ایک شخص نے کسی مجلس میں اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہا۔ نکاح رجسٹرار کو بلوایا، اس نے کہا لڑکی سے دستخط کروا کر لائیں۔ والد رجسٹر پر دستخط کروا کر لے آیا، لیکن لڑکی کو کچھ نہ بتایاکہ کس کے ساتھ اور کتنے مہر میں نکاح کیا ہے۔ نکاح خوان نے لڑکے سے ایجاب و قبول کرایا اور خطبہ پڑھ کر نکاح کردیا۔ بعد میں لڑکی نے پوچھا کہ میرا نکاح کس سے کیا ہے؟ تو اس کو بتلایا گیا،وہ اس پر خاموش رہی۔ اب گھر والوں کو وسوسہ آرہا ہے کہ پتا نہیں یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اگر ہوگیا ہو تو بھی وہ اپنے اطمینان کےلیے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نکاح نامے پر دستخط کرنا بھی لڑکی کی طرف سے اجازت ہی تھی اور مزید یہ بھی کہ کنواری بالغہ کی خاموشی بھی اجازت ہوتی ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں نکاح بلاشبہ منعقد ہوگیا ہے۔اس پر یقین رکھیں، بلاوجہ وساوس کا شکار نہ ہوں۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/75،بیروت)
اعلم بأن السكوت من البكر البالغة جعل رضاً بالنكاح سواء استأمرها الولي قبل النكاح أو زوجها الولي قبل الاستئمار، فبلغها الخبر فسكتت. والأصل فيه قوله عليه السلام: البكر تستأمر في نفسها فسكوتها رضاها
وفی بدائع الصنائع:(2/507،رشیدیہ)
ولو زوجها ثم أخبرها فقالت قد كان غيره أولى منه كان إجازة؛ ….لأن قولها في الفصل الثاني قبول أو سكوت عن الرد وسكوت البكر عن الرد يكون رضا
وفی کتاب الفقہ:(3/27،حقانیہ)
و لا یشترط فی البکر ان تصرح بالقبول بل یکفی ان یصدر منھا ما یدل علی الرضا کاَن تسکت ….ھذا اذا زوجھا الولی او وکیلہ او رسولہ او زوجھا الولی ثم اخبرھا
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/287،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/6718،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/155،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/114،فاروقیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(283،البشری)
وکذافی البحر الرائق:(3/200،رشیدیہ)
وکذافی المجلة:(24،قدیمی)
وکذافی درر الحکام فی شرح المجلة:(1/69،العربیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/1/2021/1442/6/4
جلدنمبر:22 فتوی نمبر:189

ایک آدمی دو رکعت نفل پڑھ رہا تھا ۔تشہد پڑھ کر غلطی سے تیسری رکعت کےلیے کھڑا ہوگیا پھر تین رکعت پوری کرکے سلام پھیر دیا ،سجدہ سہو بھی نہیں کیا ۔اب یہ بتلائیں کہ نفل ادا ہوئے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو اعادہ کتنی رکعت کا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نفل کراہت تحریمیہ کے ساتھ ادا ہوئے ہیں ۔اب دو رکعت کا اعادہ واجب ہے۔تیسری رکعت کےلیے چونکہ سہوا کھڑا ہوا تھا اس لیے شفع ثانی (تیسری،چوتھی رکعت) کا اعادہ لازم نہیں۔

لما فی الشامیة:(2/578،رشیدیہ)
يقضي ركعتين لو أتم الشفع الأول بقعدته ثم شرع في الثاني فنقضه في خلاله قبل القعدة…لكن ينبغي وجوب إعادة الأول لترك واجب السلام مع عدم انجباره بسجود سهو
وفی الجوھرة النیرة:(1/192،قدیمی)
من دخل فی صلوۃ نفل ثم أفسدھا قضاھا ھذا اذا دخل فیھا قصدا ، أما ساھیا کما اذا قام الی الخامسۃ ساھیا ثم أفسدھا لایقضیھا
وکذافی الدر المختار:(2/574،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/309،قدیمی)
وکذافی البحر الرائق:(2/127،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الأنھر:(1/209،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/642،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/319،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:20

ایک آدمی نے اپنے لیے اور اپنی بیوی کےلیے حج کی درخواستیں جمع کروائیں، جس کی مد میں 926890 روپے بینک میں جمع کروائے۔ بینک اتنی رقم ان لوگوں سے وصول کرتا ہے جو قربانی کی سہولت حاصل نہیں کرتے۔ کرونا وباء کی وجہ سے درخواستیں منسوخ ہوگئیں تو چند ماہ بعد بینک نے رقم واپس کردی۔ اب بینک نے وہ رقم واپس کی ہے جو بینک قربانی کی سہولت حاصل کرنے والوں سے وصول کیا کرتا ہے ،یعنی 972540 روپے۔ اب 45650 روپے زائد واپس کیے جارہے ہیں۔ یہ زائد رقم بینک کو واپس کرنے کی کوشش کی گئی، مگر بینک نے واپس نہیں لی اور کہا کہ ہمارے ریکارڈ کے مطابق آپ نے 972540 روپے ہی ادا کیے تھےجو آپ کو واپس کر دیے گئے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اس زائد رقم کو کہاں خرچ کیا جائے؟ کیا وہ آدمی یہ زائد رقم اپنے معذور فالج زدہ داماد کو دے سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ معاملہ کسی سرکاری بینک سے کیا گیا ہے تو یہ زائد رقم سرکاری خزانہ کی امانت ہے، لہٰذا اسے بینک کو واپس کرنےکی مزید کوشش کی جائے اور اس مقصد کےلیے بینک کے کسی آدمی سے راہنمائی لی جا سکتی ہے۔ اگر اس بینک کو واپسی نہ ہوسکے تو کسی دوسرے ذریعہ سے سرکاری خزانہ تک یہ رقم پہنچادی جائے۔
اور اگر یہ معاملہ کسی پرائیویٹ بینک سے کیا گیا ہے تو بھی یہ رقم اس بینک کی ملکیت ہے، اسی کو واپس کرنا ضروری ہے، تاہم اگر دونوں صورتوں میں واپسی کی کوئی صورت نہ بن سکے تو پھر یہ رقم بینک کی طرف سے فقراء پر خرچ کی جا سکتی ہے، لہٰذا مذکورہ شخص کا داماد اگر مستحق ہو تو اس پر بھی یہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔

لما فی البحر الرائق:(8/198،رشیدیہ)
قال رحمه الله:(ويجب رد عينه في مكان غصبه) لقوله عليه الصلاة والسلام :على اليد ما أخذت حتى ترد أي على صاحب اليد ولقوله عليه الصلاة والسلام لا يحل لأحد أن يأخذ مال أخيه لاعبًا ولا جادا وإن أخذه فليرده عليه
وفیہ ایضاً:(8/369،رشیدیہ)
ويردونه على أربابه إن عرفوهم، وإلا يتصدقوا به لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد
وکذافی الشامیة:(9/635،رشیدیہ) وکذافی التنویر مع الدر المختار:(6/434،رشیدیہ
وکذافی الھندیة:(5/349،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(18/158،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(34/245،علوم اسلامیہ) وکذافی المحیط البرھانی:(8/63،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:161

