تشہد کی حالت میں تقریبا 7 سے 8 سیکنڈ تک ایک شحص داڑھی اور چہرے سے ایک ہاتھ سے کھیلتا رہا تو کیا نماز ہو گئی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز ہو جائے گی مگر نماز میں داڑھی یا جسم کے کسی عضو کے ساتھ کھیلنا مکروہ ہے۔

لما فی البدائع الصنائع:(1/503،رشیدیہ)
ان النبي – صلى الله عليه وسلم – رأى رجلا يعبث بلحيته في الصلاة فقال: أما هذا لو خشع قلبه لخشعت جوارحه
وفی الھندیہ:(1/105،رشیدیہ)
يكره للمصلي أن يعبث بثوبه أو لحيته أو جسده
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ: (2/961،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرہانی:(2/139، دار احیاء تراث العربی)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/235،حقانیہ)
وکذا فی التنویر:(1/640،اہچ ایم سعید کمپنی)
وکذافی النھرالفائق:(1/277،قدیمی کتب خانہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/230،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/7/1442/ 2021/3/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 180

رشیہ ملک کی ایک ویب سائٹ ہے،یہ ویب سائٹ پاکستان میں نہیں چلتی ۔اس ویب سائٹ کو چلانے کے لیےایک اور موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔اس ویب سائٹ کا اکاونٹ بنانے کے لیے پاکستان کا پتہ نہیں دے سکتے اگر پاکستان کا پتہ دیتے ہیں تو اکاؤنٹ نہیں بن سکتاکسی اور ملک کا پتہ لکھوانا پڑتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے کا مقصد یہ ہےکہ جب آپ کااکاؤنٹ بن جائے توپھر دیگر مختلف لوگ جو اس ویب سائٹ کو استعمال کرناچاہتے ہیں،وہ آپ سےاس کے متعلق معلومات لیں گئے،آپ کا کام ان لوگوں کومعلومات فراہم کرنا ہے۔شروع میں100 جوابات دینا ہوں گئے،پھر اس کے بعد آپ کو 20 جواب روزانہ دینے ہوں گئے اور آپ کو ان جوابات دینے کامعاوضہ دیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہےکہ یہ کام کرنا جائز ہے یاناجائز؟ اس کا معاوضہ لینا حرام ہے یا حلال؟ اگر حرام ہے تو جو احباب معاوضہ لے چکے اور استعمال کر چکے ان کو کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے غلط پتہ بتلانا یہ کذب بیانی اور دھوکہ ہے جو کہ بہت بڑا گناہ ہے،اس عمل پر توبہ واستغفار کرنا لازمی ہےاور نہ ہی ایسا گناہ کا کام کرنے کی اجازت ہے،باقی اگر کسی نے ناواقفیت میں ایسا اکاؤنٹ کھول لیا تھا تو اکاؤنٹ کھل جانے کے بعد جوابات دینے پر ملنے والی رقم اس کے عمل کا معاوضہ ہے،لہذا یہ رقم لینے کی گنجائش ہو گی،بشرطیکہ یہ جوابات فحش گوئی اور بیہودگی وغیرہ، گناہ کے کاموں پر مشتمل نہ ہوں۔

لما فی صحیح البخاری:(1/10،قدیمی)
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال اٰیۃ المنافق ثلاث اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا اؤتمن خان
وفی جامع الترمذی:(1/157،فاروقی کتب خانہ)
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس، ثم قال: من غش فليس منا…. والعمل على هذا عند أهل العلم كرهوا الغش، وقالوا: الغش حرام
وفی البحر الرائق :(8/33،رشیدیہ)
ومهر البغي في الحديث هو أن يؤاجر أمته على الزنا وما أخذه من المهر فهو حرام عندهما، وعند الإمام إن أخذه بغير عقد بأن زنى بأمته، ثم أعطاها شيئا فهو حرام؛ لأنه أخذه بغير حق وإن استأجرها ليزني بها، ثم أعطاها مهرها أو ما شرط لها لا بأس بأخذه؛ لأنه في إجارة فاسدة فيطيب له وإن كان السبب حراما
وکذافی دلیل الفالحین:(1/174،دار الحدیث القاھرة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(1/82،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(2/133،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابن ماجہ :(278،رحمانیہ)
وکذافی المجلة:(/498،552 ،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:62

