کیا والدین بیٹی کی رضامندی کے بغیر محض اپنے فیصلے سے بیٹی کا نکاح کروا سکتے ہیں؟اگر کروا سکتے ہیں تو پھربخاری اور نسائی کی ان روایات کی کیا توجیہ ہو گی جن میں ہے کہ ایک باپ نے بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے خلاف کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارا نکاح فسخ کیے دیتے ہیں اور ایک روایت میں تو ہے کے فسخ کر دیا تھا۔

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کے لیے بالغہ بیٹی کا نکاح اس کی رضا مندی کے بغیر کروانا جائز نہیں ہے، اگر کروا دیا تو اس کی رضا پرموقوف ہو گا چاہے تو قبول کرے چاے رد کر دے۔بخاری شریف اور نسائی شریف کی روایات میں یہی مضمون بیان کیا گیا ہے، البتہ اگر نابالغہ ہے تو اس کا نکاح کروا سکتے ہیں۔

وفی الصحیح للبخاری :(2/277،رحمانیہ)
باب إذا زوج ابنته وهي كارهة فنكاحه مردود. . . . . حدثنا إسماعيل، قال: حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن أبيه، عن عبد الرحمن، ومجمع، ابني يزيد بن جارية، عن خنساء بنت خذام الأنصارية، أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد نكاحھا
وفی سنن النسائی:(2/504،رحمانیہ)
عن عبد الله بن بريدة، عن عائشة: أن فتاة دخلت عليها فقالت: إن أبي زوجني ابن أخيه ليرفع بي خسيسته وأنا كارهة، قالت: اجلسي حتى يأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته، ” فأرسل إلى أبيها فدعاه، فجعل الأمر إليها، فقالت: يا رسول الله، قد أجزت ما صنع أبي، ولكن أردت أن أعلم أللنساء من الأمر شيء
وفی الفتاوی الھندیہ:(1/287،رشیدیہ)
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل
لما فی البحر الرائق:(3/194،رشیدیہ)
ولا تجبر بکر بالغۃ علی النکاح ای لا ینفذ عقد الولی علیھا بغیر رضاھا عندنا
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/335،رشیدیہ) وکذافی البدائع:(2/505،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(2/62،الطارق) وکذافی الھدایة:(2/294،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(4/91،115،فاروقیہ) وکذافی الھندیة:(1/283،رشیدیہ)
وکذافی اعلاء السنن:(11/67،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر :23 فتوی نمبر:49

ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں،والدین وفات پا گے ہیں والدین کی طرف سے میراث میں ملنے والی زمین بھائیوں نے آپس میں تقسیم کر لی اور بہنوں کو کچھ نہ دیا،بہنوں سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے حصہ کیوں نہیں لیا تو جواباً انہوں نے کہا کہ ہم نےمعاف کر دیا ۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ بہنوں کہ اس طرح معاف کرنے سے ان کا حق معاف ہو جائے گا؟ یا زمین ان کے نام کردینے کے بعد ان کا معاف کرنا معتبر ہو گا

الجواب حامداً ومصلیاً

بہنوں کو وراثت سے محروم کرنا بدترین گناہ ہے،آج کل یہ قبیح رسم چل پڑی ہے کہ بہنوں کو حصہ نہیں دیا جاتا اور ان کے مطالبہ کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے،اس لیے عموماً بہنیں رواج سے مجبور ہو کریا بھائیوں کی قطع تعلقی کے خوف سے کہہ دیتی ہیں کہ ہم نے معاف کر دیا حالانکہ ان کی دلی رضا مندی نہیں ہوتی،اس لیے میراث تقسیم کر کے بہنوں کو ان کا حصہ سپرد کر دیا جائے پھر وہ چاہیں تو اپنی خوشی سے واپس کر دیں۔

لما فی القرآن الکریم:(النسآء،11)
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ
وفی الصحیح لمسلم:(2/32،الحسن)
عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي، عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين
وفی الاشباہ والنظائر:(2/388،ادراة القرآن)
لو قال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ اذا الملک لا یبطل بالترک
وکذافی صحیح البخاری:(1/332،قدیمی)
وکذافی مشکوة المصابیح:(1/272،261،رحمانیہ)
وکذافی شعب الایمان:(6/224،بیروت)
وکذافی الاکلیل علی مدراک التنزیل وحقائق التاویل:(2/539،بیروت)
وکذافی نظم الدرر:(2/220،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/149،التجاریہ)
وکذافی شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر:(2/388،389،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:33

جسم کے ایک حصے کے بال نکلوا کر دوسرےحصے میں لگواناشرعاً کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایک انسان کے بال دوسرے انسان کو لگاناجائز نہیں ہے،البتہ اگر اپنے ہی جسم کےکسی حصے سے اتار کر دوسرے حصے پر لگائے جائیں تو گنجائش ہے۔

