ایک شخص کے ہاتھ اور منہ آگ سے جل گئے ہیں ، جس کی وجہ سے وضو اور تیمم نہیں کرسکتا ۔ اب نماز کیسے پڑھے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ صاحب بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھے گا ۔ اس عذر کی وجہ سے ، اگر رکوع و سجود پر قادر نہ ہو ، تو بیٹھ کر اشارہ سے بھی نماز پڑھ سکتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(1/607،رشیدیہ)
من عجز عن الوضو و التیمم معاً بمرض ونحوہ کمن کان بہ قروح لایستطیع معھا مس البشرۃ بوضوء ولاتیمم وحکمہ….. ایجاب الصلاۃ علیہ عند الجمہور
وفیہ ایضاً:(1/407،رشیدیہ)
اما مقطوع الیدین والرجلین اذا کان بوجہہ جراحۃ ، فیصلی بغیر طھارۃ و لاتیمم ولا یعید علی الاصح
وفی الدر المختار:(1/80،سعید)
من قطعت یداہ ورجلاہ وبوجہہ جراحۃ یصلی بلاوضوء ولاتیمم ولایعید قال…… فی الاصح
وکذافی الولوالجیة:(1/104،حرمین)
وکذافی البدائع:(1/171،رشیدیہ)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/53،رشیدیہ)
وکذافی کتاب القفہ:(1/92،حقانیہ)
وکذافی فتاوی النوازل:(1/109،حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(1/5،رشیدیہ)
وکذافی الجوھرة النیرة:(1/205،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:57

مسجد کے گیزر سے امام ،مؤذن اور کسی نمازی کا نہانا کیسے ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

انتظامیہ کی طرف سے اجازت ہو تو جائز ہے ، مسجد کی صفائی کا اور شورشرابے سے نماز میں خلل ڈالنے سے بچنے کا اہتمام کیا جائے

لما فی البحرالرائق:(5/419،رشیدیہ)
ولوکان العرف فی ذالک الموضع ان الامام والمؤذن یاخذ من غیر صریح الاذن فی ذالک فلہ ذالک
وفی الھندیة:(2/459،رشیدیہ)
ولایجوز ان یترک فیہ کل اللیل الا فی موضع جرت العادۃ فیہ بذالک او شرط الواقف ترکہ فیہ کل اللیل کما جرت العادہ بہ فی زماننا
وکذافی ردالمحتار:(4/343،سعید)
وکذافی الدرالمختار:(6/427،سعید)
وکذافی شرح المجلی:(2/254،عربیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(9/137،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(8/176،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:18

عرب ممالک میں دیکھنے میں آتا ہے کہ مسبوق ، مسبوقین کا امام بن جاتا ہے اور ان کو نماز پڑھانا شروع کردیتا ہے ۔ ہمارے ہاں بھی کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں ۔ حنفیوں میں تو ہم نے ایسا کبھی پڑھا یا سنا نہیں ۔ کس امام کے نزدیک یہ جائز ہے اور دلیل کیا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

احناف اور مالکیہ کے نزدیک کوئی مسبوق دوسرے مسبوق کی امامت نہیں کرسکتا۔ البتہ حنابلہ اور شوافع کے نزدیک جمعہ کے علاوہ دوسری نمازوں میں مسبوق امامت کر سکتا ہے ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/1198،رشیدیہ)
والخلاصۃ ان الحنفیۃ والمالکیۃلایجیزون الاقتداء بمن کان مقتدیا بعد سلام امامہ ویصح عند الشافعیۃ والحنابلۃ
وکذافی کتاب الفقہ:(1/356،حقانیہ)
وکذافیہ ایضاً:(1/356،حقانیہ)
وکذافی الھندیة:(1/92،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/356،حقانیہ)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(2/1197،رشیدیہ)
وکذافیہ ایضاً:(2/1197،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:64

ایک شخص نے مدرسہ کی زمین کا کچھ حصہ مسجد کو بیچا اور اس بیچی ہوئی جگہ کی رقم بھی وصول کرلی ، بعد میں اصل عاقد(مسجد کے متولی) کے فوت ہونے کے بعد ، جب مسجد کی دیوار کی تعمیر شروع کی گئی تو بذات خود وہ شخص بھی کچھ دن کام میں شریک رہا ، لیکن بعد میں یہ کہہ کر اس جگہ کی بیع سے انکار کردیا : کہ متولی نے وہ رقم مجھے بطور قرض کے دی تھی نہ کہ بطور ثمن کے ۔ اب کیا یہ زمین مسجد کی ہوگی یا مدرسہ کی؟اور اس کی بیع کا کیا حکم ہے ؟ تفصیلی سوال وجواب استفتاء کے ساتھ لف کیا گیا ہے۔