موکل نے وکیل کو کچھ رقم دی کہ کسی مستحق پر خرچ کر نا کسی خاص شخص کی تعیین نہیں کی وکیل خود بھی مستحق ہے تو کیااپنے اوپر خرچ کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

موکل جب وکیل کو خرچ کرنے کا مکمل اختیار دےدے مثلا یوں کہے”جہاں چاہو خرچ کرو“یاکہے”جسے چاہو دےدو“ وغیرہ ،اب موکل اور وکیل کے درمیان تعلقات کو دیکھا جائے گااگر ان میں بے تکلفی ہے،موکل وکیل کی مالی حالت جانتا ہے، اس کو مستحق بھی سمجھتا ہے اور پہلے بھی اس پر خرچ کرتا رہتا ہےتو اس صورت میں وکیل اس رقم کو اپنے اوپر خرچ کر سکتا ہے۔
اگر ان میں ایسی بے تکلفی نہیں ہے اور موکل کے ذہن میں بھی یہی ہے کہ وکیل اس رقم کو آگئے خرچ کرے گا تو اس صورت میں وکیل اپنے اوپر خرچ نہ کرے،البتہ بہتر یہ ہے کہ وکیل بہر صورت اپنے استعمال میں لانے کے لیے موکل سے صراحتاً اجازت لےلے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1976،رشیدیہ)
ولا یجوز لہ ان یاخذ الزکاۃ لنفسہ الا اذا قال لہ الموکل ضعھا حیث شئت
وفی البحر الرائق :(2/369،رشیدیہ)
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا الا اذا قال لھاضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه
وفی الدر المختار:(3/224،رشیدیہ)
وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت
وکذافی التاتارخانیہ:(3/227،فاروقیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/394،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(237،بشری)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/288،قدیمی)
وکذا فی حاشیة تبیین الحقائق:(1/305،258،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/1/2021/1442/6/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:198

واٹس ایپ پر جو وائیس میسج آتا ہے، کیا اس سلام کا جواب دینا ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

میسج پر سلام سنتے ہی زبان سے جواب دینا تو واجب ہے۔میسج کی صورت میں جواب بھیجنا ضروری نہیں، ھاں اگر کسی وجہ سے ریپلائی کرنا ہی ہو تو اس میں سلام کا جواب بھی دے دے۔

لما فی الشامیہ:(9/685،رشیدیہ)
قول: المتبادر من هذا أن المراد رد سلام الكتاب لا رد الكتاب. لكن في الجامع الصغير للسيوطي رد جواب الكتاب حق كرد السلام قال شارحه المناوي: أي إذا كتب لك رجل بالسلام في كتاب ووصل إليك وجب عليك الرد باللفظ أو بالمراسلة وبه صرح جمع شافعية؛ وهو مذهب ابن عباس وقال النووي: ولو أتاه شخص بسلام من شخص أي في ورقة وجب الرد فورا
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(25/160،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدر المختار:(9/685،رشیدیہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(4/246،دارالعلوم کراتشی)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/406،الطارق)
وکذافی الصحیح للبخاری:(1/244،رحمانیہ)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/221،رحمانیہ)
وکذافی حاشیة الصحیح المسلم:(2/220،رحمانیہ)
وکذافی الاذکار للنووی:(323،دارالبشائر الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 29

ہوٹلوں میں مقرر کردہ پیسوں کے عوض سالن لے کر کھایاجاتا ہے مگر کچھ ساتھی سالن ختم کر کے مزید گریوی مانگتے ہیں،کیا ان کا یہ مزید سالن لینا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عموما ہوٹلوں والے اپنی رضا مندی سے تبرعاً یہ زائد سالن دیتے ہیں اس لیےاس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں،البتہ جن ہوٹلوں میں گریوی دینے کا معمول نہ ہو توا ن سے اصرار کر کے گریوی حاصل کرنا مناسب نہیں۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(10/65،علوم اسلامیہ)
واما الاجماع فقد اتفقت الامۃ علی مشروعیۃ التبرع ولم ینکر ذلک احد
وفی الھدایة:(3/80،رحمانیہ)
ویجوز للمشتری ان یزید للبائع فی الثمن ویجوز للبائع ان یزید للمشتری فی المبیع
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/387،الطارق)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(8/567،568،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3980، رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(3/60،رحمانیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(4/83،امدادیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(42/252،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10//3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:34