لما فی الدر المختار:(1/401،رشیدیہ)
المنفصل من الحی کمیتتہ الا فی حق صاحبہ فطاھر
وفی الموسوعة الفقھیه:(26/102،علوم اسلامیہ)
واتفق الفقھاء علی عدم جوازالانتفاع بشعر الاٰدمی بیعا واستعمالا
وفی البحر الرائق:(1/192،رشیدیہ)
وان قطعت اذنہ قال ابو یوسف لاباس بان یعیدھا الی مکانھا
وکذافی مجمع الانھر:(3/85،مکتبة المنار)
وکذافی الفتاوی الھندیہ:(3/115،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/334،بیروت)
وکذافی البدائع الصنائع:(4/316،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/365،الطارق)
وکذافی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/281،283،معارف القراٰن)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:69

میت کو دفن کرنے کے بعد میت کے گھر والے کھانے کا انتظام کرتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟ اسکا کھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پہلے دن اہل میت کے قرابت داروں اور اہل محلہ پر حق ہے کہ وہ کھانے وغیرہ کانظم کریں اور عام طور پر ہوتا بھی ایسے ہی ہے،اس طرح کی سہولت کے ہوتے ہوئےاگر اہل میت خود اصرار کریں کہ ہم خود کھانے کا انتظام کریں گےتو مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہو گا،البتہ اگر میت کے گھر دور دراز سے مہمان آئے ہوئے ہوں اور دوسرے اقرباء کی طرف سے کھانے کا انتظام نہ ہو تو میت کے گھر والے ان کے لیے کھانے کا انتظام کر سکتے ہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1578،رشیدیہ)
أما صنع أهل البيت طعاماً للناس، فمكروه وبدعة لا أصل لها؛ لأن فيه زيادة على مصيبتهم، وشغلاً لهم إلى شغلهم، وتشبهاً بصنع أهل الجاهلية. وإن كان في الورثة قاصر دون البلوغ، فيحرم إعداد الطعام وتقديمه. . . . وان دعت الحاجۃ ذلك، جاز، فإنه ربما جاءهم من يحضر ميتهم من القرى والأماكن البعيدة، ويبيت عندهم ولا يمكنهم إلا أن يضيفوه
وفی الموسو عة الفقھیة:(12/290،علوم اسلامیہ)
ویکرہ ان یضع اہل المیت طعاما للناس لان فیہ زیادۃ علی مصیبتھم وشغلا علی شغلھم وتشبھاباہل الجاہلیۃ
وفی مجمع الأ نھر:(1/288،المکتبة المنار)
ویستحب لجیران اہل المیت والأقرباء تھیئۃ الطعام لھم بشبعھم یومھم ولیلتھم
وکذافی حاشیة تبیین الحقائق للشیخ الشلبی:(1/246،امدادیہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیہ:(4/81،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/246،امدادیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(3/95،فاروقیہ)
وکذافی فتح القدیر:(2/151،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/168،رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(2/240،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1442/2021/1/31
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:70

الکوحل ملے پرفیوم کا کیا حکم ہے؟اس کو لگانے سے نماز میں کوئی حرج واقع ہو گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پرفیومز میں استعمال ہونے والا الکوحل اگرکھجور یا انگور سے کشید کیاگیا ہوتو وہ ناپاک ہے اور ایسے پرفیومزکااستعمال کرنا درست نہیں ہے،اور اگر الکوحل گندم،جُواور پیٹرول سے حاصل کیا گیاہو(آج کل عموماً یہی ہوتا ہے) تو وہ پاک ہے اور اس کا استعمال جائز ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(7/5493، رشیدیہ)
نبیذ العسل والتین والبر والذرۃ یحل سواء طبخ او لا
وفی تکملة فتح الملھم:(1/551،دارالعلوم کراتشی)
والظاھر ان معظم الکحول لا تصنع من عنب ولا ثمر فینبغی ان یجوز بیعھا لاغراض مشروعۃ فی قول علماء الحنفیۃ جمیعاً
وکذافی الھندیہ:(5/414،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الشرح:(10/40،رشیدیہ)
وکذافی فتح القدیر:(10/118،رشیدیہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/402،رشیدیہ)
وکذافی التاتار خانیہ:(8 1/433،فاروقیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/292،294،معارف القراٰن)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(3/608،دارالعلوم کراتشی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/2020/1442/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:64

ایک مذبح خانے میں روزانہ 100 جانور ذبح ہوتے ہیں۔ان کا بہت سارا خون جمع ہو جاتا ہے،اس خون میں پانی،مذبح خانے کی گندگی،گوبر اورآلائشیں وغیرہ بھی ڈال دی جاتی ہیں۔کیا اس خون کی اس طرح خرید وفروخت جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

