ایک آدمی حکومتی اجازت کے بغیر چالیس سال ایک غیرآباد زمین کاشت کرتارہا، اور حکومت نے اسے کچھ نہیں کہا، کیا حکومت کا کچھ نہ کہنا اس آدمی کے لئے اجازت شمار ہوگا؟ اور کیا حکومت چالیس سال بعد اس سے زمین واپس لے سکتی ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں کاشت کار کو حکومت کا جانتے ہوے بھی کچھ نہ کہنا اجازت سمجھاجائے گا، لیکن چونکہ کاشت کار اس زمین کا مالک نہیں، اس لئے حکومت جب بھی چاہے اس سے زمین واپس لے سکتی ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(19/74،ط: داراحیاء التراث العربی)
و من احیی ارضاً میتۃ فھی لہ احیاھا باذن الامام او بغیر اذنہ عند ابی یوسف و محمد، و عند ابی حنفیۃ رحمھم اللہ تعالیٰ لایکون لہ الا اذا احیاھا باذن الامام، ھما احتجا بظاھر قولہ علیہ الصلوۃ و السلام: “من احیی ارضاً میتۃ فھی لہ” و ابوحنیفۃ رحمہ اللہ تعالیٰ یقول: الحدیث محمول علی ما اذا کان الاحیاء باذن الامام، عرف ذالک بقولہ علیہ السلام: لیس للمرء الا ماطابت بہ نفس امامہ
وفی بدائع الصنائع:(5/284،ط: رشیدیہ)
فالملک فی الموات یثبت بالاحیاء باذن الامام عند ابی حنیفۃ، و عند ابی یوسف و محمد رحمھم اللہ تعالیٰ یثبت بنفس الاحیاء، و اذن الامام لیس بشرط، و جہ قولھما قولہ علیہ الصلوۃ و السلام: “من احیی ارضاً میتۃ فھی لہ، و لیس لعرق ظالم فیہ حق . . . و لابی حنیفۃ علیہ الرحمۃ ماروی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انہ قال: “لیس للمرء الا ماطابت بہ نفس امامہ” . . . و اما الحدیث فیحتمل انہ یصیر بہ شرعاً، و یحتمل انہ اذن جماعۃ باحیاء الموات بذالک النظم، و نحن نقول بموجبہ فلایکون حجۃ مع الاحتمال
وکذافی شرح الوقایة:(2/63-64،ط: رحمانیہ)
وکذافی الھدایة:(4/476،ط: رشیدیہ)
وکذافی ترجیح الراجح بالروایة فی مسائل الھدایة:(2/309،ط: مکتبہ دارالعلوم حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(5/386،ط: رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(23/167،ط: دارالفکر)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(2/242،ط: علوم اسلامیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/347،ط: فاروقیہ)
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(244،ط: قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلدنمبر:24 فتوی نمبر:163

ایک آدمی امریکہ رہتا ہے، اس نے پاکستان میں موجود ایک شخص کو ایک ہزار ڈالر ادھار دیے ہیں، جو پاکستانی کرنسی کے اعتبار سے ڈیڑھ لاکھ روپے بنتا ہے، پوچھنا یہ ہے کہ جب پاکستانی ادھار واپس کرے گا تو ڈالر میں واپس کرے گا یا روپیہ میں؟ ہوسکتا ہے کہ جب ادھار کی واپسی کا ٹائم آئے تو ڈالر کی قیمت بڑھ چکی ہو۔

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسؤلہ میں قرض کی ادائیگی ڈالر کی صورت میں کرنی چاہئے، اگرچہ ادائیگی کے وقت اس کی قیمت بڑھ چکی ہو۔

