عبد الوارث فوت ہوا ہے، اس کہ ورثہ میں دو بیٹے تین ماں شریک بہنیں ،دوبیویاں، اور دو چچا ہیں۔ میت کہ ترکہ میں 20 لاکھ نقدی،اور دس کنال زمین ہے ۔ترکہ کی شرعی تقسیم بیان فرمائیں؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جائیدادِ منقولہ(سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ(جیسے ،دوکان،مکان ،فصل وغیرہ)غرض جوبھی چھوٹا،بڑا سامان چھوڑا ہو،نیز مرحوم کا قرض اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے۔(1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے۔اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعاً اس کا نظم کر دیا تو ترکے سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔(2)اس کے بعد میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ واضح رہے اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھااور بیوی نے خوش دلی سے معاف بھی نہیں کیا تھا ، تو وہ بھی قرض شمار ہو گا۔(3)اس کے بعداگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک وصیت پوری کی جائے گی۔(4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچےخواہ زمین ہو،یافصل وغیرہ، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔
کل ترکہ کے16برابرحصےبنا کران میں سےایک حصہ(٪6.25)ہربیوی کواور 7حصے(٪43.75)ہرایک بیٹےکو دے دیے جائیں ماں شریک بہنوں اور چچا کو کچھ نہیں ملے گا۔
سوال میں مذکور20 لاکھ نقدی میں سےہر بیوی کو 125000روپے اور ہر بیٹے کو 875000 روپے دیے جائیں گے۔
اور دس کنال زمین میں سے ہربیوی کو12∙5مرلہ اور ہر بیٹے5∙ 8۔

 

لمافی القرآن المجید:( النساء:12)
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَھنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصیّۃٍتُوصُونَ بِھاأَوْ دَیْنٍ
وفی التنویر:(10/544،رشیدیہ)
فیفرض للزوجۃ فصاعداً الثمن مع ولد او ولد ابن
وفی الھندیة:(6 /450، رشیدیہ)
و یسقط أو لاد الام بالولدوان کان بنتا و ولدالابن والاب والجد بالاتفاق
وفی التاتارخانیہ:(20/241،فاروقیہ)
الاخت لام صاحبۃ سھم اذا لم یکن للمیت ولدوابن ولد وان سفلت ولا اب ولا جد اب الاب وان علا واذا کان للمیت واحد من ھؤلاء فلا سھم لھا
وکذا الموسوعةالفقھیة:(3/36،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(10/7798،رشیدیہ)

واللہ خیر الوارثین
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/9/1442/2021/4/29
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:125

آدمی نے اپنی زمین کی کاشت کے لیےایک مزدور آٹھویں حصے پر رکھا ہوا ہے ، پیدا وار آنے کے بعد کیا مالک زمین اس مزدور کے حصے سے عشر ادا کر سکتا ہے یا وہ مزدور خود اداکر ے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مزدور پر عشر لازم نہیں ہوتا ،لہذا تمام پیدا وار کاعشر مالک ہی ادا کرے گا ۔