جناب نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہجرت کے سفر میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آپ کی معیت میں غار میں تشریف فرما تھے ،اس دوران سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا۔ آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن لگایا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی تکلیف ختم ہوگئی ۔ مدلل کتب سے دلائل کے ساتھ اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

تفسیر، حدیث اور تاریخ کی مختلف کتب میں یہ واقعہ متعدد طرق و اسناد سے مروی ہے۔ محدثین نے اگرچہ بعض طرق کو منکر اور ضعیف قرار دیا ہے ،مگر یہ واقعہ بعض دوسرے طرق سے بھی مروی ہے ،ان طرق و اسناد پر محدثین نے کسی قسم کے ضعف کا حکم نہیں لگایا ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ درست اور ثابت ہے۔

چنانچہ احادیث مبارکہ کی مشہور کتاب ”مشکوۃ المصابیح“ میں یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،اس کے الفاظ درج ذیل ہیں

”عن عمرذكر عنده أبو بكر فبكى وقال: وددت أن عملي كله مثل عمله يوما واحدا من أيامه وليلة واحدة من لياليه أما ليلته فليلة سار مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الغار فلما انتهينا إليه قال: والله لا تدخله حتى أدخل قبلك فإن كان فيه شيء أصابني دونك فدخل فكسحه ووجد في جانبه ثقبا فشق إزاره وسدها به وبقي منها اثنان فألقمها رجليه ثم قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ادخل فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم و وضع رأسه في حجره ونام فلدغ أبو بكر في رجله من الجحر ولم يتحرك مخافة أن ينتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم فسقطت دموعه على وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما لك يا أبا بكر؟ قال: لدغت فداك أبي وأمي فتفل رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهب ما يجده“ (مشکوۃ المصابیح:2/564،رحمانیہ)

ترجمہ:”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر چھیڑا گیا تو وہ رونے لگے اور پھر بولے مجھ کو آرزو ہے کہ کاش! میری پوری زندگی کے اعمال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے صرف اس ایک دن کے عمل کے برابر ہوجاتے جو آپ ﷺ کے زمانہ حیات کے دنوں میں سے ایک دن تھا اور ان کی اس ایک رات کے عمل کے برابر ہو جاتے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ حیات کی راتوں میں سے ایک رات تھی، یہ ان کی اس رات کا ذکر ہے جس میں وہ رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر ہجرت پر روانہ ہوئے اور غار ثور ان کی پہلے منزل بنا تھا ، جب آنحضرت ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اس غار پر پہنچے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کے واسطے آپ اس غار میں ابھی داخل نہ ہوں ، پہلے میں اندر جاتا ہوں تاکہ اگر اس میں کوئی موذی چیز ہو اور وہ ضرر پہنچائے تو مجھ کو ضرر پہنچائے نہ کہ آپکو۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غار میں داخل ہوگئے اور اس کو صاف کیا ۔ انہوں نے غار کے ایک کونے میں کئی سوراخ بھی دیکھےان میں سے بیشتر سوراخوں کو انہوں نے اپنے تہمند سے چیتھڑے پھاڑ کر بند کردیا اور جو دو سوراخ باقی رہ گئے تھے ان کے منہ میں وہ اپنے دونوں پاؤں اڑا کر بیٹھ گئے ۔پھر انہوں نےرسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اب اندر تشریف لے آئیے ، چنانچہ رسول کریم ﷺ غار میں داخل ہوئے اور اپنا سر مبارک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی گود میں رکھ کر سو گئے اسی دوران ایک سوراخ کے اندر سے سانپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاؤں میں کاٹ لیا ،لیکن آپ نے اس ڈر سے اپنی جگہ سے حرکت بھی نہیں کی کہ کہیں رسول کریم ﷺ جاگ نہ جائیں ۔آخر کار ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل گئے اور رسول کریم ﷺ کے چہرہ مبارک پر گرے ۔ آپ نے پوچھا ابوبکر یہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ! مجھے کسی زہریلے جانور نے کاٹ لیا ہے ۔ آپ ﷺ نے اپنا مبارک لعاب دہن ٹپکا دیا اور جو کیفیت ان کو محسوس ہو رہی تھی وہ فوراً جاتی رہی۔“ ( توضیحات:8/379،العربیہ)    استاذ المحدثین حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی علیہ الرحمۃ ”سیرت مصطفی“ میں فرماتے ہیں
”غار ثور میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سانپ نے ڈس لیا تھا تو آپ ﷺ نے لعاب دہن لگا دیا ، اسی وقت شفاء ہوگئی۔“
(سیرت المصطفی:3/486،الحسن)
اسی طرح یہ واقعہ بعض دیگر معتبر کتب میں بھی موجود ہے۔

لما فی فی تفسیر الخازن :(2/240،رشیدیہ)
روي عن عمر بن الخطاب أنه ذكر عنده أبو بكر فقال: وددت أن عملي كله مثل عمله يوما واحدا من أيامه وليلة واحدة من لياليه أما فليلته ليلة سار مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الغار فلما انتهيا إليه قال والله لا تدخله حتى أدخله قبلك فإن كان فيه شيء أصابني دونك فدخله فكنسه ووجد في جانبه ثقبا فشق إزاره وسدها به وبقي منهما ثقبان فألقمهما رجليه ثم قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم ادخل فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضع رأسه في حجره ونام فلدغ أبو بكر في رجله من الجحر ولم يتحرك مخافة أن ينتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم فسقطت دموعه على وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: مالك يا أبا بكر فقال: لدغت فداك أبي وأمي فتفل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فذهب ما يجده
وکذافی تفسیر المظھری:(3/290،رشیدیہ)
وکذافی روح المعانی للعلامة آلوسی رحمہ اللہ:(10/98،داراحیاء تراث)
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(3/240،نعمانیہ)
وکذافی کنز العمال:(12/222،رحمانیہ)
وکذافی دلائل النبوة للبیھقی:(2/476،بیروت)
وکذافی سیر أعلام النبلاء:(1/224،دارالفکر)
وکذافی البدایة و النھایة:(3/142،دارالکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:5