لما فی الموسوعہ الفقھیہ:(33/124،ط: علوم اسلامیہ)
 و انہ لو استقرض شیئا من المکیلات او الموزونات او المسکوکات من الذھب او الفضۃ، فرخصت اسعارہ او غلت فعلیہ مثلھا، و لاعبرۃ برخصھا و غلائھا
وفی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/500،ط: قدیمی)
سئل) فی رجل استقرض من آخر مبلغاً من الدراھم و تصرف بھا ثم غلا سعرھا فھل علیہ رد مثلھا؟
الجواب):نعم، ولاینظر الی غلاء الدراھم و رخصھا
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/504،ط: قدیمی)
وکذافی الشامیہ:(3/605،ط: ایچ ایم سعید )
وکذافی البحر الرائق:(6/343،ط: رشیدیہ)
وکذافی مجمع الضمانات:(460،ط: حقانیہ)
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب :(2/75،ط: قدیمی)
وکذافی الھدایہ:(3/193،ط: رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/319،ط: داراحیاء التراث العربی)
وکذافیہ ایضاً:(10/340،ط: داراحیاء التراث العربی)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/09/1442/2021/04/27
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:147

عبدالرحمن صاحب کا انتقال ہوا، پسِ ماندگان میں دو بیویاں،چھ بیٹے، چار بیٹیاں، دو بھائی اور ایک چچا چھوڑا، ترکہ میں چار لاکھ نقد اور تین بیگھے زمین چھوڑی ہے۔ شریعت کی روشنی میں مرحوم کی جائیداد کیسے تقسیم ہوگی؟

الجواب باسم ملھم الصواب

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ (سونا، چاندی، زیور، کپڑے وغیرہ) اور غیرمنقولہ (دکان، مکان وغیرہ) غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو، نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہوگا، اس کے بعد میت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں، جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہے: (1) سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا انتظام کردیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔ (2) اگر میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے ادا کیاجائے گا، خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہوجائے، واضح رہے کہ اگر مرحوم نے کسی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قرض شمار ہوگا۔ (3) اس کے بعد اگر میت نے کسی غیروارث کے لئے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائیگی۔
ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد کل جائیدادِ منقولہ و غیرمنقولہ کے 128 برابر حصے کیے جائیں گے، جن میں سے16 حصے (٪6.25)ہر بیوی کو،14حصے ( ٪10.937) ہر بیٹے کو اور 7حصے ( ٪5.468) ہر بیٹی کو ملیں گے۔
اور نقد و زمین میں سے 25000 روپے ، 15 مرلہ ہر بیوی کو، 43750روپے،26.25مرلہ ہر بیٹےکواور 21875روپے 13.125مرلہ ہر بیٹی کو ملیں گے، بھائی اور چچا محروم ہوں گے۔

 

ا فی السراجی فی المیراث:(18، ط: البشریٰ)
اما للزوجات فحالتان: الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد و ولد الابن و ان سفل، و الثمن مع الولد او ولد الابن و ان سفل
و فی السراجی فی المیراث: (19، ط: البشریٰ)
و اما لبنات الصلب فاحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، و الثلثان للاثنتین فصاعدۃ، و مع الابن للذکر مثل حظ الانثیین و ھو یعصبھن
و فی المختصر للقدوری: (290، ط: مکتبہ الخلیل)
و الثمن للزوجات مع الولد او ولد الابن
و فی المختصر اللقدوری: (291، ط: مکتبہ الخلیل)
و الابن و ابن الابن و الاخوۃ یقاسمون اخواتھم للذکر مثل حظ الانثیین
و کذا فی کنز الدقائق: (498، ط: حقانیہ)
و کذا فی کنز الدقائق: (500، ط: حقانیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/288، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/298، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی المحیط البرھانی: (23/307، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (20/224، ط: فاروقیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:99

 

