ایک آدمی اسلام آباد میں پراپرٹی ڈیلر ہے۔مکانات وغیرہ حاصل کرنے کے لیےمختلف کرایہ دار اس کے پاس آتے رہتے ہیں۔اب وہ کسی کرایہ دار کو مکان لے کر دیتا ہےتو عرف کی بنیاد پر (کیونکہ یہ بات وہاں مشہور ہے)یا مالکِ مکان کی اجازت سے وہ پہلے مہینے کا پورا یا آدھا کرایہ خود رکھتا ہے ۔کیایہ کرایہ اس کے لیے درست ہے؟شرعاً اس میں کچھ کراہت وغیرہ تو نہیں ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

پراپرٹی ڈیلر کا اس طرح اپنی اجرت لینا درست ہے،بشرطیکہ اجرت معلوم اور متعین ہو۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(15/115،دار المعرفة بیروت)
والسمسار اسم لمن یعمل للغیر بالاجر بیعا وشراء ومقصودہ من ایراد الحدیث بیان جواز ذلک
وفی الشامیة:(6/63،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وفی الحاوی سئل محمد بن سلمۃ عن اجرۃ السمسار،فقال:أرجو أنہ لا بأس بہ وان کان فی الاصل فاسدا لکثرۃ التعامل وکثیر من ھذاغیر جائز، فجوزوہ لحاجۃ الناس الیہ کدخول الحمام
وکذافی شرح المجلة:(1/101،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(7/530،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی صحیح البخاری:(1/303،قدیمی کراچی)
وکذافی خلاصة الفتاوی:(3/116،رشیدیہ کوئٹہ)
وکذافی تکملة فتح الملھم:(1/336،دار العلوم کراچی)
وکذافی المختصر فی الفقه الحنفی:(398، البشری کراچی)
وکذافی الدر المختار:(6/5.46.47،ایچ.ایم.سعید کراچی)
وکذافی الفقه الاسلامی وادلته:(5/3326.3822،رشیدیہ کوئٹہ)

واللہ تعالی ٰاعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/5/1442/2020/12/31
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:109

ایک جھگڑے کے دوران نوجوان زخمی ہواہے۔زخم گہرا ہے لیکن ہڈی نہیں ٹوٹی۔زخمی کے والد نے عدالت میں کیس کر دیاہے۔دوسرے فریق کے والدین صلح کرنا چاہتے ہیں تو کیا زخمی کے والدین بطورِ صلح ان سے کچھ رقم وغیرہ لے سکتے ہیں؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

عدالت یا ایسی پنچائت جس میں کوئی مستند عالم بھی ہو،اس کے ذریعے جو بدلِ صلح طے ہو،وہ لیا جا سکتا ہے۔

لما فی المبسوط للسرخسی:(26/74،دار المعرفة بیروت)
والجنايات فيما دون النفس توجب القصاص إذا أمكن اعتبار المساواة فيها، فأما قبل الموضحة من الشجاج ففيها حكومة عدل إذا كانت خطأ، وكذلك إن كانت عمدا…….وإيجاب حكومة العدل في هذه الشجاج مروي عن إبراهيم النخعي وعمر بن عبد العزيز رحمهما الله قالا ما دون الموضحة من الشجاج بمنزلة الخدوش ففيها حكومة عدل
وفی کنز الدقائق:(460،حقانیة ملتان)
وفي الحارصة والدامعة والدامية والباضعة والمتلاحمة والسمحاق حكومة عدل
وکذافی الھدایة:(4/584،رحمانیة لاھور)
وکذافی التنویر مع شرحه:(6/580.581،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الموسوعة الفقھیة:(21/82.83…27/323.326،علوم اسلامیة چمن)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/4/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:83

اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں اور دونوں جدا ہوگئے کہ اسی حالت میں تین ماہ گزر گئے،تو اب اس عورت سے نکاح اور اس کی عدت کا کیا حکم ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

