اگر ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کرتا ہے، بلا وجہ مارپیٹ اور گالم گلوچ کرتا ہے، نان ونفقہ اور دیگر حقوق بھی ادا نہیں کرتا۔خاوند کی اس بد سلوکی کی وجہ سے عورت طلاق یا خلع کا مطالبہ کرتی ہے، مگر خاوند اس پر بھی راضی نہیں ہوتا۔ بالآخر عورت عدالت کی طرف رجوع کرتی ہے اور عدالت خاوند کی بدسلوکی ثابت ہونے پر تنسیخ نکاح کا فیصلہ کردیتی ہے تو کیا یہ فیصلہ معتبر ہوگا اور اس سے نکاح فسخ ہوجائے گا؟ اگر ہو جائے گا تو رجوع کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر خاوند واقعی نا قابل برداشت مارپیٹ اور ظلم کرتا ہے، نان ونفقہ اور دیگر حقوق ادا نہیں کرتا، عدالت میں حاضر ہوکر اپنا بری ہونا بھی ثابت نہیں کرتا اور آئندہ اس ظلم سے باز آنے سے انکاری ہے اور طلاق یا خلع کے ذریعے عورت کو چھوڑنے پر بھی راضی نہیں ہے تو ایسا شخص شریعت کی نگاہ میں متعنت کہلاتا ہے۔ مذہب مالکیہ کے مطابق بیوی ایسے متعنت خاوند سے بذریعہ عدالت خلاصی حاصل کرسکتی ہے۔
ضرورت شدیدہ کے تحت علماء احناف کا فتوی بھی اسی قول پر ہے،لہٰذا عدالت کا خاوند کے قائم مقام ہوکر تنسیخ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہونے کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہوگئی۔اب اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو کیا حکم ہے؟ اس سے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ ”کفایت المفتی“ میں فرماتے ہیں:
”اگر انقضاء عدت سے قبل خاوند آجائے اور بیوی کے حقوق و نفقہ ادا کرکے اسے راضی کرلے تو بیوی اسکو مل سکتی ہے۔“
(کفایت المفتی:8/564،جامعہ فاروقیہ)
مگر چونکہ بعض فتاوی جیسے فتاوی عثمانیہ(6/313،العصر اکیڈمی) اور فتاوی فریدیہ(5/536،دارالعلوم صدیقیہ) میں تنسیخ نکاح کو طلاق بائن شمار کیا ہےاس لیے ان حضرات کے ہاں تجدید نکاح کے بغیر رجوع ممکن نہیں، لہٰذا احتیاطاً تجدید نکاح کرلینا بہتر ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/7042،رشیدیہ)
أخذ القانون في مصر وسورية بجواز التفريق القضائي بين الزوجين، عملاً بمذهب الجمهور غير الحنفية، فنصت المادة الرابعة من القانون المصري رقم (25) لسنة (1920) على حق التفريق بين الزوجة وزوجها، لعدم إنفاقه عليها، إذا طلبت الزوجة التفريق بالضرورة، سواء أكان عدم الإنفاق عليها بسبب إعساره، أم كان تعنتاً منه وظلماً
وفی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/176،معارف القرآن)
ولکن ھناک احوالاً یجوز لھا فیھا ان ترفع امرھا الی قاضی شرعی فیفسخ ھو نکاحھا من زوجھا بولایتہ العامۃ، وذلک لاسباب معروفۃ علی اختلاف الفقھاء فیھا مثل ان یکون الزوج مفقوداً او عنیناً او مجنونا او متعنتاً لا ینفق علی زوجتہ
وفی الحیلة الناجزة:(133،دارالاشاعت)
اما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام ، فان لم یثبت عسرہ انفق او طلق و الّا طلق علیہ قال محشیہ قولہ و الّا طلق علیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم
وکذافی التفسیر المنیر:(1/724،امیر حمزہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/62،علوم اسلامیة)
وکذافی الحیلة الناجزة:(73،دارالاشاعت)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(9/7045،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:149

شوقیہ پالے جانے والے کتوں کی خرید وفروخت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محض شوقیہ طور پر پالنا اور ان کی خریدوفروخت جائز نہیں۔