آج کل ہمارے ہاں مختلف جانوروں کا ملاپ کرواتے ہیں،مثلا: ہرن اور بکری کا ملاپ کرواتے ہیں ،اس سے جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ بہت مہنگا فروخت ہوتا ہے۔ جانوروں کا اس طرح دوسری نسل و جنس سے ملاپ کروانا شرعا کیا حکم رکھتا ہے؟اور جو بچہ پیدا ہو گا وہ حلال ہو گا یا حرام؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ عمل شرعا درست ہے اور پیدا ہونے والا بچہ مادہ جانور یعنی ماں کے تابع ہو گا لہذا مادہ اگر حلال جانوروں میں سے ہو تو بچہ بھی حلال ہو گا ورنہ حرام ہو گا۔

لما فی حاشیة الشلبی:(6/7،امدایہ)
قوله: وفي المتولد منهما تعتبر الأم) . . . .ولو نزا شاة على ظبي قال الإمام الخيزاخزي إن كان يشبه الأب يجوز، ولو نزا ظبي على شاة قال عامة المشايخ يجوز، وقال الإمام الخيزاخزي العبرة للمشابهة كذا في الخلاصة. اهـ. وكتب ما نصه فإن كانت أهلية يجوز، وإلا فلا حتى لو أن بقرة أهلية نزا عليها ثور وحش فولدت، ولدا فإنه يجوز أن يضحي به
وفی بدائع الصنائع:(4/205،رشیدیہ)
فإن كان متولدا من الوحشي والإنسي فالعبرة بالأم. . . . . وقيل إذا نزا ظبي على شاة أهلية فإن ولدت شاة تجوز التضحية بها وإن ولدت ظبيا لا تجوز
وکذافی الجوھرة النیرة:(2/456،قدیمی)
وکذافی التاتار خانیہ:(17/433،فاروقیہ)
وکذافی التاتار خانیہ:(18/209، فاروقیہ)
وکذافی الفتاوی الھندیة:(5/297، رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(1/225،سعید)
وکذافی الشامیہ:(1/226،سعید)
وکذافی النتف فی الفتاوی:(149،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(4/393،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(3/72،امدادیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2720،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:27

ایک عورت نے اپنے زیورات شوہرکو ہبہ کر دیے،اب اس عورت کے لیے ان زیورات کا استعمال شوہر کی اجازت کے بغیر درست ہے یا اجازت ضروری ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت نے جب زیورات شوہر کو ہبہ کر دیے اور شوہر نے ان پر قبضہ بھی کر لیا تو شوہر ان کا مالک بن گیا اب عورت شوہر کے مملوکہ زیورات کو اس کی صراحتاً یا دلالۃ اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتی۔

لما فی شرح المجلة:(1/262،رشیدیہ)
لا یجوز لاحد ان یتصرف فی مال الغیر بلا اذنہ . . . . وعدم الجواز شامل لجمیع انواع التصرف من استعمال کرکوب ولبس ووضع جذع
وفی الدر المختار:(9/334،رشیدیہ)
“لا یجوز التصرف فی مال غیرہ بلا اذنہ ولا ولایتہ.”
وکذافی دررالحکام شرح مجلة الاحکام:(3/201،202،المکتبة العربیة)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/125،139،الطارق)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(395،392،بشری)
وکذافی التاتارخانیہ:(14/413،فاروقیہ)
وکذافی شرح الوقایہ:(3/281،رحمانیہ)
وکذافی شرح المجلة:(1/264،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 154

ایک خاتون کوبچہ پیداہونے کے دس دن بعد شوہر نے طلاق دے دی تو ایسی مطلقہ پر عدت لازم ہے یا نہیں؟ اگر ہےتو مدت کتنی ہے؟ پوچھنے کی ضرورت اس لیے پڑی کہ اس عورت کوابھی تو نفاس آرہا ہے اور اس کو پانچ یاچھ مہینے بعد حیض آنے کی عادت ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس عورت کی عدت تین حیض ہے چاہے وہ چھ ماہ بعد ہی آئیں، البتہ نفاس میں طلاق دینے کی وجہ سے شوہر سخت گنہگار ہوا ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:( 9/ 6953،رشیدیہ)
وزمن الحیض لا یحسب من العدۃ وسبب الحرمۃتضررھا بطول العدۃ فان بقیۃ الحیض لا تحسب منھا والنفاس کا لحیض
وفی المختصر القدوری:(171،الخلیل)
اذا طلق الرجل امر اتہ فی حال الحیض وقع الطلاق ویستحب لہ ان یراجعھا لحدیث ابن عمررضي الله عنهما
وکذافی رد المحتار:(1/546،رشیدیہ ) وکذافی النهر الفائق:(2/314،قديمي )
وکذا فی التاتارخانيه:( 5/254،فاروقيه) وکذا فی الهنديه:(1/352، رشیدیہ )
وکذافی المبسوط:(4/40، بيروت) وکذا فی بدائع الصنائع:(3 /153،315،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/13/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 196

