آج کل جو رواج ہے جنازہ اٹھا کر چلتے وقت چارپائی کے ہر پائے کو پکڑ کر دس،دس قدم چلتے ہیں ،کیا یہ سنت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

اکثر کتب فقہ میں جنازہ اٹھا کر چالیس قدم چلنے کی فضیلت مذکور ہے ،البتہ احادیث میں بغیر کسی تعداد کے صرف چاروں پائے اٹھا کر چلنے سے گناہوں کی معافی کا ذکر ملتا ہے۔فقہاء نے اس عمل کو مستحب قرار دیا ہے۔

لما فی الشامیة:(3/158،رشیدیہ)
وفي شرح المنية: ويستحب أن يحملها من كل جانب أربعين خطوة للحديث المذكور رواه أبو بكر النجار
وفی مراقی الفلاح:(604،قدیمی)
وينبغي” لكل واحد “حملها أربعين خطوة يبدأ” الحامل “بمقدمها الأيمن” فيضعه “على يمينه” أي على عاتقه الأيمن ويمينها أي الجنازة ما كانجهة يسار الحامل لأن الميت يلقى على ظهره ثم يوضع مؤخرها الأيمن عليه أي على عاتقه الأيمن “ثم” يضع “مقدمها الأيسر على يساره” أي على عاتقه الأيسر “ثم يختم ب” الجانب “الأيسر” بحملها “عليه” أي على عاتقه الأيسر فيكون من كل جانب عشر خطوات لقوله صلى الله عليه وسلم: “من حمل الجنازة أربعين خطوة كفرت عنه أربعين كبيرة” ولقول أبي هريرة رضي الله عنه “من حمل الجنازة بجوانبها الأربع فقد قضى الذي عليه
وکذافی السنن لابن ماجہ:(217،رحمانیہ)
قال عبد الله بن مسعود: من اتبع جنازة فليحمل بجوانب السرير كلها، فإنه من السنة، ثم إن شاء فليتطوع، وإن شاء فليدع
وکذا فی البدائع:(2/43،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/162،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/34،فاروقیہ)
وکذا فی مجمع الزوائد:(3/95،دارالکتب)
وکذا فی الاوسط للطبرانی:(6/428،المعارف)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:174

جسم پر جو بال ہوتے ہیں مثلا ہاتھ کی پشت پر،بازوؤں پراور ٹانگوں پر ان کا مونڈنا یا کسی سائنٹفک طریقے سے بالکل ختم کر دینا شرعی نقطہ نظر سے ٹھیک ہے یا غلط؟

الجواب حامداً ومصلیا

جسم کے مذکورہ بال صاف کرنا یا ختم کرنا عام حالات میں درست نہیں خلاف ادب ہے،خاص کر بازوؤں اور ٹانگوں کے بال صاف کروانے میں عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے اور حدیث پاک میں اس سے منع کیاگیا ہے،البتہ اگر ضرورت ہومثلا کسی بیماری وغیرہ کیوجہ سے تو مونڈنے یا ختم کروانے میں حرج نہیں۔

لما فی الصحیح للبخاری:(2/398،رحمانیہ)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ
وفی الشامیة:(9/671،رشیدیہ)
وفی حلق شعر الصدر والظہر ترک الادب
وکذافی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
وفی حلق شعر الصدر والظہر ترک الادب کذا فی القنیۃ
وکذا فی المبسوط:(4/73،دارالمعرفہ)
وکذا فی سنن ابن ماجہ:(1/401،رحمانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/211،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(8/375،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(423،بشری)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(4/203،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(18/100،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/5/1442/2020/12/21
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:41