لما فی بدا ئع الصنا ئع :(2/174،رشید یة)
وعن ابی حنیفۃ :فیہ روایتان :فی روایۃ العشر فی الخا رج ،وفی روا یۃ :علی رب المال ، و لو دفعھا مزار عۃ فأما علی مذھبھما فا لمزا رعۃ جا ئز ، و العشر یجب فی الخا رج،و الخا رج بینھما فیجب العشر علیھما
وفی ر د المحتا ر:(2/335،سعید)
و الحا صل ان العشر عند الا مام علی رب الارض مطلقا و عند ھما کذ لک لو البذ ر منہ و لو من العا مل فعلیھما و بہ ظھر ان ماذ کر ہ الشا رح ھو قو لھمالما علمت من أ ن الفتوی علی قو لھما بصحۃ المزار عۃ فافھم… أن المزا ر عۃ جائزۃ عند ھما و العشر یجب فی الخا رج و الخا ر ج بینھما فیجب العشر علیھما…و فائد ۃ ذلک السقو ط بالھلاک اذا نیط بالعین و عد مہ ا ذا نیط با لذ مۃ و أوجبا و معھما أحمد العشر علیھما بالحصص لسلا مۃ الخا ر ج لھما حقیقۃ فکان ینبغی للشارح متا بعۃ ما فی أ کثر الکتب ثم اعلم أن ھذا کلہ فی العشر أما الخرا ج فعلی رب الأر ض اجماعا
وفی رد المحتا ر : (2 /335 : سعید)
فا لخارج لہ اما تحقیقا أو تقد یرا لأن البذر ان کان من قبلہ فجمیع الخار ج لہ و للمزا رع أجر مثل عملہ و ان کان من قبل المزا رع فا لخا رج لہ ولر ب الأرب أجر مثل أر ضہ الذی ھو بمنز لۃ الخا رج الاان عشر حصتہ فی عین الخا رج و عشر حصتہ المزا رع فی ذمۃ رب الأ رض
وفی التا تا ر خا نیة: (3 /281، فارو قیة)
و ان دفع أرضہ العشر یۃ مزا رعۃ ان کا ن البذ رمن قبل العا مل فعلی قیاس قو ل أبی حنیفۃ یکون العشر علی صا حب الارض کما فی الا عارۃ ،و عند ھما فی الزرع کما فی الا جارۃ ، و ان کا ن البذ ر من قبل صا حب الأ رض کا ن العشر علی صا حب الأ رض فی قو لھم
وکذافی البحر الر ائق :(2/413،رشید یة)
وکذا فی حا شیة الطحطا وی علی الدر:(1/421،رشید یة)
وکذا فی الھند یة:(1/187،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:58

عمرہ کرتےوقت اگرآخرمیں بال کٹوانے سے پہلے اگرکوئی مزید طواف کرناچاہے توکرسکتاہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں !کرسکتاہے،مگربلاعذر بال کٹوانے میں تاخیر ناپسندیدہ ہے۔

لما فی التنویرمع الدر:(2/554،سعید)
او حلق فی حل بحج)… )أو عمرۃ( لا ختصاص الحلق بالحرم( لا)دم( فی معتمر) خرج (ثم رجح من حل) الی الحرم( ثم قصر)
وفی الشامیة:( 2/554،سعید )
و أما حلق العمرۃ فلا یتوقت بالزمان اجماعا
وفی الھدایة:(1/257،رشیدیة)
والحلق فی العمرۃغیر موقت بالزمان بالاجماع لان اصل العمرۃلایتوقت بہ
وکذا فی البحرالرائق:(2/586،رشیدیة)
وکذا فی منحةالخالق:( 2/587،رشیدیة )
وکذا فی الھندیة :(1/227، رشیدیة)
وکذا فی ارشاد الساری:(59،فاروقیة)
وکذا فی الخانیةعلی ھامش الھندیة:(1/293، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/1202/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:144

ایک عورت کو طلاق ہوئی ہے ،اس کی بیٹیاں کم عمرہیں ۔پوچھنا یہ ہے کہ ماں کب تک اپنی بیٹیوں کو پرورش وغیرہ کے لئے رکھ سکتی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نوسال تک۔

لما فی الموسوعة:(17/314،علوم اسلامیة)
و تظل الحضانۃ علی الأنثی قائمۃ حتی تبلغ بالحیض أو الا حتلام أو السن ، وھذا کما فی ظاھر الروایۃ ان کانت الحاضنۃ الأم أو الجدۃ ، أما غیر الأم والجدۃ فانہن أحق بالصغیرۃ حتی تشتھی ، و قدر بتسع سنین و بہ یفتی .و عن محمد أن الحکم فی الأم والجدۃ کالحکم فی غیرھما ، فتنتھی حضانۃ النساء مطلقا أما أو غیرھا ، علی الصغیرۃ عند بلوغھا حد الاشتھاء الذی قدر بتسع سنین ، والفتوی علی روایۃ محمد لکثرۃ الفاسد
وفی التنویر مع الدر :(3/566،سعید)
و الأم والجدۃ) لأم أو لأب (أحق بہا )بالصغیرۃ(حتی تحیض) ای تبلغ فی ظاھر الروایۃ…( و غیرھما أحق بہا حتی تشتھی) و قدر بتسع ،وبہ یفتی،وبنت احدی عشرۃ مشتہاۃ اتفاقا زیلعی (وعن محمد أن الحکم فی لأم و الجدۃ کذلک )وبہ یفتی لکثرۃالفاسد
وکذافی اللباب:(2/218،قدیمی)
وکذا فی التاتار خانیة:(5/273،فاروقیة)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/243،دار احیاءتراث)
وکذا فی الھندیة:(1/542،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق :(4/287، رشیدیة )
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/213،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/1202/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:143

