آجکل بازاروں میں لطیفوں پر مشتمل چھوٹے بڑے کتابچے مثلاً “لطیفوں کی دنیا “”مسکرائیے”وغیرہ کے عنوان سے عام مل جاتے ہیں ،ان سے متعلق ایک صاحب فرمارہے تھے کہ ان کو پڑھنا اور سننا،سنانا جائز نہیں ،کیونکہ یہ سب جھوٹ ہوتا ہے۔ترمذی شریف کی روایت ہے کہ: “ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے”۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ(1)کیا اس صاحب کی بات درست ہے؟(2)کیا ان لطیفوں کا سننا سنانا درست نہیں ؟(3)اس سے آدمی مذکورہ وعید کا مستحق ٹھرتا ہے کہ نہیں ؟(4)کیا ان لطیفوں پر مشتمل کتابچوں کی فروخت جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

(2)

اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں جہاں متانت و سنجیدگی کا عنصر رکھا،وہاں گاہے گاہے ہنسی مزاح ،خوش طبعی اور بے تکلفی کا بھی عنصر ودیعت فرمایا ہے،جس سے دل و دماغ کو سرور اور طبیعت میں نشاط پیدا ہوتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک روایت کے مطابق آپ ﷺنے فرمایا :”روحوا القلوب ساعۃ فساعۃ”کبھی کبھار اپنے دلوں کو راحت وسکوں پہنچایا کرو”۔(فیض القدیر:4/53،بیروت)لہذا اگر فرضی لطائف کے سننے سنانے سے غرض مثال بیان کرنا ہو ،تعلیمی فائدہ ہویاتفریح و نشاط ہو جس سےطبیعت کی تھکان و سستی دور ہو تو حرج نہیں ،البتہ اگر مقصود محض ضیاع وقت ،جھوٹھے قصے کہانیاں ،لطائف سنانے کو مشغلہ بنا لیا جائےجس سے نتیجتاً شرعی احکام سے غفلت ہو ،انسانی وقار مجروح ہو اورآپس میں حسد و کینہ کا سبب ہو تو یقیناً جائز نہیں۔(3)محض لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولاجائےتو مذکورہ وعید کا مستحق ہو گا،یہی اس حدیث مبارکہ کا منشاہے۔(4)علمی،اخلاقی اور نصیحت آموز لطائف و واقعات پر مشتمل کتابچوں کی خریدو فروخت جائز ہے ۔غیر مہذب ،فحش اور اخلاق سوز لٹریچر کی فروخت جائز نہیں۔

لما فی القرآن المجید:(سورةالنور:آیة،19)
إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
وفی الجامع للترمذی:(2/506،رحمانیہ)
سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «ويل للذي يحدث بالحديث ليضحك به القوم فيكذب، ويل له ويل له
وفی مرقاة المفاتیح:(8/617،تجاریہ)
قال النووی اعلم ان المزاح المنھی عنہ ھو الذی فیہ افراط ویداوم علیہ ،فانہ یورث الضحک ،وقسوۃ القلب ویشغل عن ذکر اللہ والفکر فی مھمات الدین ویؤول فی کثیر من الاوقات الی الایذاء ویورث الاحقاد ویسقط المھابۃ والوقار ،فاما ما سلم من ھذہ الامور فھو المباح الذی کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم یفعلہ علی الندرۃ لمصلحۃ تطییب النفس المخاطب ومؤانستہ،وھو سنۃ مستحبۃ فاعلم ھذا فانہ مما یعظم الاحتیاج الیہ
وکذافی الموسوعة:(37/43،علوم اسلامیہ)
لا بأس بالمزاح إذا راعى المازح فيه الحق وتحرى الصدق فيما يقوله في مزاحه، وتحاشى عن فحش القول، وقد روى ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إني لأمزح ولا أقول إلا حقا۔قال البركوي والخادمي: شرط جواز المزاح قولا أو فعلا أن لا يكون فيه كذب ولا روع مسلم وإلا فيحرم
وکذافی الشامیہ:(9/668،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(11/146،امیر حمزہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
وکذافی التعلیق الصبیح علی مشکوة المصابیح:(5/183،رشیدیہ)
وکذافی أحکام القرآن للشیخ شفیع عثمانی رحمہ اللہ:(3/185،196،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/202/04/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 124

