زید نے عشاء کی نماز میں سراً قراءت شروع کی”الرحمن الرحیم”کے بعد یاد آنے پر جہراً قراءت کی پھر سجدہ سہو بھی نہیں کیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صحیح قول کے مطابق سری نمازوں میں جہراً یا جہری نمازوں میں سرا 30 حروف(بشمول حروف محذوفہ) قرا ءت کرنے سے سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے اور سجدہ سہو چھوٹ جانے پر نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ”الرحیم” تک سراً قراءت کی ہے جو کہ 30 حروف سے زائد ہے، اس لیے سجدہ سہو لازم تھا جو کہ ترک کر دیا لہذا نماز واجب الاعادہ ہے۔

لما فی البناية شرح الهداية:(2/737،رشیدیہ)
اختلفت الرواية عن أصحابنا في مقدار ما يتعلق به السهو من الجهر فيما يخفى، والإخفاء فيما يجهر، فذكر الحاكم الخليل عن ابن سماعة عن محمد أنه قال: إذا جهر بأكثر الفاتحة يسجد ثم رجع فقال إذا جهر مقدار ما يجوز به الصلاة تجب وإلا فلا
وفی الھندیة:(1/128،رشیدیہ)
ومنها الجهر والإخفاءحتى لو جهر فيما يخافت أو خافت فيما يجهر وجب عليه سجود السهو واختلفوا في مقدار ما يجب به السهو منهما قيل: يعتبر في الفصلين بقدر ما تجوز به الصلاة وهو الأصح ولا فرق بين الفاتحة وغيرها
وفی التنویر مع الشرح:(1/458،سعید)
وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو” ثم نظر ثم عبس وبسر ثم أدبر واستكبر ” (المدثر) وكذا لو كانت الآية أو الآيتان تعدل ثلاثا قصارا
وفی الشامیة:(1/458،سعید)
قوله تعدل ثلاثا قصارا) أي مثل – {ثم نظر} [المدثر: 21]- إلخ وهي ثلاثون حرفا، فلو قرأ آية طويلة قدر ثلاثين حرفا يكون قد أتى بقدر ثلاث آيات
وفی المحیط البرھانی:(2/312،بیروت)
وذکر ابن سماعۃ عن محمد رحمہ اللہ تعالی فیما اذا جہر فیما یخافت او خافت فیما یجھر انہ اذا فعل ذلک مقدار ما تجوز بہ الصلاۃ من فاتحۃ الکتاب او غیرہا فعلیہ السہو وما لا فلا
وکذافی التاتارخانیة:(2/395،فاروقیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/283،الطارق)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/388،المکتبة الحقانیہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/170،رشیدیہ)
وکذافی التجرید:(2/707، 708،محمودیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(24/238،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1109،رشیدیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/175، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/194،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/3/2021/1442/7/18
جلد نمبر: 23 فتوی نمبر: 99

جمہوریت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جمہوریت کی حمایت کرنا اور اس کے قیام کے لیے کوشش کرنا کیسا ہے؟ اگر کوئی شخص جمہوریت کا انکار کرے اور اسے غیر اسلامی نظام حکومت قرار دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ نظام اسلام کے نظام خلافت کی نئی شکل ہے یا اس کے مخالف اسلام دشمن طاقتوں کا مسلط کردہ نظام ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