ایک بندہ جس کی بیوی نے کفریہ کلمہ کہا جو کہ اس نے اپنے پورے ہوش وحواس کے ساتھ ایک معمولی بات پر کہا ،جب اس کے شوہر نے اس سے صرف ایک مشورہ کی نیت سے اس کے بھائی(بیوی کے بھائی) کے ساتھ اپنی بہن کا رشتہ کرنے کی بات کی (اور یہ بات بھی شوہرنے اپنی والدہ کے کہنے پر کی تھی) تو اس کے جواب میں بیوی نے کہا کہ میرے بھائی کےلیے تو نے خاندان میں یہی لڑکی دیکھی ہے؟اور ساتھ ہی روتے ہوئے کہنے لگی کہ آپ نے یہ بات کیوں کی؟ تو شوہر نے کہا کہ میں نے صرف ایک تجویز دی ہے ، لازمی نہیں کہ ایسا ہی ہو ،مطمئن رہو۔اس پر بھی بیوی نے کہا کہ مجھے لگتا ہےکہ اللہ نے میرے ساتھ دھوکہ کیا (معاذاللہ) ۔ شوہر نے کہا کہ ایسا مت کہو تو بھی وہ اس پر نہ رکی۔ مسئلہ کا علم اس وقت دونوں کو نہیں تھا کہ کفریہ کلمہ کی وجہ سے بندہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے،اس وجہ سے انہوں نے تجدید ایمان اور تجدید نکاح نہ کیا ۔ کچھ عرصہ بعد کسی تنازع کی وجہ سے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں۔ کچھ عرصہ بعد ایک عالم دین سے اس مسئلہ کے بارے میں سنا تو اس کفریہ کلمہ سے متعلق پتا چلا۔ معلوم ہوا کہ نکاح سے وہ پہلے ہی خارج ہوچکی تھی،لہذا بعدوالی طلاق کی کوئی حیثیت نہ رہی۔ اس بارے میں اہلسنت والجماعت (دیوبند) کے مفتی عبید صاحب (جامعہ ابن عباس کراچی) سے واٹس ایپ پر پوچھا گیا تو صورت حال کو سمجھ کر انہوں نے بتلایا کہ وہ عورت کفریہ کلمہ کہنے کی وجہ سے ایمان سے خارج ہوگئی تھی ،لہذا نکاح بھی ختم ہوگیا تھا،اب دونوں تجدید ایمان و نکاح کرلیں، بعد والی طلاق کی تو اب کوئی حیثیت نہیں ،کیونکہ وہ کفریہ کلمہ کہنے کی وجہ سے اس کی بیوی رہی ہی نہ تھی اس لیے بعد والے معاملہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ اس بارے میں قرآن و حدیث سے راہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

علماء اہلسنت والجماعت کسی بھی مسلمان پر کفر کا حکم لگانے میں ہمیشہ انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں اور اس کے قول و فعل کو حتی الامکان درست محمل پر محمول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
صورت مسئولہ میں عورت نے مذکورہ کلمات چونکہ جہالت اور لاعلمی کی بنیاد پر کہے ہیں ، واقعتا اللہ تعالی کی ذات سے متعلق اس طرح کے نقص کا اعتقاد نہ تھا ،اس لیے اس عورت پر کفر وارتداد کا حکم لگانے سے احتراز کیا جائے گا،لہذا اس بناء پرنکاح ختم نہیں ہوا تھا اس لیے خاوند نے جو تین طلاقیں دی ہیں وہ واقع ہوگئیں اور عورت خاوند پر حرام ہوگئی۔
تاہم عورت نے اللہ تعالی کی ذات سے متعلق نازیبا کلمات بول کر سخت کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے ،لہذا فورا توبہ و استغفار کرے اور احتیاطا تجدید ایمان بھی کرلے۔

لما فی التاتارخانیة:(7/281،فاروقیہ)
یجب أن یعلم أنہ اذاکان فی المسئلۃ وجوہ توجب التکفیر و وجہ واحد یمنع التکفیر فعلی المفتی أن یمیل الی الوجہ الذی یمنع التکفیر تحسینا للظن بالمسلم
وفی الفتاوی الھندیة:(2/283،رشیدیہ)
ما کان فی کونہ کفرا اختلاف فان قائلہ یؤمر بتجدید النکاح و بالتوبۃ و الرجوع عن ذلک بطریق الاحتیاط ….اذاکان فی المسئلۃ وجوہ توجب الکفر و وجہ واحد یمنع فعلی المفتی أن یمیل الی ذلک الوجہ
وفی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیہ:(3/577،رشیدیہ)
أما الجاھل اذا تکلم بکفر و لم یدر أنہ کفر اختلفوا فیہ قال بعضھم لایکون کفرا و یعذر بالجھل و قال بعضھم یصیر کافرا و لایعذر بالجھل
وکذافی التاتارخانیہ:(7/282،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(6/353،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی السراجیہ:(304،زمزم)
وکذافی البحر الرائق:(5/210،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 198

عورت کا گھر میں اپنے محارم کے سامنے بغیر ڈوپٹہ وغیرہ کے رہنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شرم و حیاء کا تقاضا یہ ہے کہ عورت گھر میں بھی ڈوپٹہ اوڑھے رہے، بوقت ضرورت اتار سکتی ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(النور:31)
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ
وفی أحکام القرآن للجصاص رحمہ اللہ:(3/462،قدیمی)
وروى منذر الثوري أن محمد ابن الحنفية كان يمشط أمه وروى أبو البختري أن الحسن والحسين كانا يدخلان على أختهما أم كلثوم وهي تمشط وعن ابن الزبير مثله في ذات محرم منه وروي عن إبراهيم أنه لا بأس أن ينظر الرجل إلى شعر أمه وأخته وخالته وعمته
وفی الشامیة:(2/93،رشیدیہ)
یرخص للمرأۃ کشف الرأس فی منزلھا وحدھا فأولی لھا لبس خمار رقیق یصف ما تحتہ عند محارمھا
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(5/315،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/375،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(31/48،علوم اسلامیة)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(5/333،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(10/40،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(4/459،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:171

عورت نماز پڑھ رہی ہو اور اس کے بچے شور کرنا شروع کردیں تو عورت اپنی قراءت میں ذرا جہر شروع کردیتی ہے تاکہ بچے سن کر خاموش ہوجائیں ،کیا عورت کےلیے ایسا کرنا صحیح ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت کےلیے کسی بھی نماز میں جہرا قراءت درست نہیں،تاہم جو نمازیں اس طرح پڑھی گئیں وہ ادا ہوگئیں، آئندہ اس سے بچا جائے۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(114،البشری)
المرأۃ تخافت بالقراءۃ فی جمیع الصلوات
وفی الموسوعة الفقھیة:(16/190،علوم اسلامیة)
یؤخذ من عبارات فقھاء الحنفیۃ أن المرأۃ تسر مطلقاً…. و قال النووی: حیث قلنا تسر فجھرت لاتبطل صلوتھا علی الصحیح
وکذافی کتاب الفقہ:(1/227،حقانیة)
وکذافی إعلاء السنن:(5/58،ادارة القرآن)
وکذافی فتح القدیر:(1/267،رشیدیہ)
وکذافی بذل المجھود:(5/166،قدیمی)
وکذافی عمدة القاری:(7/279،بیروت)
وکذافی الشامیة:(1/504،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:19

