ایک شخص نے نماز میں غلطی سے”وجوہ یومئذ علیھا غبرۃ “ کی جگہ ”وجوہ یومئذ ترھقھا قترۃ“ پڑھ دیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز ہوگئی۔

لما فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(2/1038،رشیدیہ)
و لا تفسد لو زاد کلمۃ أو نقص کلمۃ او نقص حرفا أو قدمہ أو بدلہ بآخر…. إلّا اذا تغیر المعنی
وفی التاتارخانیة:(2/100،فاروقیة)
أما اذا لم یقف و وصل الآیۃ بالآیۃ ان کان لا یتغیر بہ المعنی نحو أن یقرأ ”وجوہ یومئذ علیھا غبرۃ ترھقھا قترۃ“ ثم قرأ بدون الوقف ”اولئک ھم الکافرون حقا…. فلا تفسد صلاتہ
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/256،الطارق)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/80،رشیدیة)
وکذافی الدر المختار:(2/476،رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/71،بیروت)
وکذافی الفتاوی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/153،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:158

اگر کسی کو نماز میں سجدہ سہو واجب تھا ،اس نے نماز میں پھر عمداً کوئی واجب چھوڑ دیا کہ سجدہ سہو تو واجب ہے ہی۔ اب اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عمداً واجب چھوڑ دینے کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوگی اور واجب الاعادہ ہوگی، کیونکہ عمداً ترک واجب کی تلافی سجدہ سہو سے نہیں کی جا سکتی۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/384،حقانیہ)
ولا یجب السجود اذا ترک الواجب عمدا …لأنہ ان ترک الواجب عمدا صحت صلاتہ مع الاثم و سقط عنہ السجود…فالسجود عند الحنفیۃ لا یکون إلّا عند السھو أما الترک عمدا فلم یشرع لجبرہ السجود
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1105،رشیدیہ)
ولا يشرع سجود السهو في حالة العمد لما رواه الطبراني عن عائشة:من سها قبل التمام، فليسجد سجدتي السهو قبل أن يسلم، فعلق السجود على السهو؛ ولأنه يشرع جبراناً للنقص أو الزيادة، والعامد لا يعذر، فلا ينجبر خلل صلاته بسجوده، بخلاف الساهي
وکذافی التاتارخانیة:(2/387،فاروقیة)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الأنھر:(1/219،المنار)
وکذافی البحر الرائق:(2/161،رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق علی ھامش البحر:(2/162،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(2/655،رشیدیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/126،رشیدیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(24/237،علوم اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:157

امام صاحب نے نماز پڑھاتے ہوئے ”انا انزلناہ فی لیلۃ القَدَرْ“(بفتح الدال) پڑھا ۔اگلی آیت میں بھی ”ماادراک ما لیلۃ القَدَرْ“ پڑھا تو کیا نماز پر کوئی اثر پڑا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز تو ہوگئی،مگر ایک گنا قرآن میں تحریف ہونے کی وجہ سے سخت گناہ ہوا ہے،لہٰذا ایسے آدمی کو جلدازجلد اپنی اصلاح کرنا چاہیے۔

لما فی الشامیہ:(2/474،رشیدیہ)
وأما المتأخرون كابن مقاتل وابن سلام وإسماعيل الزاهد وأبي بكر البلخي والهندواني وابن الفضل والحلواني، فاتفقوا على أن الخطأ في الإعراب لا يفسد مطلقا ولو اعتقاده كفرا لأن أكثر الناس لا يميزون بين وجوه الإعراب. قال قاضي خان: وما قال المتأخرون أوسع
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1037،رشیدیہ)
وقال المتأخرون: إن الخطأ في الإعراب لا يفسد الصلاة مطلقاً، ولو كان اعتقاده كفراً؛ لأن أكثر الناس لا يميزون بين وجوه الإعراب
وکذافی الدر المختار:(2/474،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/110،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/81،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/76،بیروت)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(122،زمزم)
وکذافی غنیة المتملی:(476،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیہ:(1/139،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(33/52،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:149

