ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد دو تین مرتبہ سانس لیکر فوت ہو گیا ، کیا اس کو غسل دیا جائے اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے؟

الجواب حامداً ومصلیا

صورت مسئولہ میں اس بچے کا عام انسانوں کی طرح کفن اور نماز جنازہ سب ہو گا۔

لما فی التنویر وشرحہ:(3/152،رشیدیہ)
ومن ولد فمات يغسل ويصلى عليه) ويرث ويورث ويسمى (إن استهل) بالبناء للفاعل: أي وجد منه ما يدل على حياته بعد خروج أكثره
وفی البحر:(2/329،رشیدیہ)
وفي الشرع أن يكون منه ما يدل على حياته من رفع صوت أو حركة عضو، ولو أن يطرف بعينه وذكر المصنف أن حكمه الصلاة عليه ويلزمه أن يغسل وأن يرث ويورث وأن يسمى، وإن لم يبق بعده حيا لإكرامه؛ لأنه من بني آدم
وکذافی الھندیہ:(1/163،رشیدیہ)
وکذا فی البدائع:(2/392،رشیدیہ)
وکذا فی الجوھرة:(1/274،قدیمی)
وکذا فی التتارخانیہ:(3/10،فاروقیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(/216،بشری)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1533،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/597،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/7/1442/2021/2/25
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 145

ایک لڑکا اپنےوالد سے کئی دفعہ کاروبار کے لیے رقم لے کر ضائع کر چکا ہے ،اب اس کا والد کہتا ہے اب جو رقم تجھے دوں گا وہ بطور قرض ہو گی اور اگر ادا نہ کیا تو میرے مرنے کے بعد وراثت سے جو رقم تمہیں ملے گی اس سے منہا کیا جائے گا،کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صحیح ہے۔

لما فی البدائع:(6/519،رشیدیہ)
وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال
وفی الشامیہ:(6/434،رشیدیہ)
قوله: جهل أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم. وفي الفصول العلامية: من له على آخر دين فطلبه ولم يعطه فمات رب الدين لم تبق له خصومة في الآخرة عند أكثر المشايخ؛ لأنها بسبب الدين وقد انتقل إلى الورثة. والمختار أن الخصومة في الظلم بالمنع للميت، وفي الدين للوارث
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(33/123،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(5/3793،3790،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/202/04/28
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 151

میری موبائلوں کی دوکان ہے،میں ایزی لوڈ کا کام کرتا ہوں،ہمیں کمپنی ہزار روپے کے بدلےایک ہزار پچیس روپےدیتی ہے،جو ہمارا نفع ہوتا ہے،کیا یہ پچیس روپے زیادہ لینا جائز ہے سود تو نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

صورت مسئولہ میں یہ معاملہ کمپنی اور اس کے نمائندہ دکاندار کے درمیان عقد اجارہ ہے،لہذا دکاندار کا اپنی خدمت کا عوض معلوم نفع لینا جائز ہے۔

لما فی التنویر وشرحہ:(9/9،رشیدیہ)
منافعها) شهرا بكذا؛ أفاد أن ركنها الإيجاب والقبول. وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة. وحكمها وقوع الملك في البدلين ساعة فساعة
وفی الھندیہ:(4/411،رشیدیہ)
ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا
وکذا فی البحر:(7/507،رشیدیہ)
وکذا فی المختصر فی الفقہ الحنفی:(398،بشری)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(1/260،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/23/03
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 95

ایسے صفحات جن پر آیات قرآنیہ ہوں یا احادیث مبارکہ ہوں ان کو جلانا یا پانی میں بہانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

ایسے اوراق مقدسہ کو جاری پانی میں بہانا بھی درست ہے،البتہ بہتر یہ ہے کہ ان کو کسی پاک صاف کپڑے میں لپیٹ کرمحفوظ جگہ مثلا قبرستان وغیرہ میں لحد کھود کر دفن کر دیا جائےیا اگر ممکن ہو تو”تحفظ اوراق مقدسہ” کے لیے لگائے گئے بکس وغیرہ میں رکھ دیے جائیں۔اگر ان میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو ان سے اسماء مقدسہ کو مٹا کر جلا سکتےہیں،لیکن یہ حکم انتہائی مجبوری کے وقت کا ہے۔

