ایک آدمی باوضوبستر پر لیٹا ۔کچھ ہی دیر بعد اس پر اونگھ اور نیند کی سی کیفیت طاری ہو گئی اور آس پاس کیا ہو رہا ہے اس کو سب پتا چل رہا ہے تو کیا اس آدمی کا وضو باقی ہے؟ جبکہ اس اونگھ اور نیند کی کیفیت کے علاوہ اور کوئی بھی مفسد وضو نہ پائے جانے کا اس کو یقین ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں وضو نہیں ٹوٹا،تاہم احتیاطاً نیا وضو کر لینا بہتر ہے۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/74،حقانیہ)
واذا نام نوما خفیفا وھو مضطجع بحیث یسمع من یتحدث عندہ فانہ لا ینقض
وفی مراقی الفلاح:(90،قدیمی)
والنعاس الخفیف الذی یسمع بہ ما یقال عندہ لا ینقض
وکذافی البحر الرائق:(1/75،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/425، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/12، رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/298، رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(1/298، رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(1/255،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(40/374،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2021/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:150

ایک آدمی کہتا ہے کہ احادیث کا کوئی ثبوت نہیں ہے،کچھ لوگوں نے مل بیٹھ کر مشورہ سے حدیثیں بنا لیں،ہر ایک نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سنی ہے ۔اس آدمی کا یہ عقیدہ بھی ہے کہ جنت میں صرف روحیں ہوں گی انسانی جسم نہیں ہوں گے اور کہتا ہے کہ بیوی کے ساتھ ہمبستری کے بعد غسل کرنا ضروری نہیں ہے اور بغیر وضو کے نماز کو جائز سمجھتا ہے ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسے شخص کے ساتھ میل جول،شادی غمی میں ان کو بلانا یا ان کی شادی غمی میں شریک ہونا ،اس کے ساتھ کھانا پینا جائز ہے ؟اور کیا یہ شخص مسلمان کہلانے کے قابل ہے؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس شخص کے مذکورہ عقائد واضح طور پر قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں،لہذا ایسے ملحدانہ و کافرانہ عقائد رکھنے والا شخص خارج از اسلام اور ملحد و زندیق ہے ۔یہ شخص جب تک اپنے ان کفریہ عقائد سے توبہ کر کے تجدید ایمان نہ کر لے اس وقت تک اس سے کسی قسم کا میل جول رکھنا اور اس کی خوشی و غمی میں شریک ہونا درست نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء،65)
“فلا و ربک لا یؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم.”
وفی جامع الترمذی :(1/90،رحمانیہ)
عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا تقبل صلاۃ بغیر طھور
وفی الفتاوی الھندیة:(2/268،رشیدیة)
ولو صلى بغير وضوء متعمدا يكفر قال الصدر الشهيد – رحمه الله تعالى – وبه نأخذ
وفی الموسوعة الفقھیة:(35/14،علوم اسلامیة)
الكفر شرعا: هو إنكار ما علم ضرورة أنه من دين محمد صلى الله عليه وسلم
وفی الدر المختار:(6/344،رشیدیة)
الكفر لغة: الستر. وشرعا: تكذيبه – صلى الله عليه وسلم – في شيء مما جاء به من الدين ضرورة
وکذافی التفسیر المنیر:(3/145،امیر حمزہ) وکذافی مجمع الانھر:(2/506،المنار)
وکذا فی سنن ابی داؤد:( 2/287،رحمانیة) وکذا فی البحر الرائق:(5/202،رشیدیة)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(9/602،التجاریة) وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة:(7/300،322،فاروقیة)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/9/1442/2021/5/4
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:174

ایک آدمی نے اپنی بھانجی کےلیے انشورنس پالیسی لی ،اب وہ خاتون اپنے جمع شدہ پیسے نکلوانا چاہتی ہے تو کیا وہ اپنی جمع شدہ رقم (علاوہ اضافی رقم ) واپس لے سکتی ہے یا وہ بھی نہیں لے سکتی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