ہمارے علاقہ میں ایک حیلہ مروج ہے، جس کی حقیقت یہ ہے کہ جنازہ کے بعد کچھ لوگ دائرہ بناتے ہیں، میت کے وارث ایک قرآن شریف اور اس کے ساتھ کچھ نقدی باندھ کر اور کبھی صرف نقدی اس دائرہ میں لاتے ہیں، اور اس پر مخصوص الفاظ پڑھ کر دائرہ میں بیٹھنے والوں کے حوالے کرتے ہیں، جو ایک دوسرے کی ملکیت کرتے ہیں، اور متعدد دفعہ اس رقم کو اس دائرہ میں پھیرا جاتا ہے، اس کے بعد نصف رقم امام مسجد کو اور نصف رقم غرباء کو دے دی جاتی ہے۔ زید اس محلے کا فرد ہے، جو اس حیلۂ مروجہ کی مخالفت کرتا ہے او ر کہتا ہے کہ اس مروجہ حیلہ کا ثبوت ادلۂ شرعیہ سے نہیں، لہٰذا یہ بدعت ہے، کیا زید کا دعویٰ درست ہے؟ نیز جن شرائط کے ساتھ بعض فقہاء نے اس حیلہ کی اجازت دی ہے انہیں تفصیل سے تحریر فرمادیں۔ اور کیا آج کل ان شرائط کا لحاظ رکھاجاسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرعی نقطۂ نظر سے حیلۂ اسقاط کی حقیقت یہ ہے کہ کسی میت کے ذمے نمازوں اور روزوں کا فدیہ لازم ہے، اور اس نے ترکہ میں مال نہیں چھوڑا کہ جس سے فدیہ ادا ہوسکے، اس صورت میں فدیہ کی ادائیگی کا حیلہ یہ ہے کہ مجموعی فدیہ کی رقم کا اندازہ لگایا جائے، مثلاً چالیس ہزار روپے، اور کچھ رقم قرض لی جائے، مثلاً ایک ہزار روپے، اب اس ہزار روپے کا کسی فقیر کو اس نیت سے مالک بنادیا جائے اور قبضہ دےدیا جائے کہ یہ میت کے فدیہ کی رقم ہے، پھر وہ فقیر اپنی خوشی سے کسی دباؤ کے بغیر یہ ہزار روپے دینے والے کو ہبہ کردے اور قبضہ بھی دےدے، اب پہلا آدمی فقیر کو مذکورہ نیت کے ساتھ ہزار روپے کا بمع قبضہ مالک بنائے، فقیر حسبِ سابق رقم ہبہ کردے، اس طرح چالیس مرتبہ حقیقی طور پر ہزار روپے کے ہبہ کرنے اور مالک بنانے سے امید ہے کہ میت کا فدیہ ادا ہوجائے گا۔
لیکن مروجہ حیلۂ اسقاط چونکہ مندرجہ ذیل کئی مفاسد پر مشتمل ہے، اس لئے ناجائز ہے، اور اس کا چھوڑنا واجب و ضروری ہے: 1) جو قرآن اور نقد رقم دائرہ میں رکھی جاتی ہے وہ ورثہ کی اجازت کے بغیر میت کے ترکہ سے لی جاتی ہے۔ 2) اگر ورثہ میں کوئی یتیم ہوتو اس کا اجازت دینا معتبر نہیں ہے۔ 3) اگر سب ورثہ بالغ ہوں اور سب نے اجازت دےدی ہو تو بھی یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ اجازت طعنوں کے خوف اور رواج کے دباؤ میں آئے بغیر پوری خوش دلی سے دی گئی ہے۔ 4) اگر یہ سب باتیں نہ ہوں بلکہ کسی آدمی نے اپنی جیب سے رقم کا انتظام کردیا ہو تب بھی مروجہ حیلہ درست نہیں، کیونکہ جن لوگوں کو قرآن شریف اور نقد رقم دی جاتی ہے انہیں صحیح معنی میں مالک نہیں بنایاجاتا، اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ جس شخص کو رقم دی جاتی ہے اگر وہ اسے اپنے پاس رکھ لے اور دوسرے کو مالک نہ بنائے تو دینے والے اس کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ 5) یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو مالک بنایا جائے وہ زکوۃ کا مستحق ہو۔ 6) اگر اس کا بھی اہتمام کرلیاجائے تو آخر میں رقم جس کے پاس پہنچے گی وہ اس کامالک ہوگا، اس کی رضامندی کے بغیر آدھی رقم امام مسجد کو دینا اور آدھی رقم غرباء میں تقسیم کرنا حرام اور ناجائزہے۔
اگر بالفرض حیلۂ اسقاط مذکورہ تمام مفاسد سے خالی ہو تب بھی اس کو ہر میت کے لئے لازم و ضروری سمجھنا اور جو یہ حیلہ نہ کرے اس کو برا بھلا کہنا بجائے خود بدعت ہے، جس کا ناجائز ہونا حدیثِ پاک سے ثابت ہے۔
اللہ کریم ہم سب کو بدعات و رسومات سے بچ کر شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطاء فرمائے، آمین۔

