نومولود دس منٹ بعد فوت ہوگیا ، اس کے کان میں اذان نہیں دی گئی ، گھر والوں نے سمجھا کہ چونکہ کان میں اذان نہیں دی گئی اس لیے اس کا غسل اور جنازہ کچھ نہیں اور انہوں نے اس کو دفن کردیا ، ابھی اس واقعہ کو سولی ھنٹے گزرے ہیں ، اب کیا کیا جائے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر غالب گمان ہو کہ اس کا جسم ابھی تک سلامت ہے تو صورت مسئولہ میں نماز جنازہ اس کی قبر پر پڑھا جائے ، اور غسل ساقط ہوگا۔

لما فی التنویر مع الدر:(2/224،سعید)
وان دفن) واھیل علیہ التراب بغیر صلاۃ او بھا بلاغسل او ممن لاولایۃ لہ( صلی علی قبرہ) استحسانا (مالم یغلب علی الظن تفسخہ)من غیر تقدیر والاصح
وفی الولوالجیة:1(155/،حرمین)
اذادفن قبل ان یغسل ویصلی علیہ یصلی عی قبرہ لانہ صار بحال تعذر غسلہ
وفی البدائع:(2/55،رشیدیہ)
والآن فات الامکان فسقطت الطھارۃ فیصلی علیہ اما قبل مضی ثلاثۃ ایام فلما روینا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی علی قبر تلک المراۃ
وکذافی المبسوط:(2/69،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(3/79،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/163،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1442/2020/12/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:1

ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا ، دوسرے نے اس سے کچھ پوچھا ، تو نماز پڑھنے والے نے جواب میں سر سے اشارہ کیا ۔ اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نماز ہوگئی ہے ، لیکن ایسا کرنا مکروہ (خلاف اولی )ہے۔

لما فی الھندیة :(1/98،رشیدیہ)
طلب من المصلی شیئاً فاشار بیدہ او براسہ بنعم او لا ، لاتفسد صلاتہ ھکذا فی التبیین و یکرہ
وفی الدر المختار:(2/644،سعید)
لاباس بتکلیم المصلی واجابتہ براسہ کمالوطلب منہ شیئ او اری درھما وقیل اجید ؟ فاوما بنعم او لا
وکذافی ردالمحتار : (1 644/ ،سعید)
وکذا فی حاشیة الطحطاوی :(1/272،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق :(2/14،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق :(1/157،امدادیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/969،رشیدیہ)
وکذا فی غنیة المتملی:(1/351،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/ 1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:139

کیا لڑکی کا نکاح اس کی امی اور ابو دونوں کے باپ شریک چچا سے ہوسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں لڑکی کا نکاح اس کےوالدین کے باپ شریک چچا سے نہیں ہوسکتا ، کیونکہ یہ لڑکی شخص مذکور کی بھتیجے و بھتیجی کی اولاد میں آتی ہے ۔

لمافی التاتارخانیة:(4/47،فاروقیہ)
وابنۃ الاخ حرام وھی علی ثلاثۃ اصناف ابنۃ الاخ لاب وام او لاب او لام
وفی الخانیة:(1/360،رشیدیہ)
اما المحرمات بالنسب ما نص اللہ تعالی وکذالک بنات الاخ وان سفلن
وکذافی المبسوط:(4/199،بیروت)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/29،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(3/164،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(1/476،المنار)
وکذافی الھندیة:(1/273،رشیدیہ)
وکذافی البدائع:(2/530،رشیدیہ)
وکذافی الھدایة:(2/287،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:142

ایک آدمی نے نظر کے پیسے دینے ہیں ، اس کا بھائی اور بھتیجا مستحق ہیں ، لیکن ان کا کھانا پینا اکٹھا ہے ۔ کیا وہ ان کو نظر کے پیسے دے سکتا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دے سکتا ہے ۔

