بچی کانام مریحہ رکھنا کیسا ہے؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

قرآن پاک کی آیت ہے:”ولا تمش فی الارض مرحا“ اس آیت مبارکہ میں” مرحا“ کامعنی ہے ”اترانا“ اسی سے لفظ مریحہ ماخوذ ہے،لہذا اس کا معنی ہوا”اترا کر چلنے والی“ اگر چہ اس کے اور معانی بھی ہیں، مگر معروف معنی یہی ہے، لہذا معنی مذموم ہونے کی وجہ سے یہ نام رکھنا درست نہیں۔

لما فی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدعون یوم القیامۃباسماءکم واسماء آبائکم فاحسنوا اسماءکم
وفی المنجد:(835،خزینہ علم وادب)
مرح الرجل، بہت زیادہ خوش ہونا، اترانا، ناز سے چلنا
وکذافی التاتارخانیہ:(18/228،فاروقیہ)
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(2/422،رحمانیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/526،تجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(11/331،علوم اسلامیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(6/370،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع الشرح:(6/417،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/7/1442/2021/2/17
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 129

محکمہ بہبود آبادی میں ملازمت کرناکیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اس محکمے کا ملازم جائز کام کرتا ہو،مثلاحفاظتی ٹیکے لگانا،زچہ بچہ کی صحت سے متعلق رہنمائی وادویات فراہم کرنا تو پھریہ ملازمت جائز ہے۔البتہ اگر ناجائز کام کرتا ہو مثلا مرد یا عورت سے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ختم کرنا،بلاعذر ومجبوری عورت کی بچہ دانی نکالنا،نس بندی کرنایا حمل ضائع کرنا وغیرہ تو پھر یہ ملازمت جائز نہیں ہے۔

لما فی مشکوة المصابیح:(2/284،رحمانیہ)
وعن جذامة بنت وهب قالت: حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم في أناس وهو يقول:لقد هممت أن أنهى عن الغيلة فنظرت في الروم وفارس فإذا هم يغيلون أولادهم فلا يضر أولادهم ذلك شيئا ثم سألوه عن العزل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك الوأد الخفي وهي “وإذا الموؤودة سئلت
وفی البحر الرائق:(8/375،رشیدیہ)
ویکرہ کسب الخصی من بنی اٰدم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2644،رشیدیہ)
ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية أو ربط عروق المبايض إذا ترتب عليه امتناع الحمل في المستقبل
وفی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/401،الطارق)
والجدیر بالذکر ھنا ان مشروعیۃ العزل لا تعنی تحدید النسل فلا وجود لھذہ الفکرۃ الرائجۃ فی عصرنا الحاضر فی الشریعۃ الاسلامیۃ….ولا یجوز استعمالھا کسیاسۃ جماعیۃ موجھۃ تودی الی تحدید النسل فی المجتمع
وکذافی فتح الملھم:(6/452،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی البحر الرائق:(8/377،365،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/157،فاروقیہ)
وکذافی عمدة القاری:(20/72،بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/82،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المختار:(6/360،سعید)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(326،زمزم)
وکذافی الشامیہ:(4/335،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/1/2021/1442/6/3
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 199

لکڑی کی جائے نمازجو کہ زمین سے تقریباً ایک فٹ اونچی ہوتی ہےاوراس کےچار پائے ہوتے ہیں،اس پر نماز پڑھنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسی جائے نماز پر نماز پڑھنا درست ہے۔

لما فی التاتارخانیہ:(2/209،فاروقیہ)
ولا باس بالصلاۃ علی العجلۃ بان کانت موضوعۃ علی الارض لانھا بمنزلۃ السریر
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/143،رشیدیہ)
وکذا لو رکز تحت المحمل خشبۃ حتی بقی قرارہ علی الارض لا علی الدابۃیکون بمنزلۃ الارض
وکذافی التنویر مع الشرح:(2/40،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/143،429،بیروت)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/209،213،فاروقیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/194،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/291،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1070،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 66