لما فی التنویر و الدر:(2/72-73،ط: ایچ ایم سعید)
و لومات و علیہ صلوات فائتۃ و اوصی بالکفارۃ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر . . .و انما یعطی من ثلث مالہ و لولم یترک مالا یستقرض وارثہ نصف صاع مثلاً و یدفعہ لفقیر ثم یدفعہ الفقیر للوارث ثم و ثم حتی یتم
وفی الھندیہ:(1/125،ط: رشیدیہ)
اذا مات الرجل و علیہ صلوات فائتۃ فاوصی بان تعطی کفارۃ صلواتہ یعطی لکل صلاۃ نصف صاع من بر . . .و ان لم یترک مالا یستقرض ورثتہ نصف صاع و یدفع الی مسکین ثم یتصدق المسکین علی بعض ورثتہ ثم یتصدق ثم و ثم حتی یتم لکل صلوۃ ماذکرنا
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1152،ط: رشیدیہ)
و تؤخذ الکفارۃ و فدیۃ الصوم من ثلث مال المتوفی فان لم یکن لہ مال یستقرض وارثہ نصف صاع مثلاً و یھبہ للفقیر، ثم یھبہ الفقیر لولی المیت و یقبضہ، ثم یدفعہ الولی للفقیر، فیسقط من الصلاۃ و الصوم بقدرہ، و ھکذا حتی یتم اسقاط ماکان علیہ من صلاۃ و صوم
وکذافی خلاصہ الفتاوی:(1/192،ط: رشیدیہ)
وکذا فی ھامش حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/307-308،ط: رشیدیہ)
وکذا فی غنیہ المتملی:(535،ط: رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الولوالجیہ:(1/88،ط: مکتبہ الحرمین الشریفین)
وکذا فی صحیح البخاری:(2/642،ط: رحمانیہ)
وکذا فی سنن ابی داود:(2/290،ط: رحمانیہ)
وکذا فی مشکوہ المصابیح:(1/261،ط: رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:54

حجِ قران، تمتع اور افراد کیا ہے اور ان میں سے کونسا افضل ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

حجِ افراد یہ ہے کہ حاجی صرف حج کرے، عمرہ نہ کرے۔
حجِ تمتع یہ ہے کہ حاجی ایک ہی سفر میں حج کے ساتھ عمرہ بھی کرے، لیکن اس طرح کہ پہلے عمرہ کرکے احرام کھول دے، اور پھر حج کا احرام باندھ کر حج کرے۔
حجِ قران یہ ہے کہ حاجی ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ دونوں کرے۔
حجِ قران سب سے افضل ہے۔

لما فی غنیہ الناسک فی بغیہ المناسک: (201، ط: ادارہ القرآن و العلوم الاسلامیہ)
القران افضل من التمتع عندنا …و ھو ان یجمع بین احرامی العمرۃ و الحج و یؤدیھما فی اشھر الحج
و فی الموسوعہ الفقھیہ (17/42 الی 43، ط: علوم اسلامیہ)
یؤدی الحج علی ثلث کیفیات، و ھی: ا- الافراد: و ھو ان یھل الحاج ای ینوی الحج فقط عند احرامہ ثم یاتی باعمال الحج وحدہ.ب- القران: وھو ان یھل بالعمرۃ و الحج جمیعا، فیاتی بھما فی نسک واحد …ج- التمتع: و ھو ان یھل بالعمرۃ فقط فی اشھر الحج، و یاتی مکۃ فیؤدی مناسک العمرۃ، و یتحلل، ویمکث بمکۃ حلالا، ثم یحرم بالحج و یاتی باعمالہ
و فی الموسوعہ الفقھیہ (17/44، ط: علوم اسلامیہ)
ذھب الحنفیۃ الی ان افضلھا القران، ثم التمتع ثم الافراد
و کذا فی المختصر للقدوری (62 ط: مکتبہ الخلیل)
و کذا فی المختصر للقدوری (63، ط: مکتبہ الخلیل)
و کذا فی ارشاد الساری (284، ط: فاروقیہ)
و کذا فی ارشاد الساری (298، ط: فاروقیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (2/377 الی 378، ط: رشیدیہ)
و کذا فی البحر الرائق (2/625، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المحیط البرھانی (3/456، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی المبسوط للسرخسی (4/25، ط: دار المعرفہ)
و کذا فی الفتاوی الھندیہ (1/237 الی 238، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/06/1442/ 2021/02/02
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:78

