ہمارے علاقے میں بعض لوگ میت کو رنگ دار کفن مثلا سبز وغیرہ میں کفناتے ہیں،کیا سفید رنگ کےکفن کے علاوہ دوسرے رنگوں میں میت کو کفنانا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

سفید رنگ کے علاوہ دوسرے رنگ کے کپڑےمیں بھی کفن دینا جائز ہے،البتہ بہتر اور افضل یہ ہے کہ سفید کپڑے میں کفن دیا جائے،حضورﷺ نے فرمایا:تمہارے کپڑوں میں بہتر کپڑا سفید ہے،اس میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/207،رحمانیہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” الْبَسُوا مِنْ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضَ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ
وفی بدائع الصنائع:(2/39،رشیدیہ)
وأما صفة الكفن فالأفضل أن يكون التكفين بالثياب البيض لما روي عن جابر بن عبد الله الأنصاري عن رسول الله – صلى الله عليه وسلم – أنه قال: «أحب الثياب إلى الله تعالى البيض فليلبسها أحياؤكم وكفنوا فيها موتاكم» وفي رواية قال: «البسوا هذه الثياب البيض فإنها خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم» ، وقال النبي: – صلى الله عليه وسلم – «حسنوا أكفان الموتى فإنهم يتزاورون فيما بينهم ويتفاخرون بحسن أكفانهم» ، وقال: – صلى الله عليه وسلم – «إذا ولي أحدكم أخاه ميتا فليحسن كفنه» والبرود والكتان والقصب كل ذلك حسن، والخلق إذا غسل والجديد سواء لما روي عن أبي بكر – رضي الله عنه – أنه قال: اغسلوا ثوبي هذين وكفنوني فيهما فإنهما للمهل والصديد، وإن الحي أحوج إلى الجديد من الميت، والحاصل أن ما يجوز لكل جنس أن يلبسه في حياته يجوز أن يكفن فيه بعد موته حتى يكره أن يكفن الرجل في الحرير والمعصفر والمزعفر، ولا يكره للنساء ذلك اعتبارا باللباس في حال الحياة
وکذافی کتاب الفقہ:(1/437،حقانیہ)
الحنفیۃ قالوا احب الاکفان ان تکون بالثیاب البیض سواء کانت جدیدۃ او خلقۃ،وکل مباح للرجال لبسہ فی حال الحیاۃ یباح التکفین بعد الوفاۃ،وکل ما لا یباح فی حال الحیاۃ یکرہ التکفین فیہ
وکذا فی مجمع الانھر:(1/267،المنار) وکذا فی مرقاة المفاتیح:(4/123،تجاریہ)
وکذا فی التنویر وشرحہ:(3/118،رشیدیہ) وکذا فی البحر الرائق:(2/308،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1499،رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی الولولجیہ:(1/166،حرمین)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(576،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1442/2020/12/31
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 111

ڈکار لینے کے بعد “الحمد للہ”کہنے کا کوئی ثبوت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

ڈکار کے بعد “الحمد للہ” کا ثبوت نہیں ملتا،بلکہ احادیث میں آپ ﷺ نےاس کی آواز پست کرنے کا حکم دیااور اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا،تاہم اگر کوئی اپنے نظام انہظام کی درستگی پر اللہ کا شکر کرتے ہوئے “الحمدللہ”کہتا ہےتو حرج نہیں،بلکہ نعمت میں اضافے کا سبب ہو گا۔

لما فی شعب الایمان:(5/26،دارالکتب العلمیہ)
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَكَلْتُ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَجَشَّأْتُ فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” يَا أَبَا جُحَيْفَةَ أَقْصِرْ عَنَّا مِنْ جُشَائِكَ فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا، أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
وفی المعجم الاوسط للطبرانی:(5/69،معارف)
سمعت عبد الله بن عمر، يقول: تجشأ رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «كف جشاءك، فإن أطولكم شبعا في الدنيا أطولكم جوعا يوم القيامة
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/41،تجاریہ)
وکذا فی التعلیق الصبیح :(6/365،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(5/23،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم :(6/188،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/5/1442/2020/12/21
جلدنمبر:22 فتوی نمبر: 54