پاکپتن سے منچن آباد کا فاصلہ تقریبا 50 کلو میٹر ہےاور کرایہ 100 روپےہے۔گاڑی والے ہر سواری سے 100 روپیہ ہی وصول کرتے ہیں چاہے تو 5 کلو میٹر کےفاصلے پر اتر جائےیا پھر آخر تک ساتھ جائے،کیا گاڑی والوں کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر اچھی سروس کی گاڑی ہو اور وہ راستے میں سواری وغیرہ نہیں اٹھاتے ،ان کا اصول یہی ہے کہ ہم اسٹاپ ٹو اسٹاپ کرایہ لیں گے اگرچہ راستہ میں کوئی سواری اتر ہی کیوں نہ جائے اور سواریاں بھی اس پر بخوشی راضی ہوں تو ان کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، البتہ عام گاڑیاں جو راستے سے بھی سواریاں اٹھاتی رہتی ہیں تو ان کے لیے سواری کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس طریقہ پر زائد کرایہ وصول کرنا جائز نہیں ہے۔

لما فی البزازیة علی ھامش الھندیة:(5/66، رشیدیہ)
ان رکبت الی موضع کذا فبدرھم والی موضع کذا فبدرھمین والی موضع کذا فثلاثۃ دراھم یجوز ولا یجوز فیما زاد علی الثلاثۃ
وکذافی درر الحکام شرح مجلة الاحکام:(1/536،535،المکتبة العربیة)
وکذافی الھندیة:(4/413،414،رشیدیہ)
وکذافی مجلة الاحکام العدلیة:(89،قدیمی)
وکذافی التاتارخانیہ:(15/18،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(6/11،سعید)
وکذافی غمز عیون البصائر:(2/360،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق:(5/107،امدادیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 48

میرے ایک دوست آسٹریلیا میں ہوتے ہیں تو وہاں کرسمس کی سیل لگتی ہے جبکہ یہ سیل دیگر ممالک میں بھی لگتی ہے،تو کیا اس سیل سے خریداری کرنا درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کرسمس سیل سے خریداری درست ہے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة: (7 /131،علوم اسلامیہ)
قال الجصاص من الحنفیۃ ان الذمیین فی المعاملات والتجارات کالبیوع وسائر التصرفات کالمسلمین
وفی فقہ البیوع:(1/166،معارف القرآن)
لا یشترط لصحۃ البیع اسلام المتعاقدین فیصح البیع والشراء من غیر مسلم سواء کان ذمیاً ام حربیاً او مستامناً
وکذافی کتاب الاصل:(5/207،بیروت)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(6/333،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختار:(10/520، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/348، رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(2/276، رشیدیہ)
وکذافی کنز العمال:(9/11،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر:128

کرسمس ڈے کے موقع پر کاٹا جانے والا کیک مسلمان کے لیے کھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسلمان کے لیے کرسمس ڈے کا کیک کھانا درست نہیں ۔

لما فی التنویرمع الشرح :(10/520،رشیدیة)
والاعطاء باسم النیروز والمھرجان لا یجوز ای الھدایا باسم ھذین حرام وان قصد تعظیمہ کما یعظمہ المشرکون یکفر
وفی البزازیة علی ھامش الھندیة:(6/333،رشیدیة)
وما یھدی المجوس یوم النیروز من اطعمتھم الی الاشراف ومن کان لھم معرفۃ لا یحل اخذ ذلک علی وجہ الموافقۃ معھم وان اخذہ لا علی ذلک الوجہ لا باس بہ والاحتراز عنہ اسلم
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(42/261،علوم اسلامیہ)
وکذافی الھندیة:(5/347،رشیدیة)
وکذافی کنز الدقائق:(497،حقانیة)
وکذافی مجمع الانھر:(4/491،المنار)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/228،امدادیہ)
وکذافی البحرا لرائق:(9/361،رشیدیة)
وکذافی الھندیة:(2/276،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 53