نمازِ جنازہ سے فارغ ہوکر اگر کوئی شخص تدفین کے لئے قبرستان نہ جاسکتاہو تو کیا واپس آنے کے لئے ولی سے اجازت لینا ضروری ہے؟ اگر کوئی میت کے ولی کو بتائے بغیر آجائے تو کیا حکم ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

تدفین سے پہلے واپس جانے کے لئے میت کے لواحقین سے اجازت لینا مستحب اور اجازت لیے بغیر جانا جائز ہے لیکن ناپسندیدہ ہے۔

لما فی الھندیہ: (1/165، ط: رشیدیہ)
ولاینبغی ان یرجع من جنازۃ حتی یصلی علیہ و بعد ماصلی لایرجع الا باذن اھل الجنازۃ قبل الدفن و بعد الدفن یسعہ الرجوع بغیر اذنھم
و فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ: (1/451، ط: حقانیہ بشاور)
یکرہ الرجوع قبل الصلاۃ مطلقاً، و اما بعد الصلاۃ فلایکرہ الرجوع ان اذن بہ اھل المیت
و کذا فی الخانیہ (1/190، ط: رشیدیہ)
و کذا فی خلاصہ الفتاوی (1/225، ط: رشیدیہ)
و کذا فی غنیہ المتملی (593، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ (3/39، ط: فاروقیہ)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (16/17، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی مصنف ابن ابی شیبہ (3/5، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)
و کذا فی مصنف عبدالرزاق (3/513، ط: المکتب الاسلامی بیروت)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (2/1544 الی 1545، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2021/02/19/06/07/1442
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:96

قرآنِ کریم میں ہے کہ بنی اسرائیل نے انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا تھا، یہ فرمائیں کہ کتنے انبیاء علیہم السلام کو اور کیسے شہید کیا تھا؟

الجواب باسم ملھم الصواب

کچھ روایات میں ہے کہ بنی اسرائیل نے ایک دن میں ستر (70) انبیاء علیہم السلام کو شہید کیا تھا، جبکہ دوسری تفسیری روایات میں ہے کہ ایک دن میں تقریباً تین سو (300) انبیاء کرام علیہم السلام کو بیت المقدس میں اس بدنصیب قوم نے خاک و خون میں غلطاں کیا، جن میں سرِفہرست حضرت زکریا، حضرت شعیا اور حضرت یحی علیہم السلام ہیں۔ حضرت زکریا اور حضرت شعیا علیہما السلام کو آرے سے چیراگیا جبکہ حضرت یحی (علی نبینا و علیہم الصلوۃ و السلام) کا سرقلم کردیا گیا۔ اعاذنا اللہ من فعلھم القبیح