طلاق کے بعد اس عورت کے اگر تین حیض گزر گئے ہیں یا وہ حاملہ تھی اور وضع حمل ہو چکا ہے تو عدت گزر گئی ،ورنہ نہیں اور اگر اس کو حیض نہیں آتا تو تین ماہ گزر جانے کی وجہ سے اس کی عدت پوری ہوگئی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر عورت کی عدت پوری نہیں ہوئی تو شوہر بیوی سے بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے اور بقیہ ایک یا دو طلاق کا مالک ہوگا اور اگر عورت کی عدت پوری ہوگئی ہے تو عورت بائنہ ہوگئی ہے ،لہٰذا نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اور اس کو بقیہ ایک یا دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

لما فی القرآن الکریم:(البقرة:228.229)
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ…….وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا……..الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
و قال تعالٰی فی مقام آخر:(الطلاق:4)
وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ
وفی المبسوط للسرخسی:(6/13.15،دار المعرفة بیروت)
وإذا طلقها واحدة أو ثنتين فهو يملك الرجعة ما لم تنقض العدۃ….. وعدة التي تحيض ثلاث حيض كما قال الله تعالى في كتابه {ثلاثة قروء} [البقرة: 228]،……..وعدة الحامل أن تضع حملها ولو وضعت حملها بعد الطلاق بيوم……..وعدة الآيسة والصغيرة ثلاثة أشهر بالنص
وفی الھندیة:(1/526،رشیدیة کوئٹہ)
واذا طلق الرجل امرأتہ طلاقا بائنا او رجعیا……وھی حرۃ ممن تحیض فعدتھا ثلاثۃ اقراء……والعدۃ لمن لم تحض لصغر او کبر او بلغت بالسن و لم تحض ثلاثۃ اشھر
وکذافیه ایضا:(1/473، رشیدیة کوئٹہ) وکذافی صحیح البخاری:(2/313،رحمانیة لاھور)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/549، رشیدیة کوئٹہ) وکذافی الھدایة:(2/373.401، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی التنویر مع شرحه:(3/409 ،ایچ.ایم.سعید کمپنی کراچی) وکذافی بدائع الصنائع:(3/ 283.289، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
62/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:115

بعض اوقات والدین اپنی بچی کو ڈاکٹر کے پاس لاتے ہیں کہ یہ غفلت کے نتیجے میں حاملہ ہو چکی ہے،اس کا بچہ ضائع کر دیں۔کیا ڈاکٹر کے لیے یہ حمل ضائع کرنا درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

اگر حمل میں روح پڑ چکی ہو یعنی حمل کو چار ماہ گزر گئے ہوں تو حمل ضائع کرنا جائز نہیں ہے اور گناہ کے کام میں ان کی معاونت ہے اور اگر چار ماہ سے کم عرصہ گزرا ہو تو پھر حمل ضائع کرنے کی گنجائش ہے۔

لما فی القرآن الکریم:(المائدة:2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
وفی الفقه الاسلامی و ادلته:(4/2647،رشیدیة کوئٹہ)
يباح الإسقاط بعد الحمل، ما لم يتخلق منه شيء، ولن يكون ذلك إلا بعد مئة وعشرين يوماً؛ لأنه ليس بآدمي. وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق: نفخ الروح. وقيل عندهم: إن ذلك مكروه بغير عذر
وفی الدر المختار مع رد المحتار:(3/176،ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر
قوله وقالوا إلخ) قال في النهر: بقي هل يباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم يباح ما لم يتخلق منه شيء ولن يكون ذلك إلا بعد مائة وعشرين يوما، وهذا يقتضي أنهم أرادوا بالتخليق نفخ الروح وإلا فهو غلط لأن التخليق يتحقق بالمشاهدة قبل هذه المدة
وکذافیه ایضاً:(6/429، ایچ.ایم سعید کراچی)
وکذافی الھندیة:(5/356، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الھندیة:(1/335، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی البحر الرائق:(8/376، رشیدیة کوئٹہ)
وکذافی الشامیة:(6/374، ایچ.ایم سعید کمپنی کراچی)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(3/410، رشیدیة کوئٹہ)

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/9/1442/2021/4/15
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:82

