اگر موزے پہن کر کسی پانی والی جگہ سےگزریں اور سلائی والی جگہوں سے پانی اندر چلا جائے تو کیا مسح ٹوٹ جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر پورا یا اکثر پاؤں بھیگ جائے تو مسح ٹوٹ جائے گا۔

لما فی الھندیہ:(1/35،رشیدیہ)
ولولبس خفيه على طهارة كاملة ومسح عليهما ثم دخل الماء في أحد خفيه إن بلغ الكعب حتى صار جميع الرجل مغسولا يجب عليه غسل الرجل الأخرى. هكذا في الخلاصة وكذا إذا ابتل أكثر القدم وهو الأصح
وفی التنویرمع شرحہ:(1/512،بیروت)
وینقض ایضا بغسل اکثر الرجل فیہ لو دخل الماء خفہ وصححہ غیر واحد
وفی الموسوعة الفقھیة:(37/270،علوم اسلا میہ)
اصابۃ الماء للرجلین معا او لاکثراحداھمافی الخف ،فیعتبر ذلک ناقض للمسح علی الخفین عند الحنفیہ
وکذافی المیحط البرھانی:(1/353،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(1/417،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/494، رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/143، رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/30، رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/50، رشیدیہ)
وکذافی البرجندی:(1/54،حقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 15

قوالی سننا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

موجودہ دور میں قوالی بہت سے منکرات پر مشتمل ہوتی ہے،مثلا:گانے بجانے کے آلات کا استعمال،عشقیہ اشعار اور کفریہ کلمات وغیرہ ان خلاف شرع امور کے پائے جانے کی وجہ سے مروجہ قوالیوں کا سننا ناجائز ہے، البتہ اگر کوئی کلام ان مفاسد سے خالی ہو تو اس کا سننا جائز ہے۔

لما فی البحر الرائق:(8/346،رشیدیہ)
واختلفوا في التغني المجرد قال بعضهم: إنه حرام مطلقا والاستماع إليه معصية لإطلاق الحديث وهو اختيار شيخ الإسلام ومنهم من قال: لا بأس به ليستفيد به فهم المعاني والفصاحة ومنهم من جوز التغني لدفع الوحشة إذا كان وحده ولا يكون على سبيل اللهو، وإليه ذهب شمس الأئمة السرخسي لأنه روى ذلك عن بعض الصحابة ولو كان في الشعر حكم، أو قصة لا يكره وكذا لو كان فيه ذكر امرأة غير معينة وكذا لو كانت معينة وهي ميتة ولو كانت حية يكره. . . .. واستماع صوت الملاهي حرام كالضرب بالقصب وغيره
وفی الھندیة:(5/352،رشیدیہ)
قال – رحمه الله تعالى – السماع والقول والرقص الذي يفعله المتصوفة في زماننا حرام لا يجوز القصد إليه والجلوس عليه وهو والغناء والمزامير سواء وجوزه أهل التصوف واحتجوا بفعل المشايخ من قبلهم قال وعندي أن ما يفعلونه غير ما يفعله هؤلاء
وکذافی الشامیہ:(6/349،سعید)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2664، رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/188،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/76،77،بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(4/94،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:127

ایک عورت جس کا نام شمائلہ ہے فوت ہوئی۔ اس کے ورثہ میں اس کا خاوند (زید) اور بیٹی (فاطمہ) اور ماں (عائشہ) موجود ہیں۔ اس نے ترکہ میں ”22“ مرلہ کی 5 دکانیں اور 10 ایکڑ زمین چھوڑی ، ابھی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کا خاوند (زید ) انتقال کر گیا اور ورثہ میں اس کی ایک دوسری زوجہ (سعدیہ) ، باپ (عبد الرحیم) اور ماں (پروین ) ہیں۔ ابھی شمائلہ کی وراثت تقسیم نہ کی گئی تھی کہ اس کی بیٹی (فاطمہ) کا بھی انتقال ہوگیا، ورثہ میں بیٹی (رقیہ) اور دو بیٹے (علی، عثمان ) اور نانی (عائشہ) چھوڑیں۔ پھر شمائلہ کی ماں (عائشہ) کا بھی انتقال ہوگیا اور ورثہ میں خاوند (عبد الرحمٰن) اور دو بھائی( عبد الکریم ، عبدالقیوم) چھوڑے۔ مہربانی فرما کر شمائلہ کی وراثت کی شرعی تقسیم بتلادیں۔