لما فی الصحیح لمسلم:(2/19،قدیمی)
عن رافع بن خديج قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: شر الكسب مهر البغي وثمن الكلب وكسب الحجام
وفیہ ایضاً:(2/21،قدیمی)
عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من اقتنى كلبا إلا كلب صيد أو ماشية نقص من أجره كل يوم قيراطان
وفی البحر الرائق:(6/287،رشیدیہ)
عن أبي يوسف منع بيع العقور وذلك في المبسوط أنه لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم، وقال هذا هو الصحيح من المذهب
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/531،540،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی النھر الفائق:(3/511،قدیمی)
وکذافی أوجز المسالک:(11/345،دارالکتب)
وکذافی إعلاء السنن :(14/444،ادارة القرآن)
وکذافی مجمع الأنھر:(3/151،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:18

ایسی کوئی حدیث ہے کہ” شبنم کا ایک قطرہ جنت سے آتا ہے“؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تلاش و جستجو کے باوجود سوال میں مذکور الفاظ کتب احادیث میں کہیں نہیں ملے،البتہ ایک روایت میں کچھ اور الفاط ملتے ہیں اور ممکن ہے سائل کا یہ مضمون بھی انہی سے اخذ کیا گیا ہو

عَلَیْکُمْ بالْھِنْدُبَاءِفَاِنَّہٗ مَا مِنْ یَوْمٍ اِلَّا وَھُوَ یَقْطُرُ عَلَیْہِ قِطْرٌ مِنْ قِطْرِ الْجَنَّۃِ

ترجمہ :ہندباء (کاسنی ۔ایک پودا ہے) کو ضرور استعمال کرو کیونکہ اس پر ہر روز جنت سے ایک قطرہ ٹپکتا ہے
اس روایت کو بعض محدثین نے ضعیف اور بعض نے موضوع و منگھڑت کہا ہے۔

لما فی کنز العمال:(12/155،رحمانیہ)
على كل ورقة من الهندباء حبة من ماء الجنة
وفیہ ایضاً:(12/155،رحمانیہ)
ما من ورقة من ورق الهندباء إلا وعليها قطرة من ماء الجنة. ( طب – عن محمد بن علي بن الحسين عن أبيه عن جده؛ وقال ابن كثير: منكر جدا، وقال ابن دحية: موضوع
وفی زاد المعاد :(3/898،علمیہ)
هندبا: ورد فيها ثلاثة أحاديث لا تصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يثبت مثلها، بل هي موضوعة أحدها: ( «كلوا الهندباء ولا تنفضوه فإنه ليس يوم من الأيام إلا وقطرات من الجنة تقطر عليه
وفی مجمع الزوائد:(5/40،دارالکتب العلمیہ)
ما من ورق [من ورق] الهندباء إلَّا وعليها قطرة من ماء الجنة. (رواه الطبراني وفيه أرطأة بن الأشعث وهو ضعيف جدا
وکذافی سبل الھدی و الرشاد:(12/225،نعمانیہ)
وکذافی اللآلی المصنوعة للسیوطی رحمہ اللہ:(2/187،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی فیض القدیر:(4/457،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی شعب الایمان للبیہقی:(5/106،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی المعجم الکبیر:(2/251،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی مجمع الزوائد:(5/223،دارالکتب العلمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:70

سودی بینک کے ملازم کو اپنا مکان کرایہ پر دے سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس کا کام ایسا ہو جس کا براہ راست تعلق سودی معاملات سے نہیں مثلاً گارڈ یا ڈرائیور وغیرہ ہو تو اس کو مکان کرایہ پر دینا جائز ہے۔
البتہ اگر اس کا کام براہ راست سودی معاملات سے متعلق ہو مثلا سود کا حساب کتاب رکھنا تو اس کو مکان کرایہ پر دینا درست نہیں، لیکن اگر اس کا کوئی اور حلال ذریعہ آمدن ہو اور وہ اسی حلال آمدن سے کرایہ ادا کرنے کا یقین دلائے تو پھر اس کو مکان کرایہ پر دیا جا سکتا ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/118،رحمانیہ)
عن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود عن أبیہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٰکل الربا و موکلہ و شاہدہ و کاتبہ
وفی تکملة فتح الملھم:(1/619،دارالعلوم کراتشی)
ان التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابۃ أو الحساب فذلک حرام لوجھین الأول إعانۃ علی المعصیۃ و الثانی أخذ الأجرۃ من المال الحرام فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا و أما اذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب فاذا وجد بنک معظم دخلہ حلال جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال
وکذافی الشامیة:(9/635،936،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/369،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1021،معارف القرآن)
وکذافی شرح الحموی علی الاشباہ و النظائر:(1/310،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(5/342،343،رشیدیہ)
وکذافی إعلاء السنن:(14/482،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1442/2021/5/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:173