جانور خرید کر ادھیے وغیرہ پر دینا کیسا ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

جانوروں کو ادھیہ پر دینے کے بارے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔حنابلہ اس کو جائز قرار دیتے ہیں اور حنفیہ ناجائز،البتہ موجودہ دور کے بعض علمائے کرام نے عمومِ بلوی کی وجہ سے اس کے جائز ہونے کا قول اختیار کیا ہے،چنانچہ ہندوستان کے مشہور عالمِ دین، شیخ الاسلام ،حضرت مولانا مفتی خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے تحریر کیا ہے
آج کل مویشیوں میں بٹائی پر لین دین اور ادھیا پر دینے کا عام رواج ہے۔فقہائے حنابلہ رحمھم اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی اجازت ہے احناف رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے البتہ یہ حیلہ بتلایا ہے کہ اس کا آدھا حصہ پرورش کرنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اور پھر اس کو قیمت سے بری الذمہ کر دے،اس طرح جانور میں دونوں کی شرکت ہو جائے گی اور اس سے حاصل ہونے والے منافع دودھ اور بچوں میں دونوں شریک ہو جائیں گے۔

والحیلۃ فی جوازہ ان یبیع نصف البقرۃ منہ بثمن ویبرئہ عنہ ثم ما یامر باتخاذ اللبن و المصل فیکون بینھما و کذا لو دفع الدجاج علی ان یکون البیض بینھما

ترجمہ:اس کے جواز کے لئے حیلہ یہ ہے کہ جانور کا نصف پالنے والے کے ہاتھ فروخت کر دے اور پھر قیمت معاف کر دے ،پھر دودھ اور گھی وغیرہ حاصل کرنے کا حکم کرے اور حاصل ہونے والی چیزیں دونوں کے درمیان تقسیم ہوا کریں گی اور ایسا ہی حکم ہوگا اگر مرغی کو اس شرط پر دیا ہو کہ انڈے دونوں کے درمیان تقسیم ہوا کریں گے۔
راقم الحروف کا خیال ہے کہ اس تکلف کی بجائے موجودہ زمانہ میں عرف و رواج کی بنیاد پر حنابلہ رحمھم اللہ تعالیٰ کا نقطۂ نظر اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کارجحان بھی اسی طرف ہے۔اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں۔

کتب الیٰ بعض الاصحاب من فتاوی ابن تیمیۃ کتاب الاختیارات ما نصہ ولو دفع دابتہ او نخلہ الیٰ من یقوم لہ،ولہ جزء من نمائہ صح وھو روایۃ عن احمد

پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقد ناجائز ہے،کما نقل فی السوال عن العالمگیریۃ.،لیکن بنا بر نقل بعض اصحاب امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے،پس تحرز احوط ہے اور جہاں ابتلاء شدید ہو توسع کیا جا سکتا ہے۔

(جدید فقہی مسائل:1/275،زمزم پبلشرز)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
23/5/1442/2021/1/8
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:130

آج کل فیس بک اور واٹس ایپ پر تصویریں سینڈکی جاتی ہیں اور ان پر کمنٹ میں”ماشاء اللہ“اور”سبحان اللہ“کہا جاتا ہے۔کیا تصویروں پر اس طرح کے کلمات کہنا درست ہے؟

الجواب حامداً وّمصلّیاً

موبائل وغیرہ کی سکرین پر نظر آنے والے عکس میں تصویر کی بنیادی شرط”استقرار و قائم ہونا“موجود نہیں ہے،اس لیے علمائے کرام اور مفتیانِ عظام کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک یہ شرعاً تصویر میں داخل نہیں ہیں۔دار الافتاء جامعۃ الحسن،ساہیوال کی بھی اس بارے میں یہی رائے ہے۔
چونکہ یہ شرعاً تصویر میں داخل نہیں،اس لیے ان پر ”سبحان اللہ“اور”ماشاء اللہ“وغیرہ کے کمنٹ دینے کی گنجائش ہے،البتہ بلا ضرورت اس طرح تصویریں بنانا اور ان کو فیس بک وغیرہ پر”اپ لوڈ“کرنا اور ان پر کمنٹ وغیرہ کرنا ناپسندیدہ اور تضییعِ اوقات کا سبب ہے۔

