ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک صریح طلاق دی۔ 20 دن کے بعد اس عورت نے دوسرے آدمی سے نکاح کر لیا ۔ اس دوسرے آدمی نے ایک مہینہ بعد اسے گھر سے نکال دیا۔ اب یہ عورت پہلے خاوند کے پاس آنا چاہتی ہے تو کیا جدید نکاح کرنا پڑے گا یا پہلا نکاح کافی ہے؟ دوسرے خاوند کے ساتھ نکاح کرنے کی وجہ سے کوئی اور حکم تو اس کی طرف متوجہ نہ ہوگا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دوران عدت دوسرے آدمی سے نکاح کرنا سخت گناہ کا سبب ہے اور ایسا نکاح فاسد ہے۔ اس نکاح کی وجہ سے نکاح میں مقرر مہر اور مہر مثلی میں سے جو کم ہو وہ مرد کے ذمہ عورت کو دینا لازم ہے اور جدائی کے بعد سے عورت پر اس دوسرے خاوند کی عدت لازم ہے۔
سوال میں مذکور مدت ایک ماہ 20 دن میں اگرعورت کی پہلے خاوند سے عدت(3 حیض) نہیں گزری تو خاوند اسے سابقہ نکاح کے ساتھ واپس لا سکتا ہے،تجدید نکاح کی ضرورت نہیں، لیکن اس صورت میں دوسرے خاوند کی وجہ سے لازم عدت گزرنے سے پہلے یہ خاوند عورت کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہیں کر سکتا۔
اور اگر مذکورہ مدت میں عورت پہلے خاوند کی عدت مکمل گزار چکی ہے تو اب دوسرے خاوند سے علیحدگی کے بعد اس کی وجہ سے لازم مکمل عدت گزارے گی پھر نئے نکاح کے ساتھ پہلے خاوند کے پاس آسکتی ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(1/280،رشیدیہ)
لا یجوز للرجل أن یتزوج زوجۃ غیرہ و کذلک المعتدۃ کذا فی السراج سواء کانت العدۃ عن طلاق او وفاۃ
وفی الموسوعة الفقھیة:(36/219،علوم اسلامیہ)
نكاح معتدة الغير يعتبر من الأنكحة الفاسدة المتفق على فسادها ويجب التفريق بينهما …ويتفق الفقهاء على وجوب المهر في هذا النكاح بالدخول (أي بالوطء) وعلى وجوب العدة كذلك
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی :(289،310،البشری)
اذا طلق الرجل إمرأتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا ما دامت ھی فی العدۃ سواء رضیت بذلک او لم ترض فاذا راجعھا فی العدۃ فھی إمرأتہ …لا تصح الرجعۃ بعد مضی المدۃ… و یجوز ان ینکحھا نکاحا جدیدا برضاھا
وکذافی الھندیہ:(1/330،رشیدیہ) وکذافی الشامیہ:(5/204،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(4/266،رشیدیہ) وکذافی البحر الرائق:(4/241،رشیدیہ)
وکذافی کنز الدقائق:(105،حقانیہ) وکذافی البحر الرائق:(3/294،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:80

دودھ دوہتے وقت اگر برتن میں گوبر گر جائے تو دودھ کا کیا حکم ہے؟تفصیل سے جواب دیجیے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

دودھ دوہتے وقت اگر گوبر معمولی مقدار میں گرا ہو اور گرتے ہی نکال لیا جائے تو دودھ پاک رہے گا اور اس کا استعمال جائز ہوگا،البتہ اگر گوبر زیادہ مقدار میں ہو یا پھر گرتے ہی نکالا نہ گیا، بلکہ وہ دودھ میں حل ہوگیا تو دودھ ناپاک ہو جائے گا اور اس کا استعمال جائز نہ ہوگا۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(1/422،رشیدیہ)
و بعرتی ابل و غنم کما) یعفی (لو وقعتا فی محلب )وقت الحلب (فرمیتا )فورا قبل تفتت و تلون ـ ـ ـ (قیل القلیل المعفو عنہ ما یستقلہ الناظر والکثیر بعکسہ و علیہ الاعتماد)
وفی الشامیہ:(1/422،رشیدیہ)
فلو تفتت او اخذ اللبن لونھا ینجس
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(1/323،رشیدیہ)
و یعفی عن بعر الابل و الغنم اذا وقع فی البئر او فی الاناء ما لم یکثر کثرۃ فاحشۃ او یتفتت فیتلون بہ الماء والقلیل ھو ما یستقلہ الناظر الیہ والکثیر ما یستفحشہ الناظر الیہ
وکذافی البحر الرائق:(1/199،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/222،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/324،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/261،بیروت)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ:(40/114،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المسوط للسرخسی:(1/88،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی الھندیہ:(1/48،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ:(1/46،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/1442/2020/6/12
جلد نمبر: 21 فتوی نمبر:189