خالص خون کی خرید و فروخت جائز نہیں ،البتہ اس کے ساتھ پانی اور دیگر آلائشیں وغیرہ کثیر مقدار میں مل جائیں تو پھر جائز ہے۔

لما فی الفتاوی الھندیہ:(3/116،رشیدیہ)
واما العذرۃ ولا یجوز الانتفاع بھا ما لم تختلط با لتراب ویکون التراب غالباً وکذا بیع العذرۃ لا یجوز ما لم تختلط بالتراب ویکون التراب غالباً
وفی التنویر مع الشرح:(9/634، رشیدیہ)
کرہ بیع الذرۃ ) رجیع الٰادمی(خالصۃلا)یکرہ بل یصح بیع(السرقین)ای الزبل(خلافا للشافعی(وصح)بیعھا (مخلوطۃبتراب او رماد غلب علیھا)
وکذافی الھدایة:(4/472،رحمانیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/326، رشیدیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(23/214،علوم اسلامیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(21/25،علوم اسلامیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/308،311،312 ،معارف القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/12/2020/1442/5/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:61

یورپین ممالک میں ہوٹل پر، جہاں حلال و حرام سب پکتا ہے،وہاں ملازمت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مغربی ممالک کے ہوٹلوں میں اگر غیر شرعی امور سر انجام دینے پڑتے ہوں،مثلاًخنزیر،مردار اور شراب وغیرہ بنانا یا پیش کرنا،توان ہوٹلوں میں ملازمت جائز نہیں ہے،ورنہ جائز ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدة:2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/429،قدیمی کتب خانہ کراچی)
وقوله تعالى:(ولا تعاونوا على الإثم والعدوان)نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى
وفی جامع الترمذی:(1/374،رحمانیة لاھور)
عن أنس بن مالك قال: ” لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له
وکذافی تفسیر المظھری:(2/268،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/418،امیر حمزہ افغانستان)
وکذافی تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر:(2/7،دار المعرفة بیروت)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
19/7/1442/2021/3/4
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:190

میرے تایا ابو ہمارے گاؤں کے نمبردار تھے۔ان کے انتقال کے بعد میرے والد صاحب نمبرداری کے امیدوار ہیں اور وہاں کے لوگ بھی چاہتے ہیں کہ وہ نمبرداری سنبھال لیں۔اس نمبرداری کے ساتھ تقریباً12ایکڑ زمین بھی ان کو ملے گی۔والد صاحب کے لیے اس نمبرداری اور زمین کا لینا شرعاً کیسا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

عوامی خدمت کے جتنے بھی شعبے ہیں ان کو اس نیت و جذبہ سے لینا کہ اس کے ذریعہ سے مخلوقِ خدا کی خدمت کروں اور اس منصب کے واسطے سے مخلوقِ خدا کو خدا کے ساتھ جوڑوں نہ صرف یہ کہ جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔
نمبرداری بلاشبہ ایسے ہی مناصب میں سے ہے جس کے ذریعہ مخلوقِ خدا کی دنیوی اور دینی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے،لہٰذا اس جذبے سے سرشار اور اس منصب کے اہلیت کے حامل کے لیے اسے قبول کرنا بلاشبہ جائز بلکہ کارِ ثواب ہوگا اور اس منصب کے بدلے میں ملنے والی اراضی اور دیگر مراعات حاصل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(یوسف:55)
قَالَ اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ.
وفی الجامع لاحکام القرآن:(9/216،دار احیاء التراث العربی بیروت)
قوله تعالی:(اجعلني على خزائن الأرض)…….ودلت الآية أيضا على جواز أن يخطب الإنسان عملا يكون له أهلا، فإن قيل: فقد روى مسلم عن عبد الرحمن بن سمرة قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:”يا عبد الرحمن لا تسأل الإمارة فإنك إن أعطيتها عن مسألة وكلت إليها وإن أعطيتها عن غير مسألة أعنت عليها”……..فالجواب: أولا- أن يوسف عليه السلام إنما طلب الولاية لأنه علم أنه لا أحد يقوم مقامه في العدل والإصلاح وتوصيل الفقراء إلى حقوقهم فرأى أن ذلك فرض متعين عليه فإنه لم يكن هناك غيره، وهكذا الحكم اليوم، لو علم إنسان من نفسه أنه يقوم بالحق في القضاء أو الحسبة ولم يكن هناك من يصلح ولا يقوم مقامه لتعين ذلك عليه، ووجب أن يتولاها ويسأل ذلك، ويخبر بصفاته التي يستحقها به من العلم والكفاية وغير ذلك، كما قال يوسف عليه السلام، فأما لو كان هناك من يقوم بها ويصلح لها وعلم بذلك فالأولى ألا يطلب، لقوله عليه السلام لعبد الرحمن:” لا تسأل الإمارة
وفی اعلاء السنن:(15/47،اداة القرآن والعلوم الاسلامیة کراچی)
ان طلب الامارۃ والقضاء من حیث الامارۃ والحکومۃ لحب المال والریاسۃ والشرف منہی عنہ مطلقا سواء کان بالقلب وحدہ او باللسان ایضا لکونہ من ناحیۃ الدنیا لا الدین ،واما طلبھا لا من حیث الامارۃ ،بل ارادۃ الاصلاح بین الناس واقامۃ العدل فیہم والقضاء بالحق لما فی العدل من الاجر الجزیل فلیس بمنہی عنہ لا بالقلب ولا باللسان
وکذافیه ایضاً:(15/76، اداة القرآن والعلوم الاسلامیة کراچی)
وکذافی کنز العمال:(5/324، رحمانیة لاھور)
وکذافی صحیح البخاری:(2/602،رحمانیة لاھور)
وکذافی تفسیر المظھری:(4/36،رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/7/1442/2021/2/23
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:91

