کیا گدھے کی سواری سنت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گدھےپر سواری کرنا احادیث سے ثابت ہے مگر یہ سنن زوائد میں سے ہےاور سنن زوائد پر عمل کرنے سے ثواب ملتا ہے اور نہ کرنے سے گناہ نہیں ملتا۔

لما فی شمائل ترمذی:(2/747،رحمانیہ)
عن انس بن مالک قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعود المریض ویشھد الجنازۃ ویرکب الحمار ویجیب دعوۃالعبد
وفی الشامیة:(1/103،ایچ ایم سعید کمپنی)
فلا فرق بین النفل وسنن الزوائد من حیث الحکم لانہ لا یکرہ ترک کل منھما،وانما الفرق کون الاول من العبادات والثانی من العادات
وکذافی المواہب اللدنیة:(238،ادارہ تالیفات)
وکذا فی سبل الھدی والرشاد:(7/405،406،نعمانیہ)
وکذافی نیل الاوطار:(2/139،دار الباز)
وکذافی فیض الباری:(4/215،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 103

دودھ پینے والے بچے یا بچی کا پیشاب پاک ہے یا ناپاک؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دودھ پینے والے بچے یا بچی کا پیشاب ناپاک ہے۔

لما فی البنایہ : (1 /400،رشیدیہ )
وبول الکبیر والصغیر سواء عند سائرالعلماء
وفی التنویرمع شرحہ: (1 /318،ایچ ،ایم سعید کمپنی )
وکذا کل ما خرج منہ موجبا لوضوء او غسل مغلظ (وبول غیر ماکول ولو من صغیرلم یطعم )الا بول الخفاش قال ابن عابدین:(قولہ لم یطعم )ای لم یا کل فلا بد من غسلہ
وفی البحرالرائق : (1 /398 ،رشیدیہ )
واراد بالبول کل بول سواء کان بول آدمی او غیرہ…فشمل بول الصغیر الذی لم یطعم
وفی آثار السنن : (1 /18،امدادیہ )
عن عائشۃ قالت اتی رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیہ ِوَسَلَّمَ بصبیّ فبال علی ثوبہ فدعا بماءفاتبعہ ایاہ
وکذافی الہندیہ:(1/46،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(1/364،دار احیاء)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/19،حقانیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/312،رشیدیہ)
وکذا فی المصنف لابن ابی شیبہ:(1/149،دارالکتب )
وکذا فی التاتارخانیہ:(1/306،فاروقیہ)
وکذا فی البدائع الصنائع:(1/196،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن:1/415،ادارةالقرآن

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1442/2020/12/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 52

ہمارے ہا ں سرکاری طور پر گلیوں کی سولنگ ہوتی کی جاتی ہے۔بعض مرتبہ ایسے ہوتا ہے کہ200 فٹ کی گلی میں کوئی شریک نہیں ہوتا ملک مکان اس گلی میں لگی اینٹیں(جو کہ کسی سیاسی نے دیں تھیں)اکھیڑ کر اپنے ذاتی استعمال میں لاتا ہےپھر کسی اور سیاسی سے نئی گلی بنوالیتا ہے۔پوچھنا یہ ہے کہ ان اینٹوں میں صرف اباحت ہوتی ہے یا تملیک؟

الجواب حامداً ومصلیاً

گلی کے سولنگ میں سرکاری خرچہ سے جو اینٹیں لگائی جاتی ہیں ان میں اباحت ہوتی ہے۔لہذا ان اینٹوں کو اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں۔کیونکہ اس میں اولی الامر کی مخالفت ہےاور قوم کے پیسوں کا غلط استعمال ،خیانت،اور دھوکہ ہے۔

لما فی القرآن الحکیم:(59/سورة نسآء)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4567،رشیدیہ)
ما لا يقبل التمليك ولا التملك بحال: وهو ما خصص للنفع العام كالطرق العامة. . .. . فهذه الأشياء غير قابلة للتملك لتخصيصها للمنافع العامة
وفیہ ایضا:(6/4553،رشیدیہ)
أما الإباحة: فهي حق الإنسان بأن ينتفع بنفسه بشيء بموجب إذن. والإذن قد يكون. . .. من الشرع كالانتفاع بالمرافق العامة، من طرقات وأنهار ومراع ونحوها
وکذا فی المشکوةالمصابیح:(1/261،رحمانیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/4553و4557،رحمانیہ)
وکذا فی شرح المجلة:(4/12،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
25/6/1442/2021/2/8
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:182

رضاعی بہن بھائی نے شادی کر لی ،ان کےہاں اولاد بھی پیداہوگئی۔اب ان کو مسئلے کا علم ہوا،اس نکاح اور اولاد کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ان دونوں کا نکاح صحیح نہیں تھا،اب یہ فوراًجدا ہو جائیں ۔ان کی اولاد کا نسب ثابت ہو گااور اولاد صرف ماں اور اس کے رشتہ داروں کی وارث بنے گی نہ کہ باپ کی۔

