اگر ایک آدمی نمازِ جمعہ کے لیے مسجد میں آئے اور با وضو نہ ہو اور ادھر جمعہ کا خطبہ ہو رہا ہوتو اس کو کیا کرنا چاہیے؟یا دورانِ خطبہ اگر کسی کا وضو جاتا رہے تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

وضو کرکے خطبہ کی طرف متوجہ ہو جانا چاہیے۔

لما فی المحیط البرھانی:(2/450،دار احیاءالتراث العربی بیروت)
ولو خطب والقوم حضور إلا أنهم محدثون، أو كانوا جنباً فذهبوا وتوضؤوا ثم رجعوا وصلى بهم الجمعة جاز
وکذافی التاتارخانیة:(2/526،فاروقی ،کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:113

دورانِ خطبہ خطیب کی کسی دعا پر بلند آواز سے آمین کہہ سکتے ہیں؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

نہیں،البتہ زبان ہلائے بغیر دل میں کہہ سکتے ہیں۔

لما فی الشامیة:(2/158،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وإذا شرع في الدعاء لا يجوز للقوم رفع اليدين ولا تأمين باللسان جهرا فإن فعلوا ذلك أثموا وقيل أساءوا ولا إثم عليهم والصحيح هو الأول وعليه الفتوى وكذلك إذا ذكر النبي – صلى الله عليه وسلم  لا يجوز أن يصلوا عليه بالجهر بل بالقلب وعليه الفتوى
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/182،رشیدیة کوئٹہ)
ما دام الخطیب فی حمد اللّٰہ تعالیٰ والثناء علیہ والوعظ للناس فعلیہم الاستماع والانصات
وکذافی خلاصة الفتاویٰ:(1/206، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی المختصر فی الفقه الحنفی:(203،البشریٰ کراچی)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(3/448،التجاریة مکة المکرمة)
وکذافی مجموعة الفتاویٰ علی ھامش خلاصة الفتاویٰ:(1/149، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:14

ایک آدمی نمازِ وتر پڑھ رہا تھا۔تیسری رکعت میں دعائے قنوت بھول کر رکوع میں چلا گیا۔ابھی وہ رکوع میں گیا ہی تھا یعنی اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچے تھے کہ اس کو یاد آگیا اور اس نے فوراً کھڑے ہو کر دعائے قنوت پڑھ لی۔اب اس کے لیے سجدۂ سہو اور دوبارہ رکوع کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اس شخص کو قنوت پڑھنے کے لیے واپس کھڑا نہیں ہونا چاہیے تھا بلکہ آخر میں سجدۂ سہو کر لیتا۔بہر حال اب بھی اس پر سجدۂ سہو واجب ہے، البتہ رکوع اس کا ہو گیا ہے،دوبارہ نہیں کرنا چاہیے،لیکن اگر کوئی شخص لا علمی کی وجہ سے رکوع دوبارہ کر لے تو اس کی نماز بھی ہو جائے گی۔

لما فی التنویر مع شرحه:(2/9.10،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
ولو نسيه) أي القنوت (ثم تذكره في الركوع لا يقنت) فيه لفوات محله (ولا يعود إلى القيام) في الأصح لأن فيه رفض الفرض للواجب (فإن عاد إليه وقنت ولم يعد الركوع لم تفسد صلاته) لكون ركوعه بعد قراءة تامة(وسجد للسهو) قنت أولا لزواله عن محله
وفی حاشیتہ:(قوله لفوات محله) لأنه لم يشرع إلا في محض القيام فلا يتعدى إلى ما هو قيام من وجه دون وجه وهو الركوع….(قوله لكون ركوعه بعد قراءة تامة) أي فلم ينتقض ركوعه،….(قوله لزواله عن محله) تعليل لما فهم قبله من الصور الأربع؛ وهي ما لو قنت في الركوع أو بعد الرفع منه وأعاد الركوع أولا وما إذا لم يقنت أصلا
وفی بدائع الصنائع:(1/615،رشیدیة کوئٹه)
وأما حكم القنوت إذا فات عن محله فنقول:إذا نسي القنوت حتى ركع ثم تذكر بعد ما رفع رأسه من الركوع لا يعود ويسقط عنه القنوت وإن كان في الركوع فكذلك في ظاهر الرواية…..ولا يقنت في الركوع أيضا…..ولو أنه عاد إلى القيام وقنت ينبغي أن لا ينتقض ركوعه على قياس ظاهر الرواية…..فإذا عاد فقد قصد نقض الفرض لتحصيل واجب فات عليه فلا يملك ذلك
وکذافی الھندیة:(1/111، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی الھدایة:(1/140، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی البحر الرائق:(2/75، رشیدیة کوئٹه)
وکذافی الدر المنتقی علی ھامش المجمع:(1/193،المنار کوئٹه)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(385،قدیمی کتب خانه کراچی)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/4/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:84

