ایک خاتون نےاپنے داماد کو کچھ رقم بطور قرض دی جب وہ واپس کرنے لگا توکہنےلگی کہ ابھی اپنے پاس رکھو جب ضرورت ہوئی میں لے لوں گی اور سا تھ ہی اپنی بیٹی سے کہا کہ اگر میں مر جاؤں تو یہ رقم مسجد میں دے د ینا وہ خاتون فوت ہو گئی اب اس رقم کا کیا کریں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ رقم میت کے تہائی مال سے کم یا تہا ئی مال کے بقدر ہے تو اس وصیت کو پورا کیا جائے گا، لیکن اگر تہائی مال سے زیادہ ہو تو ورثہ کی اجا زت پر مو قوف ہو گی بشر طیکہ ورثہ بالغ ہوں ۔

لما فی المحیط البرھانی:(22/252،دار احیاء تراث)
اذا اوصی بثلث مالہ لأجنبی فھذہ الوصیۃ جائزۃ ولا یحتاج فیھا الی اجازۃ الورثۃ …..وان أوصی با کثر من ثلث مالہ لأ جنبی فھذہ الوصیۃ فیما زاد علی الثلث لا تجوز الا با جاز ۃ الوارث
وفی تنویر الا بصار وشرحہ:(6/650،ایچ ایم سعید)
وتجوز بالثلث لأجنبی )عندعدم المانع (وان لم یجز الوارث ذلک لاالزیادۃ علیہ الا ان تجیز ورثتہ بعد موتہ) . . .(وھم کبار)
وکذافی البحرالرائق:(9/246،رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(19/381،فاروقیة)
وکذافی ملتقی الابحر:(4/418،المنار)
وکذافی الھندیة:(6/90،رشیدیة)
وکذافی المبسوط:(27/144،دارالمعرفة)
وکذافی الصحیح لمسلم:(2/50،رحمانیة)
وکذافی البزازیة:(6/433،رشیدیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(6/422،رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
10/5/1442/2020/12/26
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:89

ایک بڑھیا عو رت کی یاد دا شت بہت کمزو رہو چکی ہے پہلے وہ نما زو ں کی پا بند تھی مگر اب اسے نماز تو یا د ہے مگر رکوع ، سجد ے اور رکعا ت کا پتا نہیں چلتا اب اس بڑ ھیا کےلیےنما ز کا کیا حکم ہے، اگر اس سے نما ز معا ف ہے تو کیا ان نمازوں کا فد یہ دینا ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سوال سےمعلوم ہو تا ہے کہ بڑ ھیا کو رکو ع ،سجد ے اور رکعا ت کی تعد اد میں تر د د اور شک ہو جا تا ہے اگر صو رت حال ایسی ہی ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ یہ بڑ ھیا ایک اور دو یا دو اور تین میں شک کی صو رت میں اسے کم پر محمو ل کر کے آخر میں سجد ہ سہو کر لے مثلا اسے یہ شک ہو ا کہ میں نے دو رکعت پڑ ھی ہے یا تین تو و ہ خا تو ن اسے دو فرض کر ے اسی طرح سجد وں میں اگر شک ہو کہ ایک سجد ہ کیا یا دو تو وہ ایک سجد ہ سمجھتے ہو ئے ایک اور سا تھ ملالے اور آ خر میں سجد ہ سہو کر لے لیکن اگر نسیا ن کا اس قد ر غلبہ ہے کہ ضبط رکعا ت پر اور رکوع وسجو د میں تمییز پر با لکل قا در نہیں تو نما زذ مہ سے سا قط ہے ، اور اس مر ض کی و جہ سے رہ جا نے و الی نما زو ں کا فد یہ بھی لا ز م نہیں ہو گا۔

لما فی الد ر المختا ر مع الرد:(2/688،رشید یة)
و لواشتبہ علی مر یض أ عد اد الر کعات و السجد ات لنعا س یلحقہ لا یلزمہ الأد ی) قا ل ابن عا بد ین تحت (ولو اشتبہ علی مریض الخ) ای: بأ ن وصل الی حا ل لا یمکنہ ضبط ذ لک ، ولیس المر ا د مجر د الشک و الا شتبا ہ ؟ لأ ن ذ لک یحصل للصحیح
وفی البحر الر ائق :(2/205،رشید یة)
و لو کا ن یشتبہ علی مر یض أ عد اد الر کعات و السجد ات لنعا س یلحقہ لا یلزمہ الأد ی، و لو ادا ھابتلقین غیر ہ ینبغی أ ن یجز ئہ
وکذافی النھر الفا ئق :(1/334،قد یمی )
وکذا فی الھند یة :(1/137،رشید یة)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/423،الحقا نیة)
وکذا فی الخا نیة :(1/172،رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(1/196،رشید یة)
وکذا فی البزا ز یة :(4/70،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/2021/3/20
جلد نمبر: 24 فتوی نمبر:46