لما فی المحیط البرھانی:(4/168،دار احیاءتراث العربی)
ثبت النسب والنکاح الفاسدبعدالدخول فی حق النسب بمنزلۃالنکاح الصحیح
وفی العالمکیریة:(1/371،رشیدیہ)
رجل تزوج امراۃنکاحا فاسدا فدخل بھا فجاءت بولد لستۃاشھر ثبت النسب منہ
وکذا فی المسلم:(1/537،رحمانیہ)
وکذافی الشامیة:(3/552،ایچ،ایم سعید کمپنی)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/97حقانیہ،)
وکذا فی التاتارخانیة:(4/264،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیةالطحطاوی:(2/240،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(4/495،منار)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/89،الطارق)
وکذا فی البدائع الصنائع:(3/396،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات عفی عنہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/5/1442/2021/1/6
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 144

دھوپ میں اس طرح سونا کہ جسم کا کچھ حصہ دھوپ میں اور کچھ چھاؤں میں ہو ،جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضور ﷺنے کچھ دھوپ اور کچھ چھاؤں میں بیٹھنے سے منع کیا ہے اور ایسی جگہ بیٹھنا طبی طور پر بھی انسان کے لئے مضر ہے۔

لما فی ابو داؤد:(2/320،رحمانیہ)
عن ابی ھریرةرضی اللہ تعالی عنہ یقول ابوالقاسم ﷺاذا کان احدکم فی الشمس وقال مخلد فی الفئ فقلص عنہ الظل فیصار بعضہ فی الشمس وبعضہ فی الظل فلیقم
وفی الکتاب المصنف:(5/268،دارالکتب العلمیة)
عن قتادۃرضی اللہ تعالی عنہ قال :نھی رسول اللہ ﷺان یقعد الرجل بین الظل والشمس
وکذافی عون المعبود:(13/74،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی بذل المجھود:(13/74،قدیمی کتب خانہ)
وکذافی المشکوۃ المصابیح:(2/418،رحمانیہ)
وکذافی الموسوعةالفقھیة:(29/168،علو م اسلامیہ)
وکذافی المرقاۃ:(8/490،التجاریہ)
وکذافی اشعةاللمعات:(4/39،رشیدیہ)
وکذافی التعلیق الصبیح:(5/134،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1442/2020/12/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 50

سنت پگڑی کی کتنی مقدار ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آقا کریم ﷺکی پگڑی کے بارے میں مشائخ علیہ الرحمۃ نے مختلف اقوال نقل فرمائےہیں کسی خاص مقدار کو متعین نہیں فرمایا۔آپ ﷺعام حالات میں تین ہاتھ اور پانچوں نمازوں میں سات ہاتھ اور جمعہ وعیدین میں 12 ہاتھ لمبی پگڑی باندھتے تھے۔
تین ہاتھ پگڑی تقریباً1.37میڑ،7ہاتھ تقریباً3.20میڑ اور 12ہاتھ پگڑی تقریباً 5.48میڑ بنتی ہے۔

لما فی التعلیق الصبیح:(4/511،رشیدیہ)
کان لہ ﷺعمامۃقصیرةوعمامۃطویلۃ وان القصیرۃکانت سبعۃاذرع والطویلۃاثنی عشر ذراعا
وفی ھامش جامع ترمذی :(1/436،رحمانیہ)
کانت عمامتہﷺفی اکثر الاحیان ثلثۃاذرع شرعیۃ وفی الصلوات الخمس سبعۃاذرع وفی الجمع والاعیاد اثنا عشرذراعا
وکذافی سبل الھدی والرشاد:(7/276،نعمانیہ)
وکذا فی مرقاۃ المفاتیح:(8/148،التجاریة)
وکذا فی نیل الاوطار:(2/123،دارالباز)
وکذا فی عون المعبود:(11/81،قدیمی)
وکذا فی الموسوعةالفقھیة:(30/303،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/ 2020/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:47

پاگل آدمی خودکشی کر لے تو کیا حکم ہے؟کیا اس کی موت شہادت کی موت ہے یا خودکشی کی؟روایات میں خودکشی سے متعلق جو وعیدات آئی ہیں یہ شخص بھی ان وعیدات کا مستحق ہو گا ؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

پاگل آدمی اگر خودکشی کر لے تو وہ ان وعیدوں کا مستحق نہیں ہوگا جو احادیث میں منقول ہیں کیونکہ وہ معذور ہے،ایسے شخص کو شہید نہیں کہا جائے گااور اس کاغسل و جنازہ وغیرہ ہوگا۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(227،البشری)
فمن قتل وھو مجنون او صبی لا یثبت لہ احکام الشہید
وفی الموسوعةالفقھیة :(16/101،علوم اسلامیہ)
رفع القلم عن ثلاثۃوالجنون الأصلی لا یفارق العارض فی شیء من الأحكام
وفیہ ایضا :(16/106،علوم اسلامیہ)
رفع القلم عن ثلاثۃ: عن النائم حتى یستیقظ، وعن الصبی حتى یحتلم، وعن المجنون حتى یعقل
وکذافی الشامیة :(3/127،رشیدیہ)
وکذافی العالمکیریة:(1/163،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق :(2/350،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/447،حقانیہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/2021/4/25
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 55