سوال نمبر 1۔عقیدہ حیات انبیاء کرام علیہم السلام کیا ہے؟2۔ دین متین میں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟3۔ اس عقیدہ کے منکر کا کیا حکم ہے؟سوال نمبر 2۔ اہلسنت و الجماعت کے نزدیک سماع صلوۃ و سلام کا کیا حکم ہے؟2۔کیا اہلسنت و الجماعت کے نزدیک بارگاہ رسالت میں پیر اور جمعرات کو اعمال کا پیش ہونا کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟3۔ کیا عقائد اہلسنت و الجماعت کے نزدیک روضہ رسول پر حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں شفاعت کا طلب کرنا یا آپ کو شفیع بنانا کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟ سوال نمبر 3۔ حج اور عمرہ پہ جانے والے حضرات کو یہ کہنا کہ روضہ رسول پر حاضری کے وقت بارگاہ رسالت میں میری طرف سے میرا نام لے کر صلوۃ وسلام عرض کرنا شرعاً ٹھیک ہے؟سوال نمبر4۔ روضہ رسول پر حاضری سے متعلق سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کا واقعہ،آپ کے جنازے کا روضہ مبارک پر لانا اور قبر مبارک سے آواز کا آنا کہ حبیب کو حبیب کی طرف داخل کر دیا جائے اور دروازے کا کھل جانا،سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا 3 دن تک روضہ اطہر میں سے اذان کا سننا ، حضرت علامہ جامی رحمہ اللہ کے نعتیہ کلام پہ سلام کا تذکرہ،حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کو روضہ مبارک میں سے سلام کا آنا، یہ تمام واقعات اور ان جیسے دیگر اور جتنے بھی واقعات کتب سے ملتے ہیں کیا یہ سب اہلسنت و الجماعت کے نزدیک صحیح اور درست ہیں؟ سوال نمبر5۔اس عقیدے کا انکار سب سے پہلے کس نےاور کیوں کیا تھا؟2۔مولانا عنایت اللہ شاہ گجراتی سے پہلے بھی کسی فرقے نے باقاعدہ طور پر اس عقیدے کا انکار کیا ہو تو اس کی وضاحت طلب ہے نوازش ہوگی۔3۔1962ء میں قاری محمد طیب قاسمی رحمہ اللہ نے جو فیصلہ کیا تھا کیا وہ واقعی متفقہ فیصلہ تھا ؟اور شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان صاحب رحمہ اللہ نے اس متفقہ فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے واقعی رجوع کیا تھا؟سوال نمبر 6۔کیا اس عقیدہ کے منکرین اہلسنت و الجماعت میں داخل ہیں؟2۔اس عقیدہ کے منکرین کو امام بنانا یا پھر ان کی اقتداءمیں مستقل طور پر نمازیں ادا کرنا شرعاکیسا ہے؟3۔ ان لوگوں کے خطباء کو بیان کے لیے اپنے ہاں بلانا یا پھر انکی محفلوں میں جانا اور انکے بیان سننا کیسا ہے؟4۔انکے مساجد و مدارس میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا کیسا ہے؟5۔انکو اپنی مساجد میں چندہ کرنے کی اجازت دینا یا پھر مطلقاً ان لوگوں کو چندہ دینا کیسا ہوگا؟ برائے مہربانی تمام سوالات کے جوابات تفصیل سے درکار ہیں ۔جزاک اللہ خیرا

الجواب حامداً ومصلیاً

آپکے سوالات کے جوابات بالترتیب ذکر کیے جاتے ہیں
نمبر1۔(1) عقیدہ حیات انبیاء کرام علیہم السلام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں حضرت شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے اس عقیدہ کو بہت واضح اور آسان انداز میں بیان فرمایا ہے۔ یہاں حضرت کے الفاظ کو بعینہ نقل کیا جاتا ہے۔
”انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام سمیت تمام مخلوقات کو موت آتی ہے، البتہ موت کے بعد ہر انسان کو برزخی زندگی سے واسطہ پڑتا ہے۔ برزخی زندگی کا مطلب صرف یہ ہے کہ انسان کی روح کا اس کے جسم سے کسی قدر تعلق رہتا ہے۔ یہ تعلق عام انسانوں میں بھی ہوتا ہے مگر اتنا کم کہ اس کے اثرات محسوس نہیں ہوتے۔ شہداء کی ارواح کا تعلق ان کے جسم سے عام انسانوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے اس لئے قرآن کریم نے انہیں احیاء قرار دیا ہے اور احادیث کی رو سے ان کا جسم محفوظ رہتا ہے ۔ انبیاء کرام کا درجہ شہداء سے بھی بلند ہے اس لئے احادیث کے مطابق ان کی ارواح کا تعلق جسم سے سب سے زیادہ ہوتا ہے ،یہاں تک کہ ان کی میراث بھی تقسیم نہیں ہوتی اور ان کے ازواج کا نکاح بھی دوسرے کے ساتھ نہیں ہو سکتا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ۔ چونکہ ان کی ارواح کا تعلق سب سے زیادہ ہوتا ہے اس لئے شہداء کی طرح انہیں بھی احیاء قراردیا گیا ہے ،مگر یہ حیات اس طرح کی نہیں ہے جیسی انہیں موت سے پہلے حاصل تھی
(فتاوی عثمانی:1/70،معارف القرآن)
(2)

عقیدہ حیات انبیاء علیہم السلام قرآن وسنت کی واضح نصوص سے ثابت ہے ہم یہاں مختصراً چند آیات اور احادیث نبویہ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں۔
ارشاد باری تعالی ہے

وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِنْ دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُون“ (الزخرف:45)

اس آیت مبارکہ سے مفسرین نے عقیدہ حیات پر استدلال فرمایا ہے ،چنانچہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں
یستدل بہ علی حیاۃ الانبیاء “(مشکلات القرآن:234،تالیفات اشرفیہ)

ارشاد باری ہے

وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ  (البقرۃ:154)

ترجمہ: ”اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوں ان کو مردہ نہ کہو،دراصل وہ زندہ ہیں،مگر تم کو (ان کی زندگی) کا احساس نہیں ہوتا“
(آسان ترجمہ قرآن:90،معارف القرآن)
اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے مفسر عظیم قاضی ثناء اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں

”والحق عندى عدم اختصاصها بهم بل حيوة الأنبياء أقوى منهم وأشد ظهورا اثارها في الخارج حتى لا يجوز النكاح بأزواج النبي صلى الله عليه وسلم بعد وفاته بخلاف الشهيد.“ (تفسیر المظھری:1/155،رشیدیہ)