ہمارے ہاں سردیوں کے دنوں میں کچھ لوگ لکڑی خرید کر اس کو اسٹاک کر لیتے ہیں اور وزن کی پرچی کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔چار،پانچ ماہ بعد جب وہ لکڑی کو فروخت کرتے ہیں تو سابقہ پرچی پر جووزن ہوتا ہے ،اسی وزن پر وہ نفع لے کر فروخت کرتے ہیں،حالانکہ لکڑی کاوزن کم ہو چکا ہوتا ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ سابقہ وزن پر نفع لےکر لکڑی بیچنا جائز ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورتِ مسئولہ میں اگر موجود لکڑی یعنی ڈھیر وغیرہ کوبیچنا مقصود ہو،وزن کا ذکر صرف اندازے کے لیے ہو اور کسی قسم کا دھوکہ اور غلط بیانی نہ ہو تو اس خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں اور اگر وزن ہی کو بنیاد بنایا جائے تو جب تک وزن پورا نہ کر لیا جائےتو یہ معاملہ جائز نہیں ہو گا۔

لما فی الھدایة:(3/21،رحمانیہ لاھور)
والاعواض المشار الیہا لا یحتاج الی معرفۃ مقدارھا فی جواز البیع لان بالاشارۃ کفایۃ فی التعریف،وجھالۃ الوصف فیہ لا تفضی الی المنازعۃ
وفی فقه البیوع :(1/371،معارف القرآن کراچی)
اما معرفۃ مقدار المبیع،فشرط لصحۃ البیع ان کان البیع بمقدار،بان یقع البیع کیلا،او وزنا،او عددا فیجب ان یعرف مقدار المبیع.اما اذا وقع البیع بالاشارۃ او بالتعیین،فلا یجب معرفۃ المقدار. مثال الاشارۃ ان یقول البائع :”بعت منک ھذا القطیع من الغنم ،او ھذہ الصبرۃ من الطعام بکذا” ولا یعرف عددالغنم فی الاول،وکیل الطعام او وزنہ فی الثانی،جاز البیع،وھو ما یسمی “البیع مجازفۃ
وکذافی الھدایة:(3/79،رحمانیة لاھور)
وکذافی کنز الدقائق:(247،حقانیة ملتان)
وکذافی شرح المجلة:(2/88.89.90،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(4/529.530،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی البحر الرائق:(5/454.456.457،رشیدیہ کوئٹہ)

واللہ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:84

بھینس کا ایسا بچہ جس کی پرورش ” کتیا “ کے دودھ سے کی گئی ہو ، اس کے گوشت ، قربانی اور حمل کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

حرام جانوروں کے دودھ میں چونکہ بدبو وغیرہ نہیں ہوتی اس لیے اگر حلال جانور ان کا دودھ پی لیں تو ان کے گوشت میں کسی قسم کی بدبو پیدا نہیں ہوتی ، لہٰذا ایسے جانوروں کا گوشت و حمل حلال اور قربانی جائز ہوگی۔