بکر نے اپنے والد سے جھگڑا کرتے ہوئے بیوی کے بارے میں کہا ”میں اسکو نہیں رکھتا ،طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں “دو دفعہ کہا پھر نکاح خواں کو فون کرکے کہا ”مجھے طلاق نامہ دیں میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں “کیا طلاق مغلظہ ہوئی ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دو مرتبہ ”طلاق دیتا ہوں “کہنے سے دو رجعی طلاقیں ہوگئیں ۔باقی فون پر جو کہا ”طلاق نامہ دیں، طلاق دیتا ہوں “یہ پہلے زبانی دی ہوئی طلاق کو تحریری طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کررہا ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/393،دار احیاء تراث عربی)
و لو قال لھا انت طالق ،فقال لہ رجل :ما قلت ؟فقال :طلقتھا او قال :قلت ھی طالق فھی طالق واحدۃ فی القضاء لان قولہ فی المرۃ الثانیۃ خرج جوابا فیکون اخبارا عن الایقاع الاول
وفی بدائع الصنائع:(3/163،رشیدیہ)
و لو قال لامراتہ انت طالق ،فقال لہ رجل :ما قلت ؟فقال :طلقتھا او قال :قلت ھی طالق فھی واحدۃ فی القضاء لان کلامہ انصرف الی الاخبار بقرینۃ الاستخبار
وکذافی الشامیہ :(4/448،547،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/11،الحرمین الشریفین )
وکذافی التاتارخانیة:(4/401،فاروقیة)
وکذافی فتاوی النوازل:(210،الحقانیة)
وکذافی الھندیة:(1/355،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(4/4،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6886،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/4/1442/13/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:39

ایک جامعہ میں ایک دارالاقامہ کےاندر طلباء کی رہائش ہے۔ جمعہ کے دن مقررہ وقت پر اس کا گیٹ بند کر دیا جاتا ہے۔بعض دفعہ کچھ طلباء اس دارالاقامہ میں موجود ہوتے ہیں کہ باہر سے گیٹ بند ہوجاتا ہے۔جامعہ کی مسجد میں جمعہ ادا ہوجانے کے بعد دروازہ کھلتا ہے۔اگر طلباء اس دارالاقامہ میں اپنی جمعہ کی نماز خطبہ کے ساتھ ادا کرلیں تو کیا حکم ہے؟حالانکہ دروازہ کھل جانے کے بعد باہر شہر کی دوسری مساجد میں جمعہ ادا کر سکتے ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں اذن عام نہ ہونے کی وجہ سے دارالاقامہ کے اندر نماز جمعہ کی ادائیگی درست نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وأدلتہ:(2/1297،رشیدیہ)
والثاني الإذن العام: وهو أن تفتح أبواب الجامع ويؤذن للناس بالدخول إذناً عاماً، بأن لا يمنع أحد ممن تصح منه الجمعة عن دخول الموضع الذي تصلى فيه
وفی المحیط البرھانی:(2/464،بیروت)
والشرط السادس: الإذن العام، وهو أن تفتتح أبواب الجامع، ويؤذن للناس كافة حتى أن جماعة لو اجتمعوا في الجامع وأغلقوا الأبواب على أنفسهم وجمعوا لم يجزئهم ذلك
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/319،الطارق)
و یشترط أن تؤدی فی مکان عام یسمح بدخولہ لجمیع الناس و لو اغلق جماعۃ باب الجامع و صلوا فیہ الجمعۃ لایجوز
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(201،البشری)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/327،الحقانیہ)
وکذافی الدرالمختار:(3/28،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/28،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(27/203،علوم اسلامیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(510،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/148،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/6/1442/2021/2/2
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 82