ترجمہ: ”میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ یہ حیات شہداء ہی کو عطا نہیں ہوئی بلکہ آثار اور احکام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء میں یہ حیات سب سے زیادہ ہے حتیٰ کہ اس کا اثر خارج میں یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات سے آپ کی وفات کے بعد نکاح جائز نہیں بخلاف شہید کے کہ اس کی زوجہ سے نکاح جائز ہے

احادیث نبویہ بھی اسی عقیدہ حیات انبیاء علیہم السلام کی ناطق ہیں ،چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى اللّه عليه وسلم: إن للّه ملائكة سيّاحين في الْأرض يبلغوني من أمتي السلام.“ (مشکوۃ المصابیح:1/87،رحمانیہ)
وکذا فی (سنن النسائی:1/205،رحمانیہ)

ترجمہ: ”رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالی کے بہت سے فرشتے جو زمین پرسیاحت کرنے والے ہیں میری امت کا سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں
ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں فرماتے ہیں

و فیہ اشارۃ الی حیاتہ الدائمۃ و فرحہ ببلوغ سلام امتہ الکاملۃ .“ (مرقاۃ:3/12،المکتبۃ التجاریہ)

ترجمہ: ”اس حدیث میں اشارہ ہے کہ آپ علیہ السلام کو (قبر شریف میں ) حیات جاودانی حاصل ہے اور آپ علیہ السلام اپنی امت کے سلام پہنچنے پر خوش ہوتے ہیں“
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون.“ (مسند ابی یعلی:3/216،بیروت)

ترجمہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں ،نماز پڑھتے ہیں

و فی مجمع الزوائد :(8/276،بیروت)
”عن انس بن مالک قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :الانبیاء احیاء فی قبورھم یصلون رواہ ابو یعلی و البزار و رجال ابی یعلی ثقات.“
و فی سنن ابی داؤد:(1/157،رحمانیہ)
” عن أوس بن أوس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه قبض، وفيه النفخة، وفيه الصعقة، فأكثروا علي من الصلاة فيه، فإن صلاتكم معروضة علي قال: قالوا: يا رسول الله، وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت – يقولون: بليت -؟ فقال: إن الله عز وجل حرم على الأرض أجساد الأنبياء

انہیں روشن دلائل کو دیکھتے ہوئے تمام فقہاء، متکلمین، محدثین اور امت کے سواد اعظم اہل السنۃ و الجماعت کا یہ اجماعی عقیدہ رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قبروں میں بجسدہ موجود اور حیات ہیں ۔ یہاں چند ایک اقوال ذکر کیے جاتے ہیں۔

قال الحافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ تعالی
أن الأنبياء أفضل من الشهداء والشهداء أحياء عند ربهم فكذلك الأنبياء فلا يبعد أن يصلوا ويحجوا ويتقربوا إلى الله. فتح الباری:6/602،قدیمی

ترجمہ:”انبیاء علیہم السلام شہداء سے افضل ہیں اور شہداء اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں پس اسی طرح انبیاء علیہم السلام بھی زندہ ہیں پس بعید نہیں کہ وہ نماز پڑھتےہوں حج کرتے ہوں اور تقرب الی اللہ حاصل کرتے ہوں۔
اور ایک جگہ فرماتے ہیں

كون الشهداء أحياء بنص القرآن والأنبياء أفضل من الشهداء. (فتح الباری:6/360، قدیمی)

علامہ شمس الحق عظیم آبادی رحمہ اللہ اسی عقیدہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں

”وما أفاده من ثبوت حياة الأنبياء حياة بها يتعبدون ويصلون في قبورهم مع استغنائهم عن الطعام والشراب كالملائكة أمر لا مرية فيه.“ (عون المعبود:3/213،قدیمی)

علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

ان الانبیاء احیاء فی قبورھم کما ورد فی الحدیث  (رسائل ابن عابدین:2/202،محمودیہ)

مذکورہ عبارات سے واضح ہے کہ تمام اہل السنت و الجماعت کا قرآن و حدیث کی روشنی میں یہی عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اجسام مبارکہ کے ساتھ قبروں میں موجود اور حیات ہیں ۔

انہیں حضرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اہل السنت و الجماعت دیوبند کے تمام علماء اس عقیدہ حیات کے متفقہ طور پر قائل ہیں، چنانچہ تمام علماء دیوبند کے اس اجماعی عقیدہ کی ترجمانی کرتے ہوئے حضرت اقدس مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں

“عندنا وعند مشائخنا حضرۃ الرسالۃ صلی اللہ علیہ و سلم حی فی قبرہ الشریف و حیاتہ صلی اللہ علیہ و سلم دنیویۃ من غیر تکلیف و ھی مختصۃ بہ صلی اللہ علیہ و سلم و بجمیع الانبیاء صلوات اللہ علیھم و الشہداء لا برزخیۃ کما ھی حاصلۃ لسائر المؤمنین بل لجمیع الناس کما نص علیہ العلامہ السیوطی فی رسالتہ انباء الاذکیاء بحیوۃ الانبیاء حیث قال قال الشیخ تقی الدین السبکی حیوۃ الانبیاء و الشہداء فی القبر کحیوتھم فی الدنیا و یشھد لہ صلوۃ موسی علیہ السلام فی قبرہ فان الصلوۃ تستدعی جسداً حیا الی آخر ما قال فثبت بھذا ان حیوتہ دنیویۃ برزخیۃ لکونھا فی عالم البرزخ.” (المہند علی المفند :36،الحسن)

ترجمہ: ” ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دنیا کی سی ہے بلا مکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور تمام انبیاء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ برزخی نہیں ہے جو حاصل ہے تمام مسلمانوں بلکہ سب آدمیوں کو چنانچہ علامہ سیوطی نے اپنے رسالہ ”انباء الاذکیاء بحیاۃ الانبیاء “میں صراحتاً لکھا ہے،چنانچہ فرماتے ہیں کہ علامہ تقی الدین سبکی نے فرمایا کہ انبیاء و شہداء کی قبر میں حیات ایسی ہے جیسی دنیا میں تھی اور موسی علیہ السلام کا اپنی قبر میں نماز پڑھنا اسکی دلیل ہے کیونکہ نماز زندہ جسم کو چاہتی ہے۔
پس اس سے ثابت ہوا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات دنیوی ہے اور اس معنی کے اعتبار سے برزخی بھی ہے کہ عالم برزخ میں حاصل ہے

الغرض عقیدہ حیات الانبیاء علیہم السلام قرآن و سنت سے ثابت امت کا اجماعی عقیدہ ہے اور تمام اہل السنت و الجماعت اس پر متفق ہیں، چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں

”حیات انبیاء متفق علیہ است ہیچ کس را دروے خلافے نیست “ (اشعۃ اللمعات:1/613،رشیدیہ)

(3)