لما فی تکملة فتح الملھم:(4/164.165،دار العلوم کراچی)
فان کانت صور الانسان حیۃ بحیث تبدو علی الشاشۃ فی نفس الوقت الذی یظھر فیہ الانسان امام الکیمرا،فان الصورۃ لا تستقر علی الکیمرا ولا علی الشاشۃ،وانما ھی اجزاء کھربائیۃ تنتقل من الکیمرا الی الشاشۃ و تظھر علیھا بترتیبھا الاصلی،ثم تفنی و تزول.واما اذا احتفظ بالصورۃ فی شریط الفیدیو،فان الصور لا تنتقش علی الشریط وانما تحفظ فیھا الاجزاء الکھربائیۃ التی لیس فیھا صورۃ فاذا ظھرت ھذہ الاجزاء علی الشاشۃ ظھرت مرۃ اخری بذلک الترتیب الطبیعیّ،ولکن لیس لھا ثبات ولا استقرار علی الشاشۃ،وانما ھی تظھر و تفنی.فلا یبدو ان ھناک مرحلۃ من المراحل تنتقش فیھا الصورۃ علی شیئ بصفۃ مستقرۃ او دائمۃ.وعلی ھذا،فتنزیل ھذہ الصورۃ منزلۃ الصورۃ المستقرۃ مشکل

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
اختر حسین فتح پوری عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/5/1442/2021/1/13
جلد نمبر:22 فتوی نمبر:163

یوٹیوب چینل بنا کر اس سے کمائی حاصل کرنا جائز ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یوٹیوب چینل پر ”اَپ لوڈ“ کیا جانے والا مواد یعنی ویڈیوز وغیرہ اگر ناجائز امور مثلا : گانا بجانا ،فحش گوئی اور عورتوں کی تصاویر وغیرہ پر مشتمل نہ ہو تو اس کی کمائی جائز ہے ،ورنہ نہیں ۔

لمافی الھندیة:(4/449،رشیدیة)
ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو وعلى هذا الحداء وقراءة الشعر وغيره ولا أجر في ذلك وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(3/116،رشیدیة)
ولا یجوز الاستیجار علی شئ من الغناء و النوح والمزامير ولا أجر لہم
وکذافی المحیط البرھانی:( 11/217،داراحیاء)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/31،رشیدیة)
وکذا فی البحرالرائق:(8/36 ، رشیدیة)
وکذا فی التاتارخانیة:(15/7،فاروقیة)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/533، المنار)
وکذا فی الولوالجیة:( 3/333، الحرمین)

واللہ اعلم بالصواب
عبدالوہاب بن قاسم خان
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
20/6/1442/2021/2/3
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:61

ایک عو رت نے اپنے زیو رات اپنے شو ہر کو دیدیے اور اس کی ملکیت میں بھی دید یے لیکن بعد میں دینے سے انکا ر کر دیا ۔کیا اس کا رجو ع کر نا در ست ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

صو رتِ مسئو لہ میں اس عو رت کا رجو ع در ست نہیں ہے ۔

لما فی الھند یة :(4/386،رشید یة)
و اذا وھب أحد الز وجین لصاحبہ لا یر جع فی الھبۃ و ان انقطع النکاح بینھما
وفی بدائع الصنائع :(5/192،رشید یة)
الثانی :الزو جیۃ فلا یر جع کل وا حد من الز و جین فیما و ھب لصاحبہ ، لأن صلۃ الزو جیۃ تجر ی مجریٰ صلۃ القرا بۃ الکاملۃ بد لیل انہ یتعلق بہا التو ارث فی جمیع الأحوال فلا ید خلھا حجب الحر مان ، والقرا بۃ الکا ملۃ ما نعۃ من الر جوع فکذا مایجری مجراھا
وکذافی التا تا ر خا نیة :(14/449،فا روقیہ)
وکذا فی الفقہ الا سلا می وا دلتہ :(5/4010،رشید یة)
وکذا فی المو سو عةالفقھیة:(42/151،علوم اسلامیة)
وکذا فی البحر الر ائق :(7/499،رشید یة)
وکذا فی مجمع الانھر :(3/502،المنار)
وکذا فی الخا نیة علی ھا مش الھند یة:(3/274،رشید یة)
وکذا فی البنا یة:(9/339،رشید یة)
وکذا فی کنزالدقا ئق:(355،حقانیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب غفر لہ ولو الد یہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/6/1442/2021/2/9
جلد نمبر:23 فتوی نمبر:168