لما فی الھندیہ:(5/323،رشیدیہ)
 المصحف إذا صار خلقا لا يقرأ منه ويخاف أن يضيع يجعل في خرقة طاهرة ويدفن، ودفنه أولى من وضعه موضعا يخاف أن يقع عليه النجاسة أو نحو ذلك ويلحد له؛ لأنه لو شق ودفن يحتاج إلى إهالة التراب عليه، وفي ذلك نوع تحقير إلا إذا جعل فوقه سقف بحيث لا يصل التراب إليه فهو حسن أيضا، كذا في الغرائب .المصحف إذا صار خلقا وتعذرت القراءة منه لا يحرق بالنار، أشار الشيباني إلى هذا في السير الكبير وبه نأخذ، كذا في الذخيرة
وفی عمدة القاری:(20/19،داراحیاء)
قولہ (کل صحیفۃ او مصحف ان یخرق)وقال ابن بطال: في هذا الحديث جواز تحريق الكتب التي فيها اسم الله، عز وجل، بالنار وإن ذلك إكرام لها وصون عن وطئها بالأقدام، وقيل: هذا كان في ذلك الوقت، وأما الآن فالغسل إذا دعت الحاجة إلى إزالته، وقال أصحابنا الحنيفة: إن المصحف إذا بلي بحيث لا ينتفع به يدفن في مكان طاهر بعيد عن وطء الناس
وکذافی الشامیة:(9/696،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی السراجیہ:(313،زمزم)
وکذا فی التتارخانیہ:(18/68،فاروقیہ)
وکذا فی الدر المختار:(9/696،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(8/10،داراحیاء)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/45،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/507،طارق)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(38/35،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر :22 فتوی نمبر: 91

حضور اکرم ﷺنے جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو حق مہر کتنا تھا ؟(2)نکاح کے وقت دونوں کی عمر مبارک کتنی تھی؟

الجواب حامداً ومصلیا

اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے حق مہر کے متعلق مختلف روایات ملتی ہیں :چالیس درہم،چارسو درہم اور پانچ سو درہم ،البتہ مسلم شریف کی روایت کے مطابق مہر ساڑھے بارہ اوقیہ تھا،جس کی مقدار پانچ سو درہم بنتی ہےاور یہی زیادہ راجح ہے۔(2)نکاح کے وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر چھ یا سات سال تھی اور رخصتی نو سال کی عمر میں ہوئی۔چونکہ یہ نکاح دس نبوی شوال میں ہوا اس لحاظ سے آپﷺ کی عمر مبارک انچاس یا پچاس سال بنتی ہے۔حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے اپنی کتاب “سیرت خاتم الانبیاء”میں انچاس سال لکھی ہے۔(سیرت:32،دارالاشاعت)

 

لما فی الصحیح للمسلم:(1/458،قدیمی)
” عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، أنه قال: سألت عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم: كم كان صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالت: «كان صداقه لأزواجه ثنتي عشرة أوقية ونشا»، قالت: «أتدري ما النش؟» قال: قلت: لا، قالت: «نصف أوقية، فتلك خمسمائة درهم، فهذا صداق رسول الله صلى الله عليه وسلم لأزواجه» .”
وفی السنن الکبری:(7/380،بیروت)
عن عائشہ رضی اللہ عنھا قالت:ما أصدق رسول اللہ ﷺأحدا من نسائہ ولا بناتہ فوق اثنی عشر أوقیۃ الا ام حبیبۃ فان النجاشی زوجہ ایاھا وأصدقھا أربعۃ آلاف
وکذافی الصحیح للبخاری :(1/686،رحمانیہ)
“عن هشام، عن أبيه، قال: «توفيت خديجة قبل مخرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى المدينة بثلاث سنين، فلبث سنتين أو قريبا من ذلك، ونكح عائشة وهي بنت ست سنين، ثم بنى بها وهي بنت تسع سنين
وکذا فی الطبقات الکبری:(4/271،عمریہ)
قالت سمعت عائشہ تقول :تزوجنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شوال سنۃ عشر من النبوۃ قبل الھجرۃلثلاث سنین وانا ابنۃست سنین،وھاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقدم المدینۃ یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ لیلۃ خلت من شھر ربیع الاول ،وأعرس بی فی شوال علی رأس ثمانیۃ أشھر من المھاجر ،وکنت یوم دخل بی ابنۃ تسع سنین
وکذا فی مجمع الزوائد:(4/369،بیروت) وکذا فی سبل الھدی والرشاد:(9/48،نعمانیہ)
وکذا فی زاد المعاد:(4/983،علمیہ) وکذا فی البدایہ والنھایہ:(3/104،بیروت)
وکذا فی الاستیعاب فی معرفة الاصحاب:(4/436،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 94