لما فی الاکلیل علی مدارک التنزیل و حقائق التاویل: (1/398-399، ط: دار الکتب العلمیہ)
شعیاء بن امضیاء … و کان نبیا قبل زکریا و یحی و عیسیٰ، … و لما ارادوا قتلہ ھرب منھم، فلقیتہ شجرۃ فانفلقت لہ فدخلھا، فادرکہ الشطان فاخذ بھدبۃ من ثوبہ فاراھم ایاھا، فوضعوا المنشار فی وسطھا فنشروھا حتیٰ قطعوھا و قطعوہ، و ھو فی وسطھا، …و قتل زکریا (کما قتل شعیاء، ای بالمنشار “ھامشہ”) بعد قتل یحی ابنہ … و یحی بن زکریا صلی اللہ علی نبینا و علیھم الصلوۃ و السلام … و اتفقوا علی ان قتل ظلما شہیدا، و اخذ راسہ و وضع فی طست و غضب اللہ علیٰ قاتلیہ
و فی البحر المحیط: (1/399، ط: دار الکتب العلمیہ)
قتلوا یحی و شعیا و زکریا، و روی عن ابن مسعود قتل بنواسرائیل سبعین نبیا و فی روایۃ ثلاثمائۃ نبی فی اول النھار
و فی تفسیر الخازن: (1/58، ط: رشیدیہ)
يروى أن اليهود قتلت سبعين نبيا في أول النهار، وقامت إلى سوق بقلها في آخره وقتلوا زكريا ويحيى وشعياء
و کذا فی تفسیر ابن کثیر: (1/106، ط: رشیدیہ)
و کذا فی تفسیر ابن کثیر: (1/405، ط: رشیدیہ)
و کذا فی تفسیر ابن کثیر: (1/363، ط: رشیدیہ)
و کذا فی الاکلیل علی مدارک التنزیل و حقائق التاویل: (1/508، ط: دار الکتب العلمیہ)
و کذا فی تفسیر المظہری: (1/85، ط: رشیدیہ)
و کذا فی تفسیر القرطبی: (4/46، ط: دار احیاء التراث العربی)
و کذا فی ھامش تفسیر الخازن: (1/70، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/ 2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:101

ہمارے گاؤں میں کچھ دنوں سے جمعہ کی نمازکے بارے میں بات چل رہی ہے، احباب کا اصرار ہے کہ نمازِ جمعہ گاؤں میں ہی ادا کی جائے، گاؤں کے احوال کو دیکھتے ہوئے آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ شریعت کا کیا حکم ہے؟ گاؤں میں آبادی ساٹھ سے ستر گھر ہیں اور مسجد میں نمازیوں کی تعداد بیس سے پچیس ہے۔ ایک دوکان ہے جس سے تمام ضرورت کی چیزیں میسر نہیں ہوتیں، سبزی گوشت وغیرہ نہیں ملتا اور کپڑے وغیرہ کی بھی کوئی دوکان نہیں ہے، ڈاکٹر کی سہولت بھی نہیں ہے، غرضیکہ ضرورتہائے زندگی کا کوئی مناسب نظم نہیں ہے۔ اڑھائی تین کلومیٹر قریب بڑا گاؤں ہے جس سے تمام ضروریات مثلاً کھانا، پینا، راشن، دوا، تعلیم وغیرہ پوری کی جاتی ہیں۔ ازراہِ کرم آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ہم اپنے گاؤں میں نمازِ جمعہ ادا کرسکتے ہیں یا حسبِ سابق ساتھ والے گاؤں میں اداکریں۔ اللہ پاک آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائیں، اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا پڑوس نصیب فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے ایسا بڑا شہر یا قصبہ ہونا ضروری ہے جس میں اکثر ضروریاتِ زندگی بآسانی میسر ہوں۔ مثلاً اس میں ایسا بازار ہو جس میں کریانہ، منیاری اور جوتے کپڑے کی دوکانیں، آٹاچکی، میڈیکل سٹور اور ڈاکٹر، لوہار و درکھان وغیرہ موجود ہوں۔
چونکہ مذکورہ گاؤں میں اکثر ضروریاتِ زندگی میسر نہیں ہیں اس لئے وہاں جمعہ جائز نہیں ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/439،ط: دار احیاء التراث العربی)
ظاھر المذھب ان المصر الجامع ان یکون فیہ جماعات الناس و جامع و اسواق للتجارات .. . الخ
وفی الشامیہ:(2/137،ط: رشیدیہ)
عن ابی حنیفۃ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک و اسواق و لھا رساتیق و فیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ و علمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما یقع من الحوادث و ھذا ھو الاصح
وکذافی بدائع الصنائع:(1/585،ط: رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/246،ط: رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/547-549،ط: فاروقیہ کوئتہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:53

