ایک لڑکا دو سال تک جمعہ ایسی مسجد میں پڑھتا رہا جس میں خطبہ سندھی زبان میں ہوتا تھا، بعد میں مسئلے کا پتہ چلا تو اب ان دو سالوں کے جمعہ کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

غیر عربی میں خطبہ جمعہ پڑھنا اگرچہ مکروہ تحریمی ہے، لیکن نماز ادا ہو جاتی ہے،لہذا ان دو سالوں کا جمعہ ادا ہو گیا ہے،آئندہ ایسی مسجد میں جمعہ ادا کیا جائے جہاں خطبہ عربی زبان میں ہوتا ہو اور پہلے عمل پر استغفار کیا جائے۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(19/180،علوم اسلامیہ)
وقال ابو حنیفۃ وہو المعتمد عند الحنفیۃ تصح بغیر العربیۃ ولو کان الخطیب عارفا بالعربیۃ ووافق الصاحبان الجمھور فی اشتراط کونھا بالعربیۃ الا للعاجز عنھا
وفی عمدة الرعایة علی ھامش شرح الوقایة:(1/242،امدادیہ)
ولو خطب بالفارسیۃاو بغیرھاجاز وکذا قالوا والمراد بالجواز ہو الجواز فی حق الصلوۃ بمعنی انہ یکفی لاداء الشرطیۃ وتصح بھا الصلوۃ لاالجواز بمعنی الاباحۃ المطلقۃ فانہ لا شک فی ان الخطبۃ بغیر العربیۃ خلاف السنۃ المتوارثۃ من النبی صلی اللہ علیہ وسلم والصحابۃ فیکون مکروھاً تحریماً
وکذافی مجموعة رسائل اللکنوی:(4/376،380، ادارةالقرآن والعلوم الاسلامیة)
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق للشیخ الشلبی:(1/220،امدادیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1310، رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/220،امدادیة)
وکذافی النھایة:(2/57، رشیدیہ)
وکذافی شرح الوقایة:(1/242،امدادیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/450،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر:151

ایک شخص نے غصہ میں اپنی بیوی کو ایک سے زائد بار ماں کہا اور اب وہ اکھٹے رہ رہے ہیں،مہربانی فرما کر شرعی حکم سے مطلع فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اس لفظ سے نکاح پر تو کوئی اثرنہیں پڑا البتہ ایسے الفاظ کہنا نہایت ناپسندیدہ اور بری بات ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیة:(1/507،رشیدیہ)
قال لها: أنت مثل أمي ولم يقل: علي ولم ينو شيئا لا يلزمه في قولهم كذا في فتاوى قاضي خان. . . . . لو قال لها: أنت أمي لا يكون مظاهرا وينبغي أن يكون مكروها
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/7136،رشیدیہ)
ویکرہ ان یدعو الزوج زوجتہ بذی رحم مثل یا اخت ا و یا ام ونحوھا
وکذافی التاتارخانیہ:(5/170،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق:(4/165، رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(3/379،حقانیہ)
وکذافی الشامیہ:(3/470،سعید)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/223،الطارق)
وکذافی النھر الفائق:(2/453،قدیمی)
وکذافی ابی داؤد:(1/319،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(5/189،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 126

عول کے لغوی معانی ظلم وزیادتی کرنے،تنگ کرنےاور بلند کرنے کے آتے ہیں اور اصطلاح میں اصحاب الفرائض کے حصوں کی تعداد کا اصل مسئلہ سے بڑھ جانا’’عول‘‘ کہلاتاہےاور اس صورت میں ہر وارث کےمقررہ حصے میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔یہاں سوال یہ ہےکہ مذکورہ با لا مسائل میں عول کے استعمال کی وجہ سے ہر ایک صاحب فرض کا حصہ کم ہو جاتاہے۔مثلا نقشہ نمبرایک میں زوج کا حصہ2/1کے بجائے7/3ہو گیا ہے جو کہ نصف سے کم ہے ۔نقشہ نمبر 2 میں زوج کا حصہ 2/1کے بجائے 1/3ہو گیا ہے نقشہ نمبر 3 میں زوجہ کا حصہ 4/1 کے بجائے 5/1ہو گیا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں بیان کردہ دوسرے ورثاء کے حصص بھی کم ہو جاتے ہیں ،لہذا معلوم ہو اکہ بذریعہ عول وراثت کی تقسیم میں کوئی غلطی موجود ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