ایک شخص فجر کے وقت اٹھا اور وقت کم سمجھ کرفرض ادا کرلیے بعد میں وقت دیکھاتو باقی تھا پھر اس نے اسی وقت سنتیں بھی ادا کر لیں ،کیا یہ دونوں نمازیں ہوگئیں ؟

الجواب باسم ملھم الصواب

فرض بلا کراہت ادا ہوگئے،البتہ سنتیں سورج طلوع ہونے کے بعد ادا کرنا چاہیئے تھیں ،طلوع سے پہلے ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، لہذااس کے ارتکاب پر گناہ ہوا۔

لما فی جامع الترمذی:(1/143،رحمانیہ)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ ـ ـ ـ ـ ـان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نھی عن الصلوۃ بعد الفجر حتی تطلع الشمس وعن الصلوۃ بعد العصر حتی تغرب الشمس
و قال العلامہ محمد یوسف البنوری رحمہ اللہ تعالی فی شرحہ معارف السنن:(2/121،سعید)
قال الطحاوی:جاءت الاثار عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم متواترۃ بالنھی عن الصلوۃ بعد الصبح وبعد العصر و عمل بذالک اصحابہ من بعدہ فلا ینبغی لاحد ان یخالف ذلک
وفی الشامیہ:(2/619،رشیدیہ)
ای لا یقضی سنۃ الفجر الا اذا فاتت مع الفجر فیقضیھا تبعا لقضائہ لو قبل الزوال واما اذا فاتت وحدھا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح و اما بعدطلوع الشمس فکذلک عندھما وقال محمد:احب الی ان یقضیھا الی الزوال کما فی الدرر قیل ھذا قریب من الاتفاق لانہ قولہ دلیل علی انہ لو لم یفعل لا لوم علیہ
و فی الھدایہ:(1/136،رشیدیہ)
واذا فاتتہ رکعتا الفجر لایقضیھا قبل طلوع الشمس لانہ یبقی نفلا مطلقا و ھو مکروہ بعد الصبح ولا بعد ارتفاعھا عند ابی حنیفہ و ابی یوسف و قال محمد :احب الی ان یقضیھا الی وقت الزوال
وکذافی المبسوط للسرخسی:(1/161،دارالمعرفہ) وکذا فی الھندیہ:(1/112،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/643،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/680،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(25/284،علوم اسلامیہ) وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/18،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1442/4/20/2020/12/6
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:191

ایک غریب آدمی نے نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو گیا تو یہ جانور اللہ کے نام پر دوں گا ۔ وہ کام تو ہو گیا لیکن یہ مذکور جانور اس وقت جوان ہے اور خاصا قیمتی ہے ،اس غریب آدمی کو فی الحال پیسوں کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ چاہتا ہے کہ اس جانور کو فروخت کر کے پیسے استعمال کر لےاور ایک دوسرے جانور کو جو کہ ابھی چھوٹا ہےجب وہ بڑا اور تیار ہو جائے تو اسے اللہ کے نام پر دے دے ۔ اس طرح کرنا شرعا درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !ایسا کرنا درست ہے ،بشرطیکہ دوسرا جانور قیمت میں پہلے جانور کے برابر یا زائد ہو،کم نہ ہو،لیکن نذر پورا کرنے میں بلا وجہ تاخیر کرنا درست نہیں۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(5/545،رشیدیہ)
ولو قال :للہ علی ان اذبح جزورا و اتصدق بلحمہ فذبح مکانہ سبع شیاہ جاز
وفیہ ایضا:(5/546،رشیدیة)
نذر ان یتصدق بعشرۃ دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ جاز ان ساوی العشرۃ )کتصدقہ بثمنہ
وفی المحیط البرھانی:(6/357،بیروت)
اذا نذر بھدی شاۃبعینھا فاھدی مثلھا اجزاہ وکذالک اذا نذر بعتق عبد بعینہ فاعتق مثلہ اجزاہ و ھذا قول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ ـ ـ ـ وفی البقالی عن ابی یوسف و محمد رحمھما اللہ تعالی انہ یجوز مثلہ او افضل منہ وفیہ ایضا انہ لا یجوز مطلقا
وکذا فی التاتار خانیہ:(6/290،فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/276،مکتبة المنار)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(330،البشری)
وکذا فی فتح القدیر:(5/88،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی الھندیة:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/129،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(2/340،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(244،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/12/2020/1442/4/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:38