موجودہ جمہوری نظام اگرچہ اسلام دشمن طاقتوں کا مسلط کیا ہوا ہے مگر اسے دور دور سے برا بھلا کہتے رہنا اور اس کی اصلا ح کے لیے اقدام نہ کرنا کوئی عقل مندی نہیں،بلکہ مسلمانوں کا من حیث القوم اس نظام سے بالکل الگ ہو جانا اور اس کی اصلا ح کے لیے تگ ودو نہ کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہے،لہذا ایک خالص اسلامی نظام کے قیام کے لیےضروری ہے کہ موجودہ نظام میں شمولیت اختیار کی جائے اور اس کے ساتھ چلتے ہوئے اسے اسلامی بنیادوں پر لانے کی سعی بلیغ کی جائے اور اس مقصد کے لیے کوشش کرنے والے علماء حق کا ساتھ دیا جائے ،چنانچہ اس سے متعلق اپنے اکابر کی چند عبارات پیش خدمت ہیں۔
فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمودحسن گنگوہی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :
” آج کل جمہوریت کا مفہوم یہ ہے کہ ہر بالغ مرد وعورت خواندہ یا نا خواندہ عاقل کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہو اور ان کے ووٹوں کی اکثریت سے سربراہ حکمران تجویز کیا جاتا ہو، اسلام میں اس جمہوریت کا کہیں وجود نہیں ،نہ کوئی سلیم العقل اس کے اندر خیر کا تصور کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اکثر نادانوں اور جاہلوں کی ہے وہ لوگ ایسے ہی شخص کو ووٹ دیں گے جن کے ذریعے ان کی خواہشات پوری ہونے کی توقع ہو اور یقین ہے کہ ان کی خواہشات میں خیر غالب نہیں بلکہ شر غالب ہے تو شر پھیلانے والے کا انتخاب کون سی عقل کی بات ہے۔“ (فتاوی محمودیہ:4/602،ادارة الفاروق کراچی)
شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی مد ظلہ فرماتے ہیں:
”مغربی جمہوریت جس کی بنیاد”عوام کی حکمرانی“ کے تصور پر ہے اسلام کے قطعی خلاف ہے ،کیونکہ اسلام کی بنیاد”اللہ کی حاکمیت اعلی“ کے عقیدے پر ہے جسے قرآن کریم نے”ان الحکم الا للہ” کے مختصر جملے میں ارشاد فرمایاہے،لہذا مغربی جمہوریت کو اپنے تمام تصورات کے ساتھ برحق سمجھنا عہد حاضر کی بد ترین گمراہیوں میں سے ہے اور ایسے لوگوں کو شرعی طو ر پر گمراہ کہا جائے گا اور اگر کوئی شخص اس تفصیل کے ساتھ مغربی جمہوریت کو بر حق سمجھے کہ پارلیمنٹ اگر کوئی قانون قرآن کریم کے کسی صریح حکم کے خلاف نافذ کر دے تو(معاذاللہ)پارلیمنٹ کا قانون ہی بر حق ہو گا تو ایسا اعتقاد کفر ہے،لیکن اگر کوئی شخص پارلیمنٹ کے فیصلوں کوقرآن وسنت کے تابع قرار دے تو اس کو کفر یا گمراہی نہیں کہ سکتے،مگر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ مغربی جمہوریت کو جوں کا توں قبول نہیں کرتا۔“ (فتاوی عثمانی:3/507،معارف القرآن کراچی)
شیخ الاسلام مفتی محمدتقی عثمانی مد ظلہ مزید فرماتے ہیں:
”پہلی غلط فہمی تو سیدھے سادھےلوگوں میں اپنی طبعی شرافت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس کا منشاء اتنا برا نہیں ،لیکن نتائج بہت برے ہیں۔وہ غلط فہمی یہ ہے کہ آج کی سیاست مکروفریب کا دوسرا نام بن چکی ہے اس لیے شریف آدمیوں کو نہ سیاست میں کوئی حصہ لینا چاہیے نہ الیکشن میں کھڑا ہونا چاہیے اور نہ ووٹ ڈالنے کے خرخشے میں پڑنا چاہیے۔
یہ غلط فہمی خواہ کتنی نیک نیتی کےساتھ پیدا ہوئی ہو، لیکن بہر حال غلط ہےاور ملک و ملت کے لیے سخت مضر ہے۔ ماضی میں ہماری سیاست بلا شبہ مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں گندگی کا ایک تالاب بن چکی ہے،لیکن جب تک کچھ صاف ستھرے لوگ اسے پاک کرنےکے لیے آگے نہیں بڑھیں گے اس گندگی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا اور پھر ایک نہ ایک دن یہ نجاست خود ان کے گھروں تک پہنچ کر رہے گی ،لہذا عقل مندی اور شرافت کا تقاضا یہ نہیں ہے کہ سیاست کی اس گندگی کو دور دور سے برا کہا جاتا رہے،بلکہ عقل مندی کا تقاضا یہ ہے کہ سیاست کے میدان کو ان لوگوں کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کی جائے جو مسلسل اس کو گندا کر رہے ہیں. . . . یوں بھی سوچنے کی بات ہے کہ شریف دیندار اور معتدل مزاج کے لوگ انتخابات کے تمام معاملات سے بالکل یکسو ہو کر بیٹھ جائیں تو اس کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ پورا میدان شریروں ،فتنہ پردازوں اور بے دین افراد کے ہاتھوں میں سونپ رہے ہیں۔ ایسی صورت میں کبھی بھی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ حکومت نیک اور اہلیت رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں آئے۔اگر دین دار لوگ سیاست سے اتنے بے تعلق ہو کر رہ جائیں تو پھر انہیں ملک کی دینی اور اخلاقی تباہی کا شکوہ کرنے کا کوئی بھی حق نہیں پہنچتا۔ “ (فقہی مقالات:2/288،290،میمن اسلامک پبلشرز)
ان مذکورہ عبارات سے معلوم ہوا کہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے موجودہ جمہوری سیاست میں حصہ لینا اور اس مقصد کے لیے جدوجہد کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/3/2021/1442/7/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:1

