ایک قاری صاحب بچوں کو قرآن مجید پڑھاتے ہیں اور ان میں اکثر نابالغ بچے ہیں۔جب وہ قرآنِ مجید سناتے ہیں تو آیاتِ سجدہ تلات کرتے ہیں۔تو کیا ہر ایک بچے کے پڑھنےسے سننے والے(قاری صاحب)پر سجدہ ٔتلاوت واجب ہوگا؟جبکہ اس میں قاری صاحب کا حرج واضح ہے

الجواب حامداً وّمصلّیاً

سجدۂ تلاوت کے واجب ہونے کے بارے میں اصول یہ ہے کہ یہ اس وقت واجب ہوتا ہے جب تلاوت کرنے یا سننے والا مکلف ہو،یعنی جس پر نماز اداءً یا قضاءًلازم ہو۔چنانچہ کافر،نابالغ بچہ،مجنون اور حیض و نفاس والی عورت میں سے ،اگر کوئی آیتِ سجدہ تلاوت کرے یا سنے تو اس پر سجدہ لازم نہ ہوگا۔البتہ اگر کوئی مکلف ان میں سے (مجنون کے علاوہ)کسی سے آیتِ سجدہ سنے تو اس پر سجدہ لازم ہوگا۔
صورتِ مسئولہ میں بچے اگرچہ نابالغ ہیں اور ان پر سجدہ لازم نہ ہوگا لیکن سامع(قاری صاحب)مکلف ہیں، ان پر سجدہ لازم ہوگااور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔مناسب وقت ملتے ہی سجدے کر لیے جائیں۔

لما فی بدائع الصنائع:(1/439.440،رشیدیہ کوئٹہ)
وأما بيان من تجب عليه فكل من كان أهلا لوجوب الصلاة عليه إما أداء أو قضاء فهو من أهل وجوب السجدة عليه ومن لا فلا؛ لأن السجدة جزء من أجزاء الصلاة فيشترط لوجوبها أهلية وجوب الصلاة من الإسلام، والعقل، والبلوغ، والطهارة من الحيض والنفاس حتى لا تجب على الكافر والصبي والمجنون والحائض والنفساء قرءوا أو سمعوا؛ لأن هؤلاء ليسوا من أهل وجوب الصلاة عليهم وتجب على المحدث والجنب؛ لأنهما من أهل وجوب الصلاة عليهما، وكذا تجب على السامع بتلاوة هؤلاء إلا المجنون؛…….فينظر إلى أهلية التالي وأهليته بالتمييز وقد وجد ،فوجد سماع تلاوة صحيحة فتجب السجدة
وفی الھندیة:(1/132،رشیدیہ کوئٹہ)
والأصل في وجوب السجدة أن كل من كان من أهل وجوب الصلاة إما أداء أو قضاء كان أهلا لوجوب سجدة التلاوة ومن لا فلا، كذا في الخلاصة حتى لو كان التالي كافرا أو مجنونا أو صبيا أو حائضا أو نفساء أو عقيب الطهر دون العشرة والأربعين لم يلزمهم وكذا السامع، كذا في الزاهدي ولو سمع منهم مسلم عاقل بالغ تجب عليه لسماعه ولو قرأ المحدث أو الجنب أو سمعا تجب عليهما وكذا المريض
وکذافی المبسوط(2/4،دار المعرفة بیروت)
وکذافی التنویر مع شرحه:(2/107،ایچ.ایم.سعید کراچی) وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/184،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(4/68،رشیدیہ کوئٹہ) وکذافی المحیط البرھانی:(2/365،دار احیاء تراث العربی بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:88

