عورت کا سر کے بالوں پر مہندی لگانا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

سیاہ مہندی کے علاوہ عورت کے لیے ہر طرح کی مہندی لگانا جائز ہے ۔

لما فی السنن ابی داؤد:(2/225،رحمانیہ)
عن جابر بن عبد اللہ قال اتی بابی قحافۃیوم مکۃ وراسہہ ولحیتہ کالثغامۃ بیاضا فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیروا ھذا بشیئ واجتنبوا السواد
وفی کتاب الفقہ:(2/44،حقانیہ)
یکرہ صباغۃ اللحیۃ والشعر بالسواد الا الخضاب بالصفرۃ والحمرۃ فانہ جائز
وفی الخانیة:(3/412،رشیدیہ)
والخضاب بالحناء والوسمۃ حسن….. ولاباس بہ للنساء
وکذافی الھندیة:(5/359،رشیدیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(8/88،بیروت)
وکذافی التاتارخانیة:(18/215،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(2/281،علوم اسلامیہ)
وکذافی بذل المجھود:(17/46،قدیمی)
وکذافی ردالمحتار:(9/696،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:61

ایک عورت کے پاس صرف سونا ہے جس کی مالیت 3 لاکھ ہے ۔ کیا اس پر زکوۃ فرض ہے ؟ اگر ہے تو کتنی اور کب ہوگی؟

الجواب حامداً ومصلیاً

تنہا سونے پر زکوۃ اس وقت فرض ہوتی ہے ، جب ا س کا نصاب(ساڑھے سات تولہ) پورا ہو ۔ صورت مسئولہ میں چونکہ سونے کا نصاب پورا نہیں ،اس لیے اس سونے پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔

لما فی ردالمحتار:(3/267،سعید)
قولہ (عشرون مثقالا )فمادون ذالک لازکوۃ فیہ ولوکان نقصانا یسیرا
وفی حاشیة الطحطاوی:(1/407،رشیدیہ)
قولہ (عشرون مثقالا )فمادون ذالک لازکوۃ فیہ
وفی المبسوط للسرخسی:(2/190،بیروت)
قال ولیس فی اقل من عشرین مثقالا من الذھب زکوۃ لحدیث عمرو بن حزم…. فذالک تنصیص علی انہ لاشئ فی الذھب حتی یبلغ عشرین مثقالا
وکذافی القدوری:(1/47،الخلیل)
وکذافی الفقہ الاسلامی:(3/1823،رشیدیہ)
وکذافی النھرالفائق:(1/436،قدیمی)
وکذافی الجوہرةالنیرة:(1/302،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:158

اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کا گھر ملتان میں ہے،اس نے لاہورمیں بھی ایک مکان خریدا ہے،وہ خود فیملی سمیت ملتان رہتا ہے،لاہور والا مکان صرف اس لیے خریدا ہےکہ اسے کرایہ پر دے گا،تو جب وہ شخص لاہور جائے گا تو پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئلہ میں یہ شخص لاہور میں قصر کرے گا،البتہ اگر وہاں15 دن ٹھہرنے کی نیت کی یا وہاں مستقل رہائش اختیار کرلی تو پوری نماز پڑھے گا۔

لما فی الشامیہ:(2/ 739،رشیدیہ)
فان ماتت زوجتہ فی احداھما وبقی لہ فیہا دوروعقارقیل لایبقی وطناً لہ،اذالمعتبر الاھل دون الدار کما لو تا ھل ببلدۃ واستقرت سکناً لہ ولیس لہ فیھا دار
وفی عمدۃ القاری:(7 /120، داراحیاء التراث)
واما الوجہ الثالث ففیہ بعد اذ لم یقل احد ان المسافر اذا مر بما یملکہ من الارض ولم یکن لہ فیھا اھل ان حکمہ حکم المقیم
وکذافی النھرالفائق :(1 / 349، قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق: (2/ 239،رشیدیہ)
وکذا فی العالمکیریہ : (1/ 142،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی : (2/ 1364،رشیدیہ)
وکذا فی الھدایہ: (1/ 150 ،رشیدیہ)
وکذا فی التنویر مع الدر : (2/ 739،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی: (2/402 ،دار احیاء)
وکذا فی التاتارخانیہ: (2/ 510،فاروقیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی: (2/ 108،دار المعرفہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیر الدین عفی عنہ
دار الافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/4/1442/6/12/2020
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:2