ایک دینی مدرسہ کے مہتمم اور ناظم باپ بیٹا ہیں ۔ والد مہتمم اور بیٹے ناظم ہیں۔ مدرسہ کی عمارت میں مذکورہ بالا دونوں حضرات کےلیے ایک چھوٹا سا مکان ہے جس میں دونوں حضرات بمع اہل و عیال رہائش پذیر ہیں اور ان دونوں حضرات کے بمع اہل وعیال کھانے پینے کے اخراجات مدرسے پر ہیں۔ مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ مدرسہ میں تقریبا گیارہ مدرسین ہیں۔ کچھ اساتذہ کے گھر مدرسہ سے دور ہیں اور وہ مکمل ہفتہ مدرسہ میں رہتے ہیں اور ان کے کھانے کے علاوہ کوئی قابل ذکر سہولت مدرسہ کی طرف سے نہیں ۔ اگر کوئی مدرس مدرسہ کے قریب بمع اہل وعیال رہائش اختیار کرےتو اس مدرس کو اہل وعیال کا کھانا گھر لے جانے کی اجازت نہیں حتی کہ اپنا کھانا بھی،جبکہ مہتمم اور ناظم صاحب کا تمام تر سہولیات کے علاوہ وظیفہ بھی بقیہ مدرسین کی بنسبت تقریباً زیادہ ہے۔دوسرے اساتذہ مالی طور پر کمزور ہیں اور کچھ مدرسین گزشتہ 18، 20 سال سے تدریس کررہے ہیں اور وظیفہ 9 ہزار سے 10 ہزار تک ہے، لہذا ازروئے شرع مہتمم صاحب اور ناظم صاحب کا اساتذہ سے ایسا برتاؤ کیسا ہے؟ نیز مہتمم صاحب اور ناظم صاحب ضرورتاً ادارہ کی سہولیات لے سکتے ہیں تو ضرورت کا معیار کیا ہوگا؟ جبکہ مدرسہ کی شوریٰ بھی برائے نام ہے یعنی غیر فعال اور حالات مدرسہ سے غافل اور اہل شوری کو اختیارات بھی نہیں ،تمام تر اختیارات مہتمم صاحب کو ہیں،جبکہ مہتمم صاحب باشرع اور متقی انسان ہیں اور شریعت کی ہر بات بصدق دل تسلیم کرتے ہیں اور صاحب نسبت اور ملک کی مشہور شخصیت سے مجاز بیعت ہیں ۔ نیز مہتمم صاحب مدرسہ کے انتظامی امور بھلا وہ تعلیم کے حوالے سے ہی کیوں نہ ہوں ،مدرسین سے مشورہ بھی نہیں کرتے،حالانکہ مدرسہ کے وسائل بھی ہیں ۔ تنخواہوں میں کبھی سالانہ 500 کا اضافہ ہوتا ہے ، جبکہ ناظم صاحب کی تنخواہ میں 2500 تک کا اضافہ ہوتا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

وقف کے اموال درحقیقت واقفین کی امانتیں ہوتی ہیں اور منصب اہتمام پر فائز ہونے والا ان امانتوں کا امین ہوتا ہے ان اموال کے استعمال میں تھوڑی سی اونچ نیچ بھی خیانت کی حدود میں داخل کردیتی ہے ،لہذا وقف کے اموال میں تصرف کرتے وقت بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

کما فی الشامیة:(6/584،رشیدیہ)
قوله: غير مأمون إلخ) قال في الإسعاف: ولا يولى إلا أمين قادر بنفسه أو بنائبه لأن الولاية مقيدة بشرط النظر وليس من النظر تولية الخائن لأنه يخل بالمقصود