ہمارے کھیتوں میں مختلف قسم کے درخت لگے ہوئے ہیں ،ان سے گوند وغیرہ نکلتا ہے آیا اس گوند پر بھی عشر واجب ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیا

اگر ان درختوں کو گوند کے حصول کے لیے نہیں لگایا گیا تو اس پر عشر واجب نہ ہو گا۔

لما فی الھندیہ:(1/186،رشیدیہ)
ولا عشر فيما هو تابع للأرض كالنخل والأشجار وكل ما يخرج من الشجر كالصمغ والقطران؛ لأنه لا يقصد به الاستغلال
وکذافی التنویر وشرحہ:(3/315،رشیدیہ)
إلا فيهما) لا يقصد به استغلال الأرض (نحو حطب وقصب) فارسي (وحشيش) وتبن وسعف وصمغ وقطران وخطمي وأشنان
وفی البحر الرائق:(2/415،رشیدیہ)
وكذا كل ما يخرج من الشجر كالصمغ والقطران؛ لأنه لا يقصد به الاستغلال
وکذا فی التتارخانیہ:(3/275،فاروقیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/248،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/523،حقانیہ)
وکذا فی مجمع الانہر:(1/319،المنار)
وکذا فی النھر الفائق:(1/454،قدیمی)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/307،قدیمی)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/247،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/6/1442/2021/1/17
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 180

ایک کمپنی کے ملازم کو کمپنی والوں نے دوسرے شہر کام کےلیے بھیجا،وہاں کےہوٹل کی رہائش اور کھانے پینے کا خرچ کمپنی کی طرف سے ادا کیا گیا،اس نے وہاں جا کر اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہائش رکھ لی ، اب جو خرچ ملا تھا وہ بچ گیا تو کیا ملازم اس کو رکھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

عام طور پر ادار ےوالےملازم کو وہ رقم امانۃ دیتے ہیں ،لہذا اس صورت میں بقیہ رقم واپس کرنا ضروری ہے۔البتہ اگر کسی کمپنی کی طرف سے اس رقم کا مالک بنا دیا جاتا ہے تو اس کا رکھنا جائز ہو گا ۔

لما فی البرجندی :(3/83،حقانیہ)
ولا یضمن ما ھلک فی یدہ بان سرق او غصب لان العین امانۃ فی یدہ قبض باذنہ وہذا بالاتفاق
وفی المبسوط:(22/63،دارالمعرفہ)
ثم المستحق نفقة المثل، وهو المعروف، كما في نفقة الزوجة، فإن أنفق أكثر من ذلك حسب له من ذلك نفقة مثله وكان ما بقي عليه في ماله، فإذا رجع إلى مثله، وقد بقي معه ثياب أو طعام أو غيره، رده في مال المضاربة؛ لأن استحقاقه قد انتهى برجوعه إلى مصره فعليه رد ما بقي، كالحاج عن الغير إذا بقي معه شيء من النفقة بعد رجوعه
وکذافی فتح القدیر:(8/498،رشیدیہ)
واذا اخذ شیئا للنفقۃ وھو مسافر فقدم وبقی معہ شیئ منہ ردہ فی المضاربۃ لانتھاء الاستحقاق ….والنفقہ ما تصرف الی الحاجۃ الراتبۃ کالطعام والشراب وکسوتہ ورکوبہ شراء او کراء کل ذلک بالمعروف
وکذا فی الشامیة:(8/516،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(2/30،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(7/458،459،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(15/445،4450،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2021/1/18
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 181