قسطوں کی شکل میں جمع کروائی ہوئی اپنی اصل رقم واپس لینا اور اسے استعمال میں لانا بالکل جائز ہے ،البتہ اضافی ملنے والی رقم سود ہے، اسکا استعمال ناجائز ہے۔ اسے ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کر دیا جائےاور آئندہ ایسی پالیسی حاصل کرنے سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

لما فی القرآن الکریم:(البقرة:279)
وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ
وفی التفسیر المنیر:(2/98،امیر حمزہ)
وإن رجعتم عن الرّبا امتثالا لأمر الله، فتستحقون رؤوس أموالكم كاملة فقط، لا نقص ولا زيادة، فلا تظلمون أحدا بأخذ الرّبا، ولا تظلمون بنقص شيء من أموالكم
وفی الموسوعة الفقھیة:(22/60،علوم اسلامیہ)
من اربی ثم تاب فلیس لہ الّا راس مالہ
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/290،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی احکام القرآن للعثمانی رحمہ اللہ:(1/673،ادارة القرآن)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3739،رشیدیہ)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/187،معارف القرآن)
وکذافی الشامیہ:(5/99،سعید کراتشی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(32،34/39،245،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 76

اگر سسر نے ساری زندگی پوری دیانت سے جاب کی اور رزق حلال کمایا، لیکن زندگی میں اپنی انشورنس کروا رکھی تھی۔ رٹائر ہونے کے بعد اب انشورنس کی رقم ملی ہے۔اگر وہ بہو کو اس میں سے کچھ خرچ کرنے کو دیں تو کیا وہ رقم جائز ہوگی؟جبکہ وہ خود انشورنس کو بالکل جائز سمجھتے ہیں،اگر سمجھائیں تو ناراضگی کا اندیشہ ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

انشورنس کمپنی کو قسطوں کی صورت میں ادا کی گئی اصل رقم تو حلال ہے ، البتہ اس پر ملنے والی اضافی رقم سود اور حرام ہے۔اب اس مخلوط رقم میں سے بقدر حلال رقم استعمال کرنا سسر، بہو، سب کے لئے جائز ہےاور اس سے زائد رقم کا استعمال سب کےلئے ناجائز ہےاور ثواب کی نیت کیے بغیر صدقہ کرنا ضروری ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3423،رشیدیہ)
اما التامین التجاری او التامین ذوالقسط الثابت فھو غیر جائز شرعا ـ ـ ـ ـ و سبب عدم الجواز یکاد ینحصر فی امرین: ھما الغرر و الرباء
وفی فقہ البیوع:(2/1066،معارف القرآن)
اما شرکات التامین التقلیدیۃ التی تعمل علی اساس الربوا و الغرر فھی علی قسمین :الاول الشرکات التی تمارس التامین علی الحیاۃ ـ ـ ـ ـ اما عملیۃ التامین فعملیۃ تشتمل علی الربوا او علی الغرر او علیھما
وفیہ ایضاً:(2/1032،معارف القرآن)
اذا کان الحلال مخلوطا بالحرام دون تمییز احدھما بالآخر فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال سواء اکان الحلال قلیلاً ام کثیرا
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(2/187،معارف القرآن)
وکذافی فقہ البیوع:(2/1036،1038،معارف القرآن)
وکذافی التاتارخانیة:(16/509،فاروقیة)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(36/39،علوم اسلامیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/64،دار احیاء تراث عربی)
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(5/3428،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/5/1442/2020/12/29
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:97