یہ بات بھی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی ادارے کا بڑا اور منتظم اپنے ماتحت کام کرنے والے لوگوں کا امیر ہوتا ہے اور جائز امور میں امیر کی اطاعت لازم اور ضروری ہوتی ہے ، لہذا تمام جائز امور میں صدق دل سے مہتمم صاحب کی اطاعت کرنا اور ان سے حسن ظن رکھنا مدرسین پر لازم ہے۔

لما فی قولہ تعالی:(النساء:59 )
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
وفی التفسیر المنیر:(3/134،امیر حمزہ)
ولما أمر الله الولاة والحكام بأداء الأمانات والحكم بين الناس بالعدل، أمر الرعية بطاعته عز وجل أولا بامتثال أوامره واجتناب نواهيه، ثم بطاعة رسوله ثانيا فيما أمر به ونهى عنه، ثم بطاعة الأمراء ثالثا، لكن تجب طاعة الأمراء أو السلطان فيما فيه طاعة، ولا تجب فيما كان لله فيه معصية

باقی مراتب اور ذمہ داریوں کے مختلف ہونے سے تنخواہوں میں تفاوت تو یہ شرعا ممنوع نہیں۔ علم، تفقہ اور فضل میں مختلف مراتب کے اعتبار سے تنخواہوں میں کمی زیادتی کے جواز کی خود فقہاء نے صراحت فرمائی ہے۔

کما فی الدر المختار:(6/339،رشیدیہ)
“ويعطي بقدر الحاجة والفقه والفضل.”
وفی الشامیة:(6/339،رشیدیہ)
فله أن يعطي الأحوج أكثر من غير الأحوج، وكذا الأفقه والأفضل أكثر من غيرهما وظاهره أنه لا تراعى الحاجة في الأفقه والأفضل، وإلا فلا فائدة في ذكرهما، ويؤيده أن عمر – رضي الله تعالى عنه  كان يعطي من كان له زيادة فضيلة، من علم، أو نسب أو نحوه ذلك أكثر من غيره

البتہ کسی کی تنخواہ میں اس کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر زیادتی، جبکہ تنخواہوں کی ادائیگی اموال وقف میں سے ہو،اسی طرح باوجود وسعت کے کسی کو اس کے استحقاق سے کم تنخواہ دینا کہ اس کی ضروریات کی بھی کفالت نہ ہو سکے ،دونوں امر قطعاً درست نہیں۔

لما فی مشکوۃ المصابیح:(1/264،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر ورجل باع حرا فأكل ثمنه ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره
و فی المرقاة:(6/178،التجاریہ)
ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه) أي: ما أراد به من العمل أتى به تهجينا للأمر وزيادة للتقريع (ولم يعطه أجره) وفي رواية ابن ماجه ولم يوفه أي لم يعطه أجره وافيا
وفی الدر المختار:(6/339،رشیدیہ)
ويعطي بقدر الحاجة والفقه والفضل فإن قصر كان الله عليه حسيبا
وفی الشامیہ:(6/339،رشیدیہ)
ويجب على الإمام أن يتقي الله تعالى ويصرف إلى كل مستحق قدر حاجته من غير زيادة فإن قصر في ذلك كان الله تعالى عليه حسيبا
وفی البحر الرائق:(5/201،رشیدیہ)
ويجب على الإمام أن يتقي الله تعالى ويصرف إلى كل مستحق قدر حاجته من غير زيادة فإن قصر في ذلك كان الله تعالى عليه حسيبا

باقی رہا وقف کے اموال میں سے متولی کا ذاتی ضرورت کےلیے کچھ لینا تو اس کا مدار شریعت نے واقف کی اجازت اور عرف پر رکھا ہے، لہذا واقف جن چیزوں سے متعلق متولی کو ذاتی استعمال میں لانے کی اجازت دےدے یا عرف میں متولی کو جن چیزوں کے استعمال کی اجازت سمجھی جاتی ہو، اسی قدر اشیاء کو ذاتی استعمال میں لانے کی اجازت ہے ،اس سے زائد کا ذاتی استعمال اموال وقف میں خیانت ہوگی، لہذا مہتمم صاحب کو چاہیے کہ اپنے علاقہ کے قابل اعتماد اکابر و مشائخ اور علماء کرام کی خدمت میں اپنی ذمہ داریوں و ضرورتوں کی تفصیل پیش کرکے مشاورت سے وظیفہ و سہولیات طے کروا لیں پھر اس کی پابندی کریں۔