کیا چھو ٹے بچو ں کی نماز کا لعد م ہو تی ہے چھو ٹے نابالغ بچے اگر نماز پڑھ رہے ہو ں کیا ان کے آگے سے گزرسکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیا

چھوٹے بچو ں کی نماز معتبر ہے اگر چہ فرض نہیں لہذا نماز کے ادب کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے آگے نہ گز راجا ئے۔

لما فی التجرید :(2/859،محمو د یة)
احتجوا :بما روی عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم انہ قا ل (مر وا صبیا نکم با لصلا ۃ لسبع ،واضربوا ھم علیھا لعشر ، وفر قوا بینھم فی المضاجع )فد ل علی ان صلا تہ صحیحۃ ، و الا لکان لا یؤ مر بھاولا یضرب علی تر کھا
وفی الاشباہ والنظا ئر :(3/22،ادار ة القر آن )
و تصح عبا دا تہ و ان لم تجب علیہ
وفی حا شیة الطحطا وی :(305،قد یمی )
لأن النبی صلی اللہ علیہ و سلم شرع فی صلا تہ منفر دا ، ثم ا ئتم بہ ابن عبا س ، و أن صلاۃ الصبی صحیحۃ
وکذافی المو سو عة الفقھیة:(27/26،علوم اسلا میة)
وکذا فی النھر الفا ئق :(1/251،قد یمی)
وکذا فی مشکوٰة المصا بیح:(1/59،رحما نیة)
وکذا فی فتح القد یر :(1/369،رشید یة)
وکذا فی جامع التر مزی :(1/186،رحما نیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:169

ایک آ د می نے کہا کہ میں اپنی آمد نی کا بیس فیصد حصہ غر یبو ں پر خر چ کر و ں گا ، اس کے وا لد کے ما لی حالا ت بہت کمز ور ہیں ۔ ا ب کیا یہ بیس فیصد اپنے وا لد پر خرچ کر سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نفلی صد قہ دے سکتا ہے اور اس سے دہر ا اجر ملے گا وا جبی صد قہ مثلا زکوٰۃ وغیرہ نہیں دے سکتا ۔

لما فی بد ائع الصنا ئع:(2/162،رشید یة)
وأما صد قۃ التطو ع فیجوز د فعھا الی ھؤ لاء وا لد فع ا لیھم أو لی لأ ن فیہ أ جر ین أ جر الصد قۃ و أجر الصلۃ
وفی الفقہ الا سلا می و ادلتہ :(3/1970،رشید یة)
اما صد قا ت التطو ع: فیجو زد فعھا ا لا صو ل و الفر وع و الز و جا ت و الا ز واج ، وا لد فع ا لیھم أو لی لأ ن فیہ أ جر ین أ جر الصدقۃ و أجر الصلۃ
وکذافی الشا میة:(2/349،سعید )
وکذا فی حا شیة الطحطا وی علی الدر:(1/426،رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(1/242،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق:(2/425،رشید یة)
وکذا فی النھر الفا ئق :(1/462،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خا ن ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1442/1202/3/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:45

انگو ٹھی کو نسے ہاتھ میں اور کو نسی انگلی میں پہننا مسنون ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انگو ٹھی دونوں ہاتھوں میں پہننا ثابت ہے ،لیکن دا ئیں ہاتھ کی چھنگلی میں پہننا افضل ہے ۔

لما فی مشکوٰة المصا بیح:(2/391،رحمانیة)
وعنه قال: كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم في هذه وأشار إلى الخنصر من يده اليسری
وفی صحیح البخا ری:(2/873،قد یمی)
عن أنس رضي الله عنه قال:ا صطنع النبي صلى الله عليه وسلم خاتما، فقال: إنا قد اتخذنا خاتما، ونقشنا فيه نقشا، فلا ينقشن عليه أحد قال: فإني لأرى بريقه في خنصره
وکذافی شرح الطیبی:(8/248،دارالکتب)
عن أنس أنه قال:كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم في هذه.وأشار إلى الخنصر في يده اليسرى.وروى نافع عن ابن عمر مثله ولا تعارض بينهما؛ لجواز أنه فعل الأمرين فكان يتختم في اليمين تارة، وفي اليسرى أخرى حسبما اتفق، وليس في شيء منهاما يدل صريحا على المداومة والإصرار على واحد منهما (مح) قد أجمعوا على جواز التختم في اليمين وعلى جوازه في اليسار.واختلفوا في أيتهما أفضل، والصحيح في مذهبنا أن اليمين أفضل؛ لأنه زينة، واليمين أشرف وأحق بالزينة والإكرام
وکذا فی شمائل الترمذی:(2/728،رحمانیة)
وکذا فی فتح الباری:(10/398،قدیمی)
وکذا فی سبل الھدٰی والرشاد:(7/326،نعمانیة)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(8/186،التجاریة)
وکذا فی عمدة القاری:(22/37،داراحیاء )