ہمارے ہاں نظر بد کا ایک ٹوٹکا بہت مشہور ہے اور مجرب بھی ہے۔وہ یہ ہے کہ جس بچہ کو نظر بد لگی ہو اس کو لِٹا کر سات سرخ مرچیں اس بچہ پر گھما کر آگ میں ڈال دی جاتی ہیں ،اس سے نظر بد اتر جاتی ہے۔کیا یہ ٹوٹکا استعمال کرنا درست ہے؟ اور اس کے استعمال کرنے میں شرعا کوئی قباحت تو نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نظر بد سے بچنے کے لیے احادیث مبارکہ میں مختلف اذکار موجود ہیں، مثلا اس دعا کا اہتمام کیا جائے:”اعوذبکلمات اللّٰہ التامۃ من کل شیطان و ھامۃ ومن کل عین لامۃ”
مذکورہ قسم کے ٹوٹکے استعمال کرنے سے بچنا چاہیے، کیونکہ عمومًا ان کو مؤثر حقیقی سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے جو کہ سراسر بداعتقادی اور ناجائز ہے۔تاہم اگر ان کو محض سبب کے طور پر اختیار کیا جائے اور اس بات کا اعتقاد رکھا جائے کہ حقیقتا شفاء دینے والی ذات اللہ تعالی ہی کی ہے تو پھر استعمال کی گنجائش ہے۔

لما فی صحیح البخاری:(2/376،رحمانیہ)
حدثنا محمد بن كثير، أخبرنا سفيان، قال: حدثني معبد بن خالد، قال: سمعت عبد اللّٰه بن شداد، عن عائشة، رضي اللّٰه عنها قالت: «أمرني رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أو أمر أن يسترقى من العين »
وفیہ ایضا
حدثني محمد بن خالد، حدثنا محمد بن وهب بن عطية الدمشقي، حدثنا محمد بن حرب، حدثنا محمد بن الوليد الزبيدي، أخبرنا الزهري، عن عروة بن الزبير، عن زينب ابنة أبي سلمة، عن أم سلمة، رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى في بيتها جارية في وجهها سفعة، فقال: «استرقوا لها، فإن بها النظرة»
وفی الشامیہ:(6/364،سعید)
وفيها لا بأس بوضع الجماجم في الزرع والمبطخة لدفع ضرر العين، لأن العين حق تصيب المال، والآدمي والحيوان ويظهر أثره في ذلك عرف بالآثار فإذا نظر الناظر إلى الزرع يقع نظره أولا على الجماجم، لارتفاعها فنظره بعد ذلك إلى الحرث لا يضره
وکذافی فتح الباری:(10/240،قدیمی) وکذافی السنن الکبری للبیھقی:(6/228،دارالکتب العلمیة)
وکذافی کنزالعمال:(4/15، رحمانیہ) وکذافی دلیل الفالحین:(3/330،دارالحدیث القاھرة)
وکذافی شرح معانی الٰاثار:(2/369، رحمانیہ) وکذافی عمل الیوم واللیلة للنسائی:(291،292،دار الباز)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/401،رحمانیہ) وکذافی مرقاة المصابیح:(8/318،304،التجاریہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/375،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/2021/1442/9/7
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:114