ایک صاحب کا کہنا ہے کہ امام مہدی کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے ۔ مہربانی فرما کر صحیح احادیث بتلا دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اخیر زمانہ میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کا ظہور یقیناً ہوگا۔آپ کا نام محمد اور والد کا نام عبد اللہ ہوگااور آپ کا لقب مہدی ہوگا۔آپ اہلبیت میں سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی اولاد میں سے ہونگے۔آخر زمانہ میں جب اہل مدینہ کا حکومت پر اختلاف ہوگا تو آپ مدینہ منورہ سے نکل کر مکہ مکرمہ چلے جائیں گے۔اہل مکہ حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آپ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں گے۔ انکے مقابلے کےلیے شام سے ایک لشکر آئے گا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء پر زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر ملک شام اور عراق کے ابدال اور صلحاء حضرت مہدی کے ہاتھ پربیعت کرلیں گے۔ پھر ایک قریشی شخص ان کے خلاف لشکرکشی کرے گاجسے شکست ہوگی۔ پھر حضرت مہدی اسلامی حکومت قائم فرمائیں گے،کثرت سے فتوحات ہونگی،عدل و انصاف کا نظام قائم ہوگا۔ آپ 7 سال حکومت کرنے کے بعد انتقال فرما جائیں گے اور مسلمان آپ کا جنازہ ادا کریں گے۔
حضرت مہدی سے متعلق یہ سب باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں ۔ بہت سی کتب احادیث مثلاً سنن ابی داؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، المستدرک للحاکم ، مشکوۃ المصابیح، مجمع الزوائد اور مسند ابی یعلی وغیرہ میں اس سے متعلق کثرت سے روایات موجود ہیں ۔یہ سب روایات مختلف صحابہ کرام مثلاً حضرت علی ، ابو سعید، ابو ہریرہ،حذیفہ بن یمان ، ابو امامہ، عبد الرحمان بن عوف ، انس بن مالک، ابن جابر ، ابن عبد اللہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھم وغیرہ سے منقول ہیں۔
لہذا امام مہدی کے خروج کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے اور اسکا انکار ضلالت و گمراہی ہے۔

لما فی جامع الترمذی:(2/494،رحمانیہ)
عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي: وفي الباب عن علي، وأبي سعيد، وأم سلمة، وأبي هريرة وهذا حديث حسن صحيح
وفیہ ایضاً:(2/494،رحمانیہ)
عن أبي سعيد الخدري قال: خشينا أن يكون بعد نبينا حدث فسألنا نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: إن في أمتي المهدي يخرج يعيش خمسا أو سبعا أو تسعا۔ هذا حديث حسن
وفی سنن ابی داؤد:(2/238،رحمانیہ)
عن علي، رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لو لم يبق من الدهر إلا يوم، لبعث الله رجلا من أهل بيتي، يملؤها عدلا كما ملئت جورا
وفی سنن ابن ماجہ:(437،رحمانیہ)
عن ثوبان، قال: قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم -: “يقتتل عند كنزكم ثلاثة، كلهم ابن خليفة، ثم لا يصير إلى واحد منهم، ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق، فيقتلونكم قتلا لم يقتله قوم ثم ذكر شيئا لا أحفظه، فقال: “فإذا رأيتموه فبايعوه ولو حبوا على الثلج، فإنه خليفة الله، المهدي
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(5/376،قدیمی)
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، قال: قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: ينزل بأمتي في آخر الزمان بلاء شديد من سلطانهم لم يسمع بلاء أشد منه، حتى تضيق عنهم الأرض الرحبة، وحتى يملأ الأرض جورا وظلما، لا يجد المؤمن ملجأ يلتجئ إليه من الظلم، فيبعث الله عز وجل رجلا من عترتي، فيملأ الأرض قسطا وعدلا، كما ملئت ظلما وجورا، يرضى عنه ساكن السماء وساكن الأرض، لا تدخر الأرض من بذرها شيئا إلا أخرجته، ولا السماء من قطرها شيئا إلا صبه الله عليهم مدرارا، يعيش فيها سبع سنين أو ثمان أو تسع، تتمنى الأحياء الأموات مما صنع الله عز وجل بأهل الأرض من خيره۔ هذا حديث صحيح الإسناد
وکذافی جامع الترمذی:(2/494،رحمانیة)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/239،رحمانیة)
وکذافی المستدرک علی الصحیحین:(5/407،423،قدیمی)
وکذافی مجمع الزوائد:(7/431،433،435،بیروت)
وکذافی تحفة الاحوذی:(6/484،قدیمی)
وکذافی التعلیق الصبیح:(6/183،184،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 60

