قر آن کر یم میں کہیں لکھا ہو تا ہے”وقف لا زم “اورکہیں”وقف غفر ان “اور کہیں ”وقف جبریل“اور کہیں ”وقف النبیﷺ“ اور کہیں” وقف المعانقہ“ان کا کیا مطلب اورکیاحکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حضر ت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ معارف القرآن میں”رموز اوقاف“ کی وضاحت کرتے ہوئےفرماتے ہیں :
” م :یہ ”وقف لازم“ کا مخفف ہے،اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہاں وقف نہ کیا جائے تو آیت کے معنی میں فحش غلطی کا امکان ہے،لہٰذا یہاں وقف کرنا زیادہ بہتر ہے ۔
وقف النبیﷺ :یہ ان مقامات پر لکھا جاتا ہے جہاں کسی روایت کی رو سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرتﷺنے تلاوت کرتے ہوئے اس جگہ وقف فرمایا تھا۔
مع :یہ”معانقہ“ کا مخفف ہے یہ علامت اس جگہ لکھی جاتی ہے جہاں ایک ہی آیت کی دو تفسیریں ممکن ہیں، ایک تفسیر کے مطابق وقف ایک جگہ ہوگا اور دوسری تفسیر کے مطابق دوسری جگہ، لہٰذا ان میں سے کسی ایک جگہ وقف کیا جا سکتا ہے ،لیکن ایک جگہ وقف کرنے کے بعد دوسری جگہ وقف کرنا درست نہیں۔“ (معارف القرآن:1/47،ادرۃ المعارف)
قاری محمد اسما عیل صاحب امر تسر ی اپنی کتاب ”تفہیم الو قوف“ میں وقف جبر یل اور وقف غفر ان کی کچھ اس طرح وضاحت فرماتے ہیں :
”وقف جبر یل علیہ السلا :ایک ایسا وقف ہے جو خصو صیت کے ساتھ جبر یل امین کی طرف منسوب ہے اور آپ (علیہ السلام)سے منقو ل ہے وقف جبر یل علیہ السلام جس کو وقف منزل بھی کہتے ہیں وہ وقف ہے جہاں پر نزول قرآن کے وقت جبریل علیہ السلام نے وقف کیا ہے اور اتباعا لجبر یل امین علیہ السلام رسول الصادق الامین صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی وقف فر مایاہے بناء ًعلیہ خواص ِامت ،علماء صلحاء اور قرآء استحبا با اس پر وقف کیا کر تے ہیں ….اور وقف جبر یل بارہ آیات میں منقول ہے ( سورۃ بقرۃ :120،146،174)،(العمران: 7، 94)،(المآ ئدہ: 52)،(الا نعام: 36،124)، (الا عراف :187)،(التوبۃ: 101)،(یٰس: 52)، اور (الملک: 19)۔
وقف غفران:ایک وقف سماعی ہے جو معنوی اعتبار سے ایسے محل پر واقع ہو تاہے کہ اگر واقف اور سا مع وہاں پر دعا ء مانگے ، تو قبول ہوجاتی ہے وقف غفران دس مقامات پر مروی ہے( المآ ئدہ:51)، (الا نعام:36)،( الم سجدہ:18)میں دو مرتبہ ، (یٰس: 12،30، 52، 61، 81)، اور( الملک:19)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قا سم خان ڈیر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:17

دودھ سے وضو کیا جا سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

دودھ سے وضو کر نا د ر ست نہیں ۔

لما فی الھند یة :(1/21،رشید یة)
لا یجو ز التو ضؤ بما ء البطیخ و القثاء والقتد و لا بما ءالو رد و لا بشئ من الا شر بۃ و لا بغیر ھا من الما ئعا ت نحو الخل
وفی المختصر الفقہ الحنفی :(48،رشید یة)
لو خالط اللبن الماء فان کا ن لو ن اللبن غا لبا: لا یجو ز الو ضو ء بہ ، و ان لم یکن غا لبا جا ز
وکذافی فتح القد یر :(1/78،رشید یة)
وکذا فی البحر الرا ئق :(1/128،رشید یة)
وکذا فی بدا ئع الصنا ئع :(1/94،رشید یة)
وکذا فی اللباب :(1/43،رشید یة)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/38،الحقا نیة)
وکذا فی التا تارخا نیة :(1/342،فا ر و قیة)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(1/276،دار احیا ء ترا ث)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قا سم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:59