بذریعہ عول وراثت کی تقسیم میں کوئی غلطی نہیں ہے،بلکہ یہ طریقہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کےعمل سے ثابت ہے،نیز عول کے ذریعےقرآن کریم کے بیان کردہ حصص میں کوئی کمی نہیں کی جاتی، بلکہ ہر وارث کے لئے اولاً وہی حصص متعین کیے جاتے ہیں،لیکن ترکہ کم ہونے کی وجہ سے تمام اصحاب فروض کو مکمل متعینہ حصہ دینا چونکہ ممکن نہیں ہوتا،اس لیے بعض کو محروم کر کے دوسروں کا حصہ مکمل کرنے کے بجائےبذریعہ عول سب کے حصص میں خاص تناسب سے کمی کر دی جاتی ہے،جیسا کہ اگر میت کے ذمے کثیر دین ہواور ترکہ کم ہوتو تمام قرض خواہوں کے واجب الوصول دیون میں خاص تناسب سے کمی کر کے بقیہ رقم ادا کر دی جاتی ہےاور یقیناً یہی عین انصاف ہے۔
آپ کے بقول اگر عول کے طریقہ میں غلطی ہے تو تقسیم میراث کا صحیح طریقہ آپ بتلادیں۔اگر کسی کو محروم کریں تو یہ اس کے ساتھ ظلم و نا انصافی ہو گی اور اس طرح نصوص کی مخالفت بھی لازم آئے گی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ خطبہ دینے کے لئے منبر پر تشریف فرما تھے دوران خطبہ کسی نے سوال کیا کہ ایک شخص ہے، اس نے ورثہ میں ایک بیوی دوبیٹیاں والد اور والدہ چھوڑے تو بیوی کو کتنا حصہ ملے گا،حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فی الفور ساری تفصیل بتا دی کہ ترکہ کے 27 حصے کر کے بیوی کو تین حصے دیے جائیں گے،اس نے اعتراض کیا کہ قرآن کریم میں تو بیوی کا حصہ ثمن بیان کیا گیا ہے اور آپ تسع دے رہے ہیں،حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفی البدیہ جواب دیا ”صار ثمنھا تسعا“۔

لما فی المصنف لابن ابی شیبہ:(6/260،بیروت)
حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن رجل لم يسمه قال:ما رأيت رجلا كان أحسب من علي سئل عن ابنتين وأبوين وامرأة فقال:”صار ثمنها تسعا” قال أبو بكر فهذه من سبعة وعشرين سهما للابنتين ستة عشر وللأبوين ثمانية وللمرأة ثلاثة
وفی الفتاوى الهندية:(6/468،رشیدیہ)
العول هو زيادة السهام على الفريضة فتعول المسألة إلى سهام الفريضة ويدخل النقصان عليهم على قدر حقوقهم لعدم ترجيح البعض على البعض كالديون والوصايا إذا ضاقت التركة عن إيفاء الكل فإنها تقسم عليهم على قدر أنصبائهم ويدخل النقص على الكل كذا هذا كذا في الاختيار شرح المختار
وکذافی اعلاء السنن:(18/403،404،ادارة القرآن)
وکذافی حاشیة السراجی:(52،بشری)
وکذافی الشریفیة:(57،قدیمی)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(10/7820،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(20/273،فاروقیہ)
وکذافی الشامیة:(10/570، رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(9/410، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(3/48،علوم اسلامیہ)
وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(6/414،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر: 22 فتوی نمبر: 65

اگر کسی عورت کو سجدہ کرنے سے سفید پانی نکلتا ہو جسے’’لیکوریا‘‘کہتے ہیں تو کیا یہ عورت اشارہ سے سجدہ کر سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کر سکتی ہے۔

لما فی فتح القدیر:(2/7،رشیدیہ)
رجل بحلقه خراج لا يقدر على السجود ويقدر على غيره من الأفعال يصلي قاعدا بإيماء، وكذا لو كان بحال لو سجد سال جرحه، وإن لم يسجد لا يسيل لما قدمنا في فصل المعذور، فإن قام وقرأ وركع ثم قعد وأومأ للسجود جاز، والأول أولى
وفی الشامیہ:(2/684،رشیدیہ)
رجل بحلقه خراج إن سجد سال وهو قادر على الركوع والقيام والقراءة يصلي قاعدا يومئ؛ ولو صلى قائما بركوع وقعد وأومأ بالسجود أجزأه، والأول أفضل
وکذافی مراقی الفلاح:(431،قدیمی)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(432،قدیمی)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/26،27،بیروت)
وکذافی النھر الفائق:(1/336،قدیمی)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/171،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(1/136،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/306،الطارق)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/194،195،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 125

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی میں عقیق پہنا ہے؟اورکیا عقیق پہننا سنت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضور علیہ السلام سے عقیق پہننا یقینی طور پر ثابت نہیں ہے،البتہ حبشی نگینہ پہننا ثابت ہے،جس سے بعض شارحین نے عقیق مراد لیا ہے۔باقی عقیق کی فضیلت سے متعلق جتنی روایات ہیں بعض موضوع ومنگھڑت ہیں اور بعض ضعیف ہیں۔

وفی صحیح البخاری:(2/872،قدیمی)
عن أنس ان نبي اللہ صلى الله عليه وسلم كان خاتمہ من فضۃ وکان فصہ منہ
وفی حاشیتہ
قولہ:وکان فصہ منہ….لانہ اما ان یحمل علی التعدد وحینئذ کان معناہ ای کان حجرامن بلادالحبشۃاوعلی لون الحبشۃاوکان جزعااوکان عقیقا
لما فی شمائل الترمذی:(2/727،رحمانیہ)
عن أنس ابن مالک قال كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من ورق وكان فصه حبشيا
وفی حاشیتہ
قولہ:کان فصہ حبشیا یحتمل الجزع والعقیق لان معدنھا الیمن والحبشة
وفی فتح الباري لابن حجر (10/396،قدیمی)
خاتم النبي صلى الله عليه وسلم من ورق وكان فصه حبشيا لأنه إما أن يحمل على التعدد وحينئذ فمعنى قوله حبشي أي كان حجرا من بلاد الحبشة أو على لون الحبشة أو كان جزعا أو عقيقا لأن ذلك قد يؤتى به من بلاد الحبشة
وفی الموسوعة الفقھیة:(30/275،علوم اسلامیہ)
ذھب جمھور العلماء الی اباحۃ التختم بالعقیق للرجل
و فی کشف الخفاء ومزیل الا لباس:(1/300،الغزالی)
تختموا بالعقيق؛ فإنه ينفي الفقررواه ابن عدي عن أنس قال ابن عدي: حديث باطل ففيه الحسين بن إبراهيم مجهول؛ ولذا حكم ابن الجوزي بوضعه….عن عائشة بلفظ: تختموا بالعقيق فإنه مبارك وقال في المقاصد له طرق كلها واهية….ورواه الديلمي عن عمر رفعه بلفظ: “تختموا بالعقيق؛ فإن جبريل أتاني به من الجنة وقال لي: يا محمد تختم بالعقيق وَأْمُرْ أمتك أن تتختم به” وهو موضوع على عمر فمن دونه إلى مالك….ومنها لابن حبان في الضعفاء عن فاطمة مرفوعًا”من تختم بالعقيق لم يزل يرى خيرًا “وفي سنده أبو بكر بن شعيب لا يحل الاحتجاج بحديثه، ورواه الطبراني في الأوسط والدارقطني في الأفراد وأبو نعيم وغيره بطرق وكلها باطلة، ومن ثم قال العقيلي: لا يثبت في هذا عن النبي صلى الله عليه وسلم شيءوذكره ابن الجوزي في الموضوعات
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(2/391،رحمانیہ)
وکذافی عمدۃ القاری:(22/34،37،بیروت)
وکذافی مجمع الزوائد:(5/199،بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(11/29،علوم اسلامیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/185،المکتبة التجاریة)
وکذافی الشامیہ:(9/594،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/1/2021/1442/6/3
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 8

آپ ﷺ پر عرش پر کون سی آیات اتری ہیں؟جواب سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

معراج کے موقع پر آپ ﷺ کوسورۃ البقرۃ کی آخری دو آیتیں ” آمن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمؤمنون. . .. فانصرنا علی القوم الکفرین”عطاء کی گئیں۔