ایک آدمی جس کی داڑھی ایک قبضہ نہیں ہےاور اسے کترواتا ہے،اس کو دوسرا آدمی کہتا ہےکہ آپ داڑھی نہ کتروائیں مکمل رکھ لیں، وہ جوابا کہتا ہےکہ تیرے باپ کی داڑھی ہےجو میں رکھوں، اس کا جوابا اس طرح کہنا کیسا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایک مٹھی سے کم داڑھی رکھنا اورسمجھانے پر اس طرح کے کلمات کہنا سخت گناہ کا موجب ہے، اس طرح کی گستاخی بسا اوقات آدمی کو کفر تک لے جاتی ہے۔ والعیاذباللہ من ذلک

لما فی الھندیہ:(2/274،275،رشیدیہ)
رجل قال للامر بالمعروف ”چہغوغہ آمد”ان قال ذلک علی وجہ الرد ولانکار یخاف علیہ الکفر
وفیہ ایضا
اذا قال لاخرقل “لا الہ الا اللّٰہ “فقال لا اقول فقال بعض المشایخ ہو کفر وقال بعضھم ان عنی بہ انی لا اقول بامرک لا یکفر
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیہ:(6/328،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیہ:(7/284،فاروقیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/506،507،مکتبة المنار)
وکذافی البحر الرائق:(5/206،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار:( 4/222،سعید)
وکذافی شرح الفقہ الاکبر:(254،قدیمی)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامدیہ:(1/589،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:16

میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد اس کو کلمہ کی تلقین کرنا کیسا ہے؟ اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

حدیث مبارکہ میں ہے”لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ”اس حدیث مبارکہ کی تشریح میں علماء اہل سنت کے دو قول ہیں۔بعض علماء نے اس کا حقیقی معنی مراد لیتے ہوئے فرمایا کہ تلقین بعد الدفن مستحب ہے،لیکن بعض علماء فرماتے ہیں کے یہاں حقیقی معنی متروک ہے اور مجازی معنی مراد ہے، لہذا حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نزع کی حالت میں ہو اس کو کلمہ کی تلقین کی جائے۔”اعلاء السنن “میں مولانا ظفر احمد عثمانی علیہ الرحمہ دونوں قولوں میں محاکمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تلقین بعد الدفن فی نفسہ مستحب ہے،لیکن موجودہ دور میں چونکہ یہ روافض کا شعار بن چکاہے، اس لیے اب اسے ترک کر دینا افضل ہے۔