اگر کاروبار کی نیت سے ڈالر خریدے کہ قیمت بڑھنے پر نفع حاصل کریں گے تو کیا یہ جائز ہےاور ذخیرہ اندوزی میں تو شمار نہیں ہوتا؟

الجواب حامداً ومصلیا

مختلف ممالک کی کرنسیاں چونکہ الگ الگ جنس شمار کی جاتی ہیں،لہذا (اگر قانونی طور پر منع نہ ہو تو)ان کی کمی زیادتی کے ساتھ خریدو فروخت اور نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ذخیرہ اندوزی اس وقت منع ہےجب عام شہریوں کو تنگی کا سامنا ہو،ورنہ حرج نہیں۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(1/590،دارالعلوم کراچی)
“واما العملۃ الاجنبیۃ من الاوراق فھی جنس آخرفیجوز مبادلتھا بالتفاضل فیجوز بیع ثلاث ربیات باکستانیۃ بریال واحد سعودی .ثم ان العملات المختلفۃ لھا قیمۃ معھودۃ فی البنوک والدوائر الحکومیۃ،فھل تجوز المبادلۃباکثر او اقل من ھذہ القیمۃالمعھودۃ،کما یفعل ذلک فی السوق السوداء؟ والجواب :اننا لما اعتبرنا العملۃ الاجنبیۃ جنسا آخر فالاصل ان التفاضل فی مثلہ جائز شرعا بالغا ما بلغ ،فلا تکون المبادلۃ علی خلاف سعرھا الحکومی ربا،ولکن یمنع من ذلک لکونہ مخالفا لاولی الامر ،اذا کانت الحکومۃ الاسلامیۃ ،ولکونہ عرضا للنفس لعقوبات قانونیۃ ،اذا کانت الحکومۃ غیر اسلامیۃ.”
وفی الھندیہ:(3/213،رشیدیہ)
الاحتكار مكروه وذلك أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع من بيعه وذلك يضر بالناس كذا في الحاوي، وإن اشترى في ذلك المصر وحبسه ولا يضر بأهل المصر لا بأس به كذا في التتارخانية… والاحتكار في كل ما يضر بالعامة في قول أبي يوسف – رحمه الله تعالى – وقال محمد – رحمه الله تعالى – الاحتكار بما يتقوت به الناس والبهائم كذا في الحاوي
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(26/363،علوم اسلامیہ)
وقال الحنفية عدا زفر، صح بيع درهمين ودينار بدرهم ودينارين، ويجعل كل جنس مقابلا بخلاف جنسه، فيكون في الحقيقة بيع درهمين بدينارين، وبيع درهم بدينار، وهما جنسان مختلفان، ولا يشترط التساوي فيهما، فيصح العقد
وکذا فی البحر:(6/215،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(7/10،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(7/422،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(10/58،فاروقیة)
وکذا فی فقہ البیوع:(2/998،معارف القرآن)
وکذا فی بحوث قضایا فقھیة:(1/168،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 182

جمعہ کا خطبہ سنتے وقت سر جھکا کر بیٹھنا افضل ہے یا امام کی طرف دیکھنا افضل ہے؟اگر امام کی طرف دیکھنا افضل ہے تو پھر جو آدمی امام سے دور بیٹھا ہو یا ستون کے پیچھے ہو وہ اس فضلیت کو کیسے حاصل کرے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دوران خطبہ سامعین کا خطیب کے چہرے کی طرف دیکھنے کی صراحت نہیں ملی،البتہ خطیب کی طرف چہرے کا رخ کرنا مستحب ہے۔جو امام کے سامنے نہ ہوں ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر خطیب کی طرف متوجہ رہیں تا کہ صفوں کی درستگی میں خلل واقع نہ ہو۔