کیا مرد کسی نا محرم عورت کا جھوٹا کھا ،پی سکتا ہے؟

الجواب حامداً ومصلیاً

نا محرم عورت کا جھوٹا اس لیے مکروہ ہے کہ اس سے پینے والے کے دل میں ناجائز خیالات ووساوس پیدا ہوتے ہیں اور لذت محسوس کرتا ہے ،لہذا اگر جھوٹے کا پتہ نہ ہو یاپتہ تو ہو لیکن ان خیالات و وساوس کا ڈرنہ ہو تو غیر محرم کا جھوٹا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

لما فی الھندیة:(1/23،رشیدیة)
و کراھۃ سؤر المرأۃللا جبنی کسؤر ہ لھالیس لعدم طھارتہ بل للا ستلذاذ
وفی الشامیہ:(1/424،رشیدیة)
نعم یکرہ سؤرھا الخ) ای :فی الشرب لا فی الطھارۃ( بحر) قال الرملی :ویجب تقییدہ بغیر الزوجۃ و المحارم… والذی یظھرأن العلۃ الاستلذاذ فقط ،و یفھم منہ أنہ حیث لا استلذاذ لا کراھۃ و لا سیما اذا کان یعافہ
وکذافی التنویر مع الدر:(1/424، رشیدیة)
وکذافی النھرالفائق:(1/92،قدیمی)
وکذافی البحرالرائق:(1/222، رشیدیة)
وکذافی منحة الخالق علی البحرالرائق:(1/222، رشیدیة)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(1/282، رشیدیة)
وکذافی حاشیة الطحطاوی:(1/121، رشیدیة)

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہا ب بن قاسم خان ڈیروی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
11/9/1442/1202/4/24
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:145

اگر کو ئی شخص نا خنو ں کو دانتو ں سے تو ڑ کرپھینکتا ہےتو کیا یہ حرام فعل ہے ؟

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ فعل حرام تو نہیں ،تا ہم نا پسند ید ہ اور مکروہ ہے۔ بہتر طر یقہ یہ ہے کہ ان کو ناخن تراش وغیر ہ سے کا ٹ کر دفن کر دیاجائے۔

لما فی الھند یة:(5/358،رشید یة)
قطع الظفر بالا سنا ن مکرو ہ یو رث البر ص
وفی حا شیة الطحطا وی :(4/202،رشیة)
قو لہ ویستحب قلم ا ظا فیر ہ )و قطعھا باسنان مکرو ہ یو رث البر ص فا ذا قلم اظفا رہ او جز شعرہ ینبغی أن ید فن ذلک الظفر و الشعر المجزوز فا ن رمی بہ فلا بأ س و ان ألقا ہ فی الکنیف او فی المغتسل یکر ہ ذلک لان ذلک یو رث داء
وکذافی رد المحتا ر :(6/405،سعید)
وکذا فی المحیط البر ھا نی:(8/87،دار احیاء تر اث)
وکذا فی خلا صة الفتا وی:(4/341،رشید یة )
وکذا فی البحر الر ائق :(8/375،رشید یة )
وکذا فی الخا نیة علی ھا مش الھند یة:(3/411،رشید یة )
وکذا فی مجمع الا نھر :(4/226،المنار )

واللہ اعلم بالصواب
عبد الو ہاب بن قا سم خا ن ڈ یر وی
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
7/9/1442/2021/4/20
جلد نمبر:24 فتوی نمبر:109