فیکٹری کی مشینری دو یا تین سال سے خراب پڑی ہے،جس کی قیمت بھی نصاب کو پہنچتی ہے ۔ آیا سال گزرنے پر اس میں زکوۃ واجب ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں مشینری پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(232،البشری)
العروض انما تجب علیھا الزکوۃ اذا کانت للتجارۃ و ان لم تکن للتجارۃ لاتجب …..العروض انما تکون للتجارۃ اذا اشتراھا بنیۃ البیع فان لم یشتر بنیۃ البیع بل بنیۃ الاستخدام ثم نوی بیعھا لاتکون للتجارۃ فلاتجب علیھا الزکوۃ
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(3/1799،رشیدیہ)
فلا زکوۃ فی الجواھر و اللآلی…. وآلات الصناعۃ و کتب العلم الا ان تکون للتجارۃ
وکذافی التاتارخانیة:(3/169،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(3/218،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/218،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/95،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/169،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/415،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(1/109،علوم اسلامیة)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/238،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/163،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:21

حالت احرام میں خوشبو کو بےاختیار ہاتھ لگ جائے تو کیا کفارہ لازم ہوگا یا دم؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حالت احرام میں خوشبو خواہ قصداً لگائی یا غیر اختیاری طور پر لگ گئی دونوں صورتوں میں اگر خوشبو مکمل ہاتھ کو لگ گئی تو دم واجب ہوگا اور اگر کچھ حصہ کو لگی تو صدقہ فطر کی مقدار صدقہ لازم ہوگا۔

لما فی غنیة الناسک:(243،ادارة القرآن)
و لافرق ایضاً بین أن یقصدہ أو لا ولذا قال فی المبسوط: و إن استلم الرکن فأصاب فمہ أو یدہ خلوق کثیر فعلیہ دم و إن کان قلیلا فصدقة
وفی فتح القدیر:(3/23،رشیدیہ)
و لافرق بین قصدہ و عدمہ وفی المبسوط: استلم الرکن فأصاب یدہ أو فمہ خلوق کثیر فعلیہ الدم و إن کان قلیلا فصدقة
وفی الفتاوی الھندیة:(1/241،رشیدیہ)
لو مسّ طیباً فلزق بہ مقدار عضو کامل وجب الدم سواء قصد التطیب أو لم یقصد و إن کان أقل من ذلک فصدقة
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(3/652،رشیدیہ)
وکذافی ر دالمحتار:(3/652،رشیدیہ)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(1/431،المنار)
وکذافی النھر الفائق:(2/115،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(12/181،علوم اسلامیة)
وکذافی البحر الرائق:(3/4،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(1/246،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر : 24 فتوی نمبر:88

ایک عورت کا شوہرفوت ہوگیا ہے ۔ عدت کے بعد گھر والے اس کا رشتہ کرنا چاہتے ہیں وہ کہتی ہے کہ اگر جنت میں مجھے پہلا شوہر ہی ملے گا تو میں شادی کرتی ہوں ورنہ نہیں کرتی۔اس کو کیا کہا جائے؟

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر دنیا میں کسی عورت کے یکے بعد دیگرے ایک سے زائد خاوند ہوں تو اکثر روایات کے مطابق جنت میں جانے کے بعد اس عورت کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جس خاوند کو چاہے اپنے لیے منتخب کر لے اور عورت ایسے خاوند کو اپنے لیے پسند کرے گی جو دنیا میں اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتا رہا۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت آخری خاوند کی زوجہ بنے گی مگر یہ روایات نسبتا ضعیف ہیں۔نیز یہ آخری خاوند کی زوجہ بننا بھی عورت کی رضا مندی سے ہوگا کیونکہ وہاں کوئی چیز بھی جبراً اور خلاف طبیعت نہ ملے گی۔

لما فی تفسیر القرآن العظیم لابن کثیررحمہ اللہ:(4/312،دارالمعرفہ)
عن ام سلمۃرضی اللہ عنہاـ ـ ـ قلت: یارسول اللہ المرأة منا تتزوج زوجین والثلاثۃ والأربعۃ، ثم تموت فتدخل الجنۃ ویدخلون معہا، من یكون زوجہا؟ قال: “یا أم سلمۃ، إنہا تخیر فتختار أحسنہم خلقا، فتقول: یا رب، إن ہذا كان أحسن خلقا معی فزوجنیہ، یا أم سلمۃ ذہب حسن الخلق بخیر الدنیا والآخرة
وفی المعجم الکبیر للطبرانی:(10/25،26،دارالکتب العلمیہ)
عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال :قالت ام حبیبۃ رضی اللہ عنھا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ،المراۃ منا یکون لھا زوجان ثم تموت فتدخل الجنۃ ھی و زوجہا ،لایھما تکون للاول او للآخر؟ قال :تخیر احسنھما خلقا کان معھا فی الدنیا یکون زوجھا فی الجنۃ یا ام حبیبۃ
وکذافی المعجم الاوسط للطبرانی:(4/111،مکتبة المعارف)
وکذا فی مجمع الزوائد:(10/557،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی تاریخ بغداد للخطیب:(6/170،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی الترغیب و الترھیب:(4/300،رشیدیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی:(10/26،105،دارالکتب العلمیة)
وکذا فی کنزالعمال:(16/201،202،رحمانیہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر:(3/123،داراحیاء الترث العربی)