ایک آدمی کا انتقال ہوا۔اس کے ورثہ میں ایک بیوی،دو بیٹے،ایک بیٹی،چار بہنیں اور پانچ بھائی ہیں۔اس کے ترکہ میں پانچ لاکھ روپے،دس ایکڑ زمین اور ایک مکان ہے۔یہ ترکہ مذکورہ ورثہ میں کس طرح تقسیم ہو گا؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے مکان،دوکان ،فصل وغیرہ)غرض چھوٹا،بڑا جو بھی سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعد میت نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےمثلاً زمین،نقدی اور سامان وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے 40برابر حصے بنا کر ان میں سے 5حصے(٪12.5)بیوی کو،14حصے(٪35)ہر بیٹے کو اور7حصے (٪17.5)بیٹی کو دیں گے۔
سوال میں مذکور نقدی میں سےبیوی کو62,500روپے،ہر بیٹے کو 175,000روپےاور بیٹی کو 87,500 روپے ملیں گے۔
10 ایکڑ زمین سےبیوی کو 10 کنال(سوا ایکڑ)،ہر بیٹے کو 28 کنال(ساڑھے تین ایکڑ)اور بیٹی کو 14 کنال(پونے دو ایکڑ)دیں گے۔
اسی طرح مکان یا اس کی مالیت کے 40حصے کر کے 5حصے بیوی کو،7بیٹی کو اور 14 حصے ہر بیٹے کو دیں گے۔بھائیوں اور بہنوں کو میت کی مذکر اولاد موجود ہونے کی وجہ سے کچھ نہیں ملے گا۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ ۚفَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ
وفی السراجی فی المیراث:(18،البشری کراچی)
امّا للزّوجات فحالتان :الرّبع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد وولد الابن وان سفل،والثّمن مع الولد او ولدالابن وان سفل
وفیه ایضاً:(19،البشری کراچی)
وامّا لبنات الصّلب فاحوال ثلاث: النّصف للواحدۃ،والثّلثان للاثنتین فصاعدۃ ،ومع الابن للذّکر مثل حظّ الانثیین وھو یعصّبھن
وکذا فی الھندیہ:(6/448.450،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذا فی المبسوط:(29/138.148،دارالمعرفہ بیروت)
وکذا فی تنویر الابصار:(6/770.775،ایچ.ایم.سعید کراچی)

واللہ خیر الوارثین
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:55

میزان بینک نے”میرا گھر،میرا پاکستان“کے نام سے گھر بنانے کے لیے قرض دینے کی اسکیم شروع کی ہے۔یہ اسکیم دوسرے بینک بھی چلا رہے ہیں۔کیا میزان بینک سے اس اسکیم کے تحت قرض لینا درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

لوگوں کو گھر بنانے کے لیے بینک جو رقم دیتے ہیں،اس میں روایتی سودی بینکوں کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ ضرورت مند کو متعین وقت تک کے لیے رقم قرض دیتے ہیں اور اس پر سود وصول کرتے ہیں۔ضرورت مند خواہ اس رقم سے گھر بنائے یا اس کو کسی دوسرے استعمال میں لائے ،بینک کو اس سے کچھ سروکار نہیں ہوتا۔یہ طریقہ چونکہ سود پر مبنی ہے،لہٰذا یہ ناجائز اور حرام ہے۔
اسلامی بینک،جن میں”میزان بینک “سرفہرست ہے،یہ گھر بنانے کے لیے شرکتِ متناقصہ کے طور پر رقم دیتے ہیں۔اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ گھر بنانے کے لیے کچھ رقم ضرورت مند دیتا ہے اور باقی رقم بینک دیتا ہے۔اس طرح وہ گھر ضرورت مند اور بینک کے درمیان مشترک ہو جاتا ہے۔گھر میں بینک کے حصوں کو چھوٹے چھوٹے یونٹس پر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ضرورت مند ان یونٹس کا کرایہ دیتا رہتا ہےاور ساتھ ساتھ ان یونٹس کو خریدتا بھی رہتا ہے۔جن حصوں کو وہ خرید لیتا ہےان کا کرایہ نہیں دینا پڑتا۔بینک کے حصوں کا کرایہ دینے اور ان کو خریدنے کا ضرورت مند شروع میں وعدہ کرتا ہے۔ضرورت مند جب بینک کے حصوں کوخرید لیتا ہے تو وہ اس گھر کامکمل مالک بن جاتا ہےاور بینک کو کرایہ دینا بند کر دیتا ہے۔یہ سارا معاملہ شرعاً درست ہے۔لہٰذا”میزان بینک“کی گھر بنوانے والی اسکیم”میرا گھر،میرا پاکستان“سے گھر بنانے کےلیے رقم لینا جائز اور دیگر سودی بینکوں سے گھر بنانے کے لیے سود پر قرض لینا ناجائز اور حرام ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(البقرة:275)
اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا
وفی عمدة القاری:(13/73،دار احیاءالتراث العربی بیروت)
“وحرم کل قرض جر منفعۃ.”
وفی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرة:(1/248،معارف القرآن کراچی)
ونظراً الی ھذا ظھرت فی معظم البلاد الیوم مؤسسات تقوم بتمویل الناس لشراء المساکن او بنائھا،ولکن اکثرھا انما تعمل فی اطار النظام الربوی فتقدم الی عملائھا قروضا ،وتطالبھم علی ذلک بالفائدۃ المعینۃالمتفق علیھا فی عقد التمویل ،وبما ان ھذا العقد یقوم علی اساس الربا وھو من اکبر المحرمات التی نھی عنھا اللہ سبحانہ وتعالی فی کتابہ المجید ،فانہ لا یجدر بأی مسلم ان یدخل فی عقد یقوم علی الاساس الفاسد
وفیه ایضاً:(1/261)
نعم یجوز ان تحدث بینھم اتفاقیةیتواعدان فیھا بالدخول فی ھذہ العقود ،فیتفقان علی انھما یشتریان الدار الفلانیة بمالھما المشترک،ثم یوجر الممول حصتہ الی العمیل باجرۃ معلومۃ، ثم یشتری العمیل حصۃ الممول باقساط متعددۃ الی ان یتملک الدار کلھا
وکذافیه ایضاً:(1/259)
وکذافی الھندیة:(3/209،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(300/4.84,275/5، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الدر المختار:(299,300/4.166/5.47,48/6،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:200