کرکٹ میں کام آنے والی اشیاءکا خریدنا(2) اور کرکٹ کھیلنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

(1)

کسی بھی کھیل کے جواز کی چند شرطیں ہیں مثلا (1)کھیل کا مقصد جسمانی ورزش اور بدن کی تقویت ہو(2) اس میں ناجائز کام کا ارتکاب نہ ہو مثلا شرط لگانا ،ستر کھولنا،موسیقی بجانا،فحاشی اورمرد و زن کا اختلاط وغیرہ۔(3)اس کھیل کو زندگی کا مقصد نہ بنا لیا جائے۔(4)اس میں اس قدر انہماک نہ ہوکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے غفلت و سستی برتی جائے،لہذا اگر ان شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی کھیل کھیلا جائےتو جائز ہے۔آج کل کرکٹ کھیلتے ہوئے عموما ان شرائط کو مد نظر نہیں رکھا جاتا ،لہذا جہاں ایسی صورت حال ہو تو کھیلنا جائز نہ ہو گا ۔(2)ان اشیاء کی خریدو فروخت جائز ہے،کیونکہ ان کا صحیح استعمال بھی ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(35/268،علوم اسلامیہ)
وإباحة اللعب إنما يكون بشرط أن لا يكون فيه دناءة يترفع عنها ذوو المروءات، وبشرط أن لا يتضمن ضررا فإن تضمن ضررا لإنسان أو حيوان كالتحريش بين الديوك والكلاب ونطاح الكباش والتفرج على هذه الأشياء فهذا حرام، وبشرط أن لا يشغل عن صلاة أو فرض آخر أو عن مهمات واجبة فإن شغله عن هذه الأمور وأمثالها حرم، وبشرط أن لا يخرجه إلى الحلف الكاذب ونحوه من المحرمات
وفی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
ويجوز بيع البربط والطبل والمزمار والدف والنرد وأشباه ذلك في قول أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – وعندهما لا يجوز بيع هذه الأشياء قبل الكسر ذكر المسألة في إجارات الأصل من غير تفصيل وذكر في السير الكبير تفصيلا على قولهما فقال إن باعها ممن لم يستعملها ولا يبيع هذا المشتري ممن يستعملها فلا بأس ببيعها قبل الكسر فإن باعها ممن يستعملها أو يبيعها هذا المشتري ممن يستعملها لا يجوز بيعها قبل الكسر
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2662،رشیدیہ)
وما خلا من القمار، وهو اللعب الذي لا عوض فيه من الجانبين ولا من أحدهما، فمنه ما هو محرم، ومنه ما هو مباح، لكن لا يخلو كل لهو غير نافع من الكراهة؛ لما فيه من تضييع الوقت والانشغال عن ذكر الله وعن الصلاة وعن كل نافع مفيد
وکذا فی بذل المجھود:(11/242،قدیمی) وکذا فی ابی داؤد:(1/363،رحمانیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(4/434،دارالعلوم کراچی) وکذا فی الشامیة:(9/664،رشیدیہ)
وکذا فی احکام القرآن للشیخ شفیع عشمانی رحمہ اللہ:(3/201،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 132

نماز وتر میں قنوت کے لیے جو ہاتھ اٹھاتے ہیں اس کا ثبوت حدیث سے ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

وتر میں قنوت سے پہلے ہاتھ اٹھانا امام بخاری رحمہ اللہ نے “جزءرفع الیدین”میں حضرت عمر اور حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کا عمل نقل کیا ہے۔اس کے علاوہ دیگر کتب حدیث میں بھی ان دونوں حضرات کا رفع یدین کرنا مذکور ہےاور صحابی کا عمل (مالا یدرک بالرای)حکماً مرفوع حدیث کے حکم میں ہوتا ہے۔