عدت کے دوران عورت اپنے سسر سے پردہ کرے گی یا نہیں ؟ اور بھی بتائیں کہ عورت ہمیشہ کے لیے سسر پر حرام ہے یا شوہر کی وفات کے بعد سسر نکاح کرسکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

فتنہ اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو تو سسر سے پردہ ضروری نہیں ، اورعورت اپنے سسر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے ۔ اس لیے شوہر کی وفات کے بعد بھی اس سے نکاح نہیں کر سکتی ۔

لما فی الھندیة:(1/535،رشیدیہ)
وان کان المنزل لزوجھا وقد مات عنھا فلھا ان تسکن فی نصیبھا……وتستتر عن سائر الورثۃ ممن لیس بمحرم لھا کذا فی البدائع
وفی احکام القرآن للجصاص:(2/185،قدیمی)
قال ابوبکرحلیلۃ الابن ھی زوجتہ …….وعقد نکاح الابن علیھا یحرمھا علی ابیہ تحریما مؤبدا
وفی الفتاوی الولوالجیة:(1/359،حرمین)
واماالسبع اللاتی حرمن بالسبب فالام والاخت من الرضاع وام المراۃ والربیبۃ اذادخلت بامھا وحلیلۃ الابن ومنکوحۃ الاب والجمع بین الاختین
وکذافی ردالمحتار:(3/537،سعید)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(2/231،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع الدر:(9/605، رشیدیہ)
وکذافی تفسیر المنیر:(2/650،امیرحمزہ)
وکذافی البدائع:(4/292،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
24/6/1442/2021/2/7
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:56

منفرد سری نمازوں میں جہر کرتا رہا اور اس کا یہ عمل کئی سال رہا ، کیا اس طرح ادا کی گئی نمازیں درست ہوگئیں یا واجب الاعادہ ہیں ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

منفرد اگر سری نماز میں تین یا تین سے زائد آیات جہرا پڑھ لے تو ظاہرالروایت کے مطابق سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔ یہ قول اوسع ہے ، علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ، البتہ بعض فقہاء نے اس صورت میں سجدہ سہو واجب قرار دیا ہے ۔ یہ قول احوط ہے ۔ لہذا صورت مسئولہ میں اوسع قول کے مطابق نمازیں درست ہوگئیں ہیں ، تاہم احوط قول کا تقاضا یہ ہے کہ ان نمازوں کا اعادہ کرلیا جائے ۔

لما فی ردالمحتار:(2/81،سعید)
قولہ والجہر فیما یخافت فیہ) فی العبارۃ قلب ، وصوابھا والجھر فیمایخافت لکل مصل وعکسہ الامام وھذا ما صححہ فی البدائع والدرر ومال الیہ فی الفتح وشرح المنیۃ والبحر والنھر والحلیۃ علی خلاف مافی الھدیۃ والزیلعی وغیرھما من ان وجوب الجھر والمخافتۃ من خصائص الامام دون المنفرد
وفیہ ایضا:(2/81،سعید)
والحاصل ان الجھر فی الجھریۃ لایجب علی المنفرد اتفاقاوانما الخلاف فی وجوب الاخفاء علیہ فی السریۃ وظاہرالروایۃ عدم الوجوب کما صرح بذالک فی التاتار خانیۃ عن المحیط وکذا فی الذخیرۃ وشروح الھدایۃ کالنھایۃ والکفایۃ والعنایۃ ومعراج الدرایۃ وصرحوا بان وجوب السھو علیہ اذا جھر فیما یخافت روایۃ النوادر فعلی ظاہر الروایۃ لاسھو علی المنفرد اذا جھر فی مایخافت فیہ وانماھو علی الامام فقط
وفی المبسوط للسرخسی:(1/222،بیروت)
وان کان منفردا فلیس علیہ سجود السھو بھذا)اما فی صلاۃ الجھر ھو مخیر بین الجھر والمخافتۃ واما فی صلاۃ المخافتۃ فجھر المنفرد بقدراسماعہ نفسہ وھو غیر منھی عن ذالک فلھٰذا لایلزمہ السھو
وکذافی منحة الخالق:(2/171،)
وکذافی الھندیة:(1/128،رشیدیہ)
وکذافی التاتارخانیة:(2/396،فاروقیہ)
وکذافی غنیةالمتملی:(1/456،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
8/8/1442/2021/3/23
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:92