ہم لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لیتے ہیں تو انتہائی ادب کے ساتھ لیتے ہیں اور لینا بھی چاہیے، لیکن اللہ تعالی کے نام کے ساتھ ہماری طرف سے وہ تعظیمی انداز نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے، مثلاً ہم کہتے ہیں اے اللہ”تو“ معاف کردے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یقیناً ہر صاحب ایمان اللہ تعالی کی عظمت و جلالت اور بڑائی و کبریائی پر صدق دل سے ایمان رکھنے والا ہے اور اس کا اظہار مختلف کلمات و تعبیرات کے ساتھ مختلف مواقع پر کرتا ہی رہتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے، کیونکہ اللہ تعالی کی تعظیم ہر مومن پر لازم اور ضروری ہے اور اللہ تعالی کی بےتعظیمی کرنا سخت گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے۔
باقی رہی یہ بات کہ اہل ایمان دل سے اللہ تعالی کی عظمت کے قائل ہونے کے باوجود اللہ جل شانہ کا ذکر کرتے ہوئے بسااوقات اسم الٰہی کے ساتھ تعظیمی القابات لگانے کا وہ اہتمام نہیں کرتے جو اہتمام جناب نبی کریم ﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ تعظیمی کلمات لانے کا کرتے ہیں، تو اس کی چند وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں:(1) یقیناً ہر صاحب ایمان جانتا ہے کہ اللہ تعالی کی ذات وحدہ لاشریک ہے ۔ اللہ تعالی کی اسی وحدانیت کا اظہار کرنے کے لیے بسا اوقات مفرد کے صیغوں کا استعمال کیا جاتا ہے،مثلا:اے اللہ بارش برسا دے،اے اللہ تو ہی خالق ہے ،وغیرہ۔
اگرچہ جمع کے صیغے مثلاً اے اللہ آپ ہی خالق ہیں،اللہ تعالی بارش برساتے ہیں وغیرہ لانے میں تعظیم زیادہ ہے، مگر وحدانیت کا کھلے طور پر اظہار مفرد کے صیغوں میں ہے،لہذا مفرد کے صیغے لانے میں مقصود بے تعظیمی نہیں، بلکہ عقیدہ توحید کا اظہار مقصود ہوتا ہے،اس لیے اللہ جل شانہ کے لیے مفرد و جمع دونوں طرح کے صیغے استعمال کرنا درست ہے۔اور خود اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنی ذات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں انداز اختیار فرمائے ہیں۔(2) مومن بندے کا اللہ تعالی کے ساتھ حد درجہ تعلق ہوتا ہے اس تعلق کی بناء پر بے تکلفی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بندہ مخلوق میں سے کسی کے ساتھ خواہ کتنا ہی بے تکلف ہو ،مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ حجاب باقی رہتا ہے،جبکہ خالق و مالک اور اس کے مومن بندے کے درمیان حجاب نہیں، بلکہ حد درجہ بے تکلفی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بندہ یہ بات جاننے کے باوجود کہ اللہ تعالی مجھے دیکھ رہے ہیں پھر بھی گناہوں کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔
اسی بے تکلفی کی بناء پر ہم بسا اوقات اللہ تعالی کو بغیر القابات کے پکارتے ہیں اور صرف”اللہ“ کہہ دیتے ہیں،کیونکہ جہاں بےتکلفی ہو وہاں لمبے چوڑے القابات لانے کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔
جبکہ نبی کریم ﷺ کی جناب میں ہمیں وہ بے تکلفی حاصل نہیں اس لیے آپ کی جناب میں حد درجہ آداب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔(3) بندے کو اللہ تعالی نے فطری طور پر کچھ اس طرح بنایا ہے کہ یہ اشیاء کے اثرات کو محسوس کرتا ہے اور ان سے متاثر ہوتا ہے،یہی وجہ ہے کہ کسی انسان کے لیےتعظیمی الفاظ استعمال کیے جائیں تو وہ فطرتی طور پر خوشی و راحت محسوس کرتا ہے اور اگر اس کی بےتعظیمی کی جائے تو اذیت وتکلیف محسوس کرتا ہے۔
مگر اللہ تعالی کی ذات اس سے پاک اور منزہ ہے کہ وہ کسی چیز سے متاثر ہو، لہذا اس بناء پر اگر ہم اللہ تعالی کےلیے کثیر تعظیمی القابات لانے کا اہتمام نہ بھی کریں تو اللہ تعالی کی ذات اس سے بلند وبالا ہے کہ یہ چیز آپ کےلیے اذیت کا ذریعہ بنے۔
جبکہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں۔ آپ کی بارگاہ میں تعظیم میں کمی آپ کےلیے اذیت و تکلیف کا باعث بن سکتی ہے ، اس لیے آپ ﷺ کی ذات اقدس سے متعلق بہت محتاط رہنے کی اور تمام تر آداب بجالانے کی ضرورت ہے۔ (4) جب ہم اللہ تعالی کی ذات سے متعلق لفظ ”اللہ “ بولتے ہیں تو مزید القابات لگانے کی حاجت نہیں رہتی ، یہ لفظ خود ہی تمام صفات و کمالات کو جامع ہے اور اللہ تعالی کی عظمت و کبریائی پر دلالت کرنے والا ہے۔
یہ وہ چند وجوہ ہیں جنکی بناء پر دل میں عظمت الٰہی ہونے کے باوجود بسا اوقات اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہوئے خاص تعظیمی انداز اختیار کرنے کا اہتمام نہیں کیا جاتا، تاہم پھر بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جب بھی اللہ تعالی کا نام لیا جائے تو نام مبارک کے ساتھ تعظیمی کلمات مثلاً”تعالی ، جل شانہ اور رب العزت“ وغیرہ استعمال کیے جائیں اور سننے والوں کو بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے کہ جب اللہ تعالی کا مبارک نام سنیں تو زبان سے تعظیمی کلمات ادا کریں۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(5/315،رشیدیہ)
و یستحب أن یقول:” قال اللہ تعالی“ و لا یقول:” قال اللہ“ بلا تعظیم بلا ارداف وصف صالح للتعظیم. رجل سمع اسما من اسماء اللہ تعالی یجب علیہ أن یعظمہ و یقول سبحان اللہ و ما أشبہ ذلک
وفی التاتارخانیہ:(18/44،فاروقیہ)
رجل یسمع ذکر اللہ تعالی یجب علیہ أن یعظمہ و یقول: سبحان اللہ أو تبارک اللہ
وکذافی خطبات حکیم الامة التھانوی علیہ الرحمہ:(23/257،261،تالیفات اشرفیہ)