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1442/2020/2/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:165

اقامت کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟یعنی کتنے کتنے کلمات ایک سانس میں کہے جائیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اقامت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو دو کلموں کو ایک سانس میں کہاجائے یعنی ایک سانس میں چار مرتبہ ”اللہ اکبر اللہ اکبر“پھر ایک سانس میں دو مرتبہ ”اشھدان لاالہ الااللہ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ ”اشھدان محمدا رسول اللہ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ”حیّ علی الصلاۃ“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ” حیّ علی الفلاح“ پھر ایک سانس میں دو مرتبہ” قد قامت الصلاۃ“ پھر ایک سانس میں” اللہ اکبر اللہ اکبر“ اور” لاالہ الا اللہ“۔
اقامت اذان کی بنسبت جلدی جلدی کہنی چاہیے اور اقامت میں بھی اذان کی طرح ”حیّ علی الصلاۃ، حیّ علی الفلاح“کہتے وقت دائیں بائیں جانب چہرہ گھمایاجائے۔

لما فی الھندیة :(1/56،رشیدیة)
و یترسل فی الاذان ویحدر فی الاقامۃ وھذا بیان الاستحباب… والترسل أن یقول اللہ اکبر اللہ اکبر ویقف ثم یقول مرۃ أخری مثلہ وکذلک یقف بین کل کلمتین الی آخر الاذان والحدر الوصل والسرعۃ
وفی المحیط البرھامی:(2/93،دار احیاءتراث)
و یترسل فی الاذان ویحدر فی قال علیہ الصلاۃ والسلام لبلال :اذا اذنت فترسل واذاأقمت فاحدر
وکذافی المختصرفی الفقہ الحنفی:(97،البشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/706،رشیدیة)
وکذافی الجوھرة النیرة:(124،قدیمی)
وکذافی اللباب :(1/75،قدیمی)
وکذافی التاتار خانیة:(2/143،فاروقیة)
وکذافی بدائع الصنائع:(1/369، رشیدیة)
وکذافی البحرالرائق:(1/447، رشیدیة)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/9/1442/1202/4/25
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:154

لوگوں سے سنا ہے کہ فجر کی نماز سے لےکر اشراق کے وقت تک جہا ں نماز پڑھی ہے ادھر بیٹھے رہو تو اشراق کی صحیح فضیلت حاصل ہو گی کیا اس کی کو ئی حقیقت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز اشراق کی پو ری فضیلت اور مکمل ثواب کا وہ شخص مستحق ہے جو نماز فجر مسجد میں باجماعت ادا کرے یا بوجہ معذو ری گھر میں پڑھے اور اسی جگہ بیٹھا رہے اورذکر الٰہی میں مشغول رہے پھر وقت مکروہ نکل جانے کے بعد دو رکعت یاچار رکعت اشراق اداکرے ۔البتہ اگر کسی شرعی یا طبعی حاجت کی وجہ سے اپنی جگہ سے اٹھ کر چلاجائے اور پھر حاجت سے فراغت کے بعد نماز اشراق ادا کرلے تو اشراق کے ثواب کو حاصل کر لے گا مگر نسبۃ کم ۔