الجواب حامداً ومصلیا

مرحومہ نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحومہ کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحومہ کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:
1)

سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
2)

اس کے بعد مرحومہ کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔
3)

اس کے بعد مرحومہ نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔
4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا

مرحومہ شمائلہ کےترکہ کے128برابر حصے کیے جائیں ،جن میں سے 8 حصے (%6.25) سعدیہ کو، 16 حصے(%12.5) عبد الرحیم کو، 8 حصے(%6.25) پروین کو ، 12 حصے(%9.37) رقیہ کو ، 24 حصے (%18.75) عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو ، 18 حصے(%14.06)عبدالرحمٰن کواور 9 حصے(%7.03 ) عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔
سوال میں مذکور 10ایکڑ(80 کنال) زمین میں سے 5 کنال سعدیہ کو ، 10 کنال عبد الرحیم کو ، 5 کنال پروین کو ، 7.5 کنال رقیہ کو ، 15 کنال عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو ، 11.25 کنال عبد الرحمٰن کواور 5.625 کنال عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔
سوال میں مذکور 22 مرلے کی 5 دکانوں میں سے 1.375 مرلہ سعدیہ کو، 2.75 مرلہ عبد الرحیم کو، 1.375 مرلہ پروین کو، 2.062 مرلہ رقیہ کو، 4.125 مرلہ عثمان اور علی میں سے ہر ایک کو، 3.093 مرلہ عبد الرحمٰن کو اور 1.546 مرلے عبد القیوم اور عبد الکریم میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے۔

 

لما فی القرآن الکریم:(النساء:11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ….وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ
وفیہ ایضاً:( النساء: 12)
وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ
وفی الفقہ الاسلامی و ادلتہ:(10 /7907،رشیدیہ)
المناسخة مفاعلة من النسخ بمعنى النقل والتحويل. والمراد بها هنا: انتقال نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه فهي أن يموت من ورثة الميت الأول واحد أو أكثر قبل قسمة التركة
وفی التنویر مع شرحہ:(10 /547،رشیدیہ)
و للام ثلاثة احوال ، السدس مع احدھما او مع اثنین من الاخوة او من اخوات فصاعدا
وفی کنز الدقائق:(497،حقانیہ)
وللزوجة الربع و مع الولد و ولد الابن و ان سفل الثمن و للبنت النصف و للاکثر الثلثان و عصبھما الابن و لہ مثل حظھما
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/53،رحمانیة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(3/42،43،علوم اسلامیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7773،7775،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر صدیق غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/2021/4/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 123

کوئی شخص مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے چیونٹی اور موذی حشرات وغیرہ کو ان کی تکلیف سے بچنے کے لیے مار سکتا ہے؟ کیامحرم اور غیر محرم دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

محرم اور غیر محرم دونوں کے لیے موذی حشرات کو ان کی تکلیف سے بچنے کے لیے مارنا جائز ہے۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/420،بیروت)
محرم قتل برغوثاً أو قملة أو بقة، فلا شيء عليه. . . .لان ھذہ الاشیاء لیست بصید
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/506،الطارق)
واذا صال علیہ سبع فقتلہ لا شیئ علیہ کما لا شیئ علیہ بقتل غراب و حداۃ وعقعب وفارۃ وحیۃ وکلب عقور ونمل وبرغوث وقراد وسلحفاۃ وما لیس بصید کھوام الارض
وکذافی الشامیة:(3/676،رشیدیة)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/559،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/2331،2336، رشیدیة)
وکذافی شرح الطیبی:(5/393،بیروت)
وکذافی اعلاء السنن:(10/352،ادارة القرآن)
وکذافی الھدایة:(1/263،رشیدیہ)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/241،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 52