لما فی التنویر مع شرحه:(6/340.341،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی)
و) كره (لحمهما) أي لحم الجلالة والرمكة، وتحبس الجلالة حتى يذهب نتن لحمها. وقدر بثلاثة أيام لدجاجة وأربعة لشاة، وعشرة لإبل وبقر على الأظهر. ولو أكلت النجاسة وغيرها بحيث لم ينتن لحمهاحلت كما حل أكل جدي غذي بلبن خنزير لأن لحمه لا يتغير، وما غذي به يصير مستهلكا لا يبقى له أثر.
وفی الشامیۃ:(قولہ علی الاظھر)…..قال السرخسي: الأصح عدم التقدير، وتحبس حتى تزول الرائحة المنتنة.(قولہ لان لحمہ لا یتغیرالخ)…..معناه إذا اعتلف أياما بعد ذلك كالجلالة، وفي شرح الوهبانية عن القنية راقما أنه يحل إذا ذبح بعد أيام وإلا لا
وفی البزازیة علی ھامش الھندیة:(6/302،رشیدیة کوئٹہ)
جدي غذي بلبن الخنزير لا بأس بأکلہ فعلی ھذا لا بأس بأکل الدجاج لأن لحمه لا يتغير وما غذي به صار مستهلكا لا يبقى له أثر وما روی عنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ یحبس الدجاج ثلاثۃ للتنزیہ وانما یشترط ذٰلک فی الجلالۃ التی لا تأکل الا الجیف وما یخلط ویأکل غیرہ ایضا علی وجہ لا یظھر اثرہ فی لحمہ لا بأس بہ
وکذافی الھندیة:(5/290، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/10،امدادیة ملتان)
وکذافی البحر الرائق:(8/335، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی المبسوط:(11/255،دار المعرفة بیروت)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/153.154، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/404،رشیدیة کوئٹہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:172

ایک ضعیف العمر خاتون ہے۔ایک مرتبہ اس کا دماغی توازن بگڑا اور اس نے اپنا ستر کھول دیا۔ایک آدمی کی اچانک اس کی شرمگاہ پر نظر پڑی اور فوراً اس نے اپنی نظر پھیر لی۔کیا اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہو جائےگی؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

صورتِ مسئولہ میں حرمت مصاہرت ثابت نہ ہوگی۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/535،رشیدیة کوئٹہ)
وتثبت باللمس فيهما عن شهوة وبالنظر إلى فرجها عن شهوة عندنا،ولا تثبت بالنظر إلى سائر الأعضاء بشهوة
وفی المحیط البرھانی:(4/86،دار احیاء التراث العربی بیروت)
وكما ثبتت هذه الحرمة[بالوطء تثبت باللمسّ،والتقبيل،والنظر إلى الفرج بشهوة،سواء كان بنكاح،أو ملك،أو فجور عندنا إذا كان المحل مشتهاۃ، ولا تثبت هذه الحرمۃ]بالنظر إلى سائر الأعضاء،وإن كان عن شهوة
وکذا فی الھندیة:(1/274، رشیدیة کوئٹہ)
وکذا فی الھدایة:(2/289، رشیدیة کوئٹہ)
وکذا فی البحر الرائق:(3/178، رشیدیة کوئٹہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیة:(4/51،فاروقیة کوئٹہ)
وکذا فی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/362، رشیدیة کوئٹہ)
وکذا فی کتاب الفقه علی المذاھب الاربعة:(3/52،حقانیة پشاور)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:12

کیاجیل کی مسجد میں نمازِجمعہ ہو جاتی ہے؟حالانکہ وہاں اذنِ عام نہیں ہوتا،بلکہ صرف جیل سے متعلقہ افراد ہی شرکت کر سکتے ہیں اور جن لوگوں نے وہاں نمازِ جمعہ پڑھی یا پڑھائی،ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جیل کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے اذنِ عام کا نہ ہونا،دفاعی اور انتظامی مجبوریوں کی وجہ سے ہوتا ہے،لہٰذا جیل کی مسجد میں نمازِ جمعہ پڑھنا صحیح ہے اور جن لوگوں نے وہاں نماز پڑھی یا پڑھائی ان کی نماز ہوگئی۔

 

لما فی التنویر مع شرحه:(2/152،ایچ.ایم.سعید کراچی)
و)السابع:(الاذن العام) من الإمام، ……..فلا يضر غلق باب القلعة لعدو أو لعادة قديمة لأن الإذن العام مقرر لأهله وغلقه لمنع العدو لا المصلي، نعم لو لم يغلق لكان أحسن
وفی مجمع الانھر:(1/276،المنار کوئٹہ)
والإذن العام)،…….،قالوا: السلطان إذا أراد أن يصلي بحشمه في داره فإن فتح الباب وأذن إذنا عاما جازت الصلاة ولكن يكره وإلا لم يجز كما في الكافي ،وما لا يقع في بعض القلاع من غلق أبوابه خوفا من الأعداء ،أو كانت له عادة قديمة عند حضور الوقت فلا بأس به لأن إذن العام مقرر لأهله ،ولكن لو لم يكن لكان أحسن

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:165

ایک شخص کہتا ہے:دو نمازوں میں جمع صوری تو ہر شخص اپنے گھر میں کر سکتا ہے۔سفر میں جس جمع کی اجازت دی گئی ہے وہ جمع حقیقی ہےاور تمام احادیث اسی پر دلالت کرتی ہیں۔اگر سفر میں بھی صرف جمع صوری کی اجازت ہے توپھر یہ سہولت تو نہ ہوئی۔اس کا جواب کیا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جمع حقیقی تو کسی صورت جائز نہیں اور بلا عذر جمع صوری بھی جائز نہیں ہے،کیونکہ قرآن و حدیث میں نمازوں کے اوقات کو متعین کیا گیا ہے،ان کی محافظت و پابندی ضروری قرار دی ہے اور بلا عذر خلاف ورزی سے منع کیا گیا ہے،چنانچہ متعدد آیات و روایات میں نمازوں کو ان کے مستحب اوقات سے آگے پیچھے پڑھنے پر سخت نکیر کی گئی ہے،چنانچہ اس سلسلہ کی چند آیات و احادیث مندرجہ ذیل ہیں

إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء:103)

حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (البقرۃ:238)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا الْآخِرِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»(المستدرک علی الصحیحین:1/297،قدیمی کتب خانہ )

عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَى بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الكَبَائِرِ»(جامع الترمذی:1/145،رحمانیہ لاھور)

لہٰذا نمازوں کو ان کے مستحب اوقات میں ادا کرنا چاہیے،البتہ سفر وغیرہ کا عذر ہو تو پھر جمع صوری کی اجازت دی گئی ہے۔

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442//2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:85

اگرورثہ میں والدین کے ساتھ زوج یا زوجہ ہو تو پہلے زوج یا زوجہ کا حصہ نکال کر ما بقی سے والدہ کو ثلث دیا جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ اس صورت میں والدہ کو ثلث کل کیوں نہیں دیا جاتا،ثلث باقی کیوں دیا جاتا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

قرآنِ کریم میں ہے :”فان لم یکن لہ ولد و ورثہ ابواہ فلامہ الثلث (النساء:11)“اگر میت کی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں تہائی حصے کی حق دار ہے۔
اس آیت میں ”و ورثہ ابواہ فلامہ الثلث“کا مطلب یہ ہے کہ والدین کا جو حصہ ہوگا اس میں سے ایک ثلث ماں کو اور دو ثلث باپ کو ملے گا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ماں کو ثلث باقی دیا جائے،ورنہ تو خلافِ نص لازم آئے گاوہ اس طرح کہ

(1)

جب میت کی بیوی ،والد اور والدہ زندہ ہوں اور ام کو ثلث کل دیں تو

ماں کو بارہ میں سے 4 اور باپ کو 5 ملے گا،اس طرح ماں کا حصہ باپ سے تھوڑا سا کم ہوگاجو کہ نص کے خلاف ہے

(2)

اور جب میت کا شوہر ،والد اور والدہ زندہ ہوں اور ام کو ثلث کل دیں تو
ماں کو 6 میں سے 2 اور باپ کو 1 ملے گا،اس طرح ماں کو باپ سے دو گنا ملے گااور یہ بھی خلافِ نص ہے۔
اور” للذکر مثل حظ الانثیین“ والے اورقرآنی ضابطے کا تقاضابھی یہی ہے کہ ماں کو ثلث باقی دیا جائے نہ کہ ثلث کل۔
چنانچہ جب ماں کو ثلث باقی دیں گے تو دونوں صورتوں کی تقسیم یوں ہوگی:
دونوں صورتوں میں ماں کو باپ کے حصے کا نصف ملا ہے اور دونوں کے حصے کے اعتبار سے باپ کو دو تہائی اور ماں کو ایک تہائی ملا ہےاور یہ نص کے مقتضیٰ کے بالکل مطابق ہے۔