لما فی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(560،قدیمی)
وتلقينه” بعد ما وضع “في القبر مشروع” لحقيقة قوله صلى الله عليه وسلم: “لقنوا موتاكم شهادة أن لا إله إلا اللّٰه” أخرجه الجماعة إلا البخاري ونسب إلى أهل السنة والجماعة “وقيل لا يلقن في القبر ونسب إلى المعتزلة “وقيل لا يؤمر به ولا ينهى عنه” وكيفيته أن يقال: يا فلان أين فلان أذكر دينك الذي كنت عليه في دار الدنيا بشهادة أن لا إلهإلا الله وأن محمدا رسول الله” ولاشك أن اللفظ لا يجوز إخراجه عن حقيقته إلا بدليل تعيبنه يقول “موتاكم” حقيقة ونفى صاحب الكافي فائدته مطلقا ممنوع نعم الفائدة الأصلية منفية ويحتاج إليه لتثبيت الجنان للسؤال في القبر قال المحقق ابن الهمام: وحمل أكثر مشايخنا إياه على المجاز – أي من قرب من الموت – مبناه على أن الميت لا يسمع عندهم
وفی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/363،رشیدیہ)
قولہ:(ولایلقن) ای لا یؤمر بہ وان فعل لا ینھی عنہ قال فی النھر الفائق وختلفوا فی تلقینہ بعد الموت فقیل یلقن لظاھر قولہ علیہ الصلاة والسلام لقنوا موتاكم شهادة أن لا إله إلا الله وقیل لا یلقن وھو ظاھر الرویة اذا المراد بموتاکم فی الحدیث من قرب من الموت
وفی اعلاء السنن:(8/211،ادارة القرآن)
قال فی شرح المنیة وانما لا ینھی عن التلقین بعد الدفن لانہ لا ضرر فیہ بل فیہ نفع فان المیت لیستانس بالذکر علی ما ورد فی الاثار،وبالجملة فالتلقین بعد الدفن یستحب فی نفسہ لورودہ بصیغة الامر فی الحدیث ولکن الآن قد صار شعار الروافض وترکہ اہل السنة ففیہ خوف التھمة فلا یلقن فانہ ﷺ قال اتقوا مواضع التھم. . . . . نعم یستحسن الآن ایضا اذا امن التھمة
وکذا فی الجوھرة النیرة:(1/252،قدیمی)
وکذافی فتح القدیر:(2/105،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/191،سعید)
وکذافی الشامیہ:(2/191،سعید)
وکذافی مجمع الانھر:(1/264،المنار)
وکذافی النھر الفائق:(1/380،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:42

پینٹ اور شرٹ پہننے کا کیا حکم ہے؟ نیز کالر اورکف والی قمیص پہننے کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ایسا لباس صلحاء اور نیک لوگوں کا شعار نہیں ہے لہذا اس کا پہننا مناسب نہیں ہے،البتہ اگر پینٹ اتنی چست اور تنگ ہو کہ اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظرآتاہو تو اسکا استعمال جائز نہیں۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(4/88،دارالعلوم کراتشی)
فکل لباس ینکشف معہ جزء من عورتہ الرجل والمراۃ لاتقرہ الشریعۃ الاسلامیۃ مھما کان جمیلا او موافقا لدورالازیاء وکذلک اللباس الرقیق اواللاصق بالجسم الذی یحکی للناظرشکل حصۃ من الجسم الذی یجب سترہ فھوفی حکم ما ھوسبق فی الحرمۃ وعدم الجواز
وفی الموسوعة الفقھیة: (6/136،137،علوم اسلامیہ)
اما ما کان رقیقا یستر العورة ولکنہ یصف حجمھا حتی یری شکل العضو فانہ مکروہ
وفیہ ایضا
ویکرہ زی اھل الشرک لحدیث ابن عمر مرفوعا”من تشبہ بقوم فھو منھم
وکذا فی الشامیہ:(/366،سعید)
مفادہ ان رویةالثوب بحیث یصف حجم العضو ممنوعة … وعلی ھذا لا یحل النظر الی عورۃ غیرہ فوق ثوب ملتزق بھا یصف حجمھا
وکذافی فیض القدیر:(6/135،بیروت)
وکذافی بذل المجھود فی حل ابی داود:(16/196،قدیمی)
وکذافی التعلیق الصبیح علی مشکوة المصابیح:(4/512،رشیدیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/155،المکتبة التجاریة)
وکذافی مشکوة المصابیح:(2/388،رحمانیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2020/12/19/3/5/1442
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:18

ایک بات بیان کی جاتی ہے کہ پل صراط کی مسافت 15 سو سال کی ہے،500 سال چڑھنے کی،500سال اترنے کی اور 500 سال کی درمیانی مسافت ہے۔کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟اگر ثابت ہے تو یہ روایت کون سی کتابوں میں ہے؟ تفصیلًا جواب عنایت فرمائیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