لما فی البحر الرائق:(5/419،رشیدیہ)
بعث شمعا في شهر رمضان إلى مسجد فاحترق وبقي منه ثلثه أو دونه ليس للإمام ولا للمؤذن أن يأخذ بغير إذن الدافع ولو كان العرف في ذلك الموضع أن الإمام والمؤذن يأخذه من غير صريح الإذن في ذلك فله ذلك

مدرسہ کے اہم انتظامی اور تعلیمی امور باہم مشورہ سے ہی طے پانے چاہییں۔ خود قرآن کریم میں اہل ایمان کی اس نمایاں صفت کو بیان کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے

أَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُم” [الشورى: 38]

اسی طرح خود رحمت دو عالم ﷺ باوجود کامل العقل اور اعلم الناس ہونے کے، اپنے صحابہ کرام سے مختلف امور میں مشورہ فرمایا کرتے تھے۔
باہم مشورہ سے امور کا سر انجام دینا خیروبرکت کا ذرریعہ ہوتا ہے ۔اگر اس کا اہتمام کرلیا جائے تو یقیناً اس سے باہم اتحاد کی فضا قائم ہوگی اور آپس میں انسیت و محبت کا ماحول پیدا ہوگا، رنجشیں اور دوریاں ختم ہوں گی۔

لما فی التفسیر المنیر:(13/87،امیرحمزہ)
وإذا كانت الآية هنا تقرر وصفا ثابتا للمؤمنين، فقد أمر الله تعالى بالشورى في آية أخرى، فقال: وَشاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ وقال الحسن البصري رحمه الله: «ما تشاور قوم إلا هدوا لأرشد أمورهم»وقال ابن العربي : الشورى ألفة للجماعة، ومسبار للعقول، وسبب إلى الصواب، وما تشاور قوم إلا هدوا

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:4

زید کے والد وفات پا گئےہیں۔اب زید کی4 حقیقی بہنیں، 3 حقیقی بھائی، والدہ اور دادی زندہ ہیں۔ زید کے والد نے 896700 روپے نقدی اور 3 ایکڑ زمین ترکہ میں چھوڑی ہے۔ شرعی تقسیم بتلا دیں۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا تووہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے 288 برابر حصے بنا کر ان میں سے36 حصے (٪12.5) میت کی بیوی کو،48حصے (٪16.666) میت کی ماں کو، اور17حصے(٪5.902) ہربیٹی کو اور 34 حصے (11.805%) ہر بیٹے کودیں گے۔
سوال میں مذکور نقدی (896700)میں سے 112087.5روپے بیوی کو،149450روپے ماں کو،52930.208 روپےہر بیٹی کواور105860.416 روپے ہر بیٹے کوملیں گے۔
سوال میں مذکور زمین(3 ایکڑ) میں سے میت کی بیوی کو3 کنال، میت کی ماں کو 4 کنال ،ہر بیٹی کو 1.416 کنال اور ہر بیٹے کو2.833 کنال دیں گے۔

لمافی القرآن المجید:( النسآء:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن
وفیہ ایضاً:(النسآء:11)
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ
وفیه ایضاً:(النسآء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ
و فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(10/7773،رشیدیہ)
التعصیب بالغیر :مع الابن الذکر فیاخذالذکر ضعف الانثی سواء تعددت البنات او تعدد الابناء
و فی الموسوعة الفقھیة:(3/31،علوم اسلامیہ)
للام فی المیراث ثلاث حالات اولھا ان ترث بطریق الفرض و یکون فرضھا السدس و ذلک اذا کان للمیت فرع
و فی کنز الدقائق:(497،حقانیة)
و للزوجة الربع و مع الولد و ولد الابن و ان سفل الثمن و للبنت النصف و للاکثر الثلثان و عصبھا الابن و لہ مثل حظھما
وکذا فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(10/7775،7787،رشیدیہ )
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/36،37،علوم اسلامیة)
وکذا فی کنز الدقائق:(497،حقانیة)