ایک مستحق زکوة کسی دوکاندار کا مقروض ہے، ایک شخص اس دوکاندار کو زکوة کی رقم دیتا ہےاور کہتا ہے کہ فلاں مقروض کی طرف سے یہ رقم جمع کر لو، اس مقروض کو ابھی علم نہیں ہے بعد میں اس کوبتلائے گا تو کیا اس طرح زکوۃ ادا ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ادائیگی زکوۃ کے لیے تملیک یعنی فقیر کو مالک بنانا شرط ہے۔ صورت مسئولہ میں چونکہ یہ شرط نہیں پائی گئی اس لیے زکوۃ ادا نہیں ہوئی۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/143،رشیدیہ)
ولو قضى دين حي فقير إن قضى بغير أمره لم يجز؛ لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير؛ لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم
وفی البحر الرائق:(2/424،رشیدیہ)
قيد بقضاء دين الميت؛ لأنه لو قضى دين الحي إن قضاه بغير أمره يكون متبرعا، ولا يجزئه عن الزكاة وإن قضاه بأمره جاز، ويكون القابض كالوكيل له في قبض الصدقة
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(2/344،سعید)
وکذافی الشامیہ:(2/344،345،سعید)
وکذافی فتح القدیر:(2/272،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/328،المنار)
وکذافی البنایة:(3/544،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/462،قدیمی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/370،الطارق)
وکذافی الھندیة:(1/190،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(1/179،الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 28

ایک آدمی سنتیں پڑھنا چاہتا ہے، کیا وہ اپنی سنتیں فرض پڑھنے والے کی امامت میں پڑھ سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس سے متعلق صریح جزئیہ تو نہیں ملا البتہ فقہاء نے ایک اصول بیان کیا ہے کہ”امام کی حالت قوی ہو اور مقتدی کی حالت اس کی مثل ہو یا اس سے ضعیف ہو تو اقتداءدرست ہے“اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے یہی معلوم ہوتاہے کہ فرض پڑھنے والے کی اقتداء میں آدمی سنت ادا کر سکتا ہے،واللہ اعلم، اس کے بارے میں دوسرےعلماء سے بھی رجوع کر لیا جائے۔

لما فی الھندیہ:(1/86،رشیدیہ)
ویصلی المتنفل خلف المفترض…. والاصل فی ھذہ المسائل ان حال الامام ان کان مثل حال المقتدی او فوقہ جازت صلاۃ الکل
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1242،رشیدیہ)
وکذافی البنایة:(2/436،679،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/255،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/181،182،196،بیروت)
وکذافی المبسوط:(1/136،بیروت)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/267،الطارق)
وکذافی البحرالرائق:(1/639،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/268،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16-1-2021/1442-6-2
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 153

ایک آدمی مسجد کی آخری صف میں چار رکعت نماز پڑھ رہا تھا ،ابھی اس نے دو رکعت پڑھی تھیں کہ ایک دوسرا آدمی آیا ، وہ اس کے آگے سے نہیں گزرا،بلکہ اس کو اٹھا کر اگلی صف میں کر دیا اور اس نے بقیہ دو رکعت وہاں پوری کیں تو کیا اس کی نماز ہو گئی؟اور اس اٹھانے والے کا عمل شرعا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز ادا کرنے والے کا سینہ اگر قبلہ سےنہیں پھرا تو نماز ہو گئی ورنہ نماز فاسد ہو گئی،البتہ نمازی کو اس طرح اٹھانے والے کا عمل نہایت قبیح ہے۔

لما فی البحر الرائق:(2/23،رشیدیہ)
ولو رفع رجل المصلي عن مكانه ثم وضعه من غير أن يحوله عن القبلة لا تفسد ولو وضعه على الدابة تفسد
وفی الشامیہ:(1/628،سعید)
حمله رجل ووضعه على الدابة تفسد والظاهر أنه لكونه عملا كثيرا تأمل. وأما لو رفعه عن مكانه ثم وضعه أو ألقاه ثم قام ووقف مكانه من غير أن يتحول عن القبلة فلا تفسد
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/266،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/251،الطارق)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(1/103، رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/423،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1033، رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(146،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:47