نماز میں بوقت سجدہ دونوں پاؤں آپس میں ملا کر رکھنے ہیں یا ان میں فاصلہ رکھنا ہے؟اور اگر فاصلہ رکھنا ہے تو کتنا رکھنا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سجدہ میں قدموں کو ملانا اور ان میں فاصلہ رکھنا دونوں جائز ہیں ،مگر بہتر طریقہ یہ ہے کہ مرد دونوں قدموں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھے جو تقریباً ہاتھ کی کم از کم چارانگلیوں کی بقدر ہواور عورت دونوں قدم ملا کر رکھے۔

لما فی المستدرک علی الصحیحین:(1/358،قدیمی)
قالت عائشۃ زوج النبی صلی اللہ علیہ و سلم فقدت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و کان معی علی فراشی فوجدتہ ساجدا راصاً عقبیہ مستقبلا باطراف اصابعہ القبلۃ
وفی رد المحتار:(2/240،رشیدیة)
قولہ :(و یسن ان یلصق کعبیہ )قال السید ابو السعود :و کذا فی السجود ایضاًـ ـ ـ نعم ربما یفھم ذلک من انہ اذا کان السنۃ فی الرکوع الصاق الکعبین و لم یذکروا تفریجھما بعدہ فالافضل بقاؤھما ملصقین فی حالۃ السجود ایضاً
وفی تقریرات الرافعی:(2/240،رشیدیة)
قول الشارح :(و یسن الصاق الکعبین) قال الشیخ ابو الحسن السندی فی تعلیقتہ علی الدرر: ھذہ السنۃ انما ذکرھا من ذکرھا من المتاخرین تبعاً للمجتبی ـ ـ ـ وکان بعض مشائخنا یری انھا من اوھام صاحب المجتبی ـ ـ ـ قلت :و لعل الشیخ ابا الحسن لحظ الی الاثار الواردۃ فی ان التراوح بین القدمین فی الصلاۃ مطلقاً افضل من الصاقھما
وکذافی السنن الکبری للبیہقی:(2/166،168،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی نیل الاوطار للشوکانی:(2/286،دارالباز مکہ)
وکذافی تلخیص الحبیر:(1/618،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(24/204،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/848،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدرالمختار:(2/259،رشیدیہ)
وکذافی اعلاءالسنن:(3/41،ادارة القرآن)
وکذافی الشامیہ:(2/163،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:71

سانڈھے کا تیل لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سانڈھے کا تیل نجس ہے،لہٰذا بدن پر اس کے لگے ہونے کی حالت میں نماز پڑھنا درست نہیں۔

لما فی الصحیح لمسلم:(2/23،قدیمی)
عن جابر بن عبد الله، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر، والميتة، والخنزير، والأصنام، فقيل: يا رسول الله، أرأيت شحوم الميتة، فإنه يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس، فقال: لا، هو حرام، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: قاتل الله اليهود، إن الله عز وجل لما حرم عليهم شحومها أجملوه، ثم باعوه فأكلوا ثمنه
وفی تکملة فتح الملھم:(1/562،دارالعلوم کراتشی)
قولہ:”ثم باعوہ” و انما فعلوا ذلک لیزول عنہ اسم الشحم و یصیر ودکاً ، فان العرب انما تسمیہ شحما قبل الاذابۃ ،و اما بعد الاذابۃ فھو ودک، و دل الحدیث علی ان مجرد تغیر الاسم لایؤثر فی حل الشیئ و حرمتہ ما لم تتغیر حقیقتہ
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/305،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(40/80،82،علوم اسلامیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/17،حقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/314،رشیدیہ)
وکذافی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیہ:(1/20،رشیدیہ)
وکذافی القدوری:(18،الخلیل)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:83

اگر کوئی شخص دوسرے کو زکوۃ ادا کرنے کا وکیل بنائے اور وکیل سے زکوۃ کی رقم چوری ہوجائے تو کیا مؤکل کی زکوۃ ادا ہوجائے گی یا دوبارہ ادا کرنا ہوگی؟ وکیل پر کوئی ضمان ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ ادا نہ ہوگی اور وکیل پر بھی کوئی ضمان نہیں ،بشرطیکہ اس نے حفاظت میں غفلت وکوتاہی نہ کی ہو ،البتہ وکیل پر لازم ہے کہ مؤکل کو زکوۃ کی رقم چوری ہونے کی اطلاع کرے۔