ہارون کے بارے میں احمد نے گواہی دی کہ اس نے میر ے رو برومنگل کے دن اپنی بیوی کو طلاق دی اور عبد الحسیب کہتا ہیکہ ہارون نے میرے سا منے اپنی بیوی کو اتوار کے دن طلاق دی ہے ۔جبکہ ہارون طلاق دینے سے منکر ہے ۔کیا طلاق واقع ہوئی کہ نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسؤلہ میں اگر دونوں گواہ عادل ہیں توان کی گواہی معتبر ہے ، طلا ق واقع ہو جائیگی ۔

لما فی المحیط البر ھانی :(3/158،دار احیاء تر اث)
أو اختلفا فی المز مان و فی المکان ،بأن شھد احد ھما أنہ طلقھا یوم (الجمعۃ وشھد الآ خر أنہ طلقھا یوم السبت ، …تقبل شھاد تھما
وفی الھند یة :(3/508،رشید یة)
و کذ لک فی الطلاق و لو شھد أحد ھما أنہ طلقھا الیوم واحد ۃ و الآ خر أ نہ طلقھا أمس …جازت شھاد تھما و لا تبطل الشھا دۃ با ختلاف الشا ھد ین فیما بینھما فی الایام و البلد ان
وفی المبسو ط :(6/147،دار المعر فة)
و اذا شھد شاھدان علی رجل أنہ طلق امرأ تہ ثلا ثا و جحد الز وج و المرأ ۃ ذلک فر ق بینھما
وکذافی التا تا ر خا نیة:(5/116،فارو قیة)
وکذا فی الو لوا لجیة:(2/98،الحر مین)
وکذا فی الخا نیة :(5/478،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنا ئع:(5/420،رشید یة)
وکذا فی فتح القد یر:(7/414،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:16

پہاڑی علاقوں میں پہاڑوں پر گھاس خود بخود اُگ آتی ہے ،وہ زمین جس کی ملکیت ہو تی ہے وہ اس گھاس کوفرخت کر تا ہے اور دوسروں کو کا ٹنے سے منع کر تا ہے ۔اس کا گھا س کو فر وخت کر نا اور دو سروں کو منع کر نا کیسا ہے ؟الناس شرکاء فی ثلاث والی رو ایت کی وجہ سے ممنوع کہنا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر مالک زمین خود رُو گھاس کی دیکھ بھا ل کر تا ہے اور اسے پا نی و غیرہ لگا نے کی مشقت اٹھا تا ہے تو اس گھاس کو بیچنا جائز ہے اور لوگوں کو اس کے کاٹنے سے منع کر نادرست ہے اور اگر گھا س خود بخود اُگ آئی اور مالک زمین نے اس کی دیکھ بھا ل کے لئے کو ئی محنت و مشقت نہیں کی تو اس کی بیع جا ئز نہیں دوسرے لو گ بھی اس گھاس کو کاٹ سکتے ہیں مگر مالک زمین کو یہ حق حاصل ہے کہ لو گوں کو اپنی اس زمین میں داخل ہو نے سے روک دے تو اس پر لازم ہے کہ گھاس کاٹ کر طالب کے حوالہ کر ے ۔

لما فی الھند یة:(3/109،رشید یة)
ولا یجو ز بیع الکلأو اجارتہ و ان کان فی أر ض مملو کۃ غیر ان لصاحب الأر ض أن یمنع الدخول فی أرضہ و اذا امتنع فلغیرہ أن یقول ان لی فی أرضک حقا فاما أن توصلنی الیہ او تحشہ و تد فعہ لی ھذا اذا نبت بنفسہ فلمااذا کا ن سقی الأرض و اعدّھا للا نبات فنبت ففی الذ خیر ۃ وا لمحیط والنوازل یجوز بیعہ لأنہ ملکہ
وکذافی فقہ البیوع :(1/334،معارف القرآن )
وکذا فی التنو یر وشرحہ:(5/66،سعید)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(9/321،دار احیاء تراث)
وکذا فی التاتار خانیة:(8/328،فارو قیة)
وکذا فی بدائع الصنائع :(4/339،رشید یة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(4/52،الطارق)
وکذا فی الخا نیة :(2/134،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق :(2/134،رشید یة)
وکذا فی شرح العینی:(2/34،ادار ة القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:161