لما فی الترمذی:(1/227،رحمانیہ)
عن عبد الله بن مسعود، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا استوى على المنبر استقبلناه بوجوهنا
وفی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(515،قدیمی)
قال شمس الأئمة من كان أمام الإمام استقبل بوجهه ومن كان عن يمين الإمام أو يساره انحرف إلى الإمام وقال السرخسي الرسم في زماننا القوم القبلة وترك استقبالهم الخطيب لما يلحقهم من الحرج بتسوية الصفوف بعد فراغ الخطيب من خطبته لكثرة الزحام قال وهذا أحسن
وفی المبسوط:(2/30،دارالمعرفہ)
قال) وينبغي للرجل أن يستقبل الخطيب بوجهه إذا أخذ في الخطبة وهكذا نقل عن أبي حنيفة – رضي الله عنه – أنه كان يفعله لأن الخطيب يعظهم ولهذا استقبلهم بوجهه وترك استقبال القبلة فينبغي لهم أن يستقبلوه بوجوههم ليظهر فائدة الوعظ وتعظيم الذكر كما في غير هذا من مجالس الوعظ ولكن الرسم الآن أن القوم يستقبلون القبلة ولم يؤمروا بترك هذا لما يلحقهم من الحرج في تسوية الصفوف بعد فراغه لكثرة الزحام إذا استقبلوه بوجوههم في حالة الخطبة
وکذافی البدائع:(1/592،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/147،رشیدیہ)
وکذافی التتارخانیہ:(2/568،فاروقیہ)
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(3/507،تجاریہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1312،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 116

ایک بچہ جس کی عمردوسال ہے،وہ اپنی ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی غذا نہیں کھاتا،آیا وہ مزید کچھ مدت کے لیے دودھ پی سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

عام حالات میں دو سال سے زیادہ مدت دودھ پلانا جائز نہیں،البتہ اگر بچہ دودھ کے علاوہ کچھ نہیں کھاتا اور دودھ چھڑانے سے بچے کی جان کا خطرہ ہے تو ڈھائی سال تک پلانے کی گنجائش ہے۔

لما فی البدائع:(3/403،رشیدیہ)
ولأن المرأة قد تلد في البرد الشديد والحر الشديد فإذا تم على الصبي سنتان؛ لا يجوز أن تؤمر المرأة بفطامه؛ لأنه يخاف منه الهلاك على الولد؛ إذ لو لم يعود بغيره من الطعام؛ فلا بد وأن تؤمر بالرضاع ومحال أن تؤمر بالرضاع ويحرم عليها الرضاع في وقت واحد فدل أن الرضاع بعد الحولين يكون رضاعا إلا أن أبا حنيفة استحسن في تقديره مدة إبقاء حكم الرضاع بعد الحولين بستة أشهر
وفی الفتاوی التتارخانیہ:(4/366،فاروقیہ)
ولو لم یستغن عنھا بحولین فلھا ان ترضعہ بعد ذلک.ولا تاثم عند عامۃ العلماء
وکذافی التنویر وشرحہ:(4/387،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/96،داراحیاء)
وکذا فی فتح القدیر:(3/424،رشیدیہ)
وکذا فی فتاوی النوازل:(1/192،حقانیہ)
وکذا فی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/417،رشیدیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(1/54،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6637،رشیدیہ)
وکذا فی احکام القرآن للشیخ ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ:(2/554،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/4/1442/2020/12/1
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:187

