قدیمی)
و اما مایدور علی الالسنۃ من قولھم : “سؤر المؤمن شفاء” فصحیح من جھۃ المعنی لروایۃ الدارقطنی فی الافراد من حدیث ابن عباس مرفوعاً: من التواضع ان یشرب الرجل من سؤر اخیہ ای المؤمن
و کذا فی المقاصد الحسنہ: (239، ط: النوریہ الرضویہ)
و کذا فی المرقاہ شرح المشکوہ (5/552، ط: التجاریہ)
و کذا فی کشف الخفاء و مزیل الالباس: (1/436،ط: الغزالی)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/05/1442/ 2021/01/06
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:127