ایک شخص کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ،ایسا شخص اگر بیوی کو طلاق دے تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جس شخص کا ذہنی توازن درست نہ ہو اسکی دی ہوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔

لمافی النسائی:(2/533،رحمانیة)
عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال رفع القلم عن ثلاث عن النائم حتی یستیقظ وعن الصغیر حتی یکبر وعن المجنون حتی یعقل او یفیق
و فی البدائع الصنائع:(3/158،رشیدیة)
فلا یقع طلاق المجنون والصبی الذی لا یعقل،لان العقل شرط اھلیۃالتصرف لان بہ یعرف کون التصرف مصلحۃ
وفی البزازیة:(4/170، رشیدیة)
النائم والمغمی علیہ والصبی والمجنون . . . . .طلق او اعتق . . . .لا یترتب علیہ الحکم فلا یقع طلاقہ
وکذا فی ابن ماجہ:(264، رحمانیہ)
وکذا فی الترمذی:(1/356،رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/434،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(4/392 ،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(2/168،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 9

اپنی اولاد ،شاگرد اور ملازمین کو تنبیہ کیلئے کس حد تک سزا دینے کی گنجائش ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

والدین اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپٌنے بچوں اور شاگردوں کو انتہائی پیار و محبت سے سمجھائیں اور وقتا فوقتا فضائل وواقعات کے ذریعے ترغیبات کاسلسلہ بھی جاری رکھیں اگر کبھی بچوں سے غلطی ہو جائے تو زبانی سمجھانے کی کوشش کی جائےاگر یہ مفید نہ ہو تو مہذب انداز وکلمات کے ساتھ زبانی تنبیہ اور ڈانٹ ڈپٹ کریں،گالم گلوچ سے اجتناب کریں،اگر یہ بھی مفید نہ ہو تو بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت مارنے کی گنجائش ہےمگر جسمانی سزامیں چند باتوں کا خیال رکھنا چاہیے1:اتنا مارا جائے جس سے جسم پر نشان نہ پڑیں۔2:تحمل سے زیادہ نہ مارا جائے۔3:چہرے اور نازک اعضاء پر نہ مارا جائے۔4:ہاتھ سے ماراجائے ،ڈنڈے اور چھڑی وغیرہ کا استعمال نہ کیا جائے۔(2)ملازمین کو مارنے کی اجازت نہیں ہے۔ملازمین کے ساتھ حسن سلوک،فضائل اور ترغیب کا معاملہ کرنا چاہیے اور اگر کبھی سرزنش کی ضرورت ہو تو زبانی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جا سکتی ہےاور اگر یہ بھی مفید نہ ہو تو ان کو بر طرف کر دیا جائے۔

لما فی تفسیر المحیط:(3/252،دارالکتب العلمیہ)
قال ابن عباس:بالسواک ونحوہ،والضرب غیر مبرح ھو الذی لا یھشم عظماَ،ولا یتلف عضوا،ولایعقب شیئاوالناھک البالغ،ولیجتنب الوجہ
وفی الھندیة:(5/379،رشیدیہ)
والخامس ان یضرب الصبیان ضربا مبرحا ولا یجاوز الحد فانہ یحاسب یوم القیامۃ
وفی حاشیةالطحطاوی :(1/170،رشیدیہ)
لا یضرب بالعصاَ۔۔۔۔۔۔۔والمنصوص انہ یجوز للمعلم ان یضربہ باذن ابیہ نحو ثلاث ضربات ضربا وسطا سلیماولم یقید بغیرالعصا
وکذافی الشامیة:(1/352،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی التفسیر المنیر :(5/60،امیر حمزہ )
وکذا فی نظم الدرر :(2/252،دارالباز)
وکذا فی الجامع لاحکام القرآن :(5/172،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی الموسوعةالفقھیة:(28/176،علوم اسلامیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ :(15/86،فاروقیہ)
وکذا فی شرح الطیبی :(6/167،دار الکتب العلمیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات عفی عنہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/5/1442/2020/1/4
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 143

اگر موزے کی زپ کھل جائے تو کیا مسح ٹوٹ جاتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

موزے کی زپ ٹخنوں کے نیچے سے اگرتین انگلیوں کے بقدر کھل جائے تو مسح ٹوٹ جائے گا۔

لما فی الفتاوی العالمکیریة:(1/34،رشیدیہ)
ومنھا)ان لایکون الخرق فی الخف کبیرا وھو مقدارثلاث اصابع الرجل اصغرھا وھو الصحیح،ویشترط ان یبدوقدر ثلاث اصابع بکمالھاوھو الاصح سواءکان الخرق فی باطن الخف او فی ظاھرھا او فی ناحیۃالعقب
وفی منیة المصلی:(37،مجیدیہ)
وکذالا یجوز المسح علی خف فیہ خرق کثیر یبین منہ مقدار ثلاث اصابع الرجل فان کان من ذالک جاز
وکذافی المختصر القدوری: (12،خلیل)
وکذا فی البحر الرائق:(1/304،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(1/100،رشیدیہ)
وکذا فی کنزالدقائق:(11،حقانیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/34،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(67،البشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/ 2021/3/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:181