لما فی آثار السنن:(210،امدادیہ)
عن الاسود عن عبد اللہ رضی اللہ عنہ أنہ کان یقرأ فی آخر رکعة من الوتر قل ھو اللہ احد ثم یرفع یدیہ فیقنت قبل الرکعۃ ۔رواہ البخاری فی جزء رفع الیدین واسنادہ صحیح
وفی شرح معانی الآثار:(1/390،رحمانیہ)
عن إبراهيم النخعي قال: ” ترفع الأيدي في سبع مواطن: في افتتاح الصلاة , وفي التكبير للقنوت في الوتر , وفي العيدين , وعند استلام الحجر , وعلى الصفا والمروة , وبجمع وعرفات , وعند المقامين عند الجمرتين
وکذافی المصنف لابن أبی شیبہ:(2/101،دارالکتب)
عن مغیرۃ عن ابراھیم قال ارفع یدیک للقنوت …..عن عبد الرحمن بن الاسود عن ابیہ عن عبد اللہ انہ کان یرفع یدیہ فی قنوت الوتر….عن لیث عن ابن الاسود عن ابیہ عن عبد اللہ أنہ کان یرفع یدیہ اذا قنت فی الوتر
وکذا فی اعلاء السنن:(6/84،85،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 112

ہمارے علاقے میں قبر کی کھدائی کرتے وقت اس کی گہرائی دو سے تین فٹ ہوتی ہے،جس سے میت کو بارش کے دنوں میں پانی پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے اس کی گہرائی شرعا کتنی ہونی چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیا

قبر کی گہرائی نصف انسانی قد کے برابر ہو، البتہ بہتر یہ ہے کہ پورے قد کے برابر ہو،تاکہ میت کی حفاظت اچھی طرح ہو سکے۔

لما فی الشامیة:(3/164،رشیدیہ)
قوله مقدار نصف قامة إلخ) أو إلى حد الصدر، وإن زاد إلى مقدار قامة فهو أحسن كما في الذخيرة، فعلم أن الأدنى نصف القامة والأعلى القامة
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1549،رشیدیہ)
وعند الحنفية: مقدار نصف قامة، أو إلى حد الصدر، وإن زاد مقدار قامة فهو أحسن. فالأدنى نصف القامة، والأعلى القامة. وطوله: على قدر طول الميت، وعرضه: على قدر نصف طوله
وکذافی الھندیہ:(1/166،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(/275،المنار)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/452،حقانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/76،فاروقیہ)
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/270،قدیمی)
وکذا فی البحرالرائق:(2/338،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(221،بشری)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(607،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/5/1442/2021/1/12
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 145

اگر کسی آدمی نے اپنی زندگی میں اپنی قبر کی جگہ اپنے گھر میں یا کھیت وغیرہ میں مختص کر رکھی ہو (کہ اسی جگہ دفن کیا جائے)تو کیا مرنے کے بعد وہاں دفنانا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

ایسی وصیت پر عمل کرنا ضروری نہیں ،بلکہ عام قبرستان میں دفن کرنا بہتر ہے۔

لما فی الھندیة:(6/95،رشیدیہ)
أوصى بأن يدفن في داره فوصيته باطلة إلا أن يوصي أن يجعل داره مقبرة للمسلمين، وفي الفتاوى والخلاصة ولو أوصى أن يدفن في بيته لا يصح ويدفن في مقابر المسلمين
وفی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(6/440،رشیدیہ)
ولو أوصى بأن يدفن في بيته لا يصح ويدفن في مقابر المسلمين
وکذافی البحر:(9/300،رشیدیہ)
وفي الظهيرية: ولو أوصى أن يكفن في ثوب كذا ويدفن في موضع كذا فالوصية في تعيين الكفن وموضع القبر باطلة
وکذا فی الشامیہ:(3/166،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/149،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(4/236،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/428،بشری)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7484،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(4/321،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحاطوی علی مراقی الفلاح:(/612،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 58