ایک آدمی کا کہنا ہے کہ میرا اپنی بیوی سے جھگڑا اس وقوعہ کی رات ہوا، اور میں کچھ عرصے سے ایک دوائی کا نسخہ ایک یونانی حکیم کا تجویز کردہ استعمال کررہا تھا، اور اس کا سائیڈ ان فیکٹ یہ تھا کہ کچھ وقت کے لئے میرا دماغی توازن قدرے متخلل ہوجاتا ہے، اور میں نے اس وقت میں وہ دوائی بھی استعمال کی ہوئی تھی، بہرکیف وقوعہ کے دن میں نے کمرہ میں رکھے ہوئے آٹا ٹب کو اٹھاکر باہر پھینک دیا، اور بغیر کسی ارادہ اور سوچ سمجھ کے میری زبان پر بلااختیار یہ الفاظ چڑھ گئے، کہ “طلاق، طلاق، طلاق” چونکہ غصہ کی وجہ سے میری بددماغی اتنی زور پر تھی کہ مجھے میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ یاد نہ تھے اتنا یاد تھا کہ میرے منہ سے نکلنے والے الفاظ تین ہیں، لوگوں سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ الفاظِ طلاق تھے، اس وقت میری بیوی میرے سامنے بھی نہیں تھی، بیوی کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند نے غصے سے بیوی کی اوڑھنی سے پکڑا اور کمرہ سے باہر دھکا دیا، البتہ خاوند کا چہرہ الفاظِ طلاق کے وقت بیوی کی طرف نہ تھا۔( بیوی کا اور گواہان کاتفصیلی بیان لف ہے) یہ فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو کتنی ؟

الجواب حامداً و مصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً اس دوائی کی وجہ سے دماغ میں خلل و فتور واقع ہوجاتا ہے، جس سے کچھ پتہ نہ چلے کہ کیا بول رہا ہے، جس کو جنون کی سی کیفیت کہتے ہیں، تو طلاق واقع نہ ہوگی۔البتہ اگر عقل میں فتور واقع نہ ہو تو مذکورہ غصے سے تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ بہتر یہ ہے کہ خاوند کو خوفِ خدا دلاکر حلفاً اس کی کیفیت معلوم کرلی جائے۔

لما فی الشامیہ: (4/439، ط: رشیدیہ)
وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
و فی بدائع الصنائع: (3/158، ط: رشیدیہ)
اما الذي يرجع إلى الزوج فمنها أن يكون عاقلا حقيقة أو تقديرا فلا يقع طلاق المجنون والصبي الذي لا يعقل لأن العقل شرط أهلية التصرف لأن به يعرف كون التصرف مصلحة وهذه التصرفات ما شرعت إلا لمصالح العباد… وجه قولهم: إن عقله زائل والعقل من شرائط أهلية التصرف لما ذكرنا ولهذا لا يقع طلاق المجنون والصبي الذي لا يعقل والذي زال عقله بالبنج والدواء كذا هذا
و کذا فی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعہ (3/229، ط: حقانیہ)
و کذا فی الشامیہ (4/439، ط: رشیدیہ)
و کذا فی البحر الرائق (3/432، ط: رشیدیہ)

و اللہ اعلم بالصواب
کتبہ: اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/07/1442/ 2021/03/04
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:179

وضو میں ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کب کیا جائے، ہر بازو دھوتے وقت یا دونوں بازو دھونے کے بعد؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دونوں بازو دھونے کے بعد کیا جائے۔

لما فی مرقاۃ المفاتیح: ( 2/ 116 ،تجاریہ )
اذا غسلت اعضاء الوضوء فخلل اصابع یدیک بعد غسلھما،واصابع رجلیک بعد غسلھما وھذا ھو الافضل
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(1 / 24 ، بشری)
ثم یغسل یدہ الیمنی ثم الیسری الی مرفقیہ ثلاثا ثلاثا.ویخلل بین اصابعہ بادخال اصابع ید فی ید اخری
وکذافی الموسوعہ الفقہیہ: ( 11/ 51،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الشامیہ: ( 1/ 256 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
کتبہ:اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/12/6/ 20/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:188

دوران خطبہ خطیب صاحب خطبہ روک کر کوئی کلام کر سکتا ہے،مثلا کسی کو بیٹھنے کا کہنا وغیرہ؟

الجواب حامداً ومصلیا

دوران خطبہ کلام کرنا ممنوع ہے،البتہ خطیب ضرورت کے تحت مناسب انداز میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کر سکتا ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1317،رشیدیہ)
ولا يحرم الكلام على الخطيب، ولا على من سأله الخطيب، كأن يأمر إنساناً لغا أو خالف السنة أو ينهاه، فيقول: أنصت، أو لا تتكلم، أو لا تتخط أعناق الناس ونحو ذلك
وفی البحر:(2/261،رشیدیہ)
وفي البدائع ويكره للخطيب أن يتكلم في حال خطبته إلا إذا كان أمرا بمعروف فلا يكره لكونه منها
وکذافی الشامیہ:(3/39،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/58،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط:(2/27،دارالمعرفہ)
وکذا فی البدائع:(1/595،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/147،رشیدیہ)
وکذا فی المصنف لابن أبی شیبہ:(1/451،دارالکتب)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 175

ایک شخص نے بیوی سے کہا کہ تیرےخاندان کا کوئی بھی فرد اس گھر میں داخل ہوا تو تجھے تین طلاق ،اب سوال یہ ہے کہ خاندان سے کون لوگ مراد ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیا

ماں باپ کی طرف سے قریب و بعید کے وہ تمام رشتہ دار جن کو عرفاً خاندان میں شمار کیا جاتا ہے،مراد ہوں گے۔

لما فی الموسوعة الفقہیة:(33/67،علوم اسلامیہ)
الاتجاه السابع: إطلاق القرابة على أي قرابة وإن بعدت من جهة الأب أو من جهة الأم أو من الأولاد، ويحمل عليها الزوجية والولاء والرضاع ،وهذا الاتجاه مستنبط من كلام العلماء في أبواب متفرقة
وفی الشامیة:(9/678،رشیدیہ)
قال في تبيين المحارم: واختلفوا في الرحم التي يجب صلتها قال قوم: هي قرابة كل ذي رحم محرم وقال آخرون. كل قريب محرما كان أو غيره اهـ والثاني ظاهر إطلاق المتن قال النووي في شرح مسلم: وهو الصواب واستدل عليه بالأحاديث. نعم تتفاوت درجاتها ففي الوالدين أشد من المحارم، وفيهم أشد من بقية الأرحام
وکذا فی لسان العرب:(9/220،داراحیاء)
وکذا فی روح المعانی:(19/134،داراحیاء)
وکذا فی التفسیر المنیر:(2/556،امیر حمزہ)
وکذا فی التفسیر المظھری:(5/309،رشیدیہ)
وکذافی لغات القرآن:(4/316،دارالاشاعت)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(5/7،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 5

کیا کافروں کا مال مسلمانوں کے لیے حلال ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

حربی کافر کا مال مسلمانوں کے لیے مباح ہےبشرطیکہ اس کا حصول دھوکہ دہی اور خیانت سے نہ ہو،البتہ ذمی کا مال بغیر اس کی رضا مندی کے حلال نہیں۔

لما فی السنن لابی داؤاد:(2/82،رحمانیہ)
عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ألا من ظلم معاهدا، أو انتقصه، أو كلفه فوق طاقته، أو أخذ منه شيئا بغير طيب نفس، فأنا حجيجه يوم القيامة
وفی الشامیہ:(6/268،رشیدیہ)
بخلاف المسلم المستأمن في دار الحرب، فإن له أخذ مالهم برضاهم، ولو بربا أو قمار لأن مالهم مباح لنا إلا أن الغدر حرام، وما أخذ برضاهم ليس غدرا من المستأمن، بخلاف المستأمن منهم في دارنا لأن دارنا محل إجراء الأحكام الشرعية فلا يحل لمسلم في دارنا أن يعقد مع المستأمن إلا ما يحل من العقود مع المسلمين، ولا يجوز أن يؤخذ منه شيء لا يلزمه شرعا وإن جرت به العادة
وکذافی البحر:(6/266،رشیدیہ)
ولهما الحديث «لا ربا بين المسلم والحربي في دار الحرب» ، ولأن مالهم مباح، وبعقد الأمان منهم لم يصر معصوما إلا أنه التزم أن لا يتعرض لهم بغدر، ولا لما في أيديهم بدون رضاهم فإذا أخذ برضاهم أخذ مالا مباحا بلا غدر فيملكه بحكم الإباحة السابقة
وکذا فی الھدایہ:(3/90،رحمانیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(7/38،39،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(5/167،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/15/04
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 93