اگر ایک امام مقتدیوں سے 9 انچ بلند کھڑا ہوتا ہے(امام اکیلا کھڑا ہےاس بلند مقام پر) کیا مقتدیوں کی نماز درست ہو جائے گی؟

الجواب حامداً ومصلیا

نماز درست ہو جائےگی۔

لما فی التنویر وشرحہ:(2/500،رشیدیہ)
وانفراد الامام علی الدکان)للنھی ،وقد ر الارتفاع بذراع،ولا باس بما دونہ ،وقیل ما یقع بہ الامتیاز وھو الاوجہ
وفی الھندیہ:(1/108،رشیدیہ)
ثم قدر الارتفاع قامة ولا بأس بما دونها ذكره الطحطاوي وقيل: إنه مقدر بما يقع به الامتياز، وقيل: بمقدار الذراع اعتبارا بالسترة وعليه الاعتماد. كذا في التبيين
وکذا فی بدائع:(1/508،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/369،حقانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/46،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/425،رشیدیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(2/212،فاروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/165،امدادیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/144،داراحیاء)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(/361،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/5/1442/2021/1/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 121

ایک جوڑے کی شادی کو تین سال ہو چکے ہیں ،میاں بیوی میں ساس کی وجہ سے اکثر جھگڑا رہتا تھا،جھگڑے کی وجہ اولاد کا نہ ہونا ہے۔ساتھ ساس ہر وقت طعنے دیتی رہتی تھی،جس کے نتیجے میں شوہر نے ماں کے کہنے پر بیوی کو گھر سے نکال دیا ،صلح کی کوشش کی گئی مگر لڑکے کا غرور ختم نہ ہوا،الٹا اس نے بیوی کا سارا سامان اس کے گھر واپس بھیج دیا،جب لڑکے سے طلاق کا مطالبہ کیا گیا تو اس نے صاف انکار کر دیا،اس پر لڑکی کے بھائی نے طیش میں آکر لڑکے سے گن پوائنٹ پر طلاق لے لی،اب لڑکا پچھتارہا ہے اور کہ رہا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی میں نے صلح کرنی ہے،میں نےطلاق نامہ پر صرف دستخط کیے تھے،میرے دل میں کوئی ارادہ نہیں تھا اور نہ ہی میری زبان پر کوئی جنبش تھی،جبکہ لڑکی بھی یونین کونسل میں پیپر پر سائن کر آئی ہے،علیحدگی کو تقریبا ایک مہینہ ہو گیا ہے،قرآن وحدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا اس صورتحال میں طلاق واقع ہو گی یا کوئی گنجائش باقی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

اگر واقعی خاوند کو طلاق نامہ پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیااور اس کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور نہ ہی اس نے زبان سے تلفظ کیاتو طلاق واقع نہ ہوئی عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے۔

لما فی الشامیہ:(4/428،رشیدیہ)
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية
وفی المحیط البرھانی:(4/486،داراحیاء)
وفي «فتاوى أهل سمرقند» : إذا أكره الرجل بالحبس والضرب على أن يكتب طلاق امرأته فكتب فلانة بنت فلان طالق لا تطلق لأن الكتاب من الغائب جعل بمنزلة الخطاب من الحاضر باعتبار الحاجة، ولا حاجة ههنا حيث احتيج إلى الضرب
وکذافی الھندیہ :(1/379،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/221،حقانیہ)
وکذا فی التتارخانیہ:(4/532،فاروقیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/429، رشیدیہ)
وکذا فی البزازیہ علی ھامش الھندیہ:(6/131، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
اسدالرحمن عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/8/1442/2021/18/03
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 66