اگر کوئی شخص سردیوں میں فوت ہو تو سردی سے حفاظت کے لیے میت کے اوپر رضائی اور نیچے گدا بچھانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

میت کے اوپر رضائی ڈالنا اور نیچے گدا وغیرہ بچھانا اس لیے درست نہیں ہے کہ اس سے میت کے بدن میں جلد خرابی پیدا ہونے کا اندیشہ ہے،البتہ اس کو بڑی چادر سے ڈھانپ دینا چاہیے۔

لما فی التنویر مع شرحه:(2/195،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
ويجرد) من ثيابه (كما مات).
وفی الشامیة:(قوله كما مات) لأن الثياب تحمى عليه فيسرع إليه التغير
وفی البحر الرائق:(2/301،رشیدیة کوئٹہ)
قالوا يجرد كما مات لأن الثياب تحمى عليه فيسرع إليه التغير
وکذافی مجمع الانھر:(1/265،المنار کوئٹہ)
وکذافی الھندیة :(1/157، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی غنیة المتملی:(577، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/236،امدادیة ملتان)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/366، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:112

ایک خاتون کو طلاقِ مغلّظہ ہو گئی۔وہ مرتد ہو کر دارالکفر گئی اور دوبارہ مسلمان ہو کر،گھر آئی۔اب سابقہ شوہر اس سے بغیر حلالہ کے نکاح کر سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں حلالہ شرعیہ کے بغیر،سابقہ شوہر اس سے نکاح نہیں کر سکتا۔

لما فی الھندیة:(1/473،رشیدیة کوئٹه)
ولو ارتدّتِ المطلّقۃ ثلاثاً ولحقت بدار الحرب ثمّ سترقّھا او طلّق زوجتہ الامۃ ثنتین ثمّ ملکھا ففی ھاتین لا یحلّ لہ الوطیء الّا بعد زوج اٰخر
وفی الشّامیة:(3/412،ایچ.ایم.سعید کراچی)
لا) ينكح (مطلّقۃ…..بها) أي بالثّلاث (لو حرّة وثنتين لو أمة…..حتّى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله،….(بنکاح ……وتمضي عدّته) أي الثّاني (لا بملك يمين) لاشتراط الزّوج بالنّص، فلا يحلّها وطیء المولى ولا ملك أمة بعد طلقتين، أو حرّة بعد ثلاث وردّة وسبي.
(قوله: ولا ملك أمة إلخ) عطف على قوله ” وطء المولى “: أي لو طلّقها ثنتين وهي أمة ثمّ ملكها، أو ثلاثا وهي حرّة فارتدّت ولحقت بدار الحرب ثمّ سبيت وملكها لا يحلّ له وطؤها بملك اليمين حتّى يزوّجها فيدخل بها الزّوج ثمّ يطلّقها
وکذا فی القرآن الکریم:(البقرة:230)
وکذافی مجمع الانھر:(2/90،المنار کوئٹه)
وکذافی الھندیة:(1/473،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی البحر الرائق:(4/95،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی فتح القدیر:(4/158،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی النھر الفائق:(2/421، قدیمی کراچی)
وکذافی تبیین الحقائق:(2/259،امدادیة ملتان)
وکذافی صحیح البخاری:(2/300،رحمانیة لاھور)
وکذافی تفسیر المظھری:(1/306،رشیدیة کوئٹه)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/4/1442/2020/12/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:31