اگر کوئی شخص نماز میں “صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم “پڑھ لے تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اگر کوئی شخص نماز میں پیارے آقا ﷺکا نام سنے اور بطورِ جواب درود شریف پڑھ لے تو نماز فاسد ہو جائے گی اور اگر ویسے ہی، نماز میں کوئی شخص درود شریف پڑھ لے تو نماز فاسد نہ ہوگی۔

لما فی الھندیة:(199/،رشیدیة کوئٹہ)
ولو قال: اللهم صل على محمد، أو قال: الله أكبر لا تفسد صلاته بالإجماع إن لم يرد به الجواب أما إذا أراد الجواب قال بعضهم: تفسد صلاته عند الكل وهو الظاهر.ولو صلى على النبي – صلى الله عليه وسلم – في الصلاة إن لم يكن جوابا لغيره لا تفسد صلاته وإن سمع اسم النبي – صلى الله عليه وسلم – فقال جوابا له تفسد صلاته
وفی البحر الرائق:(2/9، رشیدیة کوئٹہ)
إذا سمع اسم النبي – صلى الله عليه وسلم – فصلى عليه فهذا إجابة فتفسد وإن صلى عليه ولم يسمع اسمه لا تفسد
وکذافی الدر المنتقی:(1/180،المنار کوئٹہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/157،امدادیة ملتان)
وکذافی النھر الفائق:(1/269،قدیمی کتب خانہ کراچی)
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/122.123، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/137، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الدر المختار:(1/623،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)

 

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:110

نذر کی چیز میں تبدیلی ہو سکتی ہے ؟مثلاً ایک دیگ چاول پکانے کی نذر مانی،اب اس کی جگہ روپے دے سکتا ہے؟جبکہ دیگ کے معیار اور مقدار کے اعتبار سے قیمتوں میں کافی تفاوت ہے۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جی ہاں!نذر کی چیز میں تبدیلی ہو سکتی ہےاور نذر مانتے وقت چیز کی جتنی مقدار اور جیسے معیار کی نیت تھی اس کے بقدر یا اس سے بہتر قیمت ادا کرےاور اگر کچھ نیت نہ تھی تو درمیانے درجے کا اعتبار ہو گا،البتہ اعلیٰ درجے کے مطابق ادائیگی بہتر اورافضل ہے۔

لما فی خلاصة الفتاویٰ:(2/129،رشیدیة کوئٹہ)
ولو قال للّٰہ علی ان اذبح جذور واتصدق بلحمہ فذبح مکانہ سبع شیاہ جاز
وفی حاشیة فتاوی النوازل:(243،حقانیة پشاور)
قال الحنفیۃ:النذر المطلق لا یتقید بزمان ولا مکان ولا دراھم ولا فقیر،فاذا نذر ان یتصدق یوم الجمعۃ بھذا الدرھم علی فلان فتصدق یوم الخمیس او یوم السبت بغیر ھذا الدرھم علی شخص اٰخر جاز……اما النذر المعلق فانہ یتعین فیہ الوقت فقط،اما تعیین الفقیر والدرھم والمکان فلیس بلازم
وفی المحیط البرھانی:(6/357،دار احیاء التراث العربی بیروت)
اذا نذر بھدی شاۃ بعینھا،فاھدی مثلھا اجزأہ،وکذلک اذا نذر بعتق عبد بعینہ،فاعتق مثلہ اجزأہ،وھذا قول ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ…..وفی البقالی عن ابی یوسف ومحمد رحمھما اللّٰہ تعالیٰ:انہ یجوز مثلہ او افضل منہ،وفیہ ایضاً انہ لا یجوز مطلقاً
وکذافی الھندیة:(2/66، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(244، حقانیة پشاور)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(2/16، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/271، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی تنویر الابصار:(3/740،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی در المختار:(2/340، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:127