لما فی السنن ابی داؤد:(1/191،رحمانیہ)
معاذ بن انس الجھنی عن ابیہ ان رسو اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قعد فی مصلی ہ حین ینصرف من صلوٰۃ الصبح حتی یسبح رکعتی الضحی لا یقول الاخیراغفر لہ خطایاہ وان کان اکثر من زبد البحر
وفی عون المعبود :(4/101،قد یمی)
عن سھل بن معاذ بن انس الجھنی)….(من قعد)ای استمر (فی مصلی ہ )من المسجد أو البیت مشتغلا بالذکر او الفکر او مفیدا للعلم او مستفیدا و طائفا بالبیت( حین ینصرف )ای یسلم( من صلاۃ الصبح حتی یسبح) ای الی ان یصلی (رکعتی الضحی) ای بعد طلوع الشمس وارتفاعھا (لا یقول) ای فیما بینھما( الا خیرا )ای و ھو ما یتر تب علیہ الثواب ، واکتفی بالقول عن الفعل (غفر لہ خطا یاہ) ای الصغا ئر و یحتمل الکبائر قال علی القا ری
وکذافی اعلاء السنن :(7/30،ادارة القرآن )
وکذا فی مشکوٰة المصابیح:(1/116،دار الحدیث)
وکذا فی مرقاة المفاتیح:(3/396،التجار یة)
وکذا فی جامع التر مذی :(1/220،رحما نیة)
وکذا فی الصحیح لمسلم :(1/235،قد یمی)
وکذا فی الکتاب المصنف :(2/133،دار الکتب العلمیة)
وکذا فی التر غیب والترھیب : (1/267،رشید یة)
وکذا فی مجمع الز وائد :(2/413،دار الکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب غفر لہ ولو الدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:160

ایک شخص کہتا ہے کہ” السلام “کے”م“ سے پہلے سلام نہیں پھیرنا چاہئے کیونکہ اس سے پہلے انسان نماز میں ہوتا ہے اگر سلام پھیر لے گا تو نماز میں التفاتِ وجہ پایا جائے گا اس لئے السلام کہنے کے بعد چہرہ پھیرنا ضروری ہے،کیا مسئلہ درست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اختتامِ نماز کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دائیں بائیں چہرہ پھیر تے ہوئے السلام علیکم کے کلمات کہے جائیں لہٰذا اس آدمی کی مذکورہ بات کی صراحت فقہاءِ کرام کی عبارات میں کہیں نہیں ملتی اور یہ التفاتِ وجہ اختتامِ صلاۃ کے لئے ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

لما فی الھندیة:(1/76،رشیدیة)
ثم يسلم تسليمتين) تسليمة عن يمينه وتسليمة عن يساره ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه حتى يرى بياض خده الأيمن وفي التسليمة الثانية عن يساره حتى يرى بياض خده الایسر…ويقول: السلام عليكم ورحمة الله
وفی المحیط البرھانی:(2/128،داراحیاء)
فیسلم بتسليمتين تسليمةعن يمينه وتسليمة عن یسارہ ويحول في التسليمة الأولى وجهه عن يمينه وفي التسليمة الثانية عن يساره …..وعندنا يقول: السلام بالألف واللام
وکذافی الھدا یة:(1/104،رشید یة)
وکذا فی فتح القد یر:(1/327،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/502،رشید یة)
وکذا فی التاتار خانیة:(2/188،رشید یة)
وکذا فی ملتقی الا بحر: (1/154،المنار)
وکذا فی منیة المصلی:(101،مجید یة)
وکذا فی رد المختار علی الدر:(2/293،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1442/2021/2/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:166

ایک آدمی نے خانیوال سے ٹکٹ لیا “علامہ ایکسپریس ” کا ،اور “پاکستان ایکسپریس” اس سے پہلے آگئی ، وہ اس میں سوار ہوگیا ۔ کیا اس کا دوسری گاڑی میں سوار ہونا درست ہے ؟ جبکہ دونوں گاڑیوں کا ٹکٹ ایک ہی مالیت کا ہو ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر ریلوے قوانین میں اس طرح کرنے کی صراحۃ یا دلالۃ اجازت ہو اور ٹکٹ بھی دونوں کا ایک ہی مالیت کا ہے ، تو گنجائش ہے ورنہ نہیں۔

لما فی القرآن الکریم:(سورة النساء/آیة،59)
یاایھاالذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(6/4582،رشیدیہ)
ومن المقرر عند الفقھاء ان لولی الامر ان ینھی اباحۃ الملکیۃ بحضر یصدر منہ لمصلحۃ تقتضیہ …..فان طاعۃ اولی الامر واجبۃ
وکذافی بذل المجھود:(19/94،قدیمی)
وکذافی السنن لابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
وکذافی الھندیہ:(4/488،رشیدیہ)
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/331،ادارہ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/9/1442/2021/4/28
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:132

وتر کی پہلی رکعت میں سورہ نصر ، دوسری میں سورہ لہب اور تیسری رکعت میں سورہ اخلاص پڑھنے سے کبھی دانت کمزور نہیں ہونگے۔ کیا یہ بات حدیث سے ثابت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ بات حدیث سےتو ثابت نہیں ہے ، البتہ بعض بزگوں کے مجربات میں اس کا ذکر ملتا ہے جیسا کہ گنجینہ اسرار وغیرہ میں مذکور ہے، اس لیے اس کولازم اور سنت نہ سمجھا جائے۔

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:141