عقیدہ حیات انبیاء علیہم السلام قرآن و سنت کی نصوص سے واضح طور پر ثابت ہے اور امت کا اجماعی عقیدہ ہے ،لہذا بلاتاویل اسکا انکار کرنے والا بدعتی ہے اور اہل السنت و الجماعت سے خارج ہے، چنانچہ حضرت مولانا خیر محمد جالندھری رحمہ اللہ فرماتے ہیں

بلا تاویل حیات النبی صلی اللہ علیہ و سلم کا منکر بدعتی ہے ۔ (خیر الفتاوی:1/120،امدادیہ)
وکذا فی جامع الفتاوی:(1/109،تالیفات اشرفیہ) و کذا فی جواھرالفتاوی:(1/432،اسلامی کتب خانہ)

نمبر2۔(1) اہلسنت و الجماعت کا عقیدہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر مبارک پر حاضر ہو کر درود و سلام پڑھا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم بذات خود اسے سنتے ہیں اور جو درود و سلام قبر مبارک سے دور رہ کر پڑھا جائے اسے فرشتے آپ صلی اللہ علیہ و سلم تک روضہ شریف میں پہنچاتے ہیں۔

لما فی شعب الایمان للبیہقی:(2/218،بیروت)
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال: من صلی علی عند قبری سمعتہ و من صلی علیّ نائیا ابلغتہ
و کذا فی مشکوۃ المصابیح:(1/88،رحمانیہ) وکذا فی جواھر الفتاوی:(1/433،اسلامی کتب خانہ)

(2)

اتنی بات تو صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ امت کے اعمال بارگاہ رسالت میں پیش کیے جاتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم امت کے نیک اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور گناہوں کو دیکھ کر استغفار فرماتے ہیں،لیکن پیر اور جمعرات کی تعیین صحیح حدیث سے ثابت نہین ہے ، البتہ ایک ضعیف روایت میں جمعہ کے دن کا ذکر ملتا ہے کہ جمعہ کے دن تمام انبیاء علیہم السلام پر انکی امتوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
البتہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیر اور جمعرات کے دن اعمال کا پیش ہونا بھی صحیح روایات میں وارد ہے۔

لما فی الخصائص الکبری للسیوطی:(2/545،توفیقیہ)
أخرج الْحارث في مسنده وابن سعد والقاضي إسماعيل عن بكر بن عبد الله المزني قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حياتي خير لكم وموتي خير لكم تعرض علي أَعمالكم فما كان من حسن حمدت الله عليه وما كان من سيء استغفرت الله لكم .وأخرج الْبَزَّار بسند صحيح من حديث ابن مسعود مثله
و فی کنزالعمال:16/195،رحمانیہ
تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس على الله، وتعرض على الأنبياء وعلى الآباء والأمهات يوم الجمعة، فيفرحون بحسناتهم، وتزداد وجوههم بياضا وإشراقا، فاتقوا الله ولا تؤذوا موتاكم. الحكيم  عن والد عبد العزيز
و فی الجامع الصغیر(3/330،بیروت)
تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس على الله، وتعرض على الأنبياء وعلى الآباء والأمهات يوم الجمعة، فيفرحون بحسناتهم، وتزداد وجوههم بياضا وإشراقا، فاتقوا الله ولا تؤذوا موتاكم. الحكيم  عن والد عبد العزيز

ان روایات کی سند میں عبد الغفور بن عبد العزیز کا واسطہ آرہا ہے اور یہ عبد الغفور ضعیف راوی ہے، چنانچہ ”الکامل فی ضعفاء الرجال “میں ہے

حدّثنا ابن حماد، حدثنا العباس، عن يحيى، قال: عبد الغفور، وهو أبو الصباح ليس حديثه بشيء.سمعت ابن حماد يقول: قال البخاري عبد الغفور أبو الصباح الواسطي تركوه منكر الحديث
(الکامل:7/21،بیروت)

اب وہ روایات ذکر کی جاتی ہیں جن میں ہے کہ جمعرات اور پیر کے دن اعمال بارگاہ الہی میں پیش کیے جاتے ہیں ، چنانچہ جامع ترمذی میں ہے

“عن أبي هريرة، أن رسول اللّه صلى الله عليه وسلم قال: تعرض الأعمال يوم الاثنين والخميس، فأحب أن يعرض عملي وأنا صائم.” (جامع الترمذی:1/276،رحمانیہ) ھکذا فی سنن ابی داؤد:(1/352،رحمانیہ)

اس عرض اعمال کی تحقیق کو حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے بھی تفصیلا بیان فرمایا ہےکما فی امداد الاحکام:(1/136،دارالعلوم کراچی)

(3)

جی ہاں !اہل السنت و الجماعت کے ہاں آج بھی روضہ رسول پر حاضر ہو کر یہ عرض کرنا کہ یا رسول اللہ میرے لیے دعاء مغفرت فرما دیں اور میری شفاعت فرما دیں جائز ہے۔

اس عمل کی دلیل قرآن و سنت میں موجود ہے ، چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالی کا فرمان ہے

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا “ [النساء: 64]

ترجمہ: اور جب ان لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا ،اگر یہ اس وقت تمہارے پاس آکر اللہ سے مغفرت مانگتے اور رسول بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرتے تو یہ اللہ کو بہت معاف کرنے والا ،بڑا مہربان پاتے ۔“(آسان ترجمہ قرآن: 204،معارف القرآن کراچی)

اس آیت مبارکہ کی تفسیر کرتے ہوئے مفتی اعظم مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں
”یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لئے دعا مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیوی حیات کے زمانہ میں ہو سکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن کر کے فارغ ہوئے تو اس کے تین روز بعد ایک گاؤں والا آیا اور قبر شریف کے پاس آ کر گِرگیا اور زارو زار روتے ہوئے آیت مذکورہ کا حوالہ دے کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا ہے کہ اگر گنہگار رسول کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور رسول اس کے لئے دعائے مغفرت کردیں تو اس کی مفرت ہوجائے گی، اس لئے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ میرے لئے مغفرت کی دعا کریں اس وقت جو لوگ حاضر تھےان کا بیان ہے کہ اس کے جواب میں روضہ اقدس کے اندر سے آواز آئی قدغفرلک یعنی مغفرت کردی گئی۔

(معارف القرآن: 2/459،460،ادارۃ المعارف)

و فی البحر المحیط :(3/296،بیروت)
روي عن علي كرم الله وجهه أنه قال: قدم علينا أعرابي بعد ما دفنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاثة أيام فرمى بنفسه على قبره وحثا من ترابه على رأسه ثم قال:يا خير من دفنت في الترب أعظمه … فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه … فيه العفاف وفيه الجود والكرم ثم قال: قد قلت: يا رسول الله فسمعنا قولك، ووعيت عن الله فوعينا عنك، وكان فيما أنزل الله عليك ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاؤوك الآية، وقد ظلمت نفسي وجئت أستغفر الله ذنبي، فاستغفر لي من ربي، فنودي من القبر أنه قد غفر لك
و کذا فی تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر:(1/532،بیروت) و کذا فی خیر الفتاوی:(1/157،امدادیہ)