واللہ خیر الوارثین
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:176

 

زید فوت ہوگیا ہے اور ورثہ میں 5 بیٹیاں ،3 بیٹے، ایک دادی اور والد ہیں اور ترکہ میں 20 ایکڑ زمین،50 من گندم،6 تولہ سونا اور دس لاکھ بینک بیلنس ہے۔ میراث کی شرعی تقسیم کیا ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائےگا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے 3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےخواہ زمین ہو یا فصل وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا
کل ترکہ کے 66 برابرحصے بنائیں،ان میں سے11حصے(٪16.66)باپ کو،11حصے(٪16.66)دادی کو،8حصے (٪12.121)ہر بیٹے کواور4 حصے(6.06%) ہر بیٹی کو دے دیے جائیں۔
سوال میں مذکور بینک بیلنس (10 لاکھ )میں سےباپ کو166666.67روپے،دادی کو بھی166666.67روپے، ہر بیٹے کو 121212.12روپے اور ہر بیٹی کو 60606.06 روپےملیں گے۔20 ایکڑ زمین میں سےباپ کو 26.66کنال، دادی کو 26.66کنال ،ہر بیٹے کو 19.393کنال اور ہر بیٹی کو 9.696کنال دی جائیں گی۔50 من گندم میں سے باپ کو8.33 من، دادی کو8.33 من، ہر بیٹے کو6.06من اور ہر بیٹی کو3.03 من دی جائے گی۔سونے میں سے باپ کو 12 ماشے،دادی کو 12 ماشے، ہر بیٹے کو8.72 ماشے اور ہر بیٹی کو4.36 ماشے دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن المجید:( النساء:12)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ
وفیہ ایضا
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ
وفی سنن ابن ابی داؤد:(2/53،رحمانیہ)
عن ابی بریدۃ عن ابیہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم جعل للجدۃالسدس اذا لم تکن دونھا ام
وفی الموسوعة الفقھیة:(3/30،35،37،علوم اسلامیہ)
للاب فی المیراث ثلاث حالات: الاولی ان یرث بطریق الفرض فقط وذلک اذا کان للمیت فرع وارث مذکر. . . .میراثہ فی ھذہ الحالۃ السدس
وفیہ ایضا
ویکون فرضھا السدس تستقل بہ الجدۃ الواحدۃ وتشترک فیہ الجدات
وفیہ ایضا
احوال البنات. . . .ان یکون معھن ابن صلبی او ابناء ففی ھذہ الحالۃ یکون الجمیع عصبۃ للذکر مثل حظ الانثیین
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7754،7775،7790،رشیدیہ)
وفی التنویر مع الدر المختار:(10/554،548،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:177

 

استرے سے مونچھیں صاف کرنے میں کوئی حرج ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مونچھوں کا قصر(یعنی قینچی وغیرہ سے تراشنا) اور حلق (یعنی استرے وغیرہ سے بالکل صاف کرنا) دونوں جائز ہیں،البتہ افضلیت میں اختلاف ہے۔
بعض علماء کے ہاں حلق(استرے وغیرہ سے صاٖف کرنا) افضل ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نے اسے امام صاحب اور صاحبین رحمہم اللہ کا مذہب قرار دیا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں

قصہ حسن و احفاءہ أحسن و أفضل و ھذا مذھب ابی حنیفۃ و ابی یوسف و محمد رحمہم اللہ

(شرح معانی الآثار:2/317،رحمانیہ)
اسی قول کی بناء پر فقیہ العصر حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں
”صحیح یہی ہے کہ حلق بھی سنت ہے ،بلکہ سنت کا اعلی درجہ ہے“ (احسن الفتاوی:8/448،سعید)
البتہ اکثر اہل علم کے ہاں قصر افضل ہے ۔علامہ کاسانی علیہ الرحمۃ نے اسی قول کو صحیح قرار دیا ہے،چنانچہ فرماتے ہیں