ایک شخص کا آپریشن ہوا تھا اس دو ران ڈکٹروں سے کو ئی رگ کٹ گئی یا کچھ ا ور مسئلہ ہوا اب اس کی حالت یہ ہے کہ اسے جب احتلام ہو تو منی با ہر نہیں نکلتی ،جبکہ اسے انزال کا بخو بی احساس ہو تا ہے ،تو اس پر غسل واجب ہو گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صور تِ مسئو لہ میں غسل فر ض نہیں ہوگا۔

لما فی الھند یة:(1/14،رشید یة)
اذا احتلم الر جل و انفصل المنی من مو ضعہ الا أنہ لم یظھر علی رأس الاحلیل لا یلزمہ الغسل
وفی الخانیة علی ھامش الھند یة:(1/43،رشید یة)
اذا احتلم الر جل و انفصل المنی عن مو ضعہ الا أنہ لم یظھر علی رأس الاحلیل لا یلز مہ الغسل لأن الجنا بۃ تتعلق بخروج المنی و ھو الا نتقال من مو ضع الی مو ضع یلحقہ حکم التطھیر
وکذافی منحة الخالق علی البحر الرائق :(1/107،رشید یة)
وکذا فی البزا زیة:(4/11،رشید یة)
وکذا فی رد المحتار :(1/159،سعید)
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/147،رشید یة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(1/231،دار احیاء تراث)
وکذا فی التاتا ر خا نیة:(1/283،فا رو قیہ )
وکذا فی خلا صة الفتاو ی :(1/13،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب غفر لہ ولو الد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:164

اگرمحرم کے ہاتھ کے کچھ حصہ پر خوشبولگ جائے، جبکہ لگنے والی خوشبو کافی مقدار میں ہو تو دم لازم ہوگا یاصدقہ ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر خوشبو کی مقدار کم ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کامل عضوپر لگ جائے تو دم لازم ہوگا ،اگر کامل عضو پر نہیں لگی توصدقہ لازم ہوگا اوراگر خوشبو کی مقدار زیادہ ہے تو اس کاحکم یہ ہے کہ اگرچوتھائی عضو پر بھی لگ جائے توبھی دم لازم ہوگا ،چوتھائی عضو سے کم پر صدقہ لازم ہوگا ۔
صورت مسئولہ میں چونکہ خوشبو کی مقدار زیادہ ہے تو اگر چوتھائی ہاتھ پر لگی ہے تو بھی دم لازم ہوگا اگر چوتھائی ہاتھ سے کم پر لگی ہے تو صدقہ لازم ہوگا۔

لما فی الھندیة:(1/241،رشیدیة)
والصحیح أن یوفق و یقال ان کان الطیب قلیلا فالعبرۃ للعضو لاللطیب حتی لو طیب بہ عضوا کاملا یکون کثیرا یلزمہ دم وفیما دونہ صدقۃ ،وان کان الطیب کثیرا فالعبرۃ للطیب لاللعضو حتی لو طیب بہ ربع عضو یلزمہ دم
وفی ار شاد الساری :(346،فاروقیة)
ثم ان کان الطیب قلیلا فالعبرۃ للعضو )ای لا بالطیب( وان کان )ای الطیب (کثیرا فالعبرۃبالطیب )ای لا بالعضو ، وھذا ہو الصحیح کما قالہ شیخ الاسلام وغیرہ توفیقا بین الأقوال حیث قالوا :اذا ا ستعمل طیبا کثیرا فاحشا فعلیہ دم وان کان قلیلا فصدقۃ
وکذافی غنیة الناسک:(244،ادارةالقرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع :(2/418،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(3/4،رشیدیة)
وکذا فی ردالمحتار :(2/545،سعید)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/588،فاروقیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:142