پل صراط کی مسافت کی متعین مقدار کسی صحیح حدیث سے تو ثابت نہیں ،بلکہ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسافت ہر آدمی کے اعمال کے اعتبار سے مختلف ہو گی،لہذا بعض لوگ اپنے ایمان و اعمال کی پختگی کی وجہ سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے اور ان کے لیے یہ مسافت لمحہ بھر کی ہو گی،بعض ہوا کی رفتار سے ،بعض گھوڑے کی رفتار سے گزر جائیں گے اور بعض اس کو پار نہیں کر سکیں گے اور وہ جہنم کا ایندھن بن جائیں گے۔

لما فی مجمع الزوائد:(10/472،بیروت)
عن عائشة قالت: «قلت: يا رسول الله، هل يذكر الحبيب حبيبه يوم القيامة. . . . .. ولجهنم جسر أرق من الشعرة، وأحد من السيف، عليه كلاليب وحسك، تأخذ من شاء الله، والناس عليه كالطرف، وكالبرق، وكالريح، وكأجاويد الخيل، والركاب، والملائكة يقولون: رب، سلم! سلم! فتموج: فسالم، ومخدوش سلم، ومكور في النار على وجهه»

البتہ بعض ضعیف روایات میں اس کی تحدید بھی کی گئی ہے،چنانہ ابن عساکر کی روایت میں 3 ہزار سال کی مسافت بیان کی گئی ہے: ایک ہزار سال اوپر چڑھنے کی ایک ہزار سال نیچے اترنے کی اور ایک ہزار سال درمیانی مسافت ہے،ایک اور رویت میں 15 ہزار سال کی مسافت بیان کی گئی ہے۔ لیکن محدثین نے ان سب روایات کو ضعیف و منکر قرار دیا ہے۔

وفی تاریخ دمشق لابن عساکر:(33/262،شاملہ)
عن الضحاك عن عبد الله بن عباس قال قال رسول الله (صلى الله عليه وسلم) إن لملك الموت حربة مسمومة طرف لها بالمشرق وطرف لها بالمغرب يقطع بها عرق الحياة والذي لا إله إلا هو والذي نفس محمد بيده والذي بعثني بالحق نبيا إن معالجته أشد من ألف ضربة بالسيف وألف نشرة بالمناشير وألف طبخة في القدور وإن الصراط مسيرة ثلاثة آلاف عام ألف طالع وألف نازل وألف استوى أدق من الشعر وأحد من السيف ثم قال والذي بعثني بالحق نبيا من أكرم عالما مات ولم يعلم وجاز الصراط ولم يعلم الصواب جويبر والحديث منكر
وفی مختصر تاریخ دمشق:(14/88،شاملہ)
وإمام خراسان بسنده إلى عبد الله بن عباس قال: قال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. . . . . .وإن الصراط مسيرة ثلاثة آلاف عام، ألف طالع وألف نازل وألف استواء، أدق من الشعر وأحد من السيف، ثم قال: والذي بعثني بالحق نبياً من أكرم عالماً مات ولم يعلم وجاز الصراط ولم يعلم قال الحافظ: الحديث منكر
وکذافی کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری:(9/321،شاملہ)
وکذافی تفسیر البغوی:(4/489،بیروت)
وکذافی الجامع لاحکام القرآن:(20/97،بیروت)
وکذافی عمدة القاری:(19/292،بیروت)
وکذافی تفسیر الخازن:(4/408،رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المظھری:(7/412،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/2021/1442/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:2

ایک شخص نے غصہ میں اپنی بیوی سے کہا ”اگر تجھ کو رکھوں تو اپنی ماں کو رکھوں“ اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