واللہ اعلم بالصواب
حررہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/12/2020/1442/4/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:37

جمعہ کے دن خرید و فروخت اور دیگر معاملات ترک کرنے کا تعلق جمعہ کی پہلی اذان سے متعلق ہے یا دوسری سے؟ میں نے پڑھا تھا کہ یہ حکم دوسری اذان سے متعلق ہے،جبکہ ہمارے معمول میں اور اسی طرح اس سے متعلق سنا بھی تھا کہ یہ حکم پہلی اذان سے متعلق ہے اور پہلی اذان تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور سے شروع ہوئی ،جبکہ دوسری اذان شروع سے چلی آرہی ہے،لہذا فقہی حوالے سے اس بارے جو تحقیق ہو وہ بیان کردی جائے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

راجح قول کے مطابق خریدوفروخت اور دیگر معاملات ترک کرنے کا حکم پہلی اذان سے متعلق ہے۔

لما فی التنویر مع الدر المختار:(3/42،رشیدیہ)
وجب سعی الیھا و ترک البیع بالاذان الاول) فی الاصح و ان لم یکن فی زمن الرسول بل فی زمن عثمان
وفی الموسوعة الفقھیة:(27/205،علوم اسلامیہ)
وجوب السعی الیھا و ترک معاملات البیع و الشراء عند الاذان الثانی و ھو قول الجمھور …و قال الحنفیۃ فی الاصح عندھم انما یجب ذلک عند الاذان الاول
وفی الھدایة:(1/154،رشیدیہ)
واذا اذن المؤذنون الاذان الاول ترک الناس البیع و الشراء و توجھوا الی الجمعۃ
وکذافی کنز الدقائق:(45،حقانیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی الدر المنتقی مع مجمع الانھر:(1/253،المنار)
وکذافی العنایة مع فتح القدیر:(2/66،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/149،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(2/1283،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/273،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 162

 

جمعہ کے دن مسجد میں سب سے پہلے آنے والے کو اونٹ کی قربانی کا ثواب ملتا ہے اور پھر آنے والے کو گائے کی قربانی کا۔ اگر کوئی شخص مثلاً ساڑھے بارہ بجے آیا اور دوسرا آدمی 12:31 پر آیا تو دونوں کے ثواب میں فرق ہوگا؟ اس بارے میں کوئی وقت کی تعیین بھی ہے کہ اس وقت کے بعد ثواب کم ہوجائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز جمعہ کےلیے جلد مسجد میں پہنچنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آقا مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة ثم راح، فكأنما قرب بدنة، ومن راح في الساعة الثانية، فكأنما قرب بقرة، ومن راح في الساعة الثالثة، فكأنما قرب كبشا أقرن، ومن راح في الساعة الرابعة، فكأنما قرب دجاجة، ومن راح في الساعة الخامسة، فكأنما قرب بيضة، فإذا خرج الإمام حضرت الملائكة يستمعون الذكر (صحیح البخاری:1/192،رحمانیہ)

