اگر سرّی نماز میں امام اس انداز سے قرأت کرتا ہےکہ اس کے بالکل پیچھے کھڑے ہونے والے مقتدی کو اس کی قرأت سنائی دیتی ہےتو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نماز درست ہوگئی، البتہ امام کو آئندہ اس طرح قرأت کرنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔

لما فی الشامیة:(2/308،رشیدیہ)
قال في الخلاصة والخانية عن الجامع الصغير: إن الإمام إذا قرأ في صلاة المخافتة بحيث سمع رجل أو رجلان لا يكون جهرا، والجهر أن يسمع الكل اهـ أي كل الصف الأول لا كل المصلين: بدليل ما في القهستاني عن المسعودية إن جهر الإمام إسماع الصف الأول
وفی الفقہ الاسلامی و أدلتہ:(2/888،رشیدیہ)
قال الحنفية: أقل الجهر إسماع غيره ممن ليس بقربه كأهل الصف الأول، فلو سمع واحد أو اثنان لا يجزئ. وأقل المخافتة إسماع نفسه أو من بقربه من رجل أو رجلين
وکذافی التنویر مع شرحہ الدر المختار:(2/308،رشیدیہ)
وکذافی النھر الفائق:(1/229،قدیمی)
وکذافی البحر الرائق:(1/588،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/227،حقانیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/60،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/9/1442/2021/5/1
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر: 167

سانڈے کا تیل پاؤں پر لگا کراوپر پٹی باندھ لی جائے تو ایسی صورت میں وضو اور نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سانڈے کا تیل چونکہ نجس ہے اس لیے بلاضرورت شدیدہ اس کا استعمال جائز نہیں،البتہ اگر کوئی ماہر اور دین دار طبیب اسی کو بطور علاج تجویز کرئے اور کوئی دوسری دواء بھی اس کے قائم مقام نہ ہو تو بوجہ مجبوری اس کے استعمال کی گنجائش ہے۔
اب اگر یہ تیل پاؤں پر لگا کر اوپر پٹی باندھ لی جائےتو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر پاؤں دھونے میں حرج ہو توپٹی کے اوپر مسح کرنے کی گنجائش ہے ورنہ پاؤں دھونا ضروری ہے۔

لما فی الھندیة:(5/355،رشیدیہ)
يجوز للعليل شرب الدم والبول وأكل الميتة للتداوي إذا أخبره طبيب مسلم أن شفاءه فيه ولم يجد من المباح ما يقوم مقامه
وفی التاتارخانیہ:(18/200،فاروقیہ)
فان الاستشفاء بالمحرم انما لاتجوز اذا لم یعلم فیہ شفاء ما اذا علم فیہ شفاء ولیس لہ دواء اٰخر غیرہ یجوز الاستشفاء بہ
وفی المحیط البرھانی:(1/360،بیروت)
المسح على الجبائر إنما يجوز إذا كان لا يقدر علی المسح على القرحة كما كان لا يقدر على غسلها بأن كان يضرها الماء، أما إذا كان يقدرعلی المسح على القرحة فلا يجوز المسح على الجبائر
وکذافی التاتارخانیہ:(1/425،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/164،الطارق)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/502،رشیدیہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/50،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/35،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/146،حقانیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(40/80،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:51