نمبر3۔ جی ہاں ! روضہ رسول پر حاضر ہونے والے خوش نصیب حضرات سے کہنا کہ میری طرف سے بھی سلام عرض کرنا ، یہ شرعاً درست ہے۔
احادیث مبارکہ سےیہ بات تو ثابت ہے کہ روضہ اقدس سے دور رہنے والے لوگوں کا درود و سلام فرشتوں کے ذریعے رحمت عالم صلی اللہ علیہ و سلم تک پہنچایا جاتا ہے،لہذا جب فرشتوں کے ذریعے پہنچنا درست ہوا تو روضہ اقدس پر حاضر ہونے والے انسانوں کے ذریعے پہنچانا بھی درست ہے۔

لما فی سنن النسائی:(1/205،رحمانیہ)
عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى اللّه عليه وسلم: إن لله ملائكة سياحين في الْأرض يبلغوني من أمتي السلام

نمبر4۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں ،لہذا قبر مبارک سے سلام کی آواز آنا یا دیگر خرق عادت امور کا باذنہ تعالی ظہور ہونا نہ عقلا ممتنع ہے نہ شرعا ،بلکہ یہ معجزہ یا کرامت کے قبیل سے ہیں ، لہذااسطرح کے واقعات اگر صحیح سند اور معتبر ذرائع سے ثابت ہو جائیں تو درست سمجھے جائیں گے ورنہ معتبر نہیں ہونگے۔
سوال میں مذکور پہلا واقعہ جو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی وفات سے متعلق ذکر کیا گیا ہے یہ صحیح سند سے ثابت نہیں بلکہ موضوع و منگھڑت ہے، لہذا معتبر نہ ہوگا۔

لما فی کنز العمال:(12/241،رحمانیہ)

عن أبي الطاهر محمد بن موسى بن محمد بن عطاء المقدسي عن عبد الجليل المري عن حبة العرني عن علي بن أبي طالب أن أبا بكر أوصي إليه أن يغسله بالكف الذي غسل به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما حملوه على السرير استأذنوا، قال علي: فقلت: يا رسول الله! هذا أبو بكر يستأذن! فرأيت الباب قد فتح وسمعت قائلا يقول: أدخلوا الحبيب إلى حبيبه، فإن الحبيب إلى حبيبه مشتاق. “كر وقال: منكر، وأبو طاهر كذاب وعبد الجليل مجهول عن يزيد الرقاشي

و فی الخصائص الکبری:(2/546،التوفیقیة)

عن علی بن ابی طالب فقلت يا رسول الله هذا أبو بكر يستأذن فرأيت الباب قد فتح فسمعت قائلا يقول ادخلوا الحبيب إلى حبيبه فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق

وقال ابن عساكر هذا حديث منكر وفي إسناده أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء الْمقدسي كذاب عن عبد الجليل المري وهو مجهول

سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا واقعہ کہ وہ تین دن تک روضہ اطہر سے اذان کی آواز سنتے رہے درست ہے اور صحیح روایات سے ثابت ہے۔

کما فی الخصائص الکبری:(2/544،التوفیقیہ)
“أخرج أبو نعيم عن سعيد بن المسيب قال لقد رأيتني ليالي الحرة وما في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم غيري وما يأتي وقت الصلاة إلا سمعت الآذان من القبر.”
و فی مشکوۃ المصابیح:(2/554،رحمانیہ)
“عن سعيد بن عبد العزيز قال: لما كان أيام الحرة لم يؤذن في مسجد النبي صلى الله عليه وسلم ثلاثا ولم يقم ولم يبرح سعيد بن المسيب المسجد وكان لا يعرف وقت الصلاة إلا بهمهمة يسمعها من قبر النبيِ صلى الله عليه وسلم. رواه الدارمي.
 ھکذا فی سنن الدارمی:(1/56،قدیمی)
و فی تھذیب التھذیب:(2/667،دارالکتب العلمیہ)
سعيدبن عبد العزيز بن أبي يحيى التنوخي قال عبد الله بن أحمد عن أبيه ليس بالشام رجل أصح حديثا من سعيد بن عبد العزيز هو الأوزاعي عندي سواء وقال ابن معين وأبو حاتم والعجلي ثقة

اسی طرح سوال میں مذکور دیگر واقعات کے بارے میں تحقیق سے کام لیا جائے۔

نمبر5۔محقق العصر ڈاکٹر علامہ خالد محمود رحمہ اللہ عقیدہ ممات کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”سلطان طغرل بیگ سلجوقی کے عہد حکومت میں نیشا پور کے قریب ایک بہت فتنہ پرداز شخص گزرا ہے اسکا نام بیکندی تھا ۔ وہ لطائف الحیل سے سلجوقی دربار میں منصب وزارت پر آگیا تھا ۔ اس کے عقائد اعتزال و روافض کا امتزاج تھے۔

445 ہجری کے قریب اس نے وفات النبی اور جسد جمادی کی تمہید سے انتفاءنبوت کا عقیدہ اختیار کیا۔ اسکا اعتقاد تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا جسد اطہر روضہ منورہ میں محض بے حس و بے شعور ہے۔ اس نے اسے انعزال نبوت کے لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم وفات شریفہ کے بعد اب حقیقتا رسول نہیں رہے،ایک سیڑھی بنایا ۔۔۔۔اس کے عقیدہ میں روضہ منورہ کی حیات جسمانی کا انکار اس لیے بھی تھا کہ اس سے حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے جوار رسول میں ہونے اور روضہ اطہر میں ہم پہلو سونے کی شان امتیاز کمزور ہوتی تھی ۔ممکن ہے اِس سے اُس کے رفض کو کچھ تسکین پہنچتی ہو۔
پھر وفات کےبعد روح و بدن کی کلی مفارقت سے عذاب قبر کا انکار بہت ہی آسان ہو جاتا تھا سو اِس سے اُس کے اعتزال کو قوت ملتی تھی“ )مقام حیات:43،دارالمعارف)

(2)

اس سے پہلے اس عقیدہ (حیات انبیاء علیہم السلام ) کا روافض اور کرامیہ نے بھی انکار کیا ہے، چنانچہ علامہ خالد محمود رحمہ اللہ فرماتے ہیں
اول الذکر نظریہ معتزلہ و روافض کا ہے وہ عذاب قبر کے قائل نہیں ۔ان کے نزدیک جسد مدفون محض جمادی حیثیت رکھتا ہے ۔۔۔فرقہ کرامیہ اور صالحیہ اسکے قائل ہیں کہ اجساد مدفونہ ہیں تو محض جمادی حیثیت میں ،لیکن عذاب قبر پھر بھی حق ہے۔