ایک مسجد کے واش روم اس طرح بنے ہوئے ہیں کہ ان میں قضائے حاجت کرتے ہوئے ،قبلہ کی طرف پشت ہوتی ہے۔انتظامیہ کو توجہ دلائی تو وہ کہتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی گناہ ہوتا ہے تو اس کا فتویٰ لے کر آؤ،ہم ان کو درست کر لیں گے۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب حامداً وّمصلّیاً

قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف رخ یا پشت کر کے بیٹھنے سے،پیارے آقا ﷺنے،منع فرمایا ہے اور فقہائے کِرام نے بھی اس کو مکروہِ تحریمی کہا ہے اور اس میں ہر جگہ کے واش روم داخل ہیں،لہٰذا مسجد کے ان واش روموں کو صحیح رخ پر کرنا از حد ضروری ہے۔

لما فی ‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬القرآن الکریم:(الحشر:7)
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
وفی صحیح البخاری:(1/123،رحمانیة لاھور)
عن أبي أيوب الأنصاري، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:”إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة، ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا.”{وبھامشہ}(ھذا) مخصوص باہل المدینۃ لانھم المخاطبون ویلحق بھم من ھو علی سمتھم
وفی سنن ابی داود:(1/13، رحمانیة لاھور)
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:”إنما أنا لكم بمنزلة الوالد، أعلمكم فإذا أتى أحدكم الغائط فلا يستقبل القبلة، ولا يستدبرها…..الحدیث
وفی التنویر مع شرحه:(1/341،ایچ .ایم.سعید کمپنی کراچی )
كما كره) تحريما (استقبال قبلة واستدبارها ل) أجل (بول أو غائط……ولو في بنيان) لإطلاق النهي
وفی الشامیة: (قوله واستدبارھا)ھو الصحیح
وکذافی الھندیة:(1/50،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/422، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی ملتقی الابحرومجمع الانھر:(1/100،المنار کوئٹہ)
وکذافی الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید:(1/62،طارق افغانستان)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
81/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر: 114

کیا حکم ہے شریعت مطہرہ کادرج ذیل مسائل کے بارے میں،کہ:(1)دو بیویوں کے درمیان کن چیزوں میں عدل ضروری ہے؟(2)میری دو بیویاں ہیں:ایک شہر میں اور دوسری دیہات میں رہتی ہے۔شہر اور دیہات کی زندگی میں اخراجات کا تفاوت ہونے کے سبب ،میں شہروالی کو زیادہ خرچ دیتا ہوں ،کیا ایسا کرنا درست ہے؟(3)ایک بیوی سے میرے تین بیٹے ہیں اور دوسری سے ایک،اگر میں فی بچہ دس ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے تین بچوں والے گھر کو تیس ہزار اور دوسرے گھر میں ایک بچے کو پندرہ ہزار دوں ،تو یہ تفاوت جائز ہے؟یا اولاد کے خرچہ میں برابری لازم ہے؟(4)میں سعودیہ مقیم ہوں۔اپنے بیوی ،بچوں کو وزٹ پر بلاتا ہوں۔جس زوجہ سے میرے تین بیٹے ہیں ان کو وزٹ پر بلانے سے زیادہ پیسے لگتے ہیں۔بسا اوقات اس کا تحمل نہیں کر پاتا،نیز بچوں کی تعلیم بھی متأثر ہوتی ہے،تو اگر میں ایک بچے والی زوجہ کو زیادہ اور دوسری کو کبھی کبھی وزٹ پر بلاؤں تو یہ میرے لیے جائز ہے؟اور ایک کو وزٹ پر بلاتے وقت دوسری بیوی کو بتانا ضروری ہے؟(5)فون پر بات کرتے ہوئے اگر میں نے ایک زوجہ سے ایک گھنٹہ بات کر لی،جبکہ دوسری سے آدھا گھنٹہ بات کر لی یا کچھ دن بات نہ کر سکا تو ایسا کرنا جائز ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

(1)