ٹھوڑی اور نچلے ہونٹ کے درمیان داڑھی کےجو بال(ریش بچہ)ہیں، ان کو عام حالات میں کاٹنے کا اوراگر بہت بڑھے ہوئے ہوں کہ کھانے وغیرہ کے ساتھ لگتے ہوں تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ اگر بطورزینت کوئی کاٹے تو اس کی جماعت کروانے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر ریش بچہ بہت بڑھے ہوئے ہوں تو انہیں کاٹ کر درست کر لینا چاہیے البتہ عام حالات میں کاٹنا یا منڈوانا بدعت ہے،لہذایسے شخص کو مستقل امام بنانا مکروہ ہے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی:(4/203،رشیدیہ)
نتف الفنکین بدعۃ وھما جانبا العنفقۃ وھی شعر الشفۃ السفلی
وفی فیض القدیر:(1/256،بیروت)
ونقل النووی عن الامام الغزالی کراھۃ الاخذ من العنفقۃ
وفی فیض الباری علی صحیح البخاری:(6/99، رشیدیہ)
فان قطع الاشعار التی علی وسط الشفۃالسفلی ای العنفقۃ بدعۃ ویقال لھا”ریش بچہ
وکذافی عمدۃ القاری:(22/46،بیروت)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(422،المکتبةالبشری)
وکذافی الھندیہ:(5/358، رشیدیہ)
وکذافی التنویر:(2/355،بیروت)
وکذافی دلیل الفالحین:(3/577،دار الحدیث القاھرۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/202/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:63

اگر روڈ خالی ہو اور اشارہ میں رکنے کی علامت چل رہی ہو تو کیا اشارہ توڑ کر آگے جا سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اشارہ توڑ کر گزرنا چونکہ قانوناً جرم ہے ،لہذا شرعاً بھی ممنوع ہے۔

لما فی التفسیر المنیر:(3/134،امیر حمزہ)
تجب طاعۃ الامراء او السلطان فیما فیہ طاعۃ ولا تجب فیما کان للّٰہ فیہ معصیۃ
وفی الشامیہ:(5/422،سعید)
قولہ امر السلطان انما ینفذ ای یتبع ولا تجوز مخالفتہ. . . . . عن الحموی ان صاحب البحر ذکر ناقلا عن ائمتنا ان طاعۃ الامام فی غیر معصیۃ واجبۃ فلو امر بصوم یوم وجب
وکذافی البحر المحیط:(3/290،291،بیروت)
وکذافی التفسیر الکبیر:(4/112،113،علوم اسلامیہ)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(5/260،بیروت)
وکذافی الاکلیل علی مدارک التنزیل:(2/624،بیروت)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(8/6187،6190،6197،رشیدیہ)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/295،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/7/1442/2021/2/17
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:131

ایک آدمی نے رہائش کے لیے پلاٹ خریدا پھر بعد میں اس کی نیت بیچنے کی ہوئی تو زکوۃ کب سے ہو گی؟ جب سے نیت کی اس وقت سے یا بیچنے کے بعد؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں پلاٹ کی زکوۃ واجب نہیں ہے،البتہ پلاٹ کو بیچنے کے بعد حاصل ہونے والی رقم اگر بقدر نصاب ہو اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس رقم پر زکوۃ واجب ہو گی۔ اگر یہ شخص پہلے سے صاحب نصاب ہو تو دوسرے مال کے ساتھ اس رقم کی بھی زکوۃ ادا کرےگا۔

لما فی کتاب الفقہ:(1/516،حقانیہ)
ومنھاان ینوی التجارۃ وان تکون ھذہ النیۃ مصحوبۃ بعمل تجارۃ فعلا فلو اشتری حیوانا یستخدمہ ثم نوی ان یتجر فیہ لا یکون للتجارۃ الا اذا شرع فی بیعہ او تاجیرہ بالفعل
وفی بدائع الصنائع:(2/94،رشیدیہ)
ولو اشترى عروضا للبذلة والمهنة ثم نوى أن تكون للتجارة بعد ذلك لا تصير للتجارة ما لم يبعها فيكون بدلها للتجارة
وکذافی ملتقی الابحر:(1/291،المنار)
وکذافی مجمع لانھر: (1/291،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/165،بیروت)
وکذافی النتویر مع الدر المختار:(2/272،سعید)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/166،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1867،رشیدیہ)
وکذافی النھایة:(2/225،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/7/1442/2021/2/17
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 130