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ کے متعلق مجیب کا جواب درست ہے، جبکہ مہتمم صاحب کا انکار بلاوجہ اور نامناسب ہے ۔ لیکن ایک بات کی وضاحت ضروری ہے  کہ اگر یہ زمین وقف کی ہے ، تو وقف کے واقعی نفع و مصلحت کا خیال رکھا گیا یا نہیں ، کیونکہ وقف کی زمین انتظامیہ یا وہاں کے اہل حل وعقد کے بغیر تن تنہا بیچنا جائز نہیں ، بلکہ وقف کی مصلحت اور انتظامیہ کی اجازت ، دونوں کا لحاظ ضروری ہے ۔

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:60

حالت احرام میں ماسک اور سینی ٹائزر لگانا کیسا ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

حالت احرام میں چہرہ ڈھانپنا ممنوع ہے ، لیکن کسی ناگزیر عذر کی وجہ سے ایسا کرنے پر انشاءاللہ گناہ نہیں ہوگا، تاہم جزاء واجب ہوگی ۔ چنانچہ ایک دن یا ایک رات کے بقدر ، پورا یا چوتھائی چہرہ ڈھانپنے کی وجہ سے یا تو دم لازم ہوگا یعنی حدود حرم میں ایک بکری/بکرا ذبح کرنا ہوگا یا چھ مسکینوں کو فی کس سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت دینا ہوگی یا تین روزے رکھنے ہوں گے ۔ اوراگر ایک دن /رات کی مقدار سے کم چہرہ ڈھانپا ، تو صدقہ لازم ہوگا یعنی سوا دوکلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ہوگی یا ایک دن روزہ رکھنا ہوگا ۔
اور سینی ٹائزر اگر خوشبو والا نہ ہو تو اس کا استعمال جائز ہے ۔ اور اگر خوشبو والا ہو اور خوشبو غالب ہو اور اس کو دونوں ہاتھوں پر لگایا تو دم واجب ہوگا ، البتہ اگر خوشبو مغلوب ہو یا اس کا استعمال کامل عضو پر نہ ہو ، تو صدقہ واجب ہوگا ۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(3/2291،رشیدیہ)
فلایجوز ان یضع علی راسہ ووجہہ عمامۃ ولاخرقۃ…… الا لحاجۃ کمداواۃ او حر او برد ، فیجوز التغطیۃ وتجب الفدیۃ
وفیہ ایضاً:(3/2298،رشیدیہ)
وان استھلک الطیب فی المخالط لہ….. کان استعمل فی دواء واکلہ جاز ولافدیۃ
وفی غنیة الناسک:(1/88،علوم اسلامیہ)
وتغطیۃ الراس والوجہ کلہ او بعضہ کالعارض والانف والفم والذقن بثوب …..او نحو ذالک ممایقصد بہ التغطیۃ بعذر او بغیر عذر الا ان صاحب العذر غیرآثم
وفی الھندیة:(1/242،رشیدیہ)
ولوغطی المحرم راسہ او وجہہ یوما فعلیہ دم وان کان اقل من ذالک فعلیہ صدقۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/2296،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(2/546،سعید)
وکذافی ردالمحتار:(2/546،سعید)
وکذافی المحیط البرھانی:(3/439،بیروت)
وکذافی الھندیة:(1/242،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
16/6/1442/2021/1/30
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:19

والدین کا ماتھا چومنا شرک کے زمرہ میں آتا ہے یا سعادت ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