در یا فت طلب امو ر یہ ہے کہ کیا” اللہ پا ک قیا مت کے دن علما ء سے فر ما ئیں گے کہ دنیا میں جو ہو گیا سو ہو گیا تمہیں میں نے علم اس لئے نہیں دیا تھا کہ تمہیں عذ اب دو ں گا ،چلو جنت میں“ یہ حد یث ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہا ں اسی طر ح کا مضمون احاد یث میں ملتا ہے ۔ چنا نچہ مجمع الز وا ئد میں ہے

 

و عن ثعلبۃ بن الحکم ، قال :قا ل رسو اللہ صلی اللہ علیہ و سلم :(یقو ل اللہ عز وجل للعلما ء یوم القیا مۃ اذا قعد علی کر سیہ لفصل عبا دہ :انی لم ا جعل علمی و حلمی فیکم الا وأنا أ رید أ ن اغفر لکم علی ما کا ن فیکم و لا أ با لی)رو اہ الطبر انی فی الکبیر ،ورجالہ مو ثقو ن،(مجمع الز و ائد 1/168.دارالکتب العلیۃ)

تر جمہ:اللہ تعا لی جب قیامت کے دن بند وں کےدر میا ن فیصلہ فر ما ئیں گے تو علما ء سے فر ما ئیں گے کہ میں نے تمہیں اپنا علم اور حلم اس لئے دیا کہ تمہاری بخشش کر دو ں

وفی التر غیب و التر ہیب :(1/57،رشید یة)
و عن ثعلبۃ بن الحکم ، قال :قا ل رسو اللہ صلی اللہ علیہ و سلم :یقو ل اللہ عز وجل للعلما ء یوم القیا مۃ اذا قعد علی کرسیہ لفصل عبا دہ :انی لم ا جعل علمی و حلمی فیکم الا وأنا أ رید أ ن اغفر لکم علی ما کا ن فیکم و لا أ با لی)رو اہ الطبرانی فی الکبیر ،و راتہ ثقات
وکذافی رد المحتا ر :(1/48،سعید )
وکذا فی المعجم الکبیر:(1/354،دا ر الکتب العلمیة)
وکذا فی المعجم الا وسط:(5/145،المعا رف)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قا سم خا ن ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:43

اگر قرآن پاک غلاف میں ہو تو کیا اس کو بلا وضوپکڑ سکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جو غلاف قرآن پاک کے ساتھ متصل نہ ہو بآ سانی جدا ہو جاتا ہو ایسے غلاف کے ساتھ قرآن پا ک کو بلا وضو پکڑ سکتے ہیں اور جوغلا ف متصل ہو (یعنی سلا ہوا ہو )اس کے ساتھ بلا وضو پکڑنا جا ئز نہیں ۔

لما فی الھند یة:(1/38،رشید یة)
ومنها) حرمة مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مسالمصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به، هو الصحيح.
وفی بدائع الصنائع:(1/141،رشید یة)
قال – صلى الله عليه وسلم -لا صلاة إلا بوضوء ، ولا مس المصحف من غير غلاف عندنا،… ثم ذكر الغلاف، ولم يذكر تفسيره، واختلف المشايخ في تفسيره فقال بعضهم: هو الجلد المتصل بالمصحف وقال بعضهم: هو الكم، والصحيح أنه الغلاف المنفصل عن المصحف، وهو الذي يجعل فيه المصحف وقد يكون من الجلد وقد يكون من الثوب، وهو الخريطة، لأن المتصل به تبع له فكان مسه مسا للقرآن، … فأما المنفصل فليس بتبع، حتى لا يدخل في بيع المصحف من غير شرط
وکذافی التنو یر مع الدر:(1/173،سعید)
وکذا فی التاتار خانیة:(1/270،فارو قیة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(1/219،دار احیاء ترا ث)
وکذا فی الجو ھرة النیرة:(89،قدیمی)
وکذا فی القدو ری:(14،الخلیل)
وکذا فی الھدایة:(1/64،رشید یة)
وکذا فی الفقہ الا سلامی واد لتہ:(1/450،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولوالد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/6/1442/2021/2/13
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:171