رشتہ ڈھونڈنے میں شرعاً کن امور کا خیال رکھا جائے ،کچھ رہنماء اصول بتلا دیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رشتہ تلاش کرتے وقت درج ذیل صفات والی عورت کا انتخاب کیا جائے:(1)عورت دیندار اور نیک سیرت ہو۔(2) اہل خانہ کی خوشی وغمی میں شریک ہونے والی ہو۔(3) پاکدامن،امانت دار،مہذب اور گھر کا نظام خوش اسلوبی سے چلانے والی ہو۔(4) بچوں کی اچھی تربیت اور ان سے محبت وشفقت کا برتاؤ کرنے والی ہو۔(5) شوہر سے انس و محبت کرنے والی اور زیادہ اولاد جننے والی ہو۔(6)تعلیم یافتہ اورسلیقہ مند ہو۔(7)باعزت اور اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہو۔

لما فی صحیح البخاری:(2/268،رحمانیہ)
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني سعيد بن أبي سعيد، عن أبيه، عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ” تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين، تربت يداك
وفی سنن ابن ماجہ:(249،رحمانیہ)
عن أبي أمامة، عن النبي – صلى الله عليه وسلم – أنه كان يقول: “ما استفاد المؤمن بعد تقوى الله، خيرا له من زوجة صالحة، إن أمرها أطاعته، وإن نظر إليها سرته، وإن أقسم عليها أبرته، وإن غاب عنها نصحته في نفسها وماله
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/275،276،رحمانیہ)
وکذافی سنن ابی داؤد:(1/296، رحمانیہ)
وکذافی سنن النسائی:(2/69،71، رحمانیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/274،التجاریة)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/2021/1442/9/7
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:111

کیا شریعت میں رات کو جھاڑو لگانے میں کوئی قباحت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیا

رات کو جھاڑو لگانے سےمتعلق شریعت مطہرہ میں کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی،بلکہ مطلقا نظافت اور صفائی ستھرائی کا حکم دیا ہے،وقت کی کوئی قید نہیں لگائی،لہذا رات کو جھاڑو لگانا جائز ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5330،رشیدیہ)
الاصل فی الاشیاء والافعال ولاقوال الاباحۃ
وفی الشامیة:(2/432،سعید)
والحاصل ان مقتضی القواعد الجواز ما لم یوجد نقل صریح بخلافہ تامل
وکذافی فتح الباری:(13/334،قدیمی)
وکذافی الموسوعة الفقہیة:(1/130،علوم اسلامیہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(6/52،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الاستذکار:(3/276،بیروت)
وکذافی فیض القدیر:(4/384،بیروت)
مشکوۃ المصابیح:(1/39،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/12/2020/1442/8/5
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 67

اگر با جماعت نماز میں غلطی ہوئی ،اب دوبارہ نماز پڑھ رہے ہیں تو اس کے لیے دوبارہ اقامت کہنی ہو گی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دوبارہ اقامت نہیں کہی جائے گی۔

لما فی الموسوعة الفقھیة:(6/14،علوم اسلامیہ)
تعاد الصلاة الفاسدة في الوقت بغير أذان ولا إقامة، وأما إن قضوها بعد الوقت قضوها في غير ذلك المسجد بأذان وإقامة
وفی الشامیة:(1/390،391،سعید)
قوم ذكروا فساد صلاة صلوها في المسجد في الوقت قضوها بجماعة فيه ولا يعيدون الأذان والإقامة، وإن قضوها بعد الوقت قضوها في غير ذلك المسجد بأذان وإقامة. اهـ. لكن سيأتي أن الإقامة تعاد لو طال الفصل
وکذافی البنایة فی شرح الھدایة:(2/121،رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/456، رشیدیة)
وکذافی الھندیة(1/55، رشیدیة)
وکذافی التنویر مع الدر المختار:(1/390،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/187، رشیدیة)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/101،بیروت)
وکذافی التاتارخانیہ:(2/151،فاروقیہ)
وکذافی الشامیہ:(1/390،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 54

ایک شخص کے پاس کئی سالوں سےڈھائی تولہ سوناموجود ہے(جو حلال رقم سے خریدا گیا تھا) اور کچھ نقدی موجود ہے،جو خالصتاً حرام ہے۔اب دو سالوں سے مزید30 ہزار حلال نقدی بھی موجود ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کس کس مال پر کتنےسالوں کی زکوۃ ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حرام مال پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی ،بلکہ اس تمام مال کوبغیرثواب کی نیت کے صدقہ کرنا ضروری ہے،البتہ حلال مال پر زکوۃ واجب ہو گئی ہے،چنانچہ جب اس کے پاس ڈھائی تولہ سونے کے علاوہ حلال مال بالکل نہ تھا تو نصاب پورا نہ ہونے کی وجہ سے اس پر زکوۃ لازم نہیں تھی،البتہ جب 30 ہزارحلال نقدی آ گئی تواب سونے اورنقدی دونوں کی قیمت اگر نصاب کو پہنچتی ہے تو ان دو سالوں کی زکوۃ لازم ہو گی۔

لما فی الموسوعة الفقیہ:(23/248،249،علوم اسلامیہ)
المال الحرم کالماخوذ غصباً او سرقۃ او رشوۃ او رباً او نحو ذلک لیس مملوکا لمن ھو بیدہ فلا تجب علیہ زکاتہ
وفیہ ایضا
قال الحنفیۃ لو کان المال الخبیث نصاباً لا یلزم من ھو بیدہ الزکاۃ لانہ یجب اخراجہ کلہ فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ
وفی الشامیة:(3/259،رشیدیہ)
من ملک اموالا غیر طیبۃ او غصب اموالا وخلطھا ملکھابالخلط ویصیر ضامناً وان لم یکن لہ سواھا نصاب فلا زکوۃ علیہ فیھا وان بلغت نصاباً
وفیہ ایضا
ولو کان الخبیث نصاباً لا یلزمہ الزکوۃلان الکل واجب التصدق فلا یفید ایجاب التصدق ببعضہ
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1994،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/233،159،184،فاروقیہ)
وکذافی منحة الخالق علی البحرالرائق :(2/359،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/357،365،الطارق)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/297،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر: 126

ایک آدمی نے نذر مانی کہ بیٹا پیدا ہوا تو حافظ قرآن بناؤں گا،اب بیٹا پیدا ہوا اور جوان ہو گیا،اب یہ آدمی کہتا ہے کہ حافظ قرآن نہیں بناتا تو کیا اس پر کوئی کفارہ لازم ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں کفارہ وغیرہ کچھ لازم نہیں،لیکن اللہ تعالی سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کرنا یقیناً خیر و برکت اور دنیوی واخروی سعادتوں کا ذریعہ ہو گا اور ایسے نیک وعدےکی خلاف ورزی بلا شبہ بڑی محرومی کی بات ہے۔

لما فی بدائع الصنائع:(4/228،رشیدیہ)
ومنها) أن يكون قربة مقصودة، فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد وغير ذلك وإن كانت قربا؛ لأنها ليست بقرب مقصودة
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2555،رشیدیہ)
أن يكون قربة مقصودة: فلا يصح النذر بعيادة المرضى وتشييع الجنائز والوضوء وتكفين الميت والاغتسال ودخول المسجد ومس المصحف والأذان وبناء الرباطات والمساجد ونحوها؛ لأن هذه الأمور، وإن كانت قُرَباً لله إلا أنها ليست قرباً مقصودة لذاتها عادة
وکذافی البحر الرائق:(4/498،رشیدیہ)
وکذافی منحة الخالق:(4/498، رشیدیہ)
وکذافی تنویر الابصار مع شرحہ:(3/736،سعید)
وکذافی الشامیہ:(3/736،سعید)
وکذافی مجمع الانھر:(2/274،المنار)
وکذافی المحیط البرھانی:(6/352،بیروت)
وکذافی النھر الفائق:(2/38،قدیمی)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(338،بشری)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر:24 فتوی نمبر: 49