لما فی الصحیح لمسلم:(1/126،رحمانیہ)
عن عبد الله، قال: «لما أسري برسول الله صلى الله عليه وسلم، انتهي به إلى سدرة المنتهى، وهي في السماء السادسة، إليها ينتهي ما يعرج به من الأرض فيقبض منها، وإليها ينتهي ما يهبط به من فوقها فيقبض منها»، قال: ” إذ يغشى السدرة ما يغشى ” قال: «فراش من ذهب»، قال: ” فأعطي رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثا: أعطي الصلوات الخمس، وأعطي خواتيم سورة البقرة، وغفر لمن لم يشرك بالله من أمته شيئا، المقحمات
وفی البحر المحیط:(2/378،بیروت)
آمن الرسول قال الحسن، ومجاهد، وابن سيرين، وابن عباس في رواية: أن هاتين الآيتين لم ينزل بهما جبريل، وسمعهما صلى الله عليه وسلم ليلة المعراج بلا واسطة، والبقرة مدنية إلا هاتين الآيتين
وفی التفسیر الکبیر للامام الفخر الرازی:(3/125،علوم اسلامیہ)
وکذافی التفسیر المظھری:(1/428،رشیدیہ)
وکذافی تفسیر القرآن العظیم:(1/349،بیروت)
وکذافی الکشاف:(1/286،منشورات البلاغة)
وکذافی تفسیر البغوی:(1/275،بیروت)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(3/425،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/3/2021/1442/8/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:31

شہد کی مکھیوں کو پال کر ان سے شہد حاصل کیاجاتا ہے اس شہد پر عشر واجب ہو گا یا نہیں؟اگر ہے تو نصف عشر ہے یا عشر؟کیونکہ اس پر خرچ بھی ہوتا ہےتو جس طرح زرعی پیداوار پر خرچ کی وجہ سےنصف عشر ہے تو کیا یہاں بھی نصف عشر ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شہد میں عشر واجب ہو گا، خواہ دیسی شہد ہو یا فارمی ہو۔

لما فی جامع الترمذی:(1/254،رحمانیہ)
عن ابن عمر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العسل فی کل عشر ازق زق
وفی البدائع الصنائع:(2/184،رشیدیہ)
ثم انما یجب العشر فی العسل اذا کان فی ارض العشر فاما اذا کان فی ارض الخراج فلا شیئ فیہ لما ذکرنا،ان وجوب العشر فیہ لکونہ بمنزلة الثمر لتولدہ من ازھار الشجر
وفی الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
ویجب العشر فی العسل اذا کان فی ارض العشر
وکذافی کتاب الاصل:(2/116،بیروت)
وکذافی الھدایة:(1/219،المیزان)
وکذافی الخانیہ علی ھامش الھندیہ:(1/276،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/286،فاروقیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/325،سعید)
وکذافی الجامع لاحکام القراٰن:(10/140،بیروت)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(30/97،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہرعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/12/2020/1442/5/3
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:13

ایک شخص نے ایک عورت سےدوسری شادی کی ،اب وہ اپنے بیٹے کا نکاح اس عورت کی بہن سے کرنا چاہتاہے،جو رشتہ میں اس کی سوتیلی خالہ لگتی ہے۔ کیاشریعت کی روشنی میں یہ نکاح کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوتیلی خالہ محرمات میں سے نہیں ہے،لہذا اس سے نکاح کرنا درست ہے۔

لما فی الشامیہ:(4/112،بیروت)
قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم زوجة الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب
وفی الفقه الإسلامي وأدلته:( 9/ 6627،رشیدیہ)
والمحرم بهذه الآية هو زوجة الأب فقط، أما بنتها أو أمها فلا تحرم على الابن، فيجوز أن يتزوج الرجل امرأة، ويتزوج ابنه بنتها أو أمها
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(36/212،216 ،علوم اسلامیہ)
وکذافی الجوھرة النیرہ:(2/110، قدیمی)
وکذافی تفسیر المظھری:(2/51،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/80،الطارق)
وکذافی بدائع الصنائع:(2/531،رشیدیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/7،امیر حمزہ کتب خانہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/1/2021/1442/6/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:152

احادیث مبارکہ میں”سفرجل“نامی پھل سے متعلق کیا فضائل وفوائد مذکور ہیں ، اور اس سے مراد کون سا پھل ہے؟ تفصیل سےبا حوالہ جواب دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