مسجد میں بیٹھ کر ناخن کاٹنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسجد کو ہر طرح کی گندگی سے صاف ستھرا رکھنا مسجد کے آداب میں سے ہے۔احادیث مبارکہ میں آپﷺ نے مساجد کو صاف ستھرا رکھنے کا تاکیدی حکم فرمایا ہے،نیز یہ بھی فرمایا کہ مساجد کا مقصد یہ ہے کہ ان میں نماز کی ادائیگی اور ذکر و تلاوت کا اہتمام کیا جائے۔لہذا مسجد میں ناخن وغیرہ کاٹنا چونکہ مسجد کے ان آداب کے خلاف ہے اس لیے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/172،رحمانیہ)
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا عمر بن يونس الحنفي، حدثنا عكرمة بن عمار. . . . . ثم إن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم دعاه فقال له: «إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول، ولا القذر إنما هي لذكر اللّٰه عز وجل، والصلاة وقراءة القرآن» أو كما قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم
وفی مشکوة المصابیح:(1/70،رحمانیہ)
وعن عائشة قالت: أمر رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ببناء المسجد في الدور وأن ينظف ويطيب
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(2/114،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(2/421،التجاریة)
وکذافی اعلاء السنن:(5/156،153،ادارة القرآن والعلوم الاسلامیة)
وکذافی البحر الرائق:(2/61،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/549،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/110،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/64،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/3/2021/1442/8/8
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 102

ایک مسبوق نے اپنی رہی ہوئی فجر کی رکعت جماعت کے بعد مکمل کر لی،لیکن اس کے خیال میں یہ تھا کہ رکعت نہیں پڑھی،اس خیال کے تحت دوبارہ نماز شروع کی،تکبیر تحریمہ کے بعد ذہن میں آیا کہ رکعت پڑھ لی تھی۔یہ خیال آتے ہی اس نےشروع کی ہوئی نماز توڑ دی۔اب یہ فرمائیں کہ اس نے کچھ خلاف شریعت تو نہیں کیا؟اس پر کوئی مؤاخذہ تو نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اس آدمی سے خلاف شریعت کوئی عمل صادر نہیں ہوا،لہذا اس پرکوئی مواخذہ نہیں۔

لما فی الشامیہ:(2/30،سعید)
رجل افتتح الظهر وهو يظن أنه لم يصلها فدخل رجل في صلاته يريد به التطوع، ثم ذكر الإمام أنه ليس عليه الظهر فرفض صلاته فلا شيء عليه ولا على من اقتدى به
وفی بدائع الصنائع:(2/7،رشیدیہ)
حتى لو شرع في الصلاة على ظن أنها عليه، ثم تبين أنها ليست عليه لا يلزمه المضي ولو أفسد لا يلزمه القضاء عند أصحابنا الثلاثة خلافا لزفر
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/300،قدیمی)
رجل شرع فی الصلاۃ علی انھا علیہ ثم تبین انھا لیست علیہ فافسدھا فانہ لایجب قضائھا
وکذافی ملتقی الابحر:(1/197،المنار)
وکذافی مجمع الانھر:(1/198،المنار)
وکذافی الدر المنتقی :(1/198،المنار)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/192،قدیمی)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/319،حقانیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/113،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/300،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 71

اگر امام اور مقتدی دونوں مسافر ہوں اور مقتدی کی ایک رکعت رہ جائے تو کیا وہ اپنی رہی ہوئی رکعت میں قراءت کرے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں! صورت مسئولہ میں مقتدی قراءت کرے گا۔

لما فی المحیط البرھانی:(3/112،بیروت)
ومن حكم المسبوق أنه يصلي أولاً ما أدرك مع الإمام، فإذا فرغ الإمام من صلاته يقضي ما سبق به….، والمسبوق في الحكم كأنه منفرد، ولهذا كان عليه القراءة فيما يقضي
وفی التاتارخانیہ:(3/97،فاروقیہ)
و المسبوق فی الحکم کأنہ منفرد و لھذا کانت علیہ القراءۃ فیما یقضی
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/60،رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(37/164،علوم اسلامیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/664،رشیدیہ)
وکذافی الدر المختار:(1/596،سعید)
وکذافی الشامیہ:(1/596،سعید)
وکذافی النھر الفائق:(1/198،قدیمی)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/165،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/2021/1442/9/7
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 113