واللہ اعلم بالصواب
فرخ عثمان غفرلہ و لوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:78

اگر جسم پر ایلفی لگ جائے اور بہت کوشش کے باوجود نہ اترے تو کیا کھال کھرچنا ضروری ہے یا ویسے بھی وضواور نماز ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں پٹرول وغیرہ سے ایلفی اتارنے کی بھر پور کوشش کی جائے،لیکن اگر جسم پر زخم آئے بغیر ایلفی اتارنا ممکن نہ ہو تو ایسی مجبوری میں اس کی موجودگی میں بھی وضو اور نماز ہو جائے گی ۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(1/ 13، رشیدیہ )
والصرام والصباغ ما فی ظفرھما یمنع تمام الاغتسال و قیل کل ذالک یجزیھم للحرج والضرورۃ و مواضع الضرورۃ مستثناۃ عن قواعد الشرع کذا فی الظھیریۃ
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(1/275 ، فاروقیہ)
سئل الشیخ نجم الدین النسفی عن امراۃ تغتسل من الجنابۃ ھل تتکلف بایصال الماء الی ثقب القرط ؟ قال : ۔۔۔۔۔ان لم یکن القرط فیہ ان کان لا یصل الماء الیہ الا بتکلف لا تتکلف
وکذافی التنویر مع شرحہ الدر المختار:(1/ 316، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/142 ،رشیدیہ )
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ :(1/34 ، رشیدیہ )
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح :(63 ، قدیمی)
وکذا فی التاتارخانیہ :(1/206 ،فاروقیہ )