اگر کوئی نابالغ بچہ آیت سجدہ تلاوت کرے ، تو سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نابالغ بچے سے آیت سجدہ سننے والا اگر مکلف(عاقل ، بالغ )ہے تواس پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا ۔

لما فی الھندیة:(1/132،رشیدیہ)
والاصل فی وجوب السجدۃ ان کل من کان من اھل وجوب الصلاۃ اما اداء او قضاء کان اھلا لوجوب سجدۃ التلاوۃ….حتی لوکان التالی کافرا او مجنونا او صبیا لم یلزمھم وکذا السامع…..ولوسمع منھم مسلم عاقل بالغ تجب علیہ لسماعہ
وفی البدائع:(1/439،رشیدیہ)
واما بیان من تجب علیہ فکل من کان اھلا لوجوب الصلاۃ علیہ امااداء او قضاء فھو من اھل وجوب السجدۃ علیہ ومن لا فلا…..حتی لاتجب علی الکافر والصبی والمجنون والحائض والنفساء قرؤا او سمعوا…..تجب علی السامع بتلاوۃ ھٰولآء الا المجنون
وکذافی البحر الرائق:(2/211،رشیدیہ)
وکذافی حاشیةالطحطاوی:(1/323،رشیدیہ)
وکذافی التنویر مع شرحہ:(2/107،سعید)
وکذافی المبسوط للسرخسی:(2/4،بیروت)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
18/7/1442/2021/3/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:135

ایک شخص نے زمین غصب کرکے بیچ دی ۔ اب توبہ کرکے اس کی قیمت مالک کو لوٹانا چاہتاہے ، اب زمین کی قیمت بہت بڑھ چکی ہے ، مالک آج کے ریٹ کے حساب سے قیمت کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ غاصب کہتا ہے جتنے کی میں نے بیچی تھی اتنے پیسے دوں گا۔ شرعاً کونسی قیمت لازم ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صورت مسئولہ میں غصب کے دن کی قیمت لازم ہوگی ، لیکن آج کل غصب کے عام ہونے کی بناء پر ، اس جرم کے سدباب کے لیے اگر قاضی تعزیرا زمین کی موجودہ قیمت کا ضامن بنائے تو اس کی بھی گنجائش ہے ۔

لما فی الھندیة:(2/168،رشیدیہ)
الاصل فی وجوب التعزیر ان کل من ارتکب منکرا او آذی مسلما بغیر حق بقولہ او بفعلہ یجب التعزیر
وفیہ ایضاً:(5/128،رشیدیہ)
الغاصب اذا استھلک المغصوب وھو من ذوات القیم کان الرای للقاضی ، فیقضی علیہ بما کان انظر للمغصوب منہ کذا فی فتاوی قاضیخان
وکذافی الفقہ الاسلامی:(6/4803،رشیدیہ)
وکذافی الدرالمختارمع التنویر:(6/183،سعید)
وکذافی درالمحتار:(6/183،سعید)
وکذافی البحر الرائق:(8/217،رشیدیہ)
وکذافی مجمع الانھر:(4/79،المنار)
وکذافی الھندیة:(5/119،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1442/2021/3/17
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:63

آج کل دفتروں میں رشوت عام ہے ، رشوت دیے بغیر اپنا کام کروانا مشکل ہے ، تو کیا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رشوت دینا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