لما فی حاشیة الطحطاوی :(1/426،رشیدیہ)
وھذا الحکم لایخص الزکاۃ بل کل صدقۃ واجبۃ کالکفارات وصدقۃ الفطر و لایجوزدفعھا الیھم و من سوی ما ذکر یجوز الدفع الیھم کلاخوۃ و الاخوات و الاعمام ……الفقراء بل ھم اولی لما فیہ من الصلۃ مع الصدقۃ
وفی الفقہ الاسلامی:(3/1970،رشیدیہ)
ویجاز الدفع الی بقیۃ الاقارب الفقراء غیر المذکورین کالاخوۃ والاخت ….. لحدیث الطبرانی عن سلیمان بن عامر الصدقۃ علی المسکین صدقۃ وھی لذی الرحمۃ اثنتان صدقۃ وصلۃ
وکذافی الھندیة : ( 1/190 ،رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق :(2/425،رشیدیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی :(3/11،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار :(2/346،سعید)
وکذافی الدر المختار:(2/350،سعید)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین کان اللہ لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/ 1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:140

محمد مھدی” نام رکھنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جائز ہے ۔

لما فی فتح الباری:(10/707،قدیمی)
اخرجہ مسلم من حدیث المغیرۃ بن شعبۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال انھم کانوا یسمون باسماء انبییآءھم والصالحین قبلھم
وفی:(التاتار خانیہ18/228،فاروقیہ)
روی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال سموا اولادکم اسماء الانبیآء
وکذافی فیض القیر:(4/148،دارالکتب)
وکذافی ردالمحتار:(9/688،رشیدیہ)
وکذافی الھندیة:(5/362، رشیدیہ)
وکذافی مرقاة المفاتیح:(8/526،تجاریہ)
وکذافی الموسوعة:(11/339،علوم اسلامیہ)
وکذافی السنن لابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
وکذافی اسد الغابة:(3/1175،وحیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:6

ایک شادی شدہ شخص اپنی بیوی کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اپنے چچازاد بھائیوں کے سامنے آئے ،جبکہ بیوی یہ کہتی ہے کہ وہ میرے بھائیوں کی طرح ہیں آپ کے ذہن میں صرف شک ہے ۔ شوہر کا مطالبہ ہے کہ وہ کبھی وہاں نہ جائے جہاں اس کے چچازاد بھائی موجود ہوں ، جب جب کوئی ایسا موقع آئے کہ اس لڑکی کے بھائی یا بہن یا ماں باپ کے ہاں کسی قسم کی خوشی یا غمی ہو ، تب تب ان دو(میاں بیوی ) کے درمیان بڑی حد تک لڑائی ہوجاتی ہے اور بات طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔ اب شادی کو دو سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور دوبچے بھی ہوگئے ہیں ، اب شوہر لڑائی اور فساد سے تنگ آکر یہ کہتا ہے کہ تم نے ماں ،باپ اور بہن بھائیوں کےگھر اس صورت میں نہیں جانا جس صورت میں وہاں تمھارے چچازاد بھائی موجود ہوں حتی کہ اگر اس کا باپ بھی فوت ہوجائےیا کوئی بھی خوشی کا موقع ہو ،ورنہ شوہر کہتا ہے کہ اگر بیوی آئیندہ پھر چچازاد بھائیوں کی موجودگی میں وہاں جاتی ہے تو شوہر کوئی سخت فیصلہ کرنے پر مجبور ہوجائے گا ۔ علمائے کرام رہنمائی فرمائیں؟ (نوٹ) شوہر اپنی بیوی کو اس کے بھائی ،بہن اور ماں باپ سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں لگاتا، مگر صرف ان حضرات کے سامنے جانے سے منع کرتا ہے جن سے ملنا اس کو ناپسند ہے اور وہ نامحرم بھی ہیں۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں نامحرم رشتہ داروں سے بے پردہ ملاقات کرنا ، شوہر کی اجازت سے بھی جائز نہیں ہوتی چہ جائیکہ شوہر کی اجازت ہی نہ ہو ؟ اور بلاوجہ شوہر کی نافرمانی ، عورت کو بسا اوقات لعنت جیسی سخت سزا کی مستحق بنادیتی ہے ،اس لیے عورت کو چاہیے کہ جائز امور میں شوہر کی خوشی کو ترجیح دیکر اخروی بشارتوں کی مستحق بنے ، البتہ شوہر کو بھی چاہیے کہ اعتماد کی فضاء پیدا کرکے محبت و نرمی سے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے ۔ اور مصلحت کے ساتھ اسے پردہ کی تلقین کرے ۔