اگر کان سے بیماری کی وجہ سے پانی نکلے جس سے درد تو محسوس ہو مگر بدبو نہ ہو تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔

لما فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(30،بشری)
لو خرج من اذنہ او سرتہ ماء فان خرج مع الوجع وسال الی موضع یجب غَسلہ فی الغُسل ینتقض الوضوء وکذلک ان خرج من عینہ ماء مع الوجع ینتقض الوضوء
وفی المحیط البرھانی:(1/196،بیروت)
وإذا خرج من أذنه قيح أو صديد ينظر، إن خرج بدون الوجع لا ينتقض وضوءه، وإن خرج مع الوجع ينقض وضوءه؛ لأنه إذا خرج مع الوجع، فالظاهر أنه خرج من الجرح
وکذافی الجوھرة النیرہ:(1/36،قدیمی)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(1/10،رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع شرحہ:(1/305،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/305،رشیدیہ)
وکذافی تقریرات الرافعی: (1/305،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/87،الطارق)
وکذافی التاتارخانیہ:(1/244،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/64، رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق:(1/64،رشیدیہ)
وکذا فی النھر الفائق:(1/53،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/3/2021/1442/7/25
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 32

ہمارے ایک آدمی نے ایک بڑی کالونی تیا رکرنے کا منصوبہ بنایا ہے،کالونی کے لیے ابھی کسی جگہ کا انتخاب نہیں کیا گیا،شہر میں جس جگہ مناسب زمین ملے گی وہاں تعمیر شروع کر دی جائے گی،لیکن ابھی سے کالونی میں بنائے جانے والے پلاٹوں کی فائلیں تیار کر کے ان کی خرید و فروخت شروع کر دی گئی ہے ۔ کیا اس طرح خرید و فروخت درست ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں فروخت کیا جانے والا پلاٹ محل وقوع اور دیگر اوصاف کے لحاظ سے مکمل مجھول وغیر متعین ہے،لہذا اس کی خریدو فروخت جائز نہیں ہے۔

لما فی الھندیة:(3/3،رشیدیہ)
ومنها أن يكون المبيع معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة فبيع المجهول جهالة تفضي إليها غير صحيح
وفی بدائع الصنائع:(4/355،رشیدیہ)
ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع
وکذافی التنویر:(7/70،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(7/70،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/369،معارف القرآن)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(9/15،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(3/6،المنار)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/18،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/3353،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:30

دفن کے بعد قبر پر سورت بقرہ کا پہلا اور آخری رکوع پڑھنے والی روایت کی سندی حیثیت تفصیلاً بتلا دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ روایت مرفوعاً موقوفاً دونوں طرح سے منقول ہے۔اس کی بعض اسناد قوی ہیں اور بعض میں کچھ ضعف ہے ،لیکن تعدد طرق کی وجہ سے یہ ضعف بھی مضر نہیں۔

لما فی مشکوة المصابیح:(1/151،رحمانیہ)
وعن عبد الله بن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:إذا مات أحدكم فلا تحبسوه وأسرعوا به إلى قبره وليقرأ عند رأسه فاتحة البقرة وعند رجليه بخاتمة البقرة. رواه البيهقي في شعب الإيمان. وقال: والصحيح أنه موقوف عليه
وفی المعجم الکبیرللطبرانی:(6/255،بیروت)
حدثنا أبو شعيب الحراني، ثنا يحيى بن عبد الله البابلتي، ثنا أيوب بن نهيك، قال: سمعت عطاء بن أبي رباح، يقول: سمعت ابن عمر، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:إذا مات أحدكم فلا تحبسوه، وأسرعوا به إلى قبره، وليقرأ عند رأسه بفاتحة الكتاب، وعند رجليه بخاتمة البقرة في قبره
وفی مجمع الزوائد:(3/124،بیروت)
وعن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج قال: قال لي أبي: يا بني إذا مت فالحد لي لحدافإذا وضعتني في لحدي فقل: بسم الله وعلى ملة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم شن التراب علي شناثم اقرأ عند رأسي بفاتحة البقرة وخاتمتهافإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ذلك،رواه الطبراني في الكبير، ورجاله موثقون
وفی الشامیة:(2/ 237،سعید)
وكان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها
وفی اعلاء السنن:(8/342،ادارة القراٰن)
رواہ البیھقی فی شعب الایمان وقال:والصحیح انہ موقوف علیہ وفی الاذکار للنووی وروینافی سنن البیھقی باسناد حسن”ان ابن عمر استحب ان یقرا علی القبر بعد الدفن اول سورۃ البقرۃ وخاتمتھا” وھو موقوف فی حکم المرفوع فانہ غیر مدرک بالرای
وکذافی اٰثار السنن:(338،امدادیہ) وکذافی المعجم الکبیر:(8/219،بیروت)
وکذافی شعب الایمان:(7/16،بیروت) وکذافی کنز العمال:(15/310،رحمانیہ)
وکذافی تھذیب الکمال فی اسماء الرجال:(10/716،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:72