لما فی الدرالمختار مع رد المحتار:(3/225،رشیدیہ)
ولا یخرج عن العھدۃ بالعزل بل بالاداء للفقراء (و فی الشامیہ )فلو ضاعت لاتسقط عنہ الزکوۃ
وفی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
لان الوکیل نائب المؤکل -المالک -فی الید و التصرف فکان الھلاک فی یدہ کالھلاک فی ید المالک المؤکل
وکذافی البحر الرائق:(2/369،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/238،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/182،رشیدیہ)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/263،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(45/86،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/186،دارالمعرفہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(5/38،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار:(1/395،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/4/1442/2020/11/30
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:190

نعیم سہیل کی بیوی میکے گئی اور فون پر جھگڑا ہوگیا، بیوی نے کہا کہ مجھے لینے آؤ گے تو میں آؤں گی، اس نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں نے نہیں آنا، اس بات پر اس نے رابطہ منقطع کردیا۔ ایک ماہ بعد ہم اسے لینے گئےتو انہوں نے کافی باتیں کیں کہ وہ خود لینے آئے،مگر یہ گیا نہیں، اس بناء پر انہوں نے اسے ہمارے ساتھ بھیج دیا۔ ہم گھر آئے تو سہیل نے کہا کہ اسے کیوں لے کر آئے ہو؟ میں نے کہا تھا کہ وہ خود آئے،اب کیوں آئی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ اس کی طبیعت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ جیسے جیسے سوچتا گیا اس کی طبیعت خراب ہوتی گئی، ساری ساری رات جاگتے گزار دیتا،سوتا نہیں تھا۔ جمعہ والے دن صبح صبح نہا کر نکل گیا اور سارا دن فون بھی بند رہا ۔ اس دن یہ عارف والا گیا تھا، وہاں ایک لڑکی ہے ، رانے ذات کے ہیں، ان کے ساتھ ہماری دشمنی بھی ہے۔ کہتا ہے کہ میں نے اسی لڑکی سے شادی کرنی ہے، حالانکہ اس کی شادی ہوچکی ہے، تین بچے بھی ہیں، کہتا ہے کہ وہ میرے دل سے نہیں نکلتی۔پہلے بھی ایک بار ایسا ہوا تھا ، اس وقت بھی اسی لڑکی کے بارے میں باتیں کرتا تھا۔ پھر کل رات کو سہیل کہنے لگا کہ میں نے اس کمرے میں نہیں سونا، میں جارہا ہوں۔ اس کی بیوی نے کہا کہ میں چلی جاتی ہوں، آپ ادھر ہی سو جاؤ۔اس سے ان کا جھگڑا ہوگیا ۔اس نے اپنی بیوی کو مارنا شروع کردیا اور اس کا بڑا بھائی باہر گیا ہوا تھا، وہ باہر سے آیا تو یہ اسے مار رہا تھا ، اس نے ہٹایا تو وہ اپنے بڑے بھائی کو ہی مارنے لگ گیا، اس سے دونوں آپس میں لڑنے لگ گئے۔ اسی دوران اس نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے دی اور اب نہ تو یہ سوتا ہے، ہر کسی کو گالیاں دیتا ہے، ماں کو بھی نہیں چھوڑتا ، چھوٹی سی بات پر لڑنے لگ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے باہر جانے دو، میں گھر نہیں رہتا ، مجھے گھر اچھا نہیں لگتا۔ ہم نے دروازے کو تالا لگایا ہوا ہے، ہم اسے باہر نہیں جانے دیتے۔غصے میں اس کا اپنے آپ پر قابو نہیں رہتا، منہ میں جو آئے کہہ دیتا ہے۔ ہم اسے کل بڑی مشکل سے ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے، ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا دماغ کام نہیں کررہا۔ تو اب اس کی بیوی کو طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر کسی مسلمان دین دار ماہر ڈاکٹر کی تشخیص کے مطابق واقعی کسی شخص کا ذہنی مریض ہونا ثابت ہوجائے یا اس کا ذہنی مریض ہونا پہلے سے لوگوں میں معروف ہو اور وہ شخص اسی ذہنی مرض کی بناء پر ہوش و حواس میں نہ رہتے ہوئے طلاق دے دے تو ایسے آدمی کی طلاق شرعا معتبر نہیں ہوتی۔
بس اصل مدار اسی پر ہے کہ طلاق دیتے وقت وہ ذہنی مریض تھا یا نہیں۔ اگر ذہنی مریض تھا اور گھر والے افراد اسے ذہنی مریض ہی سمجھ رہے تھے تو طلاق نہیں ہوئی، ورنہ تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں

لما فی التنویر:(4/437،رشیدیہ)
لا یقع طلاق المولی علی امرأۃ عبدہ و المجنون و الصبی و المعتوہ
وفی الشامیة:(4/437،رشیدیہ)
قوله والمجنون) قال في التلويح: الجنون اختلال القوة المميزة بين الأمور الحسنة والقبيحة المدركة للعواقب، بأن لا تظهر آثاره وتتعطل أفعالها، إما لنقصان جبل عليه دماغه في أصل الخلقة، وإما لخروج مزاج الدماغ عن الاعتدال بسبب خلط أو آفة

 

وفی الموسوعة الفقھیة:(29/15،علوم اسلامیة)
ذهب الفقهاء إلى عدم صحة طلاق المجنون والمعتوه ….فإن حكم طلاق المبتلى به منوط بحاله عند الطلاق، فإن طلق وهو مجنون لم يقع، وإن طلق في إفاقته وقع لكمال أهليته
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(299،البشری)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/158،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/164،قدیمی)
وکذافی ملتقی الأبحر علی ھامش مجمع الأنھر:(2/8،المنار)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/353،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/9/1442/2021/5/2
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:152

ہم اپنے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کا اشتہار کیبل پر (نیچے چلنے والی پٹی پر) دیتے ہیں،تو کیا یہ اشتہار دینا جائز ہے؟(2) انہیں اسٹورز میں ہم ایچ بی ایل کی کریڈٹ کارڈ مشین بھی استعمال کررہے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کیبل کا چونکہ غالب استعمال حرام کاموں میں ہوتا ہے اور اس پر چلنے والے اکثر پروگرامز ناجائز اور فحش امور پر مشتمل ہوتے ہیں،لہذا بلاضرورت محض اپنے اسٹورز کی تشہیر کےلیے ایسے آلہ لہوولعب کو استعمال کرنا اور اس طرح اسے مالی نفع پہنچانے کا ذریعہ بننا مناسب نہیں۔(2) اسٹورز میں کریڈٹ کارڈ مشین کا استعمال درست ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(4/2676،رشیدیہ)
ھذا ینطبق ایضاً علی صور التلفاز و ما یعرض فیہ من رقص و تمثیل و غناء مغنیات کل ذلک حرام فی رأیی
وفی فقہ البیوع:(1/463،معارف القرآن)
و اشتدت الحاجۃ الی مثل ھذہ البطاقۃ فالمرجو أن حاملہ یعتبر معذورا فی الدخول فی ھذہ العقد إن شاء اللہ تعالی بعد أخذ جمیع الاحتیاطات اللازمۃ لأن لا یلجأ الی دفع الفائدۃ الربویۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(4/2665،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(1/108،علوم اسلامیة)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(4/164،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی فقہ البیوع:(1/459،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 22

ایک شخص بواسیر کا مریض ہے ۔نماز پڑھتے ہوئے سجدے کی حالت میں یا اٹھتے بیٹھتے کبھی کبھی اس کا مقعد باہر نکل آتا ہے ،وہ ہاتھ سے اس کو اندر کر لیتا ہے۔اس کے ساتھ نجاست تو نہیں نکلتی لیکن کچھ چکناہٹ سی ہاتھ یا کپڑوں کو لگ جاتی ہے۔اس کی نماز اور وضو کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور نماز باطل ہو جاتی ہے،لہذا دوبارہ وضو کرکے نماز لوٹانا ضروری ہے۔

لما فی الدرالمختار:(1/308،رشیدیہ)
باسوری خرج من دبرہ ،ان ادخلہ بیدہ انتقض وضوءہ و ان دخل بنفسہ لا
وفی الشامیہ:(1/308،رشیدیہ)
لکن ذکر بعدہ فی البحر عن الحلوانی انہ ان تیقن خروج الدبر تنتقض طہارتہ بخروج النجاسۃ من الباطن الی الظاہر و بہ جزم فی الامداد
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/86،رشیدیہ)
و قال الحلوانی :ان تیقن خروج الدبر تنتقض طھارتہ
وکذافی التجنیس و المزید:(1/143،ادارة القرآن)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/83،الطارق)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/196،دار احیاءتراث عربی)
وکذافی التاتارخانیة:(1/244،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/61،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/10،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:72