فریحہ نام رکھنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

فریحہ کا معنی ہے :خوش ہونے والی،راضی ہونے والی،چونکہ معنی درست ہے ،لہذا نام رکھنا درست ہے۔

لما فی السنن لابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم
وفی الھندیہ:(5/362،رشیدیہ)
وفي الفتاوى التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله – صلى الله عليه وسلم – ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط
وکذافی القاموس الوحید:(976،ادارہ اسلامیات)
فرح – فرحاً :راضی ہونا،حدیث میں ہے:أللہ اشد فرحا بتوبۃ عبدہ
وکذا فی الشامیہ:(9/688، رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/228،فاروقیہ)
وکذا فی التفسیر المحیط:(7/455،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/18/03
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 68

ایک شخص نے اپنے والدین سے جھگڑے کے دوران اپنی بیوی سے کہا “جاتجھے طلاق ہو”پھر کچھ وقفے کے بعد کہا “طلاق طلاق”شوہر کا کہنا ہے یہ الفاظ محض غصے کی بڑبڑاہٹ تھےاور یہ تینوں الفاظ بلا ارادہ میری زبان پرجاری ہو گے،ورنہ طلاق دینے کا کوئی ارادہ تصور بھی نہ تھااس صورت میں کتنی طلاقیں ہوئی؟

الجواب حامداً ومصلیا

غصہ کی عمومی حالت میں دی گئ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔سوال میں جو کیفیت بیان کی گئ ہے وہ اتنی شدید نہیں ہے کہ ہوش وحواس برقرار نہ رہے ہوں،لہذا تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔

لما فی الھندیہ:(1/353،رشیدیہ)
يقع طلاق كل زوج إذا كان بالغا عاقلا سواء كان حرا أو عبدا طائعا أو مكرها كذا في الجوهرة النيرة
وطلاق اللاعب والهازل به واقع وكذلك لو أراد أن يتكلم بكلام فسبق لسانه بالطلاق فالطلاق واقع
وفی الاشباہ والنظائر:(/57،قدیمی)
ولو کرر لفظ الطلاق فان قصد الاستئناف وقع الکل او التاکید فواحدہ دیانۃ والکل قضاء
وکذافی الشامیة:(4/439،رشیدیہ)
وکذا فی فتح الباری:(9/487،قدیمی)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/229،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/442،رشیدیہ)
وکذا فی بذل المجھود:(10/174،قدیمی)
وکذا فی الشامیة:(4/444،445،دارالمعرفہ)
وکذا فی الفتاوی التتارخانیہ:(4/392،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6883،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:92

ایک عورت کی عادت حیض آٹھ دن کی ہے،آٹھ دن پر خون بند ہوا تو کیا غسل کیے بغیر قربت کی جاسکتی ہےیا دس دن پورے ہونا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

دس دن سے پہلے اگر خون بند ہو جائے تو دو شرطوں میں سے ایک کا پایا جانا ضروری ہے،یا تو غسل کر لےیا ایک کامل نماز کا وقت گزر جائے تو قربت کی جاسکتی ہے۔

لما فی الھندیہ:(1/39،رشیدیہ)
وإذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام لم يجز وطؤها حتى تغتسل أو يمضي عليها آخر وقت الصلاة الذي يسع الاغتسال والتحريمة
وفی اللباب شرح الکتاب:(1/62،قدیمی)
وإذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام) ولو لتمام عادتها (لم يجز) أي لم يحل (وطؤها حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه، وإن لم تصل به الأصح، جوهرة (أو يمضي عليها وقت صلاة كامل) بأن تجد من الوقت زمناً يسع الغسل ولبس الثياب والتحريمة
وکذا فی البحر:(1/352،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة:(1/90،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/80،المنار)
وکذا فی البرجندی:(1/60،حقانیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح:(146،قدیمی)
وکذافی الشامیة:(1/539،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/58،امادیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/173،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/5/1442/2021/1/20
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 4