ایک سے زائد بیویوں کے درمیان تمام اختیاری امور مثلاً کھانے پینے کی چیزوں میں،رہائش و لباس میں،رات گزارنے میں اور دیگر سہولیات میں برابری کرنا ضروری ہے،بیویوں کو وزٹ پر بلانا اور ان سے فون پر بات کرنا بھی،اختیاری امور میں داخل ہےاور غیر اختیاری امور مثلاً جماع اور محبت وغیرہ میں برابری ضروری نہیں۔(2)بچوں کے درمیان ضروریات کے اعتبار سے خرچہ میں کمی و زیادتی کرنا جائز ہےاور تمام کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے برابر خرچہ دینا مستحب ہےاور کسی پر ظلم کا ارادہ ہوئے کم خرچہ دینا جائز نہیں ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(النساء:129)
وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا
وفی جامع الترمذی:(1/345،رحمانیة لاھور)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إذا كان عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط
وفی التنویر مع شرحه:(3/201،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
يجب أن يعدل فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب
وفی الشامیة:(4/444، ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى
وفی الموسوعة الفقھیة:(33/184.185،علوم اسلامیة چمن)
ذهب الفقهاء إلى أنه يجب على الزوج العدل بين زوجتيه أو زوجاته في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة والسكنى، وهو التسوية بينهن في ذلك،………والعدل الواجب في القسم يكون فيما يملكه الزوج ويقدر عليه من البيتوتة والتأنيس ونحو ذلك، أما ما لا يملكه الزوج ولا يقدر عليه كالوطء ودواعيه، وكالميل القلبي والمحبة. . فإنه لا يجب على الزوج العدل بين الزوجات في ذلك لأنه مبني على النشاط للجماع أو دواعيه والشهوة، وهو ما لا يملك توجيهه ولا يقدر عليه
وکذافی الھندیة:(1/340،رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی جامع الترمذی:(1/345، رحمانیة لاھور)
وکذافی صحیح البخاری:(1/454، رحمانیة لاھور)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(5/217،دار المعرفة بیروت)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(2/68.71،دار العلوم کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفا اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:35

اگرکسی ورق پر انگلش میں لفظ اللہ یا محمد صلّی اللہ علیہ وسلم لکھا ہو تو اس کو جلانا کیسا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

ایسے اوراق جن پر مقدس نام وغیرہ لکھے ہوں،خواہ کسی بھی زبان میں ہوں،ان کی حفاظت کا طریقہ بالترتیب درج ذیل ہے:(1)یہ اوراق اگر ممکن ہو تو”تحفظ اوراقِ مقدسہ“ والی جگہوں یا ڈبوں میں رکھ دیے جائیں۔(2)ان کو کسی پاک جگہ مثلاً قبرستان وغیرہ میں دفن کر دینا چاہیے۔(3)ان کو جاری پانی میں ڈال دینا چاہیے۔(4)اگر مذکورہ صورتیں ممکن نہ ہوں تو اسمائے مقدسہ کو مٹا کر جلا دیا جائے۔

لما فی الدر المختار:(6/422،(3/740،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي ولا بأس بأن تلقى في ماء جار كما هي أو تدفن وهو أحسن كما في الأنبياء
وفی عمدة القاری:(20/19، دار احیاء التراث العربی بیروت)
قولہ(کل صحیفة او مصحف ان یحرق) وقال ابن بطال: في هذا الحديث جواز تحريق الكتب التي فيها اسم الله، عز وجل، بالنار وإن ذلك إكرام لها وصون عن وطئها بالأقدام، وقيل: هذا كان في ذلك الوقت، وأما الآن فالغسل إذا دعت الحاجة إلى إزالته، وقال أصحابنا الحنيفة: إن المصحف إذا بلي بحيث لا ينتفع به يدفن في مكان طاهر بعيد عن وطء الناس
وفی الفقه الاسلامی وادلته:(1/451، رشیدیة کوئٹہ)
ولا بأس أن تدفن كتب الشرع، أوتلقى في ماء جارٍ، أو تحرق، والأول أحسن
وکذافی فتاوی النوازل:(301،حقانیة پشاور)
وکذافی التاتارخانیة:(18/69،فاروقیة کوئٹه)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(34/192،علوم اسلامیة چمن)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
13/9/1442/2021/4/26
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:129

ایک شخص سترہ سال کا ہو چکا ہے۔وہ بچپن سے فرض نمازوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتا تھا،ساتھ اور کوئی سورت نہیں ملاتا تھا۔اب اس کو پتا چلا ہے کہ سورت بھی ملانی ہوتی ہے۔اس کی گزشتہ نمازوں کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