سفرجل“ ایک پھل ہے جو سیب یا ا مرود کی طرح ہوتا ہےاردو میں اس کو” بہی“ کہا جاتا ہے۔معتدل علاقوں میں اس کی کاشت ہوتی ہے۔
احادیث مبارکہ میں اس کے متعدد فوائد مذکور ہیں۔اس کو جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے ،انسان کے دل کو قوی ومضبوط کرتا ہے،نہار منہ کھانے سےمعدے کی گرمی دور ہوتی ہے،کھانے والے کےاندر قوت و نشاط پیدا کرتا ہے۔

لما فی سنن ابن ماجہ : ( 375،رحمانیہ )
عن عبد الملک الزبیری عن طلحۃ قال دخلت علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدہ سفرجلۃفقال دونکھایا طلحۃ فانھا تجم الفواد
وفی کنز العمال : (10/18،رحمانیہ)
کلوا السفرجل فانہ یجلی عن الفؤاد ویذھب بطخاء الصدر
وفیہ ایضا
“کلو السفرجل علی الریق فانہ یذھب وغر الصدر.”
وفی سبل الھدی والرشادفی سیرة خیر العباد : ( 12/193، نعمانیه)
” وروی القالی فی امالیہ عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال اکل السفرجل یذھب بطخاء القلب.”
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی : ( 1/72، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی المستدرک علی الصحیحین:(4/84، قدیمی)
وکذا فی القاموس الوحید:(774، ادارہ اسلامیات)
وکذا فی المنجد فی اللغہ:(337،بیروت )
وکذافی فرہنک آصفیہ:(1/ 660،الفیصل)
وکذا فی مجمع الزوائدومنبع الفوائد:( 5/ 42،دار الکتب العلمیہ )

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر صدیق عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/11/29/4/4/1442
جلد نمبر:21 فتوی نمبر: 193

شوہر ملک سے باہر ہے ،بیوی ساس کے پاس رہتی ہے۔گھر کا خرچ سسر چلاتے ہیں جو کہ قومی بچت میں فکس کروائی ہوئی رقم پر ملنے والا منافع ہے۔بیوی کیا کرئے؟جبکہ شوہر سمیت سب لوگ اس کو جائز سمجھتےہوں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

قومی بچت میں فکس کروائی ہوئی رقم سے ملنے والا منافع خالصتاًسود ہے، اس سے اجتناب لازم ہےاور بیوی کے اخراجات شوہر پر لازم ہیں، لہذا وہ شوہر سے رزق حلال کا پر زور مطالبہ کرتی رہے۔
اگر بیوی کے لیے حلال آمدن کا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے،مثلاً وہ شوہر کے نام قرض نہیں لے سکتی یا کوئی دوسرا شخص اس پر خرچ کرنے والا بھی نہیں ہے تو بوجہ مجبوری عورت بقدر ضرورت یہ مال استعمال کر سکتی ہے ان شاء اللہ گناہگارنہ ہو گی تاہم ساتھ ساتھ استغفار کرتی رہے اب اس صورت حال میں اہل و عیال کےلئے رزق حلال کا انتظام نہ کرنے کی وجہ سے خاوند گناہگار ہو گا۔

لما فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(4/254،الطارق)
ذھب بعض العلماء المعاصرین الی القول بحل فوائد البنوک وشھادات الاستثمار . . . . وھی دعوی باطلۃ لان تلک المعاملات تعتبر من القرض بفائدۃ مشروطۃ فھی تندرج تحت ربا النسیئۃ المحرم بالنصوص الصحیحۃ والاجماع ولم یخالف فی حرمتھا مسلم قبلھا
وفی فقہ البیوع:(2/1063،معارف القرآن)
وحساب التوفیر حساب یعطی الحق لصاحب الحساب ان یسحب حداً معیناً من المبالغ المودعۃ فیہ ویعطی البنک علی ذلک فائدۃ ربویۃ بنسبۃ ادنی من النسبۃ التی تعطی لصاحب الودیعۃالثابتۃالتی تودع فیھا الاموال الی مدۃ معینۃ وتعطی البنوک لاصحابھا فائدۃ بنسبۃ اعلی، وکل واحد من الحسابین ربوی بحت ولایداع فی ھذین الحسابین حرام شرعاً لکونہ تعاقداً بالربوا
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(5/3745،3746،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/64،73،بیروت)
وکذافی الشامیہ:(7/307،413،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(18/158،فاروقیہ)
وکذافی الھندیہ:(3/400،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/12/2020/1442/5/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:62