قوله ” أخذ من شاربه ” إشارة إلى القص، وهو السنة في الشارب لا الحلق.وذكر الطحاوي في شرح الآثار: أن السنة فيه الحلق، ونسب ذلك إلى أبي حنيفة، وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله والصحيح أن السنة فيه القص
(بدائع الصنائع:2/422،رشیدیہ)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں
مونچھیں اتنی چھوٹی کرنا کہ ہونٹ کے کنارے کے برابر ہو جائیں سنت ہے اور استرے یا بلیڈ سے منڈوانے میں اختلاف ہے، بعض اس کو بدعت کہتے ہیں اور بعض اجازت دیتے ہیں، لہٰذا نہ منڈانے میں احتیاط ہے۔“ (تسہیل بہشتی زیور:2/280،الحجاز کراچی)
اسی طرح بعض دیگر فتاوی مثلاًفتاوی محمودیہ(19/423،جامعہ فاروقیہ)،کفایت المفتی(12/338،ادارۃ الفاروق)اور آپ کے مسائل اور ان کا حل(8/314،لدھیانوی)وغیرہ میں بھی قصر(قینچی وغیرہ سے تراشنے ) کاافضل ہونا مذکور ہے۔
ہماری ناقص رائے میں بھی ان جمہور اہل علم کا قول راجح ہے،لہذا قصر افضل ہے۔

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:23

ایک طالب علم کے بیوی بچوں کا اور گھر والوں کا خرچہ اس کا بڑا بھائی برداشت کرتا ہے، مگر اس بھائی کا کاروبار ایک شہر سے دوسرے شہر نشہ والی چیزیں لے جانا ہے۔کیا اس کا یہ کاروبار کرنا صحیح ہے؟ اور اگر صحیح نہیں تو گھر والوں اور اس طالب علم کو کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منشیات کی اسمگلنگ کا عمل شرعاً و قانوناً ناجائز ہے،لہذا اس کی آمدنی استعمال کرنے سے بچا جائے اور حلال ذریعہ معاش اختیار کیا جائے۔
طالب علم کو چاہیے کہ اپنے اہل وعیال کےلیے رزق حلال کا انتظام کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر تحصیل علم بھی ہوسکے تو بہت بہتر ہے ورنہ بقدر ضرورت علم کے حصول پر اکتفاء کرے اور کسب حلال میں مشغول ہو جائے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(5/24،علوم اسلامیة)
يحرم على المسلم تملك أو تمليك الخمر بأي سبب من أسباب الملك الاختيارية أو الإرادية كالبيع والشراء والهبة ونحو ذلك لقوله عليه الصلاة والسلام: إن الذي حرم شربها حرم بيعها
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(7/5512،5516،رشیدیة)
من أشهر أنواع المخدرات: الحشيشة، والأفيون، والكوكايين والمورفين والبنج ….إن الاتجار بالمخدرات بيعاً وشراء وتهريباً وتسويقاً أمر حرام كحرمة تناول المخدرات؛ لأن الوسائل في الشريعة تأخذ حكم المقاصد، ويجب سد الذرائع إلى المحرمات بمختلف الإمكانات والطاقات؛ لأن التاجر يسهِّل رواج المخدرات وتعاطيها، فيكون الثمن حراماً، والمال سُحْتاً، والعمل ضلالاً، والاتجار بها إعانة على المعصية، والبيع باطل، قال الله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى، ولا تعاونوا على الإثم والعدوان}ويكون النهي عن بيع الخمر والحكم ببطلانه شاملاً المخدرات؛ لما في ذلك من الإعانة على المعصية
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(3/284،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،64،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/445،الطارق)
وکذافی التاتارخانیة:(18/155،243،فاروقیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/79،83،علوم اسلامیة)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة :(1/339،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:147