بعض فتاوی مثلًا فتاوی دارالعلوم کراچی (3/445،ادارۃ المعارف)،فتاوی دارالعلوم زکریا (4/229،زمزم) ،فتاوی حقانیہ(4/521،حقانیہ) اور فتاوی دارالعلوم دیوبند(9/184،دار الاشاعت) میں مذکور ہے کہ ان الفاظ سے طلاق و ظھاروغیرہ کچھ واقع نہ ہو گا،جبکہ احسن الفتاوی (5/404،سعید)میں مفتی رشید احمدصاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عرف میں یہ الفاظ چونکہ طلاق ہی کے لیے استعمال ہونے لگے ہیں ،لہذا بغیر طلاق کی نیت کیے بھی ایک طلاق صریح بائن واقع ہو گی،لیکن امداد الفتاوی (2/476، دارالعلوم کراچی) میں حضرت تھانوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ کنائی الفاظ ہیں، لہذا اگر ان سے طلاق کی نیت کی تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں۔
ہماری ناقص رائے میں حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کا قول راجح ہے،لہذا مذکورہ صورت میں اگر طلاق کی نیت تھی تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اب رجوع کے لیے تجدید نکاح ضروری ہے اور اگر طلاق کی نیت نہ تھی تو ظھار وطلاق کچھ واقع نہ ہو گا۔

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:50

ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ ”حرام،حرام،حرام“ کہا،معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کون سی اور کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ اور اب دوبارہ اکٹھے رہنے کی کیا صورت ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے، اب دوبارہ اکٹھے رہنے کی صورت یہ ہے کہ نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر لیا جائے۔

لما فی الدر المختار:(3/438،سعید)
فروع )انت علي حرام ألف مرة تقع واحدة. طلقها واحدة ثم قال: أنت علي حرام ناويا اثنين تقع واحدة
وفی المحیط البرھانی :(4/425،بیروت)
إذا قال لآمرأته: أنت علي حرام ألف مرة تقع واحدة، لأن معنى قولہ مرة بعد مرة سئل الشیخ الامام نجم الدين رحمه اللّٰه عن امرأة قالت لزوجها حلال خدا بر تو حرام، قال اري این زن بروی حرام شود بيك طلاق قال شود لأن قوله اري يتضمن إعادة كلامها فصار كأن الزوج قال: حلال خدا بر من حرام وهو تطليق في عرفنا من غير نية
وکذافی الشامیہ:(3/298،300،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(3/523،رشیدیہ)
وکذافی البزازیة علی ھامش الھندیہ:(4/188،189، رشیدیہ)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر:(2/37،المنار)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(9/6897، رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی الولوالجیة:(2/15،الحرمین الشریفین)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیہ:(1/519، رشیدیہ)
وکذافی الشامیہ:(4/444، رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/2021/1442/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:48