(مقام حیات:43،دارالمعارف)

اور ایک اور جگہ تحریر فرماتے ہیں
”چوتھی صدی ہجری کے آخر میں کرامیہ جو عبد اللہ بن کرام کے پیرو تھے اس مسئلہ میں کھلے طور پر آگئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اب نبی اور رسول نہیں رہے ،آپ روح اور بدن میں منقسم ہیں“ (مقام حیات:51،دارالمعارف)

(3)

جی ہاں! 18 محرم 1382ھ بمطابق 22 جون 1962ء کو راولپنڈی میں حضرت اقدس مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ نے فریقین میں فیصلہ فرمایا اور دونوں فریق عقیدہ حیات الانبیاء پر متفق ہوئے اور ذمہ داروں نے درج ذیل عبارت پر دستخط بھی فرمائے:
وفات کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے جسد اطہر کو برزخ (قبر شریف) میں بہ تعلق روح حیات حاصل ہے اور اس حیات کی وجہ سے روضہ اقدس پر حاضر ہونے والوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلوۃ و سلام سنتے ہیں ۔

(خیر الفتاوی:1/94، امدادیہ) (مقام حیات:710،دارالمعارف)

نمبر6۔(1)،(2)،(3)، (4) ،(5) ان سب جزئیات کا جواب گذشتہ تحریر و جوابات سے خودبخود سمجھ میں آجاتا ہے لہذا مستقل تحریر کی ضرورت نہیں۔

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفر لہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1442/2020/12/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:103

 

اس تجارتی معاہدہ کے بارے میں جس کی شرائط درج ذیل ہیں: (1)فریق دوم مبلغ 350000 روپے جن کا نصف 175000 بنتا ہے فریق اول کے کاروبار میں بغرض پرافٹ انویسٹمنٹ کرے گا۔(2)فریق اول فریق دوم کو اس کی انوسٹمنٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر منافع میں سے 10% منافع دے گا۔(3)نقصان کی صورت میں فریق دوم کو اپنی انوسٹمنٹ کے تناسب سے نقصان برداشت کرنا ہوگا۔(4)فریق دوم موجودہ آئل /ڈیزل کے ریٹ کے مطابق اپنی انوسٹمنٹ فریق اول کے ساتھ کررہا ہے ۔(5)اقرار نامہ ہذا انوسٹمنٹ ایک سال کےلیے ہوگا بعدازاں ہردو فریقین کی مرضی سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔(6)اگر فریق دوم اپنی انوسٹمنٹ ایک سال سے پہلے واپس لینا چاہتا ہو تو فریق دوم ایک تحریری نوٹس فریق اول کو2 ماہ پہلے دے گا۔(7)فریق دوم کی طرف سے تحریری نوٹس برائے واپسی انویسٹمنٹ ملنے پر فریق اول 2 ماہ کا پرافٹ دینے کا پابند نہ ہوگا۔(8)فریق اول انوسٹمنٹ کے مطابق فریق دوم کو ایک گارنٹی چیک دے گا جو کہ معاہدہ کی مدت ختم ہونے کے 2 ماہ بعد پڑتال اور حساب و کتاب کرکے بقایا رقم کیش کرانے کا پابند ہوگا۔ کیا یہ معاہدہ شریعت کی نگاہ میں درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ عقد تمام شرائط سمیت شرعًا درست ہے، البتہ فریق ثانی کا شرط نمبر 7 پر بلاجبر و اکراہ خوشدلی سے راضی ہونا ضروری ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(5/76،رشیدیہ)
وأماالكلام في الشركة بالأموال: فأما العنان فجائز بإجماع فقهاء الأمصار؛ ولتعامل الناس ذلك في كل عصر من غير نكير
وفیہ ایضاً:(5/83،رشیدیہ)
إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا …وإن شرطا العمل على أحدهما، فإن شرطاه على الذي شرطا له فضل الربح؛ جاز، والربح بينهما على الشرط.
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3914،رشیدیہ)
فيجوز لكل شريك أن يفسخ العقد، إلا أن من شروط جواز الفسخ أن يكون بعلم الشريك الآخر؛ لأن الفسخ من غير علم الشريك إضرار به
وکذافی جامع الترمذی :(1/383،رحمانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/78،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(5/291،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(26/33،45،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3880،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(345،البشری)
وکذافی المجلہ:(26،263،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیة:(7/491،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:139

عصبہ کی عدم موجودگی میں زوج یا زوجہ پررد کیوں نہیں ہوتا؟

الجواب بعون الملک الوھاب

اصحاب فروض کو ان کا متعینہ حصہ دینے کے بعد، بچنے والے ترکہ کے سب سے زیادہ مستحق، رحم و قرابت والے رشتہ دار ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: “و اولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “(الاحزاب:6)
”ترجمہ:اللہ کی کتاب کے مطابق پیٹ کے رشتہ دار، دوسرے مؤمنون اور مہاجرین کے مقابلے میں ایک دوسرے پر( میراث کے معاملےمیں) زیادہ حق رکھتے ہیں۔“(آسان ترجمہ قرآن:884)
اور زوجین کے درمیان چونکہ قرابت و رحم والا رشتہ نہیں، لہذا یہ اس بقیہ مال کے مستحق نہیں ۔ نیز اصحاب فروض کا میت سے رشتہ قرابت کا ہے جبکہ زوجین کا آپس میں رشتہ، نکاح کی وجہ سے ہے لہذا یہ رشتہ ضعیف ہے ،تو متعینہ حصص کی تقسیم کے بعد زائد مال کے مستحق قوی رشتہ رکھنے والے یعنی اصحاب فروض ہوں گے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7826،رشیدیہ)
قولہ تعالی “واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “فانہ یفید ان ذوی الارحام الاقرباء الی المیت اولی بالترکۃ ممن عداھم ـ ـ ـ ـ ولما کان الزوجان لیسا من الاقرباء لم تشملھما الآیۃ فلا یاخذان بالرد شیئا لان میراثھما بسبب آخرغیر الرحم و القرابۃ وھو الزوجیۃ
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر المختار :(4/394،رشیدیة)
ان میراث الزوجین علی خلاف القیاس لان وصلتھما بالنکاح و قد انقطعت بالموت وما ثبت علی خلاف القیاس نصا یقتصر علی مورد النص ولا نص فی الزیادۃ علی فرضھما
وکذافی البحر الرائق :(9/412،رشیدیہ) وکذافی الجوھرة النیرة:(2/661،قدیمی)
وکذافی حاشیة السراجی :(69،البشری) وکذافی تبیین الحقائق :(6/242،امدادیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/50،علوم اسلامیہ ) وکذافی الشامیہ:(10/570،رشیدیة)
وکذافی شریفیہ شرح سراجیہ للعلامہ جرجانی :(75،قدیمی)
وکذافی اعلاء السنن:(18/403،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/27/1442/13/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:40