امام نے”قا لو لا طاقۃ لنا بجا لو ت“ میں ”لا “نہیں پڑ ھا تو نما زہو گئی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صو رت مسئو لہ میں معنی بالکل تبد یل ہو جا نے کی وجہ سے نما زنہیں ہو ئی لہذا اس نما ز کا اعادہ وا جب ہے ۔

لما فی الھند یة :(1/79،رشید یة)
و منھا) حز ف حر ف …وان غیّر المعنی تفسد صلا تہ عند عا مۃ المشا یخ نحو ان یقرأفما لھم یؤ منو ن فی لا یؤ منو ن بترک لا
وفی الفقہ الا سلا می و ا دلتہ :(2/1037،رشید یة)
تبطل الصلاۃ بکل ما غیّرالمعنی تغیرا یکون اعتقا دہ کفرا ، بکل ما لم یکن مثلہ فی القر آن ، و المعنی بعید متغیر تغیر اً فاحشاً ، …وتبطل أ یضاً عند أ بی حنیفۃ و محمد بما لہ مثل فی القرآن ،و المعنی بعید ، و لم یکن متغیراً تغیر اً فا حشاً
وکذافی الخا نیةعلی ھامش الھند یة:(1/154،رشید یة)
وکذا فی البزا زیة علی ھامش الھند یة:(4/45،رشید یة)
وکذا فی رد المحتا ر :(1/632،سعید)
وکذا فی خلاصة الفتا وی :(1/112،رشید یة)
وکذا فی التاتا رخا نیة:(2/102،فارو قیة)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(2/72،دار احیاء ترا ث)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(1/257،الطار ق)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:57

فر ض نما ز کے بعد اجتما عی د عا کی شر عی حیثیت کیا ہے ؟ یہ اجتما عی دعا کا عمل کب شر وع ہو ا ؟ تفصیلی جو اب مطلوب ہے ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

فر ض نما ز و ں کے بعد مطلقا د عا ما نگنے کی تر غیب تو حد یث سےثا بت ہے البتہ اجتما عی طو ر پر دعا ثا بت نہیں ، لیکن اس کو سنت یا مستحب شما ر کیے بغیر ،اجتما عی د عا کی صو رت بن جا ئے تو کو ئی حر ج بھی نہیں ۔

لما فی جا مع التر مذ ی:(2/662،ر حما نیة)
عن ابی أ مامۃ قال قیل یا رسو ل اللہ ای الد عا ء اسمع… قا ل جو ف اللیل الآ خر ود بر الصلو ات المکتو با ت
وفی فیض البا ری :(6/225،رشید یة)
لا ر یب ان الأ د عیۃ دبر الصلو ات قد تو ا تر ت تو ا ترا لا ینکر أ مّا ر فع الأ ید ی ، فثبت بعد النا فلۃ مرّۃ ، او مر تین ،فأ لحق بھا الفقہا ء المکتو بۃ ایضاً .و ذ ھب ابن تیمیۃ ،و ابن القیم الی کو نہ بد عۃ. بقی ان المو اظبۃ علی ام لم یثبت عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم الا مرّۃ او مر تین کیف ھی ؟فتلک ھی الشا کلۃفی جمیع المستحبا ت ، فا نھا تثبت طورافطو راثم الأ مۃ تواظب علیھا .نعم نحکم بکو نھا بد عۃ اذا افضی الأمر الی النکیر علی من تر کھا
وکذافی مر قاة الفا تیح:(3/50،التجا ریة)
وکذا فی عمل الیو م و اللیل :(52،مکة المکر مة)
وکذا فی مشکوٰة المصا بیح :(1/90،ر حما نیة)
وکذا فی اعلا ء السنن:(3/206،ادار ة القرآن )

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:44