ترجمہ:”جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا( یعنی غسل جنابت کی طرح اچھے طریقے سے غسل کیا) پھر نماز کےلیے چلا تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی کی اور جو شخص دوسری گھڑی میں چلا تو گویا اس نے ایک گائے کی قربانی کی اور جو تیسری گھڑی میں چلا تو گویا ایک سینگوں والا دنبہ قربانی کیا اور جو چوتھی گھڑی میں چلا تو گویا ایک مرغی صدقہ کی اور جو پانچویں گھڑی میں چلا تو اس نےگویا ایک انڈا اللہ کی راہ میں دیا پھر جب امام خطبہ کےلیے نکل جاتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کےلیے حاضر ہوجاتے ہیں۔“(انعام الباری:4/47،الحراء)
اس حدیث کی تشریح میں محدثین کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض محدثین کے ہاں ثواب لکھنے کا یہ عمل سورج طلوع ہونے سے ہی شروع ہوجاتا ہے، لہٰذا طلوع سے لے کر امام کے خطبہ کےلیے منبر پر آنے تک کا جو وقت ہے اس کےپانچ حصے کر لیے جائیں گے۔ پہلے حصہ میں آنے والے لوگ اونٹ کی قربانی کا ثواب پائیں گے۔ دوسرے حصہ میں آنے والے گائے کی قربانی کا،تیسرے میں آنے والے دنبے کی قربانی کا، چوتھے حصے میں آنے والے مرغی کے صدقہ کا اور پانچویں حصہ میں آنے والے انڈا صدقہ کرنے کا اجروثواب پائیں گے۔ مثلاً اگر سورج طلوع ہونے سے لےکر امام کے منبر پر آنے تک کا وقت 5 گھنٹے ہے تو پہلے گھنٹے میں آنے والے اونٹ کی قربانی اوردوسرے گھنٹے میں آنے والے گائے کی قربانی کا ثواب پائیں گے۔ اسی طرح باقی گھنٹوں میں آنے والے اسی کے حساب سے اجر پائیں گے۔
بعض محدثین کے ہاں ثواب لکھنے کا یہ عمل زوال کے بعد شروع ہوتا ہے ، لہٰذا زوال سے لے کر امام کے منبر پر آنے تک کے وقت کے پانچ حصے کرلیے جائیں گے۔ جو وقت کے جس حصہ میں آئے گا اسی حساب سے اجروثواب حاصل کرےگا۔

لما فی جامع الترمذی:(1/225،رحمانیہ)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اغتسل يوم الجمعة غسل الجنابة، ثم راح فكأنما قرب بدنة، ومن راح في الساعة الثانية فكأنما قرب بقرة، ومن راح في الساعة الثالثة فكأنما قرب كبشا أقرن، ومن راح في الساعة الرابعة فكأنما قرب دجاجة، ومن راح في الساعة الخامسة فكأنما قرب بيضة، فإذا خرج الإمام حضرت الملائكة يستمعون الذكر
وفی التعلیق الصبیح:(2/184،رشیدیہ)
فتنقسم اوقات الرواح علی الساعات الخمس فتبین لنا ان المراد من التھجیر التبکیر لتضایق ما بعد الزوال من تلک الساعات
وفی فتح الباری:(2/468،قدیمی)
فقيل أول التبكير طلوع الشمس وقيل طلوع الفجر ورجحه جمع وفيه نظر…وبعض الشافعية عن الإشكال بأن المراد بالساعات الخمس لحظات لطيفة أولها زوال الشمس وآخرها قعود الخطيب على المنبر
وکذافی اوجز المسالک:(2/268،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی حاشیة احمد علی السھارنفوری علی صحیح البخاری:(1/192،رحمانیہ)
وکذافی المرقاة للملا علی قاری رحمہ اللہ:(3/476،المکتبة التجاریة)
وکذافی عمدة القاری:(6/172،دار احیاء التراث العربی)
وکذافی تقریر بخاری شریف للشیخ زکریارحمہ اللہ:(3/135،مکتبة العلم)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/5/1442/2021/1/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:150

بعض دفعہ بیماری کی وجہ سے انسانی جسم کی کھال خشک ہوجاتی ہے، اگر ہاتھ سے کھینچیں تو جسم سے الگ بھی ہوجاتی ہے،لیکن خون وغیرہ کچھ نہیں نکلتا تو کیا جسم سے کھال کو اس طرح جدا کرنے سے وضو پر کوئی اثر پڑتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں وضو نہیں ٹوٹتا۔

لما فی فتاوی قاضیخان علی ھامش الھندیة:(1/34،رشیدیة)
و لو کان علی أعضاء وضوئہ قرحة نحو الدمل و علیہ جلدۃ رقیقۃ فتوضأ و أمر الماء علی الجلدۃ ثم نزع الجلدۃ و لم یغسل ما تحتھا و صلی جازت صلوتہ
وفی الموسوعة الفقھیة:(43/340،علوم اسلامیہ)
انقلعت من وجھہ جلدۃ بعد غسلھا ھل یلزمہ غسل ما ظھر أم لا؟ فذھب الحنفیۃ و المالکیۃ فی الراجح…. إلی أنہ لایلزمہ غسل ما ظھر و لایعید وضوئہ
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/228،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(1/207،فاروقیہ)
وکذافی نور الایضاح مع مراقی الفلاح:(93،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/5،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(1/168،بیروت)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/18،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/65،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر :172