فجر کی دو رکعت سنت اگر رہ جائیں تو طلوع کے بعد ان کی قضا کا کیا حکم ہے ؟ اور آیا یہ سنت شمار ہوں گی یا نفل ؟اسی طرح ظہر کی پہلی چار سنتیں رہ جا ئیں تو ان کی قضا کا کیا حکم ہے ؟ کیا وہ بھی سنت شمار ہوں گی یا نفل ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئو لہ میں اگر فجر کی صرف سنتیں رہ جائیں تو بہتر یہ ہے کہ طلو ع کے بعد زوال سے پہلے پہلے پڑھ لی جائیں کیو نکہ روایات میں ان کی بہت تا کید آئی ہے ،البتہ یہ نفل شمار ہو نگے ،اور ظہر کی رہ جانے والی پہلی سنتو ں کی فرض کے بعد ادائیگی میں تو اتفاق ہے ،اور سنت یا نفل ہونے میں اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ سنتیں شمار ہونگی ۔

لما فی رد المحتار :(2/57،سعید)
قولہ ولا یقضیھا الا بطر یق التبعیۃ الخ )ای لا یقضی سنۃ الفجر الا اذا فاتت مع الفجر فیقضیھا تبعا لقضائہ لو قبل الزوال ، ومااذا فا تت وحد ھا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع ، لکرا ھۃ النفل بعد الصبح .وأما بعد طلو ع الشمس فکذ لک عند ھما …وقال الخلاف فی أنہ لو قضی کان نفلا مبتدأ او سنۃ ، کذا فی العنا یۃ یعنی نفلا عند ھما سنۃ عند ہ.
وفی البنایة:(2/685،رشید یة)
لأن عائشۃ رضی اللہ عنھا روت ان علیہ السلام فاتتہ الأربع قبل الظہر فقضا ھا بعد ہ… ثم اختلفوا ھل یکو ن الأربع الذی یقضیہ بعد الظھر فی الو قت ھل تکون سنۃ او نفلا مبتدأ… وقیل یکون سنۃ وھو قول صاحبیہ و ھو الأظھر
وکذافی التاتار خانیة:(2/302،فارو قیة)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/58،سعید)
وکذافی البحر الر ائق:(2/132،رشید یة)
وکذافی المحیط البر ھانی :(2/234،دار احیاء تراث)
وکذافی حاشیة الطحطاوی علی الدر:(1/300،رشید یة)
وکذافی ملتقی الأبحر :(1/211،المنار)
وکذافی فتح القد یر :(1/292،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/6/1442/2020/1/18
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:200

حضرت مفتی صاحب!(1) کیا عورتیں نمازِ جنازہ پڑھ سکتی ہیں؟ (2)عور توں کو قبر ستان جانےکی اجازت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

موجودہ پر فتن دور میں عورتوں کا جنازہ میں باقاعدہ شریک ہونا درست نہیں البتہ اگر مکمل پردے میں رہتے ہوئے کبھی کوئی صورت پیدا ہو جائے جیسے حرمین میں ہوتا ہے تو شرکت کی اجازت ہو گی (2) اس مسئلہ میں فقہاءِ کرام کا اختلاف ہے ا کثر فقہاء عورتوں کو قبرستان جانے سے مطلقا منع کرتے ہیں جبکہ بعض اس کی اجازت بھی دیتے ہیں۔
ہماری رائے اس مسئلہ میں یہ ہے کہ عورتوں کو مطلقا تو جانے کی اجازت نہیں البتہ کبھی کبھار محرم کے ساتھ یا ایک دو عورتیں مل کر کسی محرم یا قریبی رشتہ دار کی زیارت کے لئے جائیں تو اس کی گنجائش معلوم ہو تی ہے ،اس میں یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ عورتیں گروہ بنا کر ،ٹولیوں کی شکل میں نہ جائیں۔

لما فی الھندیة:(1/162،رشیدیة)
ولا ينبغي للنساء أن يخرجن في الجنازة وإذا كان مع الجنازة نائحة أو صائحة زجرت فإن لم تنزجر فلا بأس بأن يمشي معها؛ لأن اتباع الجنازة سنة فلا يتركه لبدعة من غيره ولا يقوم للجنازة إلا أن يريد أن يشهدها
وفیہ ایضا:(5/350، رشیدیة)
واختلف المشايخ رحمهم الله تعالى في زيارة القبور للنساء قال شمس الأئمة السرخسي – رحمه الله تعالى – الأصح أنه لا بأس بها
وکذافی البحر الرائق:(2/342، رشیدیة)
قال في البدائع، ولا بأس بزيارة القبور …..وقيل تحرم على النساء والأصح أن الرخصة ثابتة لهما
وکذا فی اعلاء السنن:(8/348،ادارة القرآن)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/45،رشیدیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/348،الطارق)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1570، رشیدیة)
وکذا فی رد المحتار:(2/242،سعید)
وکذا فی الولوالجیة:(1/167،الحرمین)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(24/88،علومِ اسلامیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/6/1442/2020/2/10
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:163

عطاء محمد“ اور”عطاء حسین“ نام رکھنا کیساہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

عطاء کا معنی ہے” عطیہ“”بخشش“اس اعتبار سے عطاء محمد ، عطاء حسین، کا معنی ہوگا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا عطا کردہ ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عطاکردہ ، جبکہ اولاد تو اللہ تعالی کی عطا ہوتی ہے لہذا یہ نام رکھنا درست نہیں۔

لما فی مشکوة المصابیح:(2/422،رحمانیہ)
وعن ابی الدرداء قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تدعون یوم القیٰمۃ باسمائکم واسماءاٰبائکم فاحسنوا اسمائکم
وفی فتح الباری:(10/707،قدیمی)
أخرجہ مسلم من حدیث المغیرۃ بن شعبۃ عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال :انھم کانوا یسمون بأسماء انبیائھم والصالحین قبلھم
وکذافی السنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362،رشیدیة)
وکذافی تحفة الاحوذی:(8/128،قدیمی)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/535،التجاریة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:118

زید کی بہن سمیہ عمرو کے نکاح میں ہے زید اور عمرو میں کچھ اختلافات تھے تو زید نے اپنی بہن کو گھر بلایا اورکہا اگرمیں اس کو کل اس کے خاوند کے ساتھ جانے دوں تو میری بیوی کو تین طلاق۔ زید کا ماموں اس کی بہن کورات کے وقت ہی زبردستی لے گیا تو اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں شرط) شوہرکے ساتھ کل جانا)نہیں پائی گئی اس لیے طلاق نہیں ہوگی ۔

لما فی المبسوط:(6/117،دارالمعرفة)
وان قال أنت طالق قبل قدوم فلان بشھر فقدم فلان قبل تمام الشھر لم تطلق لأنہ أضاف الطلاق الی وقت منتظر وہو اول شھر یتصل بآخرہ قدوم فلان فیراعی وجود ھذا الوقت بعد الیمین ولم یوجد
وفی المحیط البرھانی:(5/13،داراحیاءتراث)
ولو قال لامرأتہ أنت طالق قبل دخولک الداربشھر اوقال لھاأنت ِطالق قبل قدوم فلان بشھر فدخلت الدارأو قدم فلان قبل تمام الشھر من وقت الیمین لاتطلق لان الطلاق( الضاف الی وقت موصوف بصفۃ ینصرف )الی وقت فی المستقبل
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/502،رشیدیہ)
وکذافی القدوری:(/174،الخلیل)
وکذافی البزازیةعلی ھامش الھندیة:(4/246،رشیدیہ)
وکذافی الھندیہ:(1/420،رشیدیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(3/203،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(4/569،فارقیہ)
وکذافی ردالمحتار:(3/364،ایچ ایم سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/183،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/4/1442/2020/12/12
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:34

خلوت سے معلوم ہوا کہ شوہر نامرد ہے تو عورت اس سے طلاق کا مطالبہ کررہی ہے ، اگر وہ طلاق دے دے تو عورت پر عدت ہوگی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں!اس صورت میں بھی عورت پر عدت لازم ہوگی ۔

لما فی الفقہ الا سلامی وادلتہ:(9/7056،رشید یة)
وإن كان التفریق بعد الدخول أو بعد الخلوۃ، فتجب العدۃعلى المرأۃ إذا أقر الزوج أنہ لم یصل إلیھا،ویجب لھا المھركلہ إن دخل بھا أو خلا بھاخلوۃ صحیحۃ ؛ لأن خلوۃ العنین صحیحۃ تجب بھا العدۃ
وفی الھدایة:(2/400،رشید یة)
وإذا كان الزوج عنینا أجلہ الحا کم سنۃ …ولھا کمال مھر ھا ان کان خلابھا فان خلوۃ العنین صحیحۃ ویجب العدۃ
وفی بدائع الصنائع :(2/632، رشید یة)
ولنا إجماع الصحابۃ رضی اللہ عنھم فانہ روی عن عمر رضی اللہ عنھ أنہ: (قضی فی العنین أنہ یؤجل سنۃ، فإن قدر علیھاوإلا أخذت منہ الصداق كاملا )وفرق بینھما وعلیھا العدۃ
وکذافی الھندیة :(1/524، رشید یة)
وکذا فی التاتارخانیة :(4/320،فاروقیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/214،الطارق)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/238،دار احیاءتراث)
وکذا فی مجمع الانھر:(2/637،المنار)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:106

کچھ علماءکرام شراب کے نشے میں طلاق کو نافذ نہیں کر تے را جح بات کو نسی ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

را جح قو ل یہی ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی ۔

لما فی الھند یة:(ا/353،رشید یة)
وطلاق السکران وا قع اذا سکر من الخمر او النبیذ وھو مذ ھب اصحا بنارحمھم اللہ تعالی
وفی الخانیة علی ھا مش الھند یة:(1/470،رشید یة)
طلاق المکرہ وا قع عند نا خلا فا للشا فعی رحمہ اللہ تعا لی وکذا طلاق السکران من الخمر او النبیذ
وکذافی الھد ایة:(2/337،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنائع :(3/158،رشید یة)
وکذا فی کتاب الفقہ :(3/220،الحقانیه)
وکذا فی التاتا ر خانیة:(4/394،فارو قیة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(4/391،دار احیاء تراث)
وکذا فی الفقہ الاسلا می وادلتہ :(9/6883،رشید یة)
وکذا فی خلاصة الفتا وی :(2/75،رشید یة)
وکذا فی الفتاوی السرا جیة:(217،زمزم)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب غفر لہ ولوا لد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:167

ایک صاحب سنت کی نیت سے اپنے پاس عصارکھنا چاہتے ہیں تو اس کی مسنون مقدار بیان فرما دیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

عصا کی لمبائی کے متعلق شمائل کبری میں لکھا ہے

حضرت موسی علیہ السلام کا عصا ان کی قامت کے برابر تھا جوبارہ ہاتھ تھا ایک قول میں اس کی لمبا ئی دس ذراع تھی جو آپ کی قامت سے کم تھا۔فائدہ :اس سے معلوم ہوا کہ عصاکی لمبا ئی عصا رکھنے والے کی قامت کے برابر ہو سکتی ہے اس سے چھوٹی بھی ہو سکتی ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے عصاکی لمبائی کا علم نہ ہوسکا ۔ (شمائل کبری:2/402 ،زمزم)

لما فی البحر المحیط:(6/221،دار الکتب العلمیة)
و ھذہ العصا أخذھا من بیت عصی الأنبیاء التی کا نت عند شعیب حین اتفقاعلی الرعیۃ ھبط بہاآدم من الجنۃ وطولھا عشرۃ أذرع وقیل اثنتا عشرۃ بذراع مو سی علیہ السلام
وفی روح المعانی :(16/174،داراحیاء التراث العربی)
وقال وھب :کانت من العوسج وطولھا عشرۃ أذرع علی مقدار قامتہ علیہ السلام وقیل اثنتاعشرۃ ذراعا بذراع مو سی علیہ السلام

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:119

ایک باوضوآدمی کے جسم سے خون کی بو تل حاصل کی جائے تو کیا اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ؟جبکہ یہ خون جسم پربہا نہیں ہے، بلکہ بذریعہ سرنج صرف خون والی تھیلی میں پہنچا ہے ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں جسم سے نکل کر دوسری جگہ قرار پکڑ لینا یہ بہنے ہی کے حکم میں ہے ،لہذا اس سے وضو ٹوٹ جائیگا۔

لما فی المحیط البر ھانی :(1/197،دار احیاء تراث)
العلقۃ اذا أخذت بعض جلد انسان و مصت حتی امتلأت من دمہ بحیث لو سقطت لسال انتقض الوضوء لأن الدم فیہ سائل
وفی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/38،رشیدیة)
اذامصتہ العلقۃ وامتلأت من الدم نقض الوضوء لانھا لو شقت لخرج منھادم سائل والقراد اذاکان صغیر ا فھو بمنزلۃ البعوض والذباب لا ینقض الوضوء وان کان کبیرا یخرج منھا دم سائل فھو بمنزلۃ العلقۃ
وکذافی الھندیة:(1/197،رشیدیة)
وکذا فی فتاوی النوازل :(50،الحقانیة)
وکذافی الفتاوی السراجیة:(30،زمزم)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(1/17،رشید یة)
وکذافی التاتار خانیة :(1/45،فاروقیة)
وکذافی البزازیة:(4/12،رشیدیة)
وکذافی فتح القدیر:(1/40،رشیدیة)
وکذافی الولوالجیة :(1/47،الحرمین شریفین)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/5/1442/2020/12/27
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:90

اگر کوئی شخص ہا تھوں سے با لکل معذور ہو جائے تو کو ئی اور شخص اس کے زیر ناف بال صاف کر سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئو لہ میں اگر یہ شخص واقعتاً معذو ر ہے تو اس کی بیو ی اس کے با ل صاف کر دے یا کوئی اور شخص ہاتھ پر دستانہ پہن کر اور نطر کی حتی الا مکان حفا ظت کر تے ہوئے اس کے بال صاف کر سکتا ہے ، ایسے معذور کے لیے یہ بھی جا ئز ہے کہ وہ بال صفا پوڈر خود یا دوسرے کی مدد سے استعمال کرے ۔

لما فی المبسوط :(10/156،دار المعر فة)
اذا جاء العذر فلا بأس بالنظر الی العو رۃ لا جل الضرورۃ فمن ذلک ان الخاتن ینظر ذلک الموضع والخا فضۃ کذ لک تنظر لأن الختان سنۃ وہو من جملۃ الفطرۃ فی حق الر جال
وفی خلا صة الفتاوی :(4/440،رشیدیة)
ولا یجوز النظر الی العورۃ الا عند الضرورۃ و ہی الا حتقان والختان والمداواۃ والولاد ۃ و البکا رۃ فی العنۃ و الر د با لعیب
وکذافی فتح الباری :(10/422،قد یمی)
وکذا فی الھند یة:(5/358،رشید یة)
وکذا فی التاتار خانیة:(18/213،فارو قیة)
وکذا فی البحر الرائق:(8/375،رشید یة)
وکذا فی المو سو عة الفقھیة :(29/235،علوم اسلا میة)

واللہ اعلم بالصو اب
عبد الوہا ب غفر لہ ولوالد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:170

ایک سرکاری سکول کے چند اساتذہ نے مل کر ایک خادم رکھا ہو ا ہے جس کو وہ ما ہا نہ تنخواہ اپنے پیسوں سے دیتے ہیں ان کا پو چھنا یہ ہے کہ آیا وہ زکوۃ یا عشر کے پیسوں سے اس کو تنخواہ دے سکتے ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زکوۃ یاعشر کی رقم اجرت یامزدوری میں نہیں دی جاسکتی بلکہ کسی مستحق کوبلامعاوضہ دیناچاہیے۔

لما فی الھندیة:(1/190،رشیدیة)
و لو نوی الز کاۃ بما یدفع المعلم الی الخلیفۃ و لم یستأجر ہ ان کان الخلیفۃ بمال لو لم یدفعہ یعلم الصبیان أیضا اجزأہ و الا فلا و کذا ما یدفعہ الی الخدم من الر جال و النساء فی الا عیاد و غیر ھا بنیۃ الزکاۃ
وفی المختصر فی الفقہ الحنفی:(239،البشری)
یجوز أن یدفع الز کاۃالی خدمہ ای :الذین استأجر ھم للخدمۃ ولا یحسب ذلک من أجرتھم
وکذافی الدر المختار:(2/356،ایچ ایم سعید)
وکذا فی البحر الرائق:(2/352،رشیدیة)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/243،رشیدیة)
وکذا فی البزازیة علی ھامش الھندیة:(4/86،رشیدیة)
وکذا فی البنایة:(3/562،رشیدیة)
وکذا فی التاتار خانیة:(3/218،فارقیة)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی:(1/432،رشیدیة)
وکذا فی الاشباہ والنظائر:(1/457،ادارة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفرلہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/5/1442/2020/12/20
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:36