والدین کا ماتھا چومنا نہ صرف جائز ہے ، بلکہ باعث فضیلت ہے۔

لما فی شعب الایمان:(6/187،بیروت)
عن ابن عباس ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال من قبل بین عینی امہ کان لہ سترا من النار
وفی التاتارخانیة:(18/257،فاروقیہ)
وقد رخص ابو یوسف التقبیل علی غیر الفم…… للولد علی راس والدیہ
وفی ردالمحتار:(6/380،سعید)
قولہ واما علی وجہ البر فجائز عند الکل) قال الامام العینی بعد کلام فعلم اباحۃ تقبیل الید والرجل والراس والکشح کما علم من الاحادیث المتقدمۃ اباحتھا علی الجبھۃ
وکذافی فیض القدیر:(6/249،بیروت)
وکذافی التنویر مع الدر:(6/367،سعید)
وکذافی الھندیة:(5/369،رشیدیہ)
وکذافی ردالمحتار:(6/384،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(8/364،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(6/25،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:91

کوہ پیما جو پہاڑوں کی اونچی اونچی چوٹیوں پر ریکارڈ بنانے کے لیے چڑھتے ہیں ، اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو یہ موت خودکشی متصور ہوگی ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ لوگ جہاں اپنے فن (کوہ پیمائی) کے ماہر ہوتے ہیں وہاں اسباب سے پوری طرح لیس شریک ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر افراد صحیح سلامت واپس آجاتے ہیں ۔ لہذا شرعی طور پر ایسی موت کو خودکشی نہیں کہا جاسکتا ، تاہم دینی و دنیاوی ہر دو لحاظ سے حقیقی نفع سے خالی کام میں اپنی جا ن خطرہ میں ڈالنا حماقت سے کم نہیں ۔

لما فی القرآن الکریم:(سورةالبقرة/آیة،195)
وانفقوا فی سبیل اللہ ولاتلقوا بایدیکم الی التھلکۃ واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین
وفی الفقہ الاسلامی:(4/2662،رشیدیہ)
لایخلو کل لھو غیر نافع من الکراھۃ ، لما فیہ تضییع الوقت والانشغال عن ذکر اللہ
وفی مشکوة المصابیح:(2/427،رحمانیہ)
عن علی بن الحسین قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ رواہ مالک واحمد
وکذافی مرقاةالمفاتیح:(8/585،التجاریہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(35/268،علوم اسلامیہ)
وکذافی الدرالمختار:(9/576،رشیدیہ)
وکذافی احکام القرآن للجصاص:(1/361،قدیمی)
وکذافی ردالمحتار:(2/212،سعید)
وکذافی فتح الباری:(3/291،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:11

لوگ کمپریسر لگا کر گیس کھینچتے ہیں ۔ اس کا کیا حکم ہے ؟کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

کمپریسر لگاکر گیس کھینچنا ، جہاں قانوناً جرم ہے وہاں شرعاً بھی ناجائز اور گناہ ہے ، کیونکہ جائز امور میں حکومت کی اطاعت کرنا واجب ہے ۔ نیز یہ کام دوسرے لوگوں کی اذیت اور حق تلفی کا باعث بھی ہے جوکہ شریعت کی نظر میں حرام ہے ۔

لما فی القرآن الکریم :(سورة النساء/آیة،59)
یاایھا الذین آمنوا اطیعوا اللہ واطیعواالرسول واولی الامر منکم
وفی الفقہ الاسلامی:(6/4582،رشیدیہ)
ومن المقرر عند الفقھاء ان لاولی الامر ان ینھی اباحۃ الملکیۃ بحضر یصدرمنہ لمصلحۃ تقتضیہ……فان طاعۃ اولی الامر واجبۃ
وفی مشکوٰة المصابیح:(1/261،رحمانیہ)
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا لاتظلموا ، الا لایحل مال امرئ الا بطیب نفس منہ
وکذافی الاشباہ والنظائر:(1/125،قدیمی)
وکذافی السنن لابی داؤد:(2/234،رحمانیہ)
وکذافی بذل المجھود:(19/94،قدیمی)
وکذافی الترمذی:(2/485،رحمانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/6/1442/2021/1/19
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:1

عرض ہے میں حلفی بیان دیتاہوں کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا ۔ میں نے تین بار یہ کہہ دیا ” میں کل دو بجے تک فیصلہ کردوں گا ” ۔ اس کے بعد تین سال تک میں نے اس معاملہ میں کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی جھگڑا ہوا ۔ تین سال بعد اس نے یہ کہا “تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں میں نے چھوڑدیا ہے ” ۔ یہ بات بیوی کے منہ سے سننے کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی ۔ اب میری بیوی کہہ رہی ہے کہ میرا تیرا کوئی رشتہ نہیں ہے اس نے مجھے چھوڑدیا ہے ۔ اس بات کی گواہ میری بیوی اور بیٹی ہے ۔ اسلام کے دائرہ میں رہتے ہوئے فیصلہ دیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