لما فی السنن لابن ماجة:(1/248،رحمانیہ)
عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال لو امرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المراۃ ان تسجد لزوجھا ولو ان رجلا امر امراۃ ان تنقل من جبل احمر الی جبل اسود ومن جبل اسود الی جبل احمر لکان نولھا ان تفعل
وفی الدرالمختار:(3/603،سعید)
ویمنعھا من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ وان اذن کانا عاصیین
وکذافی ردالمحتار:(3/603،سعید)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(3/529،قدیمی)
وکذافی الھندیة:(1/557،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(2/268،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(4/331،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(2/187،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:133

اگر ایک آدمی والدین سے لڑائی جھگڑا کرکے اپنے بیوی بچوں کو لے کر کسی اور شہر میں چلا گیا ہو ، اور اس لڑائی کی جڑ اس کی بیوی ہو ، بعد میں اس کے والد کا انتقال ہوگیا اورمیراث میں اس کا بھی حصہ تھا جو اسے مل گیا یعنی والد کے گھر میں تمام بہن بھائیوں کا نام رجسٹرڈ ہوگیا تھا ۔ پھر وہ شخص بیرون چلاگیا اور اس کے تین بچے اور بیوی اسلام آباد میں تھے اور والد کی وراثت والا گھر کسی دوسرے شہر میں تھا جس میں اس کی والدہ اور دوسرے بہن بھائی تھے۔ پھر اس شخص کی اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے صلح ہوگئی ، لیکن بیوی کی نہیں ہوئی ۔ پھر اس شخص نے بیرون سے اپنی والدہ کو رقم بھیجی کہ وہ اس کے لیے پلاٹ خریدے ۔ اس کی والدہ نے وہ پلاٹ اپنی مطلقہ بیٹی کے نام سے پاکستان میں خریدا تاکہ بعد میں اس کی بیوی کوئی مسئلہ نہ پیدا کردے ، اس بات کا اس شخص کو بھی پتہ تھا ، لیکن اس نے اپنی مطلقہ بہن کو حق ملکیت نہیں دیا تھا اور والدہ سے کہا تھا کہ جب وہ پاکستان آئے گا تو قانونی طور پر اسے اپنے نام کروائے گا لیکن اب اس شخص کا پاکستان آکر انتقال ہوچکا ہے ۔ والد کی باقی وراثت میں اس کے بیوی بچے اپنا حصہ لے چکے ہیں کیونکہ قانوناً وہ گھر ان کے والد کے تھے ۔ لیکن اب (1)کیا اس پلاٹ پر بہن کا حق ہے جس کے نام پر وہ پلاٹ خریدا گیا ؟ (2)کیا وہ اس پلاٹ کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال کرسکتی ہے ؟ (3)اس شخص کی والدہ اور بہن بھائیوں کی خواہش ہے کہ یہ پلاٹ مرحوم کے بیوی ،بچوں کو نہ دیں ؟ (4) کیا اس پلاٹ پر درس بناکر مرحوم کے لیے صدقہ جاریہ کیا جاسکتا ہے ؟ (5)اور کیا اس کی بہن کی وفات کے بعد (جوکہ مطلقہ ہے اور کوئی اولاد بھی نہیں) یہ پلاٹ اس کے ترکہ میں شامل ہوگا ؟ مرحوم کے بیوی بچے چونکہ شرپسند ہیں اور اس کے بہن بھائیوں کو ان سے اپنی عزت ، جان اور مال کا بھی خطرہ ہے کیونکہ مرحوم کی وفات کے بعد اس کی بیوی اور بچوں نے مرحوم کے بہن بھائیوں پر قتل کا مقدمہ کردیا تھا جس پر بہن بھائیوں کو شدید ذہنی، جسمانی اور مالی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ بہن بھائی بالکل بےقصور تھے اورمرحوم کے بچے اپنے والد کی قبرکشائی پر بضد تھے ۔ اور والدہ سے مرحوم نے تین لاکھ قرض بھی لیا تھا جو اس نے واپس نہیں کیا اور وفات کے بعد وارثین بھی نہیں دیا ۔