امریکہ میں ایک خاتون کاشوہر اسے بہت مارتا ہےاور اب ایک عرصہ سے ازدواجی تعلق بھی قائم نہیں کرتا،دوسری لڑکیوں سےتعلقات بھی رکھتاہے۔ شادی کو 22سال ہوچکے ہیں،16 سال کا ایک بیٹابھی ہے،شروع سے ہی مار پیٹ کرتاہے عورت نے وہاں کی عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کر لی ہے، لیکن اسکا شوہر کہتا ہےتم جو بھی کر لو میں تمہیں طلاق نہیں دوں گا،تم اسی طرح سڑتی مرتی رہو ،کیا وہاں کی عدالت کی جاری کردہ خلع کی ڈگری معتبر ہو گی۔

الجواب حامداً ومصلیاً

غیر مسلم عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کرناشرعا قابل اعتبار نہیں ہے لہذا صورت مسولہ میں خلع درست نہیں ہوا،البتہ اگرشوہر واقعتاناقابل برداشت مار پیٹ کرتا ہے تو پھر وہاں کے صاحبِ رائے دین دارمسلمانوں کی ایک جماعت جنکی تعداد کم از کم تین ہو اور ان میں ایک جید عالم بھی ہو ان کے سامنےیہ مسئلہ پیش کیا جائے اگر یہ جماعت غور وفکر کے بعد متفقہ طور پرزوجین میں تفریق کا فیصلہ کر دےتو یہ تفریق مالکیہ کے ہاں شرعا معتبر ہو گی اور موجودہ دور میں ضرورت کے پیش نظر احناف کا فتوی بھی اسی پر ہے۔

لما فی البدائع الصنائع:(5/438،رشیدیہ)
الصلاحیۃ للقضاء لھا شرائط منھا العقل ومنھا البلوغ ومنھا الاسلام
وفی قضایا فقھیة معاصرة:(2/178،179،معارف القرآن)
یقول العلامۃ الدسوقی رحمہ اللہ تعالی(اعلم ان جماعۃ المسلمین العدول یقومون مقام الحاکم فی ذلک) وھذا یدل علی ان جماعۃ المسلیمن تقوم مقام القاضی
وفیہ ایضا
وتبین بھذا ان الفقھاء المالکیہ یفوضون سلطۃ القضاء الی جماعۃ المسلمین فی جمیع الامور التی تحتاج الی قضاء ولا یوجد قاض شرعی عادل. . . ولا شک ان فی ھذا القول سعۃ للمسلمین القاطنین فی بلاد غیر المسلمین. . . . فلو لم ناخذ بقول المالکیۃ فی ھذاالباب لادّی ذلک الی ما لا یحتمل من التعاسۃ والشقاء
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/5936،رشیدیہ) وکذافی التاتارخانیہ:(11/5،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(29/54،علوم اسلامیة) وکذافی الھندیہ:(3/307، رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(6/437، رشیدیہ) وکذافی الشامیہ:(5/354، سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1442/5/3/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 14