صورتِ مسئولہ میں اس شخص نے بلوغت کے بعد اب تک جو نمازیں اکیلے یا مسبوق ہونے کی حالت میں پڑھی ہیں،ان کا اعادہ اس پر واجب ہے۔

لما فی التنویر مع شرحه:(1/456.459،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
ولها واجبات) لا تفسد بتركها وتعاد وجوبا في العمد والسهو إن لم يسجد له، وإن لم يعدها يكون فاسقاآثما،وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها…….(وهي…….قراءة فاتحة الكتاب……وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، وهو ثلاث آيات قصار،…….(في الأوليين من الفرض……و) في (جميع) ركعات (النفل).
وفی الشامیة:(قوله وتعاد وجوبا) أي بترك هذه الواجبات أو واحد منها(قوله إن لم يسجد له) أي للسهو، وهذا قيد لقوله والسهو، إذ لا سجود في العمد
وفی الفقه الاسلامی وادلته:(2/808،رشیدیة کوئٹہ)
واجبات الصلاة ثمانية عشر،……وحكمه: استحقاق العقاب بتركه عمداً، لكن لا تفسد الصلاة بتركه، ويلزم سجود السهو لنقص الصلاة بترك الواجب سهواً، ويجب إعادة الصلاة بترك الواجب عمداً، أو سهواً إن لم يسجد سجود السهو له. وإن لم يعدها، يكون فاسقاً آثماً، كما هو الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم.
وهذه الواجبات هي ما يأتي:….. قراءة سور ة بعد الفاتحة: يجب قراءة سورة قصيرة كالكوثر ونحوها،وهو ثلاث آيات قصار
وکذافی الھندیة:(1/71، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(1/515، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(2/65، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/394.408، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی مراقی الفلاح:(247.248،قدیمی کتب خانہ کراچی)
وکذافی کتاب الفقه علی المذاہب الاربعة:(1/209،حقانیة پشاور)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:13

ایک دوکاندار کے پاس ایک گاہک آیا،اس کا مطلوبہ سامان دوکاندار کے پاس نہیں تھا۔دوکاندار نے گاہک سے پیسے لے لیے اور کہا کہ تم فلاں دوکاندار کے پاس سےیہ سامان لے لومیں اس کو فون کر دیتا ہوں۔پھر اس دوکاندار نے کچھ نفع خود رکھا اور کچھ نفع دوسرے دوکاندار کو دے دیا۔کیا یہ طریقہ درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

یہ معاملہ شرعاً جائز نہیں اور پہلے دوکاندار نے جو نفع لیا ہے،وہ بھی جائز نہیں ہے۔لہٰذا اس پر ضروری ہے کہ اگر گاہک معلوم ہو تو وہ نفع اسے واپس کرے ،ورنہ اس نفع کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرے۔

لما فی صحیح البخاری:(1/286،قدیمی کراچی)
عن)ابن عبّاس یقول امّا الّذی نہی عنہ النّبیّ صلّی اللّہ علیہ وسلّم فھو الطّعام ان یّباع حتّی یقبض قال ابن عبّاس ولا احسب کلّ شیءٍ الّا مثلہ
وفی المبسوط للسّرخسی:(14/8،دار المعرفة بیروت)
ومن اشتریٰ شیئاً فلا یجوز لہ ان یّبیعہ قبل ان یّقبضہ ولا یولّیہ احداً ولا یشرک فیہ
وفی شرح المجلّة:(2/88،رشیدیة کوئٹه)
وبقی ایضاً مّن الشّروط الستّۃ الشّرط الخامس،وھو کون الملک للبائع فیما یبیعہ لنفسہ،فیبطل بیع ما لیس مملوکا لہ اذا باعہ لنفسہ وان ملکہٗ بعدہٗ
وکذافی الھندیة:(3/13،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی شرح المجلّة:(2/173.174،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/351،دار العلوم کراچی)
وکذافی تنقیح الفتاوی الحامد یة:(1/417،قدیمی کراچی)
وکذافی الشّامیة:(5/58.59.99،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/227،دار احیاء تراث العربی بیروت)
وکذافی بدائع الصّنائع:(4/322.340.341.394،رشیدیة کوئٹه)
وکذافی فقه البیوع:(1/333.334.392.393.396.397،معارف القرآن کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:30