رشوت چونکہ ایک عظیم جرم ہے ، اس لیے ہر مسلمان کو رشوت دینے اور لینے سے بچنا انتہائی ضروری ہے ، لیکن اپنے جان و مال کو ضرر سے بچانے کے لیے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رقم دیکر اپنا حق وصول کرنا جائز ہے ۔ اس صورت میں رقم دینے والا گنہگار نہ ہوگا، البتہ رشوت لینا کسی بھی حال میں جائز نہیں ۔

لما فی الھندیہ:(3/331،رشیدیہ)
وھل یحل للمعطی الاعطاء ، عامۃ المشائخ علی انہ یحل لانہ یجعل مالہ وقایۃ لنفسہ او یجعل بعض مالہ وقایۃ للباقی
وفی الشامیة:(9/699،رشیدیہ)
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ ولاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع
وفی الموسوعة الفقھیة:(22/222،علوم اسلامیہ)
غیر انہ یجوز للانسان عند الجمھور ان یدفع رشوۃ للحصول علی حق او لدفع ظلم او ضرر ویکون الاثم علی المرتشی دون الراشی
وکذافی حاشیہ الطحطاوی:(4/211،رشیدیہ)
وکذافی شرح المجلة:(6/40،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:21

جوار اور برسیم کی فصل ایک دفعہ کاشت کرنے کے بعد اس میں سے عشر ادا کردیاجاتا ہے ۔ پھر دوسری مرتبہ اسی کٹی ہوئی جگہ میں پانی اور کھاد ڈالی جاتی ہے ، جس سے مقصود بیج پیدا کرنا ہوتا ہے ، آیا دوبارہ پھر عشر ادا کیا جائے گا؟

الجواب حامداً ومصلیاً

زمین سے جب بھی پیداوار حاصل کی جائے گی ، عشر واجب ہوگا ، لہذا صورت مسئولہ میں دوبارہ عشر واجب ہوگا۔

لما فی البدائع:(2/184،رشیدیہ)
ولان العشر فی الخارج حقیقۃ فیتکرر الوجوب بتکرر الخارج
وکذافی التنویر مع الدر:(2/328،سعید)
وکذافی الشامیة:(2/327،سعید)
وکذافی الھندیة:(1/186،رشیدیہ)
وکذافی البحرالرائق:(2/415،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
3/5/1442/2020/12/19
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:23

ایک عورت خوشی سے اپنے ماں باپ کے گھر گئی ، وہاں اس کی والدہ نے مطالبہ کردیا کہ تم اپنے شوہرکو خلع کا کہو ، لیکن لڑکی اس بات کے لیے راضی نہیں تھی بلکہ ماں کے دباؤ میں آکر اس نے خلع کا دعوی کردیا اور عدالت نے خلع کی ڈگری بھی جاری کردی ، اب اس عورت کے پاس اپنے شوہر کے پاس جانے کیا شرعی حل ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صؤرت مسئولہ میں اگر عورت نے واقعتا کسی وجہ کے بغیر خلع کا دعوی دائر کیا ہے ، تو اس سے شرعا طلاق نہیں ہوئی ، لیکن چونکہ عدالت نے خلع کا فیصلہ دےدیا ہے اور اس سے ایک طلاق بائن ہوجاتی ہے ، اس لیے احتیاطا دوبارہ نکاح کرکے اپنے شوہر کے پاس جاسکتی ہے

لما فی الھدیہ:(2/383،رشیدیہ)
فاذافعل ذالک وقع بالخلع تطلیقۃ بائنۃ لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وفی حاشیة الطحطاوی:(2/187،رشیدیہ)
وحکمہ ان الواقع بہ) ای بالخلع ولو بلفظ البیع او المباراۃ ….(طلاق بائن )لقولہ علیہ السلام الخلع تطلیقۃ بائنۃ
وکذافی الفقہ الاسلامی:(9/7015،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(2/271،امدادیہ)
وکذافی المبسوط السرخسی:(6/171،بیروت)
وکذافی الموسوعہ الفقھیہ:(19/244،علوم اسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد نصیرالدین عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/4/1442/2020/12/9
جلد نمبر:21 فتوی نمبر:180