عبد الواحد فوت ہوا ہے، اس کہ ورثہ میں دوبیویاں،دو بیٹے،تین ماں شریک بہنیں اور ایک چچا ہیں۔ اس کے ترکہ میں 17 لاکھ نقدی،14 ایکڑ زمین ہے۔یہ ترکہ مذکورہ ورثہ میں کس طرح تقسیم ہو گا؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے16برابرحصےبنا کران میں سے1حصہ(٪6.25)ہربیوی کو7حصے(٪43.75)ہربیٹےکو دے دیے جائیں ماں شریک بہنوں اور چچا کو کچھ نہیں ملے گا۔
سوال میں مذکور17 لاکھ نقدی میں سےہر بیوی کو 106250روپے اور ہر بیٹے کو 743750 روپے دیے جائیں گئے۔
چودہ ایکڑ زمین میں سے ہربیوی کو 7کنال اور ہر بیٹے کو49 کنال دیں گے۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی التنویر:(10/544،رشیدیہ)
فیفرض للزوجۃ فصاعداً الثمن مع ولد او ولد ابن
وفی الففقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7770، رشیدیہ)
حجبھم یسقطون مع وجود الفرع الوارث الولد وولد الابن وان سفل
وفی التاتارخانیہ:(20/241،فاروقیہ)
الاخت لام صاحبۃ سھم اذا لم یکن للمیت ولدوابن ولد وان سفلت ولا اب ولا جد اب الاب وان علا واذا کان للمیت واحد من ھؤلاء فلا سھم لھا
وکذا فی البحرالرائق:(9/374،379،382،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذا الموسوعةالفقھیة:(3/41،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(10/7798،رشیدیہ)

واللہ خیر الوارثین
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:59

مرحوم کے ورثہ میں ایک بیوی، 7 بیٹیاں،ماں،2 چچے اور3 چچا زاد بھائی ہیں۔ ترکہ میں 4280000 بینک بیلنس ہے،مزید 4،4 مرلہ کی 6 دکانیں بھی ہیں۔مہربانی فرما کرشرعی تقسیم واضح فرمائیں۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے336برابرحصےبنا کران میں سے ہر بیٹی کو 32حصے(٪9.523)بیوی کو42حصے(٪12.5)والدہ کو 56 حصے(٪16.666) اور ہر چچا کو 7 حصے(٪2.083)دیے جائیں گے اور چچا زاد بھائیوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
سوال میں مذکور4280000نقدی میں سےہر بیٹی کو407619.047روپے،بیوی کو53500روپے،والدہ کو 713333.333 روپے اور ہر چچا کو 89166.666 روپے دیے جائیں گئے۔
دوکانوں میں سے ہر بیٹی کو 2.285مرلہ،بیوی کو 3 مرلہ،والدہ محترمہ کو4 مرلہ اور ہر چچا کو 0.5مرلہ دیے جائیں گے۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفیہ ایضا
” فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ.”
وفیہ ایضا
“وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ.”
وفی الففقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7775،7773،رشیدیہ)
“احوال البنت. . . . الثلثان للاثنتین فصاعداً اذا لم یکن معھن من یعصبھن.”
وفیہ ایضا
“احوال الزوجۃ . . . . الثمن مع الفرع الوارث الولدوولد الابن وان سفل. “
وفی الموسوعة الفقھیة: (3/42،43،علوم اسلامیة)
والعاصب بنفسہ فی الاصطلاح: ھو من یرث المال کلہ اذا انفرد او الباقی بعد الفرض وھو الذی یراد عند الاطلاق
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7799،7787،رشیدیہ)
وکذا فی کنز الدقائق(497،حقانیہ)

واللہ خیر الوارثین
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 142