مرغی کا خراب انڈا جس میں بچے کاوجود شروع ہو چکا ہو کپڑوں پر گر کر ٹوٹ گیا تو کیا کپڑے نا پاک ہو جائیں گے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔

لما فی التاتار خانیة:(1/443،فاروقیة)
البیضۃ اذا مذرت من غیر أن یحضنھا الدجاج تنجست
وفی الموسو عة الفقھیة:(8/267،علوم اسلامیة)
البیضۃ المذر(وھوالفاسد بوجہ عام اذا استحالت البیضۃ دما صارت نجسۃعند الحنفیۃ والمالکیۃ والحنابلۃ فی الصحیح من مذھبھم
وکذافی کتاب الفقہ :(1/21،الحقانیة)
وکذا فی المختصرفی الفقہ الحنفی:(78،البشری)
وکذا فی البنایة:(1/341،رشیدیة)
وکذا فی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/21، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:107

مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:(1) ایک آ د می کسی دوسر ےشخص سے جس کی آ مد نی با لکل حلا ل ہے ، قر ض لیتا ہے اور پھر اس قرض کی اد ا ئیگی اپنی حرام کمائی سے کر تا ہے تو کیا ایسا کر نا در ست ہے؟(2) قر ض خو اہ کے لئے اس حر ا م ما ل سے قر ض و ا پس لینا جا ئز ہے؟(3) کیاقرض لینے وا لے کے لئے لیا ہو ا قر ض حلا ل ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

(1)

حلال مال سے قرض لیا ہوا حرام مال سے لوٹا ناجائز نہیں بلکہ اس حرام مال کو تو صدقہ کر ناچاہیے۔(2) قر ض خوا ہ کو اگر معلو م ہو کہ ما ل حرا م ہے تو اس کے لئے لینا مکرو ہ ہے اور اگر معلو م نہ ہو تو لینا جا ئز ہے۔(3) قر ض لینے وا لے کے لئے لیا ہو اما ل حلا ل ہے۔

لما فی الھند یة :(5/367،رشید یة)
و لو کا ن الد ین لمسلم علی مسلم فبا ع المسلم خمرا و أخذ ثمنھا و قضا ہ صا حب الد ین کر ہ لہ أن یقبض ذ لک من د ینہ
وفی بد ائع الصنا ئع :(4/308،رشید یة)
مسلم با ع خمرا و أخذ ثمنھاوعلیہ د ین یکر ہ لصا حب الد ین أ ن یأ خذ ہ منہ …ووجہ الفر ق: أن بیع الخمر من المسلم باطل لأ نھا لیست بمتقو مۃ فی حق المسلم فلا یملک ثمنھا فبقی علی حکم ملک المشتر ی فلا یصح قضا ء الد ین بہ
وفی رد المحتا ر :(5/99،سعید)
فان علم عین الحر ام لا یحل لہ و یتصد ق بہ بنیۃصاحبہ و ان کا ن ما لا مختلطا مجتمعا من الحر ام و لا یعلم أ ربا بہ و لا شیاً منہ بعینہ حل لہ حکما ، و لأ حسن د یا نۃ التنز ہ عنہ
وکذافی البزا زیة:(5/125، رشید یة)
وکذا فی الفقہ الا سلا می واد لتہ:(4/2687، رشید یة)
وکذا فی خلا صة الفتا وی :(4/352، رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق:(8/369،رشید یة)
وکذا فی فقہ البیوع :(2/1006،معارف القرآن )
وکذا فی التا تار خا نیة:(18/251،فا رو قیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قا سم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:146