لما فی دلیل الوارث علی ھامش السراجی:(29،البشری کراچی)
زوج وابوین:للزوج النصف ،و للام ثلث ما بقی ،فیکون المسألۃ من ستۃ ،فیعطی الثلاثۃ للزوج ،ویبقی ثلاثۃ ،اعطینا الام ثلث مابقی من فرض الزوج وھو واحد ،و یبقی الاثنان اعطیناھما الاب وھوضعف نصیب الام ،وانما لا تعطی الام ھھنا ثلث الکل لئلا یلزم ان یکون نصیب الام ضعف نصیب الاب ،وھو غیر جائز اتفاقا
وفی الفقه الاسلامی و ادلته:(10/7788،رشیدیة کوئٹہ)
” الثالثة – ثلث الباقي إذا كان مع الأبوين أحد الزوجين، وهي المسألة العمرية أو الغراء، كما في زوج وأب وأم، أو زوجة وأب وأم، ففي الأولى للزوج النصف ثلاثة من ستة وللأب الباقي تعصيباً، وللأم ثلث الباقي بعد فرض الزوج، وهو سهم من ستة. وفي الثانية للزوجة الربع من 12 لعدم الفرع الوارث وللأب الباقي تعصيباً وهو ستة، وللأم ثلث الباقي وهو ثلاثة أسهم….. والدليل:
1
 قوله تعالى: {فإن لم يكن له ولد، وورثه أبواه فلأمه الثلث} [النساء:11/ 4] إذ يجب أن يكون المراد بالثلث فيه ثلث مايستحقه الأبوان، لا ثلث جميع المال، لئلا يكون قوله: {وورثه أبواه} [النساء:11/ 4] خالياً عن الفائدة، وثلث مايستحقانه هنا هو ثلث الباقي بعد فرض أحد الزوجين.
2
 لو أخذت الأم هنا ثلث جميع المال، لكان لها ضعف الأب، إن كان معهما زوج، أو قريب من نصيبه لو كان معهما زوجة، وهذا لايتفق مع النص الذي يقتضي أن يكون للأنثى نصف الذكر
وکذافی البحر الرائق:(9/371، رشیدیة کوئٹہ) وکذافی تبیین الحقائق:(6/231،امدادیة ملتان)
وکذافی تفسیر المظھری:(2/23،رشیدیة کوئٹہ) وکذافی تفسیر ابی سعود:(2/124،الوحیدیة پشاور)
وکذافی الکشاف:(1/483،نشر البلاغة سوق القدس) وکذافی التفسیر الکبیرللرازی:(3/516،علوم اسلامیہ لاھور)
وکذافی الاکلیل علی مدارك التنزیل:(2/541،دار الکتاب العلمیة بیروت)

واللہ تعالیٰ خیر الوارثین
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1442/2021/1/21
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:173

تقسیمِ ترکہ سے پہلے میت کے بیٹے اپنی بہن کی شادی میت کے ترکہ سے کرنا چاہتے ہیں اور سب ورثہ اس پر راضی بھی ہیں،تو اس کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

کر سکتے ہیں،بشرطیکہ تمام ورثہ عاقل،بالغ ہوں۔

لما فی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/405،رشیدیة کوئٹہ)
وان اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا اذا کانوا بالغین.فان کان فی الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ
وفی الھندیة:(5/344،رشیدیة کوئٹہ)
وان اتخذ طعاما للفقراء کان حسنا اذا کانت الورثۃ بالغین فان کان فی الورثۃ صغیر لم یتخذوا ذلک من الترکۃ
وفیه ایضاً:(6/91، رشیدیة کوئٹہ)
وفی کل موضع یحتاج الی الاجازۃ انما یجوز اذا کان المجیز من اھل الاجازۃ نحو ما اذا اجازہ وھو بالغ عاقل صحیح
وکذافیه ایضاً:(2/444، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التاتارخانیة:(18/176،فاروقیة کوئٹہ)
وکذافی التنویر مع شرحه:(6/656،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی الفقه الاسلامی وادلته:(10/7542، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:164