جب جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا دور تھا، اس وقت زمینداروں پر ان کے پاس موجود (زیادہ نام) زمینوں پر کافی ٹیکس لگائے جاتے تھے تو اس وقت اضافی ٹیکسوں سے بچنے کے لیے میرے والد محترم نے میرے دو سوتیلے بھائیوں کے نام زمین لگوا دی ۔یاد رہے کہ میرے والد محترم کی پہلی زوجہ وفات پا چکی تھیں اور میرے مرحوم والد صاحب نے میری والدہ سے نکاح کیا ہوا تھا،لیکن اس وقت تک دوسرے نکاح سے کوئی بھی اولاد نہ ہوئی تھی تو اس وقت ساری برادری کے سامنے میرے والد صاحب نے میرے دو سوتیلے بھائیوں(مشتاق،مناف)کے ساتھ ایک فرضی بیٹے محمد اشفاق کے نام زمین لگوا دی ،حالانکہ اس ٹائم تیسرے بیٹے کا وجود نہ تھا،یہ بیٹا بعد میں پیدا ہوا تو اس کا نام محمد اشفاق رکھا گیا جو کہ ذہنی معذور تھا اور بعد ازاں وہ بھی وفات پا گیا۔ اس کی وفات کے بعد اس کے حصہ کی زمین والد صاحب نے میری والدہ کے نام کروا دی اس کے بعد ہم تین بھائی(محمد خالد،محمد ماجد، محمد ساجد)پیدا ہوئے،یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہماری زمین دو ضلعوں میں ہے ،کچھ زمین ضلع دیپالپور چک ریتکی میں اور کچھ ضلع لودھراں میں ہے۔ جب میرے والد صاحب لودھراں والی زمین تقسیم کرنے لگے تو والد صاحب نے مشتاق اور مناف سے برادری کے سامنے کہا کہ آپ کے نام زمین جو ریتکی میں ہے اس میں آپ کے تین بھائیوں کا حصہ بنتا ہے وہ انہیں دے دو ورنہ یہاں سے تمہیں زمین نہ دوں گا تو مشتاق اور مناف نے اس وقت کہا کہ ہم ریتکی والی زمین سے جو حصہ بنتا ہے وہ ان کو دے دیں گے اور برادری کے سامنے مشتاق نے قسم اٹھائی کہ میرے پاس ریتکی والی زمین جو زیادہ ہے وہ میں واپس کرونگا آپ ہمیں لودھراں والی زمین سے مکمل حصہ دیدیں۔ اب مناف کے پاس جو زمین زیادہ تھی وہ اس نے تینوں بھائیوں میں برابر برابر تقسیم کر دی ہے ،جبکہ مشتاق ہمیں ہمارا حصہ واپس نہیں کر رہا اور میرے والد کی وفات کے بعد کہتا ہے کہ یہ میری اولاد کا حق ہے، زمین واپس نہیں کرونگا۔میرے والد نے وفات سے چند دن قبل برادری سے کہا کہ مشتاق سے کہو کہ زمین اس کے بھائیوں کا حق ہے واپس کرے جیسے مناف نے اپنے بھائیوں کو واپس کی ہے۔ میرے والد محترم کئی مواقع پر مشتاق سے اس وجہ سے ناراض رہے کہ مشتاق اپنے تین بھائیوں کو زمین واپس نہیں دے رہا ساری برادری اس بات کی گواہ بھی ہے۔( وضاحت: مشتاق کے نام جو زیادہ زمین ہے وہ ہمارے قبضہ میں ہے) اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا مشتاق کا حق نہیں بنتا کہ وہ زمین جو کہ 7.50 ایکڑ ہے جو ایک حیلے میں نام لگی تھی وہ اب واپس کرے؟ ایسے آدمی کے بارے میں قرآن واحادیث میں کیا حکم ہے جو کسی کی زمین پر قابض ہو جائے اور صاحب حق کو اس کا حق واپس نہ کرے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال میں مذکور باتیں اگر حقیقت پر مبنی ہیں تو مشتاق کے پاس جو ریتکی والی زمین ہے اس میں اس کے بھائی بھی حق دار ہیں۔اب مشتاق کو چاہیے کہ بھائیوں کا حق انہیں دے دے، کیونکہ قرآن و احادیث میں کسی کا حق ظلماً دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں،مثلا بخاری شریف کی روایت ہے:
”آپﷺ نے فرمایا جو شخص ظلما کسی کی زمین لے گا تو اس کے گلے میں سات زمینیں طوق بنا کر ڈال دی جائیں گی“

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے
”جو شخص ناحق کسی کی ایک بالشت زمین بھی لے گا تو قیامت کے دن اس کو سات زمینوں تک زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔“ (صحیح بخاری:1/332،قدیمی)

لما فی القرآن الکریم :(النساء،29)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ
وفی الصحیح للبخاری:(1/332،قدیمی)
اخبرہ ان سعید بن زید قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من ظلم من الأرض شیاً ،طوقه من سبع أرضين
وفی الصحیح لمسلم:(2/32،33،الحسن)
عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين»
وکذافی مشکوۃ المصابیح:(1/261،272،رحمانیہ)
وکذافی شعب الایمان:(6/224،بیروت)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(6/149،التجاریة)
وکذافی التفسیر المنیر:(3/32،امیر حمزہ کتب خانہ)
وکذافی الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل:(1/502،منشورات البلاغہ)
وکذافی البحر المحیط:(3/240،بیروت)
وکذافی تفسیر البغوی:(1/417،بیروت)
وکذا فی الا کلیل علی مدارک التنزیل وحقائق التاویل:(2/592،بیروت)
وکذافی التفسیر الکبیر:(4/56،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد طاہر غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/3/2021/1442/5/8
جلد نمبر :24 فتوی نمبر: 40