چندافرا د قید ہیں تو کیا جیل میں جمعہ کے دن ظہر کی نماز ادا کر سکتے ہیں ؟ (2)ظہر کی نماز ضروری تھی ، جمعہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟(3)جمعہ کی نما ز ضرو ری تھی ، مگرظہر کی نماز پڑھ لی تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگرجیل ایسی جگہ ہے جہاں جمعہ کی شرائط پائی جائیں تو جمعہ پڑھنا جائز ہے ،اگر جیل ایسی جگہ ہے جہاں جمعہ کی شرائط نہیں پائی جاتیں تو جمعہ پڑھنا جائز نہیں ہے ۔(2) ظہر کی نماز ضروری تھی( دیہات میں) لیکن جمعہ پڑھ لیا تو جمعہ جائز نہیں ، بلکہ ظہر پڑھنا ضروری ہے۔(3) جہاں جمعہ ادا ہو تا ہو وہاں جمعہ پڑھنا ضروی ہے ،بلا وجہ جمعہ چھوڑ کر ظہر کی نماز پڑھنا درست نہیں، البتہ اگر کسی نے جمعہ چھوڑ کر ظہر پڑھ لی تو فر ض ذمہ سے سا قط ہو جائیگا۔

لما فی ملتقی الا بحر :(1/252،المنار)
ومن لا جمعۃ علیہ ان ادا ھا أجزتہ عن فرض الوقت …و من لا عذر لہ لو صلی الظہر قبلھا جاز مع الکرھۃ
وفی المحیط البر ھانی :(2/395،داراحیاء تراث)
قال فی ”السیر الکبیر“: و الأسیر من المسلیمن فی ایدی أھل الحرب ھم لہ قاھرون ، أن أقاموا بہ فی موضع یرید ون أن یقیموا بہ خمسۃ عشر یوما ، فعلیہ أن یکمل الصلاۃ ، وان کان الأسیر لا یریدون أن یقیم معھم (وان کان الاسیر یرید ان یقیم) فی موضع خمسۃ عشر یوما ، فأخرجوہ من ذلک المو ضع یریدون مسیرۃ ثلاثۃ أیام قصر الصلاۃ،لأن الأسیر مقھور مغلوب فی ایدیھم ، وکان سفر ہ واقا متہ بھم کالعبد مع مولاہ، و القا ئد مع الأعمی ، والتلمیذ مع الا ستاذ
وکذافی الھند یة:(1/148،رشید یة)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/582، رشید یة)
وکذا فی البحر الرائق:(2/266، رشید یة)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1332، رشید یة)
وکذا فی الموسوعة الفقھیة:(4/222،علوم اسلامیة)
وکذا فی القدوری:(36،الخلیل)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/1202/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:105

جمعہ کے دو خطبوں کے در میان ہاتھ اٹھاکر دعا کرناجائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

ہاتھ اٹھا کر دعا کر نا تو جائز نہیں ،البتہ دل ہی دل میں دعا کر لی جائے۔

لما فی التنویر :(2/158،سعید )
اذا خرج الامام) )….فلاصلاۃ ولا کلام الی تمامھا )وقال ابن عابدین تحت (قو لہ ولا کلام ) …وقال البقالی فی مختصرہ واذا شرع فی الد عاء لایجوز لقوم رفع الیدین ولا تأ مین باللسان جھرا فان فعلوا ذلک أثموا وقیل اساءوا ولا اثم علیھم والصحیح ھو الاول و علیہ الفتوٰی وکذا لک اذا ذکر النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یجو ز ان یصلو ا علیہ بالجھر بل بالقلب وعلیہ الفتوٰی
وفی الفقہ الا سلامی و اد لتہ :(2/1316،رشید یة)
ویکرہ تحر یما عند الحنفیۃ الکلام من قریب او بعید، ورد السلا م ، وتشمیت العاطش ،وکل ماحرم فی الصلاۃ حرم فی الخطبۃ ، فیحرم أکل وشرب وکلام ، ولو تسبیحا او امرا بمعروف ،بل یجب علیہ أن یستمع و یسکت
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی:(203،البشری)
وکذا فی حاشیة الطحطا وی علی مرا قی الفلاح:(518،قدیمی)
وکذا فی التاتار خانیة:(2/576،فا رو قیہ )
وکذا فی الھند یة:(1/147،رشید یة)
وکذا فی المحیط البر ھانی :(2/463،دار احیاء تراث)
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/341،الحقا نیة)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(1/320،الطارق)
وکذا فی البحر الرائق:(2/259،رشید یة)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب غفر لہ ولوالدیہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/5/1442/2021/1/2
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:117