بیماری سے نجات کے لیے جانور ذبح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بیماری اور آفات وغیرہ سے حفاظت کے لیے احادیث میں صدقہ کرنے کا ذکر ملتا ہے اور صدقہ کسی بھی چیز کاکیا جا سکتا ہے،خواہ اجناس کا ہو یا لباس کا ،نقدی کا ہو یا گوشت کا ،بہر حال ہر ذی قدر چیز کا صدقہ کیا جا سکتا ہے،البتہ کسی ایک ہی چیز کو لازمی سمجھ لینا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اسی مقررہ چیز مثلاًبکرا یا گوشت کے صدقہ ہی سے مجھے صحت ملے گی یا میری مراد پوری ہو گی،یہ کسی طرح بھی درست نہیں بلکہ آہستہ آہستہ آدمی کو بدعت کی طرف لے جائے گی۔

وفی الترمذی:(1/261،رحمانیہ)
عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء
وفی الترغیب والترھیب:(2/11،رشیدیہ)
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم باكروا بالصدقة فإن البلاء لا يتخطى الصدقة
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/371،قدیمی)
عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أحدث فی امرنا ما لیس منہ فھو رد
وکذافی الموسوعة:(26/324،326،علوم اسلامیہ)
إن أداء الصدقة من باب إعانة الضعيف، وإغاثة اللهيف، وإقدار العاجز، وتقويته على أداء ما افترض الله عليه من التوحيد والعباداتوالصدقة شكر لله تعالى على نعمه، وهي دليل لصحة إيمان مؤديها وتصديقه، ولهذا سميت صدقة… قال النووي: الصدقة مستحبة، وفي شهر رمضان آكد، وكذا عند الأمور المهمة، وعند الكسوف، وعند المرض، والسفر
وکذافی مرقاة:(1/366،تجاریہ)
وکذافی الھندیہ:(1/192،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/376،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2051،2056،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/04/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 117

ایک شخص نے اپنی بیوی کو صاف طور پرتین طلاقیں دیں،ایک صاحب نے ان دونوں کا نکاح (بلاحلالہ) پڑھایااس نکاح خواں کے لیے تجدید ایمان و نکاح کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

حرمت مغلظہ ثابت ہونے کے بعد بغیر حلالہ شرعیہ نکاح کرنا حرام ہے ،نکاح خواں نے اگر حرمت جانتے ہوئے نکاح پڑھایا تو سخت گناہ گار،فاسق اور گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا ،لہذا فورا توبہ و استغفار کرے،اگر حلال سمجھتے ہوئے نکاح پڑھایا تو احتیاطا تجدید ایمان و نکاح کر ے۔

لما فی الشرح لملا علی قاری رحمہ اللہ:(/117،قدیمی)
ولا نکفر مسلما بذنب من الذنوب وان کانت کبیرۃ اذا لم یستحلھا ولا نزیل عنہ اسم الایمان ونسمیہ مؤمنا حقیقۃ ،ویجوز ان یکون مؤمنا فاسقا غیر کافر ، قولہ:(اذا لم یستحلھا) أی لکن اذا لم یکن یعتقد حلھا لان من استحل معصیۃ قد ثبت حرمتھا بدلیل قطعی فھو کافر ……(فاسقا) ای بعصیانہ واصرارہ
وفی البحر:(5/206،رشیدیہ)
والأصل أن من اعتقد الحرام حلالا فإن كان حراما لغيره كمال الغير لا يكفر. وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعيا كفر وإلا فلا وقيل التفصيل في العالم أما الجاهل فلا يفرق بين الحلال والحرام لعينه ولغيره وإنما الفرق في حقه إنما كان قطعيا كفر به وإلا فلا
وکذافی الشامیة:(6/353،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(2/283،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(7/313،فاروقیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/12،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 59

ایک شخص نے اپنی بیوی کو ازدواجی حالات کشیدہ ہونے کی وجہ سے تین بار طلاق،طلاق،طلاق دے کر اپنے اوپر حرام کر دیا ہے،اب طلاق دینے کے بعدطلاق دہندہ کا دعوی ہے کہ یہ میں نے بیوی کو ڈرانے دھمکانے کے لیےکیا ہے،لہذا مذکورہ صورت حال کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

صریح الفاظ سے دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے ،اگرچہ ڈرانے دھمکانے کے لیے ہو ،لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ،اب نہ تو رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی بغیر حلالہ شرعیہ کے وہ اس کے لیے حلال ہو سکتی ہے۔

لما فی القرآن المجید:(سورہ بقرہ:229،230)
الطلاق مرتان فامساک بمعروف أو تسریح باحسان….. .فان طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ فان طلقھا فلا جناح علیھما أن یتراجعا
وفی الصحیح للبخاری:(2/791،قدیمی)
عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟ قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول
وکذافی السنن لابی داؤد:(1/316،رحمانیہ)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ” ثلاث جدهن جد، وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة
وکذا فی الھندیہ:(1/473،رشیدیہ)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية
وکذا فی البحر:(4/94،رشیدیہ)
وکذا فی عمدة القاری:(20/233،داراحیاء)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
29/8/1442/2021/04/13
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 77

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق نامہ بھیجا،بیوی کے گھر والوں نے اس کو کہا آپ اس پر دستخط نہ کرو اسی طرح واپس بھیج دو،بیوی نے واپس بھیج دیا،اب عورت کے گھر والے کہتے ہیں کہ چونکہ ہم نے دستخط نہیں کیےلہذا طلاق بھی نہیں ہوئی تو کیا شرعاً طلاق ہوئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

خاوند کے طلاق نامہ تحریر کرنے سے ہی طلاق واقع ہو گئی،اگرچہ طلاق نامہ پر بیوی نے دستخط نہ کیے ہوں۔

لما فی الشامیہ:(4/442،رشیدیہ)
وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وفی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/471،رشیدیہ)
فإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا یخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة
وکذافی البدائع:(3/173،رشیدیہ)
وکذا فی البحر:(3/433، رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/528،فاروقیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(2/91، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/11/3
جلد نمبر :24 فتوی نمبر:10

چھوٹی بچیوں کے سر پر پونیاں لگانا کیسا ہے؟جس سے کچھ بال کھڑے ہو جاتے ہیں ۔

الجواب حامداً ومصلیا

جائز ہے۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/220،رحمانیہ)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال من کان لہ شعر فلیکرمہ
وفی مرقاة المفاتیح:(2/230،تجاریہ)
فلیکرمہ) ای فلیزینہ ولینظفہ بالغسل والتدھین ولا یترکہ متفرقا ،فان النظافۃ وحسن المنظر محبوب
وکذافی الشامیہ:(9/615،رشیدہ)
وفی الخانیہ ولا باس للمراۃ ان تجعل فی قرونھا وذوائبھا شئیا من الوبر
وکذا فی الھندیہ:(5/358،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/221،رحمانیہ)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(/69،قدیمی)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2632،رشیدیہ)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(4/191،دارالعلوم کراچی)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(11/265،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/6/1442/2021/1/16
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 166

پہاڑوں کے پھل دار درختوں مثلا اخروٹ،چلغوزہ اور بیر وغیرہ پر عشر ہو گا یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عشر واجب ہوگا۔

لما فی الھندیہ:(1/186،رشیدیہ)
ویجب فی الجوز واللوزوالکمون والکزبرہ ،ھکذا فی المضمرات.(ثم ذکربعدسطر)وما یجمع من ثمار الاشجارالتی لیست بمملوکہ کاشجارالجبال یجب فیہاالعشرکذا فی الظھیریہ
وفی التنویر وشرحہ:(3/ 313،رشیدیہ)
وکذا) یجب العشر (فی ثمرۃجبل،اومفازۃان حماہ الامام) لانہ مال
مقصود
وکذافی الولوالجیہ:(1/200، حرمین) وکذافی کتاب الفقہ:(1/523،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/414،رشیدیہ) وکذا فی المبسوط:(3/3،دارالمعرفہ)
وکذا فی خلاصہ الفتاوی:(1/247،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(2/181،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(2/255،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(3/276،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
14/4/1442/2020/11/30
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:186

بینک سے پرانے نوٹ یا پھٹے ہوئے نوٹ دیکر نئے نوٹ لینا اس پر کچھ رقم وہ اضافی لیتے ہیں ،یہ اضافی رقم کیا اس کے چارجز ہوں یا سود ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیا

نئے نوٹ لینے یا پھٹے پرانے نوٹ تبدیل کرانے میں کمی پیشی سود ہے۔یہ معاملہ برابر برابر ہی ہو سکتا ہے۔

لما فی البدائع:(4/488،رشیدیہ)
ولو تبايعا فلسا بغير عينه بفلسين بغير أعيانهما أو عين أحدهما، ولم يعين الآخر لا يجوز، في الرواية المشهورة عنهم، وعن أبي يوسف أنه يجوز، والصحيح: جواب ظاهر الرواية لأن الفلس في هذه الحالة لا يخلو من أن يكون من العروض أو من الأثمان، فإن كان من العروض فالتعيين في العروض شرط الجواز، ولم يوجد، وإن كان من الأثمان فالمساواة فيها شرط الجواز، ولم يوجد
وفی الشامیہ:(7/426،رشیدیہ)
قوله وفلس بفلسين) هذا عندهما وقال محمد: لا يجوز، ومبنى الخلاف على أن الفلوس الرائجة أثمان، والأثمان لا تتعين بالتعيين، فصار عنده كبيع درهم بدرهمين
وکذافی بحوث فی قضایا فقھہة معاصرة:(1/158،معارف القرآن)
لا یجووز بیع الجنس الواحد من العملۃ الورقیۃ بعضہ ببعض متفاضلا سواء کان ذلک نسیئۃأو یدا بید،فلا یجوز بیع عشرۃ ریالات سعودیۃ ورقا باحد عشر ریالا ورقا نسیئۃأو یدا بید
وکذا فی الھدایہ:(3/83،رحمانیہ)
وکذا فی المبسوط:(14/11،دار المعرفہ)
وکذا فی البحر:(6/216،219،رشیدیہ)
وکذا فی تکملة:(1/590،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/2021/9/03
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 183

اگر پانی میں ہیروئن مل جائے تو کیا وہ پانی ناپاک ہوجائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیا

بلا ضرورت شدیدہ ہیروئن کا استعمال حرام ہے کیونکہ نشہ آور ہے ،البتہ نجس نہیں ہے ،لہذا ہیروئن گرنے سے پانی ناپاک تو نہ ہو گا ،البتہ اگر پانی قلیل مقدار میں ہو تو پھر اس کا پینا اس لیے جائز نہ ہو گا کہ نشہ آور بن چکا ہے۔

لما فی الشامیة:(10/43،رشیدیہ)
أما الجامدات فلا يحرم منها الا الكثير المسكر، ولا يلزم من حرمته نجاسته كالسم القاتل فإنه حرام مع أنه طاهر
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/292،رشیدیہ)
والأصل في الأشياء الطهارة، ما لم تثبت نجاستها بدليل شرعي. والفقهاء متقاربون في الحكم بطهارة الأعيان، فاتفقوا على أن الجماد (وهو كل جسم لم تحله الحياة ولم ينفصل عن حي) (1) كله طاهر إلا المسكر، فجميع أجزاء الأرض الجامدة والمائعة وما تولد منها طاهرة، ومن الجامد: المعادن كالذهب والفضة والحديد ونحوها، وجميع أنواع النبات ولو كان ساماً أو مخدرا ً كالحشيش والأفيون والبنج
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/13،حقانیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(10/115،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة:(8/218،علوم اسلامیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/294،معارف القرآن)
وکذا فی المحیط البرھانی:(19/123،داراحیاء)
وکذا فی تکملہ فتح الملھم:(3/608،دارالعلوم کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/6/1442/2021/2/4
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 60