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

مرحوم نے وقتی ضرورت یا مصلحت کے پیش نظر پلاٹ اپنی بہن کے نام لگوایا ، مالک بنانا مقصود نہ تھا ، لہذا اس پلاٹ پر بہن کا حق نہیں ، بلکہ مرحوم ہی اس کا مالک تھا ۔(2)بہن اس کو بیچ کر اس کا پیسہ استعمال نہیں کرسکتی۔(3)بہن بھائی مرحوم کے بیوی، بچوں کو اس پلاٹ سے محروم نہیں کرسکتے۔(4)چونکہ یہ پلاٹ بہن کی ملکیت نہیں ہے ، اس لیے اس کے مرنے کے بعد اس کا ترکہ شمار نہیں ہوگا ۔(5)مرحوم کے وفات پاتے ہی چونکہ یہ پلاٹ ورثاء کی ملکیت میں آچکا ہے ، اس لیے ان کی رضامندی (جبکہ وہ تمام بالغ ہوں)کے بغیراس پلاٹ یا اس کی قیمت کو صدقہ،خیرات وغیرہ میں لگانا جائز نہیں ہے ۔
البتہ اگر مرحوم اپنی والدہ کا مقروض تھا ، تو والدہ اپنے قرض کے بقدر پلاٹ کاحصہ یا رقم لے سکتی ہیں ۔

لما فی الدر المختار:(6/463،سعید)
اعلم ان اسباب الملک ثلاثۃ ناقل کبیع وھبۃ وخلافۃ کارث واصالۃ وھو الاستیلاء حقیقۃ …او حکمابالتھیئۃ
وفی ردالمحتار:(4/508،سعید)
الثالثۃ ، لوکان مقبوضا فی ید المشتری امانۃ لایمکہ بہ
وفی الھدایة:(3/360،رحمانیہ)
ویباع فی الدین النقود ثم العروض ثم العقار یبدا بالایسر فالایسر لما فیہ من المسارعۃ الی قضاء الدین مع مراعاۃ جانب المدیون
وفیہ ایضاً:(4/651،رشیدیہ)
ولاتجوز بمازاد علی الثلث ……الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ وھم کبار لان الامتناع لحقھم
وکذافی الھندیة:(3/567،رشیدیہ)
وکذافی شرح الاشباہ والنظائر:(3/133،ادارةالقرآن)
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/279،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(5/432،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1442/2021/3/11
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:177

موبائل پر بغیر وضوء کے قرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جی ہاں کرسکتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ وضوء کرلیا جائے۔

لما فی التنویر مع الدر:(1/173،سعید)
ویحرم بہ (تلاوۃ القرآن)….( ومسہ)…. (الا بغلاف)
وفی البدائع:(1/140،رشیدیہ)
ولامس المصحف من غیر غلاف عندنا
وفی الفقہ الاسلامی:(1/626،رشیدیہ)
واستثنی الحنفیۃ حالۃ مس القرآن بغلاف متجاف عن القرآن
وکذافی الجوہرة:(1/89،قدیمی)
وکذافی المحیط البرہانی:(1/402،بیروت)
وکذافی بذل المجھود:(2/141،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/5/1442/2020/12/24
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:93