جمعہ کی سنن قبلیہ2 رکعت پڑ ھنے کی بھی گنجا ئش نہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

جمعہ سے پہلے چا رسنت مؤ کد ہ ہیں دو رکعت پر اکتفا ء د و رست نہیں اگر دو پڑھ لیں تو وہ ظہر سے پہلے وا لی ما ثو ر سنت شما ر نہیں ہونگی ۔

لما فی الھند یة :(1/112،رشید یة)
و قبل الظہر والجمعۃ و بعد ھا أر بع کذا فی المتو ن و الا ر بع بتسلیمۃ و ا حد ۃ عند نا حتی لو صلا ھا بتسلیمتین لا یعتد بہ عن السنۃ
وفی التنو یر مع الد ر :(2/12،سعید )
و سن) مؤ کد ا (أربع قبل الظہر و) أ ر بع قبل (الجمعۃ و) أر بع( بعد ھا بتسلیمۃ )فلو بتسلیمتین لم تنب عن السنۃ
وکذافی الشا میة:(2/13،سعید)
وکذا فی فتح القد یر :(1/459،رشید یة)
وکذا فی العنا یة:(1/461،رشید یة)
وکذا فی حا شیة الطحطا وی علی الدر:(1/284،رشید یة)
وکذا فی البحر الر ائق :(2/87،رشید یة)
وکذا فی منحة الخا لق علی البحر الرا ئق:(2/87،رشید یة)

 

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قا سم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:101

وضوکے بعد اگر مو زوں پر جر مو ق پہن لیے ہوں تو کیا صرف ان جر مو ق پر مسح کر نا کا فی ہو گا یا مو زو ں پر ہی مسح ضرو ری ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئو لہ میں اگر وضو کر نےکے بعد مو زے پہن لیے پھر وضو ٹو ٹنے سے پہلے ان پر جر موق پہن لیے تو مسح کر نا جائز ہے ، اگر وضو ٹو ٹنے کے بعد یا موزوں پر مسح کر نے کے بعد جر مو ق پہن لیے تو مسح کر نا جا ئز نہیں ہے ۔

لما فی منحة الخا لق علی البحر الر ائق :(1/414،رشید یة)
و یشترط لجوا ز المسح علی الجر مو قین الخ)…: قال فی السراج: و ا علم أن المسح علی الجر مو قین انما یجو زبشر طین :أ حد ھما أن لا یتخلل بینہ و بین الخف حد ث کما اذا لبس الخفین علی طھا رۃ و لم یمسح علیھما حتی لبس الجر مو قین قبل أن تنقض الطھا رۃ التی لبس علیھا الخفین، فحینئذ یجو زالمسح علی الجر مو قین .وأما اذا أ حد ث بعد لبس الخفین أو مسح علیھما ثم لبس الجر مو قین بعد ذلک لا یجو ز لہ المسح علی الجر مو قین لأن حکم المسح قد استقر علی الخف
وفی رد المحتا ر:(1/268،سعید)
و أن یلبسھما قبل أن یمسح علی الخفین و قبل أن یحد ث ،فلو کا ن مسح الخفین أو احد ث بعد لبسھما ثم لبس الجر مو قین لایجوز المسح علیھما اتفا قا ، لأ نھما حینئذ لا یکو نان تبعا للخف
وکذافی البحر الرا ئق :(1/314،رشید یة)
وکذا فی منیة المصلی :(37،مجد یة)
وکذا فی الھند یة:(1/32،رشید یة)
وکذا فی الخا نیةعلی ھا مش الھند یة:(1/52،رشید یة)
وکذا فی المبسوط :(1/102،دار المعر فة)
وکذا فی بد ائع الصنا ئع :(1/85،رشید یة)
وکذا فی المحیط البر ھا نی :(1/345،دار احیاء ترا ث)
وکذا فی التا تا ر خانیة:(1/409،فار و قیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1/8/1442/2021/3/16
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:15