بارہ ربیع الاول کے دن اگر چند دوست اکٹھے ہوکر سیرت کے عنوان سے جلسہ کا انعقاد کریں اور کھانے کا انتظام کرنے کے لئے پیسے اکٹھے کریں اور کھانا کھائیں، کھلائیں۔ کیا یہ سب جائز ہے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

1)

نبی کریم ﷺکی حیاتِ طیبہ کے تذکرہ میں اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ یہ مبارک مجلس بدعات و رسومات سے پاک ہو اور محض رواج کے دباؤ پر اس کا اہتمام نہ ہو بلکہ آقاءِ کریم ﷺکی سیرت اور سنتوں کی ترویج ہو تو نہ صرف یہ کہ ایسی مجالس جائز بلکہ باعثِ نجات ہوں گی۔ 2) اگر دوست خوش دلی سے پیسے دینے پر آمادہ ہوں تو کھانے کا انتظام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ 3) اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبیِ کریم ﷺکی مبارک سنتوں پر عمل کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔

لما فی امداد الفتاوی:(6/312، ط: مکتبہ دارالعلوم)
و الاحتفال بذکر الولادۃ الشریفۃ ان کان خالیاً من البدعات المروجۃ فھو جائز بل مندوب کسائر اذکارہ
و فی الصحیح لمسلم: (2/77، ط: قدیمی)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: من احدث فی امرنا ھذا مالیس منہ فھو رد
و فی سنن ابی داود: (2/290، ط: رحمانیہ)
و ایاکم و محدثات الامور فان کل محدثۃ بدعۃ و کل بدعۃ ضلالۃ
و کذا فی الموافقات للشاطبی (1-2/499، ط: دارالمعرفہ)
و کذا فی مشکوۃ المصابیح (1/261، ط: رحمانیہ)
و کذا فی صحیح البخاری: (2/642، ط: رحمانیہ)
و کذا فی سنن النسائی (1/253، ط: رحمانیہ)
و کذا فی سنن ابن ماجہ (99، ط: رحمانیہ)
و کذا فی سنن الدارمی (1/57، ط: قدیمی)
و کذا فی الموسوعہ الفقھیہ (8/24، ط: علوم اسلامیہ)
و کذا فی الترغیب و الترھیب (1/40، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/07/1442/ 2021/03/03
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:109

ایک شخص کے کاروبار میں اس کے بیٹے ہاتھ بٹاتے ہیں، اور باپ انہیں نفع میں سے کچھ رقم دے دیا کرتا ہے، زکوۃ کس پر ہوگی، صرف باپ پر یا دونوں پر؟

الجواب باسم ملھم الصواب

صورتِ مسئولہ میں زکوۃ باپ پر ہوگی، بیٹوں پر نہیں۔

لما فی الشامیہ: (4/325، ط: ایچ ایم سعید)
الاب و ابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ … فالکسب کلہ للاب … لکونہ معینا لہ
و فی الھندیہ: (2/329، ط: رشیدیہ)
الاب و ابنہ یکتسبان فی صنعۃ واحدۃ … فالکسب کلہ للاب … لکونہ معینا لہ
و کذا فی الھندیہ (1/172، ط: رشیدیہ)
و کذا فی بدائع الصنائع (2/82، ط: رشیدیہ)
و کذا فی التنویر و الدر مع الرد (2/263، ط: ایچ ایم سعید)
و کذا فی البحر الرائق (2/355 الی 356، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط للسرخسی (2/164، ط: دار المعرفہ)
و کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ (3/234، ط: فاروقیہ)
و کذا فی البنایہ للعینی (3/344 الی 345، ط: رشیدیہ)
و کذا فی حاشیہ الطحطاوی (1/390، ط: رشیدیہ)
و کذا فی المبسوط للشیبانی (2/60، ط: عالم الکتب بیروت)
و کذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ (3/1797، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد زکریا غفرلہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/06/1442/2021/01/16
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:2