شوہر کے کلام میں چونکہ صرف طلاق کا وعدہ اور دھمکی ہے جس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ، اس لیے صورت مسئولہ میں عورت حسب سابق شوہر کے نکاح میں رہیگی اور عورت کا یہ کہنا کہ” تیرا میرا کوئی رشتہ نہیں میں نے چھوڑ دیا ہے ” لغو ہے ،کیونکہ طلاق کا اختیار شریعت نے مرد کو دیا ہے نہ کہ عورت کو ۔

لما فی الھندیة:(1/384،رشیدیہ)
فقال الزوج: اطلق “طلاق می کنم” فکررہ ثلاثا، طلقت ثلاثا بخلاف قولہ:ساطلق “طلاق کنم ” لانہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک
وفی المختصرفی الفقہ الحنفی:(1/300،بشریٰ)
الطلاق یملکہ الرجل ولاتملکہ المراۃ فان طلقت المراۃ زوجھا لایقع الطلاق
وفی الفقہ الاسلامی:(9/6877،رشیدیہ)
جعل الطلاق بید الزوج لابید الزوجۃ ….ان المراۃ غالبااشد تاثرا بالعاطفۃ من الرجل فاذا ملکت التطلیق فربما اوقعت الطلاق لاسباب بسیطۃ لاتستحق ھدم الحیاۃ الزوجیۃ
وکذافی الدرالمختار:(3/319،سعید)
وکذافی البحرالرائق:(3/545،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(3/230،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(3/414،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17/8/1442/2021/4/1
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:74

چند افراد جیل میں ہیں ، معلوم نہیں کتنے دن رہنا ہے اور غالب گمان یہ ہے کہ 15دن سے زائد رہنا ہے ۔ یہ لوگ قصر کریں گے یا اتمام؟ قصر کرنا تھی اور اتمام کرلیا یا اس کے برعکس کرلیا ، تو کیا حکم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر یہ لوگ اپنے علاقےکی جیل میں ہوں یا ان کو کسی طرح یقین ہوجائے کہ ہم نے 15دن یا اس سے زائد رہنا ہے توپوری نماز پڑھیں گے ورنہ قصر کریں گے۔ اور اگر جیل کا مقام ہی معلوم نہ ہو، تو جیل کی انتظامیہ سے معلوم کریں۔ معلوم نہ ہوسکے تو قید سے پہلے والی حالت پر عمل کریں۔
قصر کے بجائے اتمام کرلیا اور ایسا جان بوجھ کر کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوگی ۔ اور اگر بھول کر کیا ، لیکن پہلے قعدہ میں بیٹھا تھا تو نماز ہوگئی اورآخری دو رکعتیں نفل شمار ہوں گی ، سلام میں تاخیر کی وجہ سے سجدہ سہو واجب ہوگا، لیکن اگر پہلے قعدہ میں نہیں بیٹھا تھاتو نماز باطل ہوگئی ہے ۔اس کی قضاء کرنا ہوگی۔

لما فی ردالمحتار:(2/134،سعید)
قولہ واسیر) ذکر فی المنتقی ان المسلم ان اسرہ العدو ان کان مقصدہ ثلاثۃایام قصر وان لم یعلم سالہ فان لم یخبرہ وکان العدو مقیما اتم وان کان مسافرا قصر وان لا یکون کمن اخذہ الظالم لایقصر الا بعد السفر
وفی غنیة المتملی:(1/541،رشیدیہ)
ذکر فی المنتقی ان المسلم ان اسرہ العدو ان کان مقصدہ ثلاثۃایام قصر وان لم یعلم سالہ فان لم یخبرہ وکان العدو مقیما اتم وان کان مسافرا قصر وینبغی ان یکون ھذا اذا تحقق انہ مسافر وان لا یکون کمن اخذہ الظالم لایقصر الا بعد السفر
وکذافی البزازیہ علی ھامش الھندیة:(1/170،رشیدیہ)
وکذافی کتاب الفقہ:(1/401،حقانیہ)
وکذافی المحیط البرہانی:(2/401،بیروت)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:155