سرفراز نامی شخص کا انتقال ہوا ۔ اس نے ورثا ء میں ایک بیٹا (خالد ) ، چار بیٹیاں ، میمونہ ، سکینہ ،پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ پھر بیٹی میمونہ کا انتقال ہوا اس نے ورثاء میں ایک بھائی (خالد)اور تین بہنیں سکینہ ،پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ پھر سکینہ کا انتقال ہوا ۔ جس نے ورثاء میں ایک بھائی (خالد ) دو بہنیں پروین اور زاہدہ چھوڑی ہیں ۔ مرحوم سرفراز کا ترکہ ابھی تک تقسیم نہیں ہوا ۔اس کا ترکہ اس کے مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیا

مرحوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ(جیسے:سونا،چاندی،زیورات اور کپڑے وغیرہ)اور غیر منقولہ (جیسے: دکان،مکان اور فصل وغیرہ)غرض چھوٹا/ بڑا جو بھی سامان چھوڑا،نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا۔اس کے بعدمیت کے ترکہ کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتاہے:1)سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والےجائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔2)اس کے بعد مرحوم کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی مال سے وہ ادا کیا جائے گا،خواہ قرض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے۔ 3)اس کے بعد مرحوم نے اگر کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی۔4)ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے، اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا:
مرحوم سرفراز کی کل جائیداد کے 60 برابر حصے کرکے زندہ رہ جانے والے ورثاء میں سے خالد کو 30حصے (٪50)، پروین کو 15حصے (٪25)اور زاہدہ کو 15حصے (٪25)دیے جائیں۔

فی القرآن الکریم:(النساء:11)
یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً :(سورة النساء/آیة،176)
وان کانوا اخوۃ رجالا ونساء فللذکر مثل حظ الانثیین
وفی السراجی:(1/8،شرکت علمیہ)
واما لبنات الصلب فاحوال ثلاث النصف للواحدۃ …….ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین
وفیہ ایضاً:(1/32،شرکت علمیہ)
ولوصار بعض الانصباء میراثا قبل القسمۃ کزوج وبنت وام فمات….. قبل القسمۃ…. فالاصل فیہ ان تصحح مسئلۃ المیت الاول وتعطی سھام کل وارث من التصحیح ، ثم تصحح مسئلۃ المیت الثانی وتنظر بین مافی یدہ من التصحیح الاول وبین التصحیح الثانی
وکذا فی التنویر:(6/801،سعید)
وکذا فی التنویر مع الدر:(6/775،سعید)
وکذافی السراجی:(1/10،شرکت علمیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیر الدین بن شین گل عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/7/1442/2021/3/13
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:6

ایک آدمی کے ورثاء میں صرف ایک بہن ، چھ بھانجے اور چار بھانجیاں ہیں ۔ مکمل ترکہ بہن کو ملے گا یا بھانجے اور بھانجیوں کو بھی ملے گا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

مکمل ترکہ بہن کو ملے گا ، کیونکہ ذوالفروض اور عصبات نہ ہو ں تو باقی بچ جانے والا ترکہ ذوی الفروض پر لو ٹایا جاتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(10/7741،رشدیہ)
ذووالارحام وھم اقارب المیت الذین لیسو ذوی فروض ولاعصبۃ ….ویرث ھؤلاءاذا لم یکن للمیت احد من اصحاب الفروض
وفی الھندیة:(6/459،رشیدیہ)
وانما یرث ذووالارحام اذالم یکن احد من اصحاب الفروض ممن یر دعلیہ ولم یکن عصبۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(10/7737،رشیدیہ)
وکذافی الشریفیہ:(1/8،شرکت علمیہ)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(4/219،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/791،سعید)
وکذافی مجمع الانھر:(4/496،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/5/1442/2021/1/11
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:136