ایک مقیم نے عصر کی نماز کی ایک رکعت پڑھی تھی کہ مغرب کی اذان شروع ہو گئی ،اس کی بعد ایک مسافر نے اس مقیم کی اقتداء کرلی تو اس مسافر کی نماز ہو گئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مسافر کی نماز نہیں ہوگی۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/405،دار احیاء تراث العربی)
قا ل محمد فی”الجامع”:مقیم صلی رکعۃ من العصر،فغربت الشمس ،فجاء مسافر واقتدی بہ ھذہ الحالۃ لا یصح اقتداءہ
وفی المجمع الانھر:(1/242،المنار)
ولواقتدی المسافر بالمقیم فی الوقت صح ویتم وبعدہ لایصح)لان فرض المسافر لا یتغیر بعد الوقت لانفصال سببہ
وکذافی الفتاوی الوالوالجیة:(1/135،حرمین شریفین)
وکذا فی شامیة:(2/736،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/366،406حقانیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی:(1/314،الطارق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یاسر عرفات غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 110

دریا سے جو مچھلی حاصل کی جاتی ہے اس پر عشر لازم ہوگا یا زکوۃاور مچھلی کے فارم والے شخص پر عشر ہو گا یا نصف عشر؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

جو مچھلی دریا سےحاصل کی جاتی ہےاس پر نہ زکوۃ لازم ہے اور نہ عشر۔(2)فارم والا شخص اگر صاحب نصاب ہے تو اس پر زکوۃ لازم ہو گی ورنہ نہیں۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/520،حقانیہ)
ولا شئ فیما یستخرج من البحر کالعنبر واللؤلؤوالمرجان و السمک ونحو ذالک الا اذا اعدہ للتجارۃ
وفی المبسوط للسرخسی:(2/211،دارالمعرفہ)
لیس فی السمک واللؤلؤ والعنبر یستخرج من البحر شئ
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار:(1/316،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/163،33،دار احیاء تراث العربی)
وکذا فی البنایہ:(3/486،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/412،رشیدیہ)
وکذا فی التنویر مع ھامشہ:(2/322،ایچ ایم سعید کمپنی)
وکذا فی فتح القدیر:(2/246،225،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عر فات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/4/1442/2020/12/14
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 49

کھیتوں میں جودرخت لگائے جاتے ہیں ان کی لکڑی پر عشر ادا کرنا ہو گا ؟

الجواب حامداً ومصلیا

اگر ان درختوں سے لکڑی کا حصول ہی مقصود ہو تو عشر واجب ہو گاورنہ نہیں۔

لما فی البدائع الصنائع:(2/ 178 ،رشیدیہ )
ان یکون الخارج من الارض مما یقصد بزراعتہ نماءالارض وتستغل الارض بہ عادۃ فلا عشر فی الحطب والحشیش القصب الفارسی
وفی البحرالرائق:(2/413 ،رشیدیہ )
وان یکون الخارج منھا مما یقصد بزراعتہ نماء الارض فلا عشر فی الحطب ونحوہ
وفی المحیط البرھانی:(3/271،دار احیاء تراث العربی)
قال ابویو سف ومحمد کل شئی لہ․․․․ویکون مقصودا فی نفسہ یجب فیہ العشر
وکذافی تنویرالابصارمع شرحہ: ( 2/ 327 ،ایچ ایم سعید کمپنی )
وکذا فی الفتاوی التتارخانیة: (3 /284 ،فاروقیہ )
وکذا المبسوط السرخسی:(3۔4/3 دارالمعرفہ بیروت)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/522،حقانیہ)
وکذا فی عالمکیریہ:(1/186،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
یاسر عرفات جھنگوی عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
21/4/1442/2020/12/7
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:51