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ فرخ عثمان عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/13/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 192

ایک شخص نے وکیل سے کہا تم میری بیوی کو طلاق دے دو ،لیکن وکیل نے طلاق نہیں دی تو طلاق ہوئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

طلاق دینے میں اصل تو یہ ہے کہ شوہر خود دے،البتہ اگر وہ طلاق دینے کے لیے کسی کو اپنا نائب (وکیل) بنا دےتو محض وکیل بنانے سے طلاق واقع نہ ہو گی،جب تک کہ وکیل طلاق نہ دے،لہذا صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔

لما فی الدر المختار:(4/540،رشیدیہ)
باب تفويض الطلاق لما ذكر ما يوقعه بنفسه بنوعيه ذكر ما يوقعه غيره بإذنه. وأنواعه ثلاثة: تفويض، وتوكيل، ورسالة
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/299،بشری)
لا یصح الطلاق الا من زوج او من وکیلہ، والوکیل من وکلہ الزوج بطلاق زوجتہ فان طلق الوکیل یقع طلاقہ علی زوجۃ الموکل
وکذا فی الخانیہ:(3/52،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(5/36،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(8/322،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(3/611،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(2/126،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(7/256،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(8/17،19،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/6/1442/2021/1/17
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 183

ایک آدمی “یا شمنون”پڑھ کر دم کرتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دم یا تعویذ میں ایسے کلمات ہونا ضروری ہے جن کا معنی مفہوم معلوم ہواور شرکیہ یا کفریہ نہ ہو۔شمنون کا معنی معلوم نہ ہوسکا،البتہ اس سے ملتا جلتا کلمہ”شمن ” کامعنی “بت پرست”ہے،اس اعتبار سے “یا شمنون ” میں شرکیہ معنی کا شائبہ ہے،لہذا اس سے دم کرنا جائزنہیں۔

لما فی الشامیہ:(9/600،رشیدیہ)
قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به
وفی لغات فارسی:(2/81،عمر)
شمن (ف) بت پرست
وفی بھجة المحافل وبغیة الاماثل:(1/53،شاملہ)
قال الجوهري وهو الصنم واحد الاصنام ويقال انه معرب شمن وهو الوثن وقال غيره الوثن الجثة من أجزاء الارض أو الخشب يعبد
وکذافی فتح الباری:(10/240،قدیمی)
وکذافی النھایہ لابن الاثیر:(2/214،عصریہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/318،320،تجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/97،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 115

واش روم کے اندر وضو کرتے ہوئےوضو کی دعائیں پڑہنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیا

جو جگہیں نجاست کو زائل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں ان میں دعائیں زبان سے پڑہنا اللہ جل شانہ کے نام کی عظمت و احترام کے خلاف اور بے ادبی ہے اس لیے درست نہیں،لہذا واش روم سے نکل کر دعائیں پڑھ لی جائیں۔

لما فی الشامیة:(3/99،رشیدیہ)
وتكره قراءة القرآن في موضع النجاسة كالمغتسل والمخرج والمسلخ وما أشبه ذلك، وأما في الحمام فإن لم يكن فيه أحد مكشوف العورة وكان الحمام طاهرا لا بأس بأن يرفع صوته بالقراءة، وإن لم يكن كذلك فإن قرأ في نفسه ولا يرفع صوته فلا بأس به
وفی کتاب الفقہ:(1/62،حقانیہ)
ولہ ان یسمی قبل الاستنجاءوبعدہ بشرط ان لا یسمی فی حال الانکشاف ولا فی محل النجاسۃ
وکذافی الجوھرة:(1/29،قدیمی)
وکذا فی معارف السنن:(1/77،سعید)
وکذا فی بذل المجہود:(1